Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 1–10 of 128

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

أَتَىٰٓ أَمْرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس کے لیے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے

دین کی حقیقت یہ ہے کہ انسان خدا کی ہستی اور کائنات میں اس کی کار فرمائی کو اس طرح جان لے کہ ایک خدا کی ذات ہی اس کو سب کچھ نظر آنے لگے۔ اسی سے وہ ڈرے اور اسی سے وہ ہر قسم کی امید رکھے۔ ایک خدا اس کے قلب و دماغ کی تمام توجہات کا مرکز بن جائے۔

یہی اللہ کو الٰہ بنانا اور اس کی عبادت کرنا ہے۔ انسانوں کے اندر یہی کیفیت پیدا کرنے کے لیے تمام پیغمبر اس دنیا میں آئے ۔ جو لوگ اس عبدیت کا ثبوت دیں وہ فیصلہ کے دن کامیاب ٹھہریں گے۔ جو لوگ اس کے خلاف چلیں وہ فیصلہ کے دن نامراد ہوجائیںگے۔ یہ فیصلہ عام انسانوں کے لیے قیامت میں ہوگا۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین کے لیے وہ اسی دنیاسے شروع ہوجاتاہے۔

کائنات میں مکمل وحدت ہے اور اسی کے ساتھ مکمل مقصدیت بھی۔ کائنات کی وحدت اس سے انکار کرتی ہے کہ یہاں ایک خدا کے سوا کسی اورکو مرکز توجہ بنانا کسی کے لیے جا ئز ہو۔ اور اس کی مقصدیت تقاضا کرتی ہے کہ اس کا خاتمہ ایک بامعنیٰ انجام پر ہونا چاہیے، نہ کہ بے معنی انجام پر۔ گویا کائنات کا نظام بیک وقت توحید کی دلیل بھی فراہم کرتا ہے اور آخرت کی دلیل بھی۔

2

يُنَزِّلُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ بِٱلرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦٓ أَنْ أَنذِرُوٓا۟ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱتَّقُونِ

وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو

دین کی حقیقت یہ ہے کہ انسان خدا کی ہستی اور کائنات میں اس کی کار فرمائی کو اس طرح جان لے کہ ایک خدا کی ذات ہی اس کو سب کچھ نظر آنے لگے۔ اسی سے وہ ڈرے اور اسی سے وہ ہر قسم کی امید رکھے۔ ایک خدا اس کے قلب و دماغ کی تمام توجہات کا مرکز بن جائے۔

یہی اللہ کو الٰہ بنانا اور اس کی عبادت کرنا ہے۔ انسانوں کے اندر یہی کیفیت پیدا کرنے کے لیے تمام پیغمبر اس دنیا میں آئے ۔ جو لوگ اس عبدیت کا ثبوت دیں وہ فیصلہ کے دن کامیاب ٹھہریں گے۔ جو لوگ اس کے خلاف چلیں وہ فیصلہ کے دن نامراد ہوجائیںگے۔ یہ فیصلہ عام انسانوں کے لیے قیامت میں ہوگا۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین کے لیے وہ اسی دنیاسے شروع ہوجاتاہے۔

کائنات میں مکمل وحدت ہے اور اسی کے ساتھ مکمل مقصدیت بھی۔ کائنات کی وحدت اس سے انکار کرتی ہے کہ یہاں ایک خدا کے سوا کسی اورکو مرکز توجہ بنانا کسی کے لیے جا ئز ہو۔ اور اس کی مقصدیت تقاضا کرتی ہے کہ اس کا خاتمہ ایک بامعنیٰ انجام پر ہونا چاہیے، نہ کہ بے معنی انجام پر۔ گویا کائنات کا نظام بیک وقت توحید کی دلیل بھی فراہم کرتا ہے اور آخرت کی دلیل بھی۔

3

خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۚ تَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا۔ اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے

دین کی حقیقت یہ ہے کہ انسان خدا کی ہستی اور کائنات میں اس کی کار فرمائی کو اس طرح جان لے کہ ایک خدا کی ذات ہی اس کو سب کچھ نظر آنے لگے۔ اسی سے وہ ڈرے اور اسی سے وہ ہر قسم کی امید رکھے۔ ایک خدا اس کے قلب و دماغ کی تمام توجہات کا مرکز بن جائے۔

یہی اللہ کو الٰہ بنانا اور اس کی عبادت کرنا ہے۔ انسانوں کے اندر یہی کیفیت پیدا کرنے کے لیے تمام پیغمبر اس دنیا میں آئے ۔ جو لوگ اس عبدیت کا ثبوت دیں وہ فیصلہ کے دن کامیاب ٹھہریں گے۔ جو لوگ اس کے خلاف چلیں وہ فیصلہ کے دن نامراد ہوجائیںگے۔ یہ فیصلہ عام انسانوں کے لیے قیامت میں ہوگا۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین کے لیے وہ اسی دنیاسے شروع ہوجاتاہے۔

کائنات میں مکمل وحدت ہے اور اسی کے ساتھ مکمل مقصدیت بھی۔ کائنات کی وحدت اس سے انکار کرتی ہے کہ یہاں ایک خدا کے سوا کسی اورکو مرکز توجہ بنانا کسی کے لیے جا ئز ہو۔ اور اس کی مقصدیت تقاضا کرتی ہے کہ اس کا خاتمہ ایک بامعنیٰ انجام پر ہونا چاہیے، نہ کہ بے معنی انجام پر۔ گویا کائنات کا نظام بیک وقت توحید کی دلیل بھی فراہم کرتا ہے اور آخرت کی دلیل بھی۔

4

خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِن نُّطْفَةٍۢ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌۭ مُّبِينٌۭ

اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا

انسان کا آغاز ایک حقیر مادہ سے ہوتاہے۔ مگر انسان جب بڑا ہوتا ہے تو وہ خدا کا مد مقابل بننے کی کوشش کرتاہے۔ وہ خدا کی کائنات میں بے خدا بن کر رہنا چاہتاہے۔ اگر انسان اپنی ابتدائی حقیقت کو نظر میں رکھے تو کبھی وہ زمین میں سرکشی کا رویہ اختیار نہ کرے۔

انسان کو موجودہ دنیا میں جو نعمتیں حاصل ہیں ان میں سے ایک چوپائے ہیں۔ یہ گویا قدرت کی زندہ مشینیں ہیں جو انسان کی مختلف ضروریات فراہم کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ چوپائے گھاس اور چارہ کھاتے ہیں۔ اور ان کو انساني خوراک کے لیے گوشت اور دودھ میں تبدیل کرتے ہیں۔ وہ اپنے جسم پر بال اور اون نکالتے ہیں جن سے آدمی اپنی پوشاک بناتاہے۔ وہ انسان کو اور اس کے سامان کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔ ان چوپایوں کا گلہ آدمی کے اثاثہ میں شامل ہو کر اس کی حیثیت اور شان میں اضافہ کرتاہے۔

’’اور خدا ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے‘‘۔ اس سے مراد وہ فائدے ہیں جو چوپایوں کے علاوہ دوسرے ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان دوسرے ذرائع کا ایک حصہ قدیم زمانہ میں بھی انسان کو حاصل تھا۔ اور ان کا بڑا حصہ موجودہ زمانہ میں دریافت کرکے انسان ان سے فائدہ اٹھا رہاہے۔ مثال کے طور پر جانور کی جگہ مشین۔

دنیا میں انسان کے لیے جوبے شمار نعمتیں ہیں وہ انسان نے خود نہیں بنائی ہیں بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس کے لیے مہیا کی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس دنیا کا خالق ایک مہربان خالق ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے خالق کا شکر گزار بنے اور اس کا حق اداکرے جو محسن ہونے کی حیثیت سے اس کے اوپر لازم آتاہے۔

5

وَٱلْأَنْعَٰمَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌۭ وَمَنَٰفِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ

اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو

انسان کا آغاز ایک حقیر مادہ سے ہوتاہے۔ مگر انسان جب بڑا ہوتا ہے تو وہ خدا کا مد مقابل بننے کی کوشش کرتاہے۔ وہ خدا کی کائنات میں بے خدا بن کر رہنا چاہتاہے۔ اگر انسان اپنی ابتدائی حقیقت کو نظر میں رکھے تو کبھی وہ زمین میں سرکشی کا رویہ اختیار نہ کرے۔

انسان کو موجودہ دنیا میں جو نعمتیں حاصل ہیں ان میں سے ایک چوپائے ہیں۔ یہ گویا قدرت کی زندہ مشینیں ہیں جو انسان کی مختلف ضروریات فراہم کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ چوپائے گھاس اور چارہ کھاتے ہیں۔ اور ان کو انساني خوراک کے لیے گوشت اور دودھ میں تبدیل کرتے ہیں۔ وہ اپنے جسم پر بال اور اون نکالتے ہیں جن سے آدمی اپنی پوشاک بناتاہے۔ وہ انسان کو اور اس کے سامان کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔ ان چوپایوں کا گلہ آدمی کے اثاثہ میں شامل ہو کر اس کی حیثیت اور شان میں اضافہ کرتاہے۔

’’اور خدا ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے‘‘۔ اس سے مراد وہ فائدے ہیں جو چوپایوں کے علاوہ دوسرے ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان دوسرے ذرائع کا ایک حصہ قدیم زمانہ میں بھی انسان کو حاصل تھا۔ اور ان کا بڑا حصہ موجودہ زمانہ میں دریافت کرکے انسان ان سے فائدہ اٹھا رہاہے۔ مثال کے طور پر جانور کی جگہ مشین۔

دنیا میں انسان کے لیے جوبے شمار نعمتیں ہیں وہ انسان نے خود نہیں بنائی ہیں بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس کے لیے مہیا کی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس دنیا کا خالق ایک مہربان خالق ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے خالق کا شکر گزار بنے اور اس کا حق اداکرے جو محسن ہونے کی حیثیت سے اس کے اوپر لازم آتاہے۔

6

وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ

اور جب شام کو انہیں (جنگل سے) لاتے ہو اور جب صبح کو (جنگل) چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے

انسان کا آغاز ایک حقیر مادہ سے ہوتاہے۔ مگر انسان جب بڑا ہوتا ہے تو وہ خدا کا مد مقابل بننے کی کوشش کرتاہے۔ وہ خدا کی کائنات میں بے خدا بن کر رہنا چاہتاہے۔ اگر انسان اپنی ابتدائی حقیقت کو نظر میں رکھے تو کبھی وہ زمین میں سرکشی کا رویہ اختیار نہ کرے۔

انسان کو موجودہ دنیا میں جو نعمتیں حاصل ہیں ان میں سے ایک چوپائے ہیں۔ یہ گویا قدرت کی زندہ مشینیں ہیں جو انسان کی مختلف ضروریات فراہم کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ چوپائے گھاس اور چارہ کھاتے ہیں۔ اور ان کو انساني خوراک کے لیے گوشت اور دودھ میں تبدیل کرتے ہیں۔ وہ اپنے جسم پر بال اور اون نکالتے ہیں جن سے آدمی اپنی پوشاک بناتاہے۔ وہ انسان کو اور اس کے سامان کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔ ان چوپایوں کا گلہ آدمی کے اثاثہ میں شامل ہو کر اس کی حیثیت اور شان میں اضافہ کرتاہے۔

’’اور خدا ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے‘‘۔ اس سے مراد وہ فائدے ہیں جو چوپایوں کے علاوہ دوسرے ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان دوسرے ذرائع کا ایک حصہ قدیم زمانہ میں بھی انسان کو حاصل تھا۔ اور ان کا بڑا حصہ موجودہ زمانہ میں دریافت کرکے انسان ان سے فائدہ اٹھا رہاہے۔ مثال کے طور پر جانور کی جگہ مشین۔

دنیا میں انسان کے لیے جوبے شمار نعمتیں ہیں وہ انسان نے خود نہیں بنائی ہیں بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس کے لیے مہیا کی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس دنیا کا خالق ایک مہربان خالق ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے خالق کا شکر گزار بنے اور اس کا حق اداکرے جو محسن ہونے کی حیثیت سے اس کے اوپر لازم آتاہے۔

7

وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَىٰ بَلَدٍۢ لَّمْ تَكُونُوا۟ بَٰلِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ ٱلْأَنفُسِ ۚ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمتِ شاقّہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور مہربان ہے

انسان کا آغاز ایک حقیر مادہ سے ہوتاہے۔ مگر انسان جب بڑا ہوتا ہے تو وہ خدا کا مد مقابل بننے کی کوشش کرتاہے۔ وہ خدا کی کائنات میں بے خدا بن کر رہنا چاہتاہے۔ اگر انسان اپنی ابتدائی حقیقت کو نظر میں رکھے تو کبھی وہ زمین میں سرکشی کا رویہ اختیار نہ کرے۔

انسان کو موجودہ دنیا میں جو نعمتیں حاصل ہیں ان میں سے ایک چوپائے ہیں۔ یہ گویا قدرت کی زندہ مشینیں ہیں جو انسان کی مختلف ضروریات فراہم کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ چوپائے گھاس اور چارہ کھاتے ہیں۔ اور ان کو انساني خوراک کے لیے گوشت اور دودھ میں تبدیل کرتے ہیں۔ وہ اپنے جسم پر بال اور اون نکالتے ہیں جن سے آدمی اپنی پوشاک بناتاہے۔ وہ انسان کو اور اس کے سامان کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔ ان چوپایوں کا گلہ آدمی کے اثاثہ میں شامل ہو کر اس کی حیثیت اور شان میں اضافہ کرتاہے۔

’’اور خدا ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے‘‘۔ اس سے مراد وہ فائدے ہیں جو چوپایوں کے علاوہ دوسرے ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان دوسرے ذرائع کا ایک حصہ قدیم زمانہ میں بھی انسان کو حاصل تھا۔ اور ان کا بڑا حصہ موجودہ زمانہ میں دریافت کرکے انسان ان سے فائدہ اٹھا رہاہے۔ مثال کے طور پر جانور کی جگہ مشین۔

دنیا میں انسان کے لیے جوبے شمار نعمتیں ہیں وہ انسان نے خود نہیں بنائی ہیں بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس کے لیے مہیا کی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس دنیا کا خالق ایک مہربان خالق ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے خالق کا شکر گزار بنے اور اس کا حق اداکرے جو محسن ہونے کی حیثیت سے اس کے اوپر لازم آتاہے۔

8

وَٱلْخَيْلَ وَٱلْبِغَالَ وَٱلْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةًۭ ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لیے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جن کی تم کو خبر نہیں

انسان کا آغاز ایک حقیر مادہ سے ہوتاہے۔ مگر انسان جب بڑا ہوتا ہے تو وہ خدا کا مد مقابل بننے کی کوشش کرتاہے۔ وہ خدا کی کائنات میں بے خدا بن کر رہنا چاہتاہے۔ اگر انسان اپنی ابتدائی حقیقت کو نظر میں رکھے تو کبھی وہ زمین میں سرکشی کا رویہ اختیار نہ کرے۔

انسان کو موجودہ دنیا میں جو نعمتیں حاصل ہیں ان میں سے ایک چوپائے ہیں۔ یہ گویا قدرت کی زندہ مشینیں ہیں جو انسان کی مختلف ضروریات فراہم کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ چوپائے گھاس اور چارہ کھاتے ہیں۔ اور ان کو انساني خوراک کے لیے گوشت اور دودھ میں تبدیل کرتے ہیں۔ وہ اپنے جسم پر بال اور اون نکالتے ہیں جن سے آدمی اپنی پوشاک بناتاہے۔ وہ انسان کو اور اس کے سامان کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔ ان چوپایوں کا گلہ آدمی کے اثاثہ میں شامل ہو کر اس کی حیثیت اور شان میں اضافہ کرتاہے۔

’’اور خدا ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے‘‘۔ اس سے مراد وہ فائدے ہیں جو چوپایوں کے علاوہ دوسرے ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان دوسرے ذرائع کا ایک حصہ قدیم زمانہ میں بھی انسان کو حاصل تھا۔ اور ان کا بڑا حصہ موجودہ زمانہ میں دریافت کرکے انسان ان سے فائدہ اٹھا رہاہے۔ مثال کے طور پر جانور کی جگہ مشین۔

دنیا میں انسان کے لیے جوبے شمار نعمتیں ہیں وہ انسان نے خود نہیں بنائی ہیں بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس کے لیے مہیا کی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس دنیا کا خالق ایک مہربان خالق ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے خالق کا شکر گزار بنے اور اس کا حق اداکرے جو محسن ہونے کی حیثیت سے اس کے اوپر لازم آتاہے۔

9

وَعَلَى ٱللَّهِ قَصْدُ ٱلسَّبِيلِ وَمِنْهَا جَآئِرٌۭ ۚ وَلَوْ شَآءَ لَهَدَىٰكُمْ أَجْمَعِينَ

اور سیدھا رستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے۔ اور بعض رستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے رستے پر چلا دیتا

ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کے لیے متعین سڑک ہوتی ہے جو سیدھی منزل تک پہنچاتی ہے۔ سواریاں اپنی منزل مقصود کے مطابق انھیں سیدھی سڑکوں پر چلتی ہیں۔ تاہم ان سڑکوں کے علاوہ اطراف میں بھی راستے اور پگڈنڈیاں ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص ان متفرق راستوں کو راستہ سمجھ کر ان پر چل پڑے تو وہ کبھی اپنی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ وہ اصل منزل کے دائیں بائیں بھٹک کر رہ جائے گا۔

یہی معاملہ خدا تک پہنچنے کا بھی ہے۔ خدانے انسان کو واضح طورپر بتادیا ہے کہ وہ کون سا راستہ ہے جو اس کو خدا تک پہنچانے والا ہے۔ یہ راستہ توحید اور تقویٰ کا راستہ ہے۔ جو شخص اس راستہ کو اختیار کرے گا وہ خدا تک پہنچے گا اور جو شخص دوسرے راستوں پر چلے گا وہ اِدھر اُدھر بھٹک جائے گا۔ وہ کبھی اپنے رب تک نہیں پہنچ سکتا۔

دنیا میں ہر چیز خداکے مقرر کيے ہوئے راستے پر چلتی ہے۔ خدا اگر چاہتاتو اسی طرح انسان کو بھی ایک مقرر راستہ کا پابند بنا دیتا۔ مگر انسان کا تخلیقی منصوبہ دوسری اشیاء کے تخلیقی منصوبہ سے مختلف ہے۔ دوسری اشیاء سے صرف پابندی مطلوب ہے۔ مگر انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ اختیاری پابندی ہے۔ اسی اختیاری پابندی کا موقع دینے کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی شخص سچے راستے پر چلتا ہے اورکوئی اس کو چھوڑ کر خود ساختہ راہوں میں بھٹکنے لگتاہے۔

10

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ ۖ لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌۭ وَمِنْهُ شَجَرٌۭ فِيهِ تُسِيمُونَ

وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو

بادل اوپر فضا سے پانی برساتے ہیں اور نیچے زمین پر اس سے نہایت با معنی قسم کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ ’’زمین وآسمان‘‘ کا اس طرح ہم آہنگ ہو کر عمل کرنا واضح طورپر یہ ثابت کرتاہے کہ جو خدا آسمان کا ہے، وہی خدا زمین کا بھی ہے۔

کائنات کے مختلف حصوں کے درمیان کامل ہم آہنگی ہے۔ یہ ہم آہنگی اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ ساری کائنات کا خالق ومالک صرف ایک ہے۔ کائنات کے موجودہ ڈھانچہ میں ایک سے زیادہ خدا کی کوئی گنجائش نہیں۔ اب جب خالق ومالک حقیقۃً صرف ایک خدا ہے تو اس کے سوا دوسری جس چیز کو بھی معبودیت کا درجہ دیا جائے گا، وہ سراسر بے بنیاد ہوگا۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.