Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 128

41

وَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ فِى ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ ۖ وَلَأَجْرُ ٱلْءَاخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ

اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لیے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے

منکرین اور مکذبین کے بالمقابل ذرا مومنین صادقین کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے جو نہ صرف اپنے نظریہ حیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس کے لئے اپنا مال اور اپنا ملک چھوڑ کر ہجرت بھی کرتے ہیں اور یہ کام وہ صرف رضائے الٰہی کی خاطر کرتے ہیں۔

آیت نمبر 41 تا 42

یہ لوگ جنہوں نے اپنے ملک و مال کو چھوڑ کر ہجرت کی ، اپنی جائیداد اور محبب آبائی وطن سے دستکش ہوگئے۔ انہوں نے ملک ، رشتہ داروں اور اپنی محبوب یادوں کی قربانی دی۔ یہ لوگ دار آخرت میں عوضانہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جو جو قربانیاں دیں اس کا اجر تو انہیں ملنا چاہئے۔ پھر یہ مال اور ملک انہوں نے خوشی سے نہیں چھوڑا بلکہ ظلم سے تنگ آکر چھوڑا۔ اگر یہاں انہوں نے اپنی اچھی رہائش گاہیں چھوڑیں تو لازم ہے کہ دنیا میں بھی ان کو ان حالات سے اچھے حالات نصیب ہوں۔

لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ (16 : 41) ” ان کو ہم دنیا میں بھی اچھا ٹھکانا دیں گے “۔ اور آخرت میں بھی ان کو ہم اچھے مقامات پر ٹھہرائیں گے۔ ولاجر الاخرۃ اکبر (16 : 41) ” اور آخرت کا اجر بہرحال بڑا ہے “۔ اے کاش کہ لوگ اس بات کو جانتے۔

الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون (16 : 42) ” جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں “۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے ، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں۔ اگر قیامت نہ ہو تو ایسے لوگوں کا اجر کہاں ان کو ملے گا۔

٭٭٭

اس سے قبل مشرکین کے عذرات کو رد کرتے وقت یہ کہا گیا کہ اللہ کی مرضی نہیں ہے کہ تم یا تمہارے آباء شرک کرو ، ورنہ وہ رسول کیوں بھیجتا۔ جو ہر امت میں بھیجے گئے۔ یہاں اب رسولوں کے منصب کے فرائض ذرا تفصیل سے بیان کئے جاتے ہیں اور نبی آخر الزمان ﷺ کے فرائض کا بھی تعین کیا جاتا ہے ، اور حکم دیا جاتا ہے کہ وہ جو دعوت دے رہے ہیں اگر تم نے اس کا انکار کیا تو اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔

42

ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

یعنی وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں

منکرین اور مکذبین کے بالمقابل ذرا مومنین صادقین کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے جو نہ صرف اپنے نظریہ حیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس کے لئے اپنا مال اور اپنا ملک چھوڑ کر ہجرت بھی کرتے ہیں اور یہ کام وہ صرف رضائے الٰہی کی خاطر کرتے ہیں۔

آیت نمبر 41 تا 42

یہ لوگ جنہوں نے اپنے ملک و مال کو چھوڑ کر ہجرت کی ، اپنی جائیداد اور محبب آبائی وطن سے دستکش ہوگئے۔ انہوں نے ملک ، رشتہ داروں اور اپنی محبوب یادوں کی قربانی دی۔ یہ لوگ دار آخرت میں عوضانہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جو جو قربانیاں دیں اس کا اجر تو انہیں ملنا چاہئے۔ پھر یہ مال اور ملک انہوں نے خوشی سے نہیں چھوڑا بلکہ ظلم سے تنگ آکر چھوڑا۔ اگر یہاں انہوں نے اپنی اچھی رہائش گاہیں چھوڑیں تو لازم ہے کہ دنیا میں بھی ان کو ان حالات سے اچھے حالات نصیب ہوں۔

لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ (16 : 41) ” ان کو ہم دنیا میں بھی اچھا ٹھکانا دیں گے “۔ اور آخرت میں بھی ان کو ہم اچھے مقامات پر ٹھہرائیں گے۔ ولاجر الاخرۃ اکبر (16 : 41) ” اور آخرت کا اجر بہرحال بڑا ہے “۔ اے کاش کہ لوگ اس بات کو جانتے۔

الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون (16 : 42) ” جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں “۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے ، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں۔ اگر قیامت نہ ہو تو ایسے لوگوں کا اجر کہاں ان کو ملے گا۔

٭٭٭

اس سے قبل مشرکین کے عذرات کو رد کرتے وقت یہ کہا گیا کہ اللہ کی مرضی نہیں ہے کہ تم یا تمہارے آباء شرک کرو ، ورنہ وہ رسول کیوں بھیجتا۔ جو ہر امت میں بھیجے گئے۔ یہاں اب رسولوں کے منصب کے فرائض ذرا تفصیل سے بیان کئے جاتے ہیں اور نبی آخر الزمان ﷺ کے فرائض کا بھی تعین کیا جاتا ہے ، اور حکم دیا جاتا ہے کہ وہ جو دعوت دے رہے ہیں اگر تم نے اس کا انکار کیا تو اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔

43

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِمْ ۚ فَسْـَٔلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو

آیت نمبر 43 تا 44

یعنی اس سے قبل ہم نے جو رسول بھیجے تھے وہ آدمی ہی تھے۔ فرشتے نہ تھے۔ نہ آدم اور فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق تھے۔ البتہ یہ برگزیدہ لوگ تھے۔

نوحی الیھم (16 : 43) “ جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے “ جیسا کہ آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ ان کے فرائض بھی یہی تھے کہ دعوت کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ جس طرح آپ کا بھی یہی فریضہ ہے۔

فسئلوا اھل الذکر (16 : 43) ” اہل ذکر سے پوچھ لو “۔ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے پاس بہت سے رسول آئے کہ یہ رسول آدمی تھے یا فرشتے یا کوئی اور مخلوق۔

ان کنتم لا تعلمون (16 : 43) ” اگر تم خود نہیں مانتے “۔ ان رسولوں کو کتابیں بھی دی گئیں اور دلائل بھی دئیے گئے۔ عربی میں زیر کے معنی متفرق کتابوں کے ہوتے ہیں۔

وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم (16 : 44) ” اور ہم نے اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لئے اتاری گئی ہے “۔ نبی آخر الزمان کا بیان ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو پہلے اہل کتاب تھے ، جنہوں نے اپنی کتاب میں اختلاف کیا اور قرآن آیا اور ان کے اختلافات کا فیصلہ کردیا اور مسئلہ مختلفہ میں حق بات کہہ دی۔ ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو ان کے سوا آپ کے معاصر تھے ، جن کے سامنے قرآن مجید نازل ہوا تا کہ لوگ اللہ کی آیات اور قرآن کی آیات دونوں میں غورو فکر کریں۔

ولعلھم یتفکرون (16 : 44) ” قرآن مجید میں ہر وقت انسانوں کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور انسانی شعور کو جگانے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ درس ، جس کا آغاز مستکبرین اور مکارین کی سمت ہوا تھا ، اس کے آخر میں قارئین کو چند وجدانی احساس دلائے جاتے ہیں۔ پہلا احساس یہ دلایا جاتا ہے کہ انسان کو رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کے عذاب اور اللہ کی جوابی تدبیر سے بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔ دوسرا احساس یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا چاہئے اور اس کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنا چاہئے۔ یہ انسان ہی ہے جو تکبر کرتے ہوئے غافل اور منکر ہوجاتا ورنہ اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتی ہے۔

44

بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِ ۗ وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ

(اور ان پیغمبروں کو) دلیلیں اور کتابیں دے کر (بھیجا تھا) اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو اور تاکہ وہ غور کریں

آیت نمبر 43 تا 44

یعنی اس سے قبل ہم نے جو رسول بھیجے تھے وہ آدمی ہی تھے۔ فرشتے نہ تھے۔ نہ آدم اور فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق تھے۔ البتہ یہ برگزیدہ لوگ تھے۔

نوحی الیھم (16 : 43) “ جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے “ جیسا کہ آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ ان کے فرائض بھی یہی تھے کہ دعوت کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ جس طرح آپ کا بھی یہی فریضہ ہے۔

فسئلوا اھل الذکر (16 : 43) ” اہل ذکر سے پوچھ لو “۔ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے پاس بہت سے رسول آئے کہ یہ رسول آدمی تھے یا فرشتے یا کوئی اور مخلوق۔

ان کنتم لا تعلمون (16 : 43) ” اگر تم خود نہیں مانتے “۔ ان رسولوں کو کتابیں بھی دی گئیں اور دلائل بھی دئیے گئے۔ عربی میں زیر کے معنی متفرق کتابوں کے ہوتے ہیں۔

وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم (16 : 44) ” اور ہم نے اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لئے اتاری گئی ہے “۔ نبی آخر الزمان کا بیان ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو پہلے اہل کتاب تھے ، جنہوں نے اپنی کتاب میں اختلاف کیا اور قرآن آیا اور ان کے اختلافات کا فیصلہ کردیا اور مسئلہ مختلفہ میں حق بات کہہ دی۔ ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو ان کے سوا آپ کے معاصر تھے ، جن کے سامنے قرآن مجید نازل ہوا تا کہ لوگ اللہ کی آیات اور قرآن کی آیات دونوں میں غورو فکر کریں۔

ولعلھم یتفکرون (16 : 44) ” قرآن مجید میں ہر وقت انسانوں کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور انسانی شعور کو جگانے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ درس ، جس کا آغاز مستکبرین اور مکارین کی سمت ہوا تھا ، اس کے آخر میں قارئین کو چند وجدانی احساس دلائے جاتے ہیں۔ پہلا احساس یہ دلایا جاتا ہے کہ انسان کو رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کے عذاب اور اللہ کی جوابی تدبیر سے بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔ دوسرا احساس یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا چاہئے اور اس کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنا چاہئے۔ یہ انسان ہی ہے جو تکبر کرتے ہوئے غافل اور منکر ہوجاتا ورنہ اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتی ہے۔

45

أَفَأَمِنَ ٱلَّذِينَ مَكَرُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَخْسِفَ ٱللَّهُ بِهِمُ ٱلْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ ٱلْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ

کیا جو لوگ بری بری چالیں چلتے ہیں اس بات سے بےخوف ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے یا (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آجائے جہاں سے ان کو خبر ہی نہ ہو

آیت نمبر 45 تا 50

یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔

افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔

فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔

او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔

یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔

اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔

سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔

قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا …

46

أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ

یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے

آیت نمبر 45 تا 50

یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔

افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔

فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔

او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔

یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔

اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔

سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔

قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا …

47

أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍۢ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌ

یا جب ان کو عذاب کا ڈر پیدا ہوگیا ہو تو ان کو پکڑلے۔ بےشک تمہارا پروردگار بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے

آیت نمبر 45 تا 50

یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔

افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔

فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔

او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔

یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔

اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔

سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔

قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا …

48

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ يَتَفَيَّؤُا۟ ظِلَٰلُهُۥ عَنِ ٱلْيَمِينِ وَٱلشَّمَآئِلِ سُجَّدًۭا لِّلَّهِ وَهُمْ دَٰخِرُونَ

کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں

آیت نمبر 45 تا 50

یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔

افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔

فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔

او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔

یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔

اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔

سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔

قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا …

49

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ مِن دَآبَّةٍۢ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ

اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے

آیت نمبر 45 تا 50

یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔

افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔

فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔

او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔

یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔

اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔

سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔

قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا …

50

يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩

اور اپنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں اور جو ان کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں

آیت نمبر 45 تا 50

یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔

افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔

فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔

او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔

یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔

اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔

سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔

قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.