Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 51–60 of 128

51

۞ وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓا۟ إِلَٰهَيْنِ ٱثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ فَإِيَّٰىَ فَٱرْهَبُونِ

اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود وہی ایک ہے۔ تو مجھ ہی سے ڈرتے رہو

درس نمبر 121 ایک نظر میں

مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی !

اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔

اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔

واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔

اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔

احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان …

52

وَلَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَهُ ٱلدِّينُ وَاصِبًا ۚ أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ تَتَّقُونَ

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو

درس نمبر 121 ایک نظر میں

مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی !

اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔

اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔

واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔

اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔

احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان …

53

وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍۢ فَمِنَ ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَٔرُونَ

اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو

درس نمبر 121 ایک نظر میں

مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی !

اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔

اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔

واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔

اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔

احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان …

54

ثُمَّ إِذَا كَشَفَ ٱلضُّرَّ عَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌۭ مِّنكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ

پھر جب وہ تم سے تکلیف کو دور کردیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے خدا کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں

درس نمبر 121 ایک نظر میں

مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی !

اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔

اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔

واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔

اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔

احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان …

55

لِيَكْفُرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَٰهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا۟ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری کریں تو (مشرکو) دنیا میں فائدے اٹھالو۔ عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا

درس نمبر 121 ایک نظر میں

مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی !

اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔

اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔

واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔

اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔

احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان …

56

وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًۭا مِّمَّا رَزَقْنَٰهُمْ ۗ تَٱللَّهِ لَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَفْتَرُونَ

اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ (کافرو) خدا کی قسم کہ جو تم افتراء کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی

مثلا یہ لوگ اپنے اوپر بعض جانوروں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ نہ ان پر سوار ہوتے ہیں اور نہ ان کا گوشت چکھتے ہیں یا بعض جانوروں کے گوشت کو مردوں کے لئے مخصوص کرتے ہیں اور عورتوں پر وہ حرام تصور ہوتے ہیں اور یہ کام وہ اپنے نام نہاد الہٰوں کے نام پہ کرتے ہیں۔ ان کے ان مزعومات کی تفصیلات ہم نے سورة انعام میں دے دی ہیں۔ اور جن الہوں کے نام پر یہ لوگ شرک کرتے ہیں ان کے بارے میں ان لوگوں کو کوئی علم نہیں ہے یہ ان کے موروثی تصورات ہیں جو جاہلیت سے ان کے ہاں نقل ہوتے چلے آئے ہیں۔ حالانکہ یہ نعمتیں ان کو اللہ نے دی ہیں جو وحدہ لا شریک ہے اور جن الہوں کی طرف یہ ان کو منسوب کرتے ہیں ان کے بارے میں خد ان کو کچھ علم نہیں ہے۔ غرض یہ ان نام نہاد الہوں کے عطا کردہ انعامات نہیں ہیں بلکہ یہ انعامات اللہ وحدہ کے ہیں جس کے ساتھ یہ لوگ شریک کرتے ہیں۔

یوں قرآن کے نظریہ حیات اور ان جاہلوں کے نظریات کے درمیان واضح فرق معلوم ہوجاتا ہے۔ اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ رزق سب کا سب الٰہ واحد کا عطا کردہ ہے۔ اور اس کے نام سے استعمال ہونا چاہئے یہ لوگ بعض ارزاق کو ان الہٰوں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ایسی ہستیوں کو الٰہ بناتے ہیں جن سے انہیں روکا گیا ہے۔ دونوں نظریات میں یہ واضح فرق ہے۔

لیکن آج قرآن کے ہوتے ہوئے اور عقیدۂ توحید کی وضاحت کے بعد بھی بعض لوگ اللہ کی عطا کردہ بعض اقسام رزق کو ایسی شخصیات کے نام سے منسوب کرتے ہیں جو جاہلیت کے الہٰوں کے مشابہ ہیں۔ آج بھی بعض لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ “ یہ سید بدوی کا بکرا ہے ”۔ یہ بکرا جہاں چاہے چرے چگے کوئی اسے منع نہیں کرے گا ۔ کوئی شخص اس کو نہ کھائے گا۔ وہ سید بدوی کے نام سے ذبح ہوگا اور اس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے گا۔ بعض لوگ آج بھی بعض اولیاء کے نام جانوروں کی نذریں مانتے ہیں اور پھر یہ نذریں چڑھاتے ہیں۔ یہ ان اولیائے کے نام پر ہوتی ہیں اور ان پر اللہ کا نام ہی نہیں لیا جاتا۔ صرف مذکور ولی کا نام لیا جاتا ہے۔ اہل جاہلیت بھی اسی طرح بعض نامعلوم خداؤں کے نام پر ایسی نذریں چڑھاتے تھے۔ ایسے جانوروں کا گوشت کھانا حرام ہے اگر چہ ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام لیا جائے کیونکہ یہ اہل نفیر اللہ کے زمرے میں آتا ہے۔

آیت نمبر 56

ترجمہ : “ اللہ قسم کھا کر تاکید مزید سے یہ بات کرتے ہیں ۔ چناچہ یہ ایک افتراء ہے اور اسلامی عقیدہ اور ایمان کو جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے۔ اس سے عقیدۂ توحید کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں اللہ ضرور پوچھے گا۔

57

وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ ٱلْبَنَٰتِ سُبْحَٰنَهُۥ ۙ وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ

اور یہ لوگ خدا کے لیے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ (اور) وہ ان سے پاک ہے اور اپنے لیے (بیٹے) جو مرغوب ودلپسند ہیں

آیت نمبر 57 تا 59

عقائد کے بارے میں انسان کا فکری انتشار اور فساد صرف عقائد کے حدود تک ہی محدود نہیں رہا کرتا بلکہ یہ زندگی کے پورے طور طریقوں اور رسم و رواج میں سرایت کرجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ زندگی کے لئے واحد محرک ہوتا ہے۔ چاہے یہ کسی کی زندگی میں یہ نظریہ بادی النظر میں محرک نظر آئے یا پس منظر میں ہو۔ دور جاہلیت کے عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کو بہت ہی برا خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بیٹیاں اللہ کے لئے ہیں اور وہ چونکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیٹے ان کے ہیں۔

ان کے اس نظریاتی فساد ہی کی وجہ سے ان کے ہاں یہ رسم بد پڑگئی کہ وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے یا اگر زندہ رکھ لیتے تو ان کو نہایت ہی ذلت ، بدسلوکی اور کم تر درجے میں رکھتے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیوں کی وجہ سے ان کو خفت اٹھانی پڑے گی اور ان کی مالی حالت گر جائے گی کیونکہ عورتیں نہ جنگ کرسکتی ہیں اور نہ بہت زیادہ کمائی کے لائق ہوتی ہیں۔ بعض اوقات لوٹ مار اور ڈاکے میں عورتوں کو باندیاں بنا کرلے جاتے تھے یا وہ خاندان پر بوجھ بن جاتی تھیں۔ یوں خاندان کی مالیات پر بوجھ ہوتیں ، اس لیے وہ انہیں پسند نہ کرتے۔

جبکہ صحیح نظریات ان سب باتوں سے بہت دور ہیں۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب کا رازق ہے۔ ہر شخص کو وہی بات پیش آتی ہے جو اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ انسان کو اللہ نے ذی شرف پیدا کیا ہے اور اس میں مرد عورت برابر ہیں ، پھر عوت کے بغیر نہ انسانیت جاری رہ سکتی اور نہ مکمل ہو سکتی جیسا کہ اللہ کا حکم ہے۔

یہاں جاہلیت کے رسم و رواج کی خوب تصویر کشی کی جاتی ہے۔

واذا بشر احدکم بالانثی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم (16 : 57) “ جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے ”۔ یعنی حزن و ملال سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے غم کو چھپانے کی سعی لا حاصل کرتا ہے ۔ وہ اس ولادت کو ایک مصیبت سمجھتا ہے لیکن در حقیقت وہ اللہ کا عطیہ ہوتی ہے جیسا کہ بینا ایک عطیہ ہوتا ہے کیونکہ انسان بذات خود رحم مادر میں نہ مرد بنا سکتا ہے اور نہ عورت پیدا کرسکتا ہے۔ نہ انسان خود جنین میں حیات پھونک سکتا ہے نہ انسان ایک سادہ نطفے سے انسان تیار کرسکتا ہے۔ اگر انسان صرف انسانی زندگی کی تخلیق پر ہی غور کرے کہ کس طرح نطفے سے لے کر ایک تندرست و توانا انسان تک وہ نشوونما پاتی ہے تو بچہ چاہے مرد ہو یا عورت ہو ، وہ خوشی خوشہ اس کا استقبال کرے۔ سوچنے والے انسان کے لئے تو ہر بچہ اللہ کا معجزہ ہے اور یہ معجزہ بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن بار بار دہرائے جانے کے باوجود اس معجزے کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان صحیح الفکر ہو تو وہ لڑکی کی پیدائش کی اطلاع پا کر نہ غمگین ہو اور نہ لوگوں سے چھپتا پھرے۔ اس لیے کہ لڑکی کی تخلیق میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس معاملے میں ایک باپ تو اس عظیم معجزہ کے صدور میں محض ایک پرزہ ہے اور بس۔

اب اللہ کی حکمت کو دیکھیں اور یہ کہ معجزۂ حیات کا صدور کس طرح ہوتا ہے ؟ بادی النظر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ انسان کو اللہ ایک مرد اور عورت کے ملاپ کے ساتھ پیدا کرتا ہے ، حیات انسانی کے وجود میں آنے کے لئے جس طرح مرد ضروری ہے ، اسی طرح عورت بھی ضروری ہے بلکہ مرد کے مقابلے میں عورت کی ضرورت زیادہ ہے کیونکہ بچے کی نشوونما کے لئے تو عورت زیادہ ضروری اور اہم ہے جبکہ مرد کے لئے بھی وہ جائے قرار ہے۔ تو پھر عورت کی پیدائش پر کسی کا چہرہ کیوں سیاہ ہوجاتا ہے اور پھر قوم سے کیوں بھاگتا پھرتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ حیات بشر کا تسلسل …

58

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِٱلْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُۥ مُسْوَدًّۭا وَهُوَ كَظِيمٌۭ

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑ جاتا ہے اور (اس کے دل کو دیکھو تو) وہ اندوہناک ہوجاتا ہے

آیت نمبر 57 تا 59

عقائد کے بارے میں انسان کا فکری انتشار اور فساد صرف عقائد کے حدود تک ہی محدود نہیں رہا کرتا بلکہ یہ زندگی کے پورے طور طریقوں اور رسم و رواج میں سرایت کرجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ زندگی کے لئے واحد محرک ہوتا ہے۔ چاہے یہ کسی کی زندگی میں یہ نظریہ بادی النظر میں محرک نظر آئے یا پس منظر میں ہو۔ دور جاہلیت کے عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کو بہت ہی برا خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بیٹیاں اللہ کے لئے ہیں اور وہ چونکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیٹے ان کے ہیں۔

ان کے اس نظریاتی فساد ہی کی وجہ سے ان کے ہاں یہ رسم بد پڑگئی کہ وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے یا اگر زندہ رکھ لیتے تو ان کو نہایت ہی ذلت ، بدسلوکی اور کم تر درجے میں رکھتے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیوں کی وجہ سے ان کو خفت اٹھانی پڑے گی اور ان کی مالی حالت گر جائے گی کیونکہ عورتیں نہ جنگ کرسکتی ہیں اور نہ بہت زیادہ کمائی کے لائق ہوتی ہیں۔ بعض اوقات لوٹ مار اور ڈاکے میں عورتوں کو باندیاں بنا کرلے جاتے تھے یا وہ خاندان پر بوجھ بن جاتی تھیں۔ یوں خاندان کی مالیات پر بوجھ ہوتیں ، اس لیے وہ انہیں پسند نہ کرتے۔

جبکہ صحیح نظریات ان سب باتوں سے بہت دور ہیں۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب کا رازق ہے۔ ہر شخص کو وہی بات پیش آتی ہے جو اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ انسان کو اللہ نے ذی شرف پیدا کیا ہے اور اس میں مرد عورت برابر ہیں ، پھر عوت کے بغیر نہ انسانیت جاری رہ سکتی اور نہ مکمل ہو سکتی جیسا کہ اللہ کا حکم ہے۔

یہاں جاہلیت کے رسم و رواج کی خوب تصویر کشی کی جاتی ہے۔

واذا بشر احدکم بالانثی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم (16 : 57) “ جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے ”۔ یعنی حزن و ملال سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے غم کو چھپانے کی سعی لا حاصل کرتا ہے ۔ وہ اس ولادت کو ایک مصیبت سمجھتا ہے لیکن در حقیقت وہ اللہ کا عطیہ ہوتی ہے جیسا کہ بینا ایک عطیہ ہوتا ہے کیونکہ انسان بذات خود رحم مادر میں نہ مرد بنا سکتا ہے اور نہ عورت پیدا کرسکتا ہے۔ نہ انسان خود جنین میں حیات پھونک سکتا ہے نہ انسان ایک سادہ نطفے سے انسان تیار کرسکتا ہے۔ اگر انسان صرف انسانی زندگی کی تخلیق پر ہی غور کرے کہ کس طرح نطفے سے لے کر ایک تندرست و توانا انسان تک وہ نشوونما پاتی ہے تو بچہ چاہے مرد ہو یا عورت ہو ، وہ خوشی خوشہ اس کا استقبال کرے۔ سوچنے والے انسان کے لئے تو ہر بچہ اللہ کا معجزہ ہے اور یہ معجزہ بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن بار بار دہرائے جانے کے باوجود اس معجزے کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان صحیح الفکر ہو تو وہ لڑکی کی پیدائش کی اطلاع پا کر نہ غمگین ہو اور نہ لوگوں سے چھپتا پھرے۔ اس لیے کہ لڑکی کی تخلیق میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس معاملے میں ایک باپ تو اس عظیم معجزہ کے صدور میں محض ایک پرزہ ہے اور بس۔

اب اللہ کی حکمت کو دیکھیں اور یہ کہ معجزۂ حیات کا صدور کس طرح ہوتا ہے ؟ بادی النظر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ انسان کو اللہ ایک مرد اور عورت کے ملاپ کے ساتھ پیدا کرتا ہے ، حیات انسانی کے وجود میں آنے کے لئے جس طرح مرد ضروری ہے ، اسی طرح عورت بھی ضروری ہے بلکہ مرد کے مقابلے میں عورت کی ضرورت زیادہ ہے کیونکہ بچے کی نشوونما کے لئے تو عورت زیادہ ضروری اور اہم ہے جبکہ مرد کے لئے بھی وہ جائے قرار ہے۔ تو پھر عورت کی پیدائش پر کسی کا چہرہ کیوں سیاہ ہوجاتا ہے اور پھر قوم سے کیوں بھاگتا پھرتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ حیات بشر کا تسلسل …

59

يَتَوَٰرَىٰ مِنَ ٱلْقَوْمِ مِن سُوٓءِ مَا بُشِّرَ بِهِۦٓ ۚ أَيُمْسِكُهُۥ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُۥ فِى ٱلتُّرَابِ ۗ أَلَا سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ

اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے

آیت نمبر 57 تا 59

عقائد کے بارے میں انسان کا فکری انتشار اور فساد صرف عقائد کے حدود تک ہی محدود نہیں رہا کرتا بلکہ یہ زندگی کے پورے طور طریقوں اور رسم و رواج میں سرایت کرجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ زندگی کے لئے واحد محرک ہوتا ہے۔ چاہے یہ کسی کی زندگی میں یہ نظریہ بادی النظر میں محرک نظر آئے یا پس منظر میں ہو۔ دور جاہلیت کے عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کو بہت ہی برا خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بیٹیاں اللہ کے لئے ہیں اور وہ چونکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیٹے ان کے ہیں۔

ان کے اس نظریاتی فساد ہی کی وجہ سے ان کے ہاں یہ رسم بد پڑگئی کہ وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے یا اگر زندہ رکھ لیتے تو ان کو نہایت ہی ذلت ، بدسلوکی اور کم تر درجے میں رکھتے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیوں کی وجہ سے ان کو خفت اٹھانی پڑے گی اور ان کی مالی حالت گر جائے گی کیونکہ عورتیں نہ جنگ کرسکتی ہیں اور نہ بہت زیادہ کمائی کے لائق ہوتی ہیں۔ بعض اوقات لوٹ مار اور ڈاکے میں عورتوں کو باندیاں بنا کرلے جاتے تھے یا وہ خاندان پر بوجھ بن جاتی تھیں۔ یوں خاندان کی مالیات پر بوجھ ہوتیں ، اس لیے وہ انہیں پسند نہ کرتے۔

جبکہ صحیح نظریات ان سب باتوں سے بہت دور ہیں۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب کا رازق ہے۔ ہر شخص کو وہی بات پیش آتی ہے جو اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ انسان کو اللہ نے ذی شرف پیدا کیا ہے اور اس میں مرد عورت برابر ہیں ، پھر عوت کے بغیر نہ انسانیت جاری رہ سکتی اور نہ مکمل ہو سکتی جیسا کہ اللہ کا حکم ہے۔

یہاں جاہلیت کے رسم و رواج کی خوب تصویر کشی کی جاتی ہے۔

واذا بشر احدکم بالانثی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم (16 : 57) “ جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے ”۔ یعنی حزن و ملال سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے غم کو چھپانے کی سعی لا حاصل کرتا ہے ۔ وہ اس ولادت کو ایک مصیبت سمجھتا ہے لیکن در حقیقت وہ اللہ کا عطیہ ہوتی ہے جیسا کہ بینا ایک عطیہ ہوتا ہے کیونکہ انسان بذات خود رحم مادر میں نہ مرد بنا سکتا ہے اور نہ عورت پیدا کرسکتا ہے۔ نہ انسان خود جنین میں حیات پھونک سکتا ہے نہ انسان ایک سادہ نطفے سے انسان تیار کرسکتا ہے۔ اگر انسان صرف انسانی زندگی کی تخلیق پر ہی غور کرے کہ کس طرح نطفے سے لے کر ایک تندرست و توانا انسان تک وہ نشوونما پاتی ہے تو بچہ چاہے مرد ہو یا عورت ہو ، وہ خوشی خوشہ اس کا استقبال کرے۔ سوچنے والے انسان کے لئے تو ہر بچہ اللہ کا معجزہ ہے اور یہ معجزہ بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن بار بار دہرائے جانے کے باوجود اس معجزے کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان صحیح الفکر ہو تو وہ لڑکی کی پیدائش کی اطلاع پا کر نہ غمگین ہو اور نہ لوگوں سے چھپتا پھرے۔ اس لیے کہ لڑکی کی تخلیق میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس معاملے میں ایک باپ تو اس عظیم معجزہ کے صدور میں محض ایک پرزہ ہے اور بس۔

اب اللہ کی حکمت کو دیکھیں اور یہ کہ معجزۂ حیات کا صدور کس طرح ہوتا ہے ؟ بادی النظر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ انسان کو اللہ ایک مرد اور عورت کے ملاپ کے ساتھ پیدا کرتا ہے ، حیات انسانی کے وجود میں آنے کے لئے جس طرح مرد ضروری ہے ، اسی طرح عورت بھی ضروری ہے بلکہ مرد کے مقابلے میں عورت کی ضرورت زیادہ ہے کیونکہ بچے کی نشوونما کے لئے تو عورت زیادہ ضروری اور اہم ہے جبکہ مرد کے لئے بھی وہ جائے قرار ہے۔ تو پھر عورت کی پیدائش پر کسی کا چہرہ کیوں سیاہ ہوجاتا ہے اور پھر قوم سے کیوں بھاگتا پھرتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ حیات بشر کا تسلسل …

60

لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ مَثَلُ ٱلسَّوْءِ ۖ وَلِلَّهِ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَىٰ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کے لیے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلیٰ (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے

آیت نمبر 60

یہاں شرک کے مسئلے کو مسئلہ انکار آخرت سے ملا دیا جاتا ہے اس لیے کہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہے اور دونوں میں ایک ہی قسم کی گمراہی ہے۔ انسانی شعور میں شرک اور انکار آخرت باہم مخلوط ہوتے ہیں اور انسانی شخصیت اور انسانی معاشرے پر ان کے اثرات بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جب ہم ان لوگوں کو بات سمجھائیں جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے تو وہ ہر پہلو کے اعتبار سے برے لوگ نظر آئیں گے۔ اپنے شعور ، اپنے طرز عمل اور اپنے عقائد کے اعتبار سے ، غرض وہ ہر پہلو سے برے ہوں گے۔ یہ لوگ زمین و آسمان میں ہر جگہ برے لوگ ہوں گے۔ اللہ کی اگر ہم کوئی مثال دیں گے تو وہ ہر اعتبار سے ایک اعلیٰ مثال ہوگی ۔ اللہ کی ذات اور کسی دوسری شخصیت میں کوئی مماثلت ممکن ہی نہیں ہے لہٰذا چھوڑ دو ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔

وھو العزیز الحکیم (16 : 60) “ وہی تو سب پر غالب اور حکمت میں کامل ہے ”۔ وہ نہایت ہی زبردست طاقت والا ہے۔ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ وہی حکیم ہے ، وہ ہر چیز کو اپنے مقام پر رکھتا ہے تا کہ ہر پرزہ اپنی صحیح جگہ پر اس کی حکمت ، اور اس کے قانون کے مطابق صحیح انداز میں کام کرسکے۔

وہ تو اس قدر طاقتور ہے کہ اگر لوگوں کی بدعملی اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان کو فوراً پکڑ لے تو ان کو پوری دنیا کو تہ وبالا کر دے۔ لیکن اس کی اسکیم کا تقاضا یہ تھا کہ ان کو قدرے مہلت دی جائے کیونکہ وہ عزیز و حکیم ہے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.