Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 41–50 of 128

41

وَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ فِى ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ ۖ وَلَأَجْرُ ٱلْءَاخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ

اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لیے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے

وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِي اللّٰهِ ۔۔ : ” هَاجَرُوْا “ ” ھَجَرَ یَھْجُرُ “ سے باب مفاعلہ ہے۔ ” ھَجَرَ “ اور ” ھَاجَرَ “ کے مفہوم میں فرق ہے۔ ” ھَجَرَ الْمَکَانَ “ ” اس نے فلاں جگہ چھوڑ دی “ ہوسکتا ہے اسے وہ پسند نہ رہی ہو اور وہ اپنے خیال میں اس سے بہتر جگہ چلا گیا ہو، جگہ نے اسے جانے پر مجبور نہیں کیا، وہ اپنی مرضی سے اسے چھوڑ گیا ہے، لیکن ” ھَاجَرَ “ یعنی باب مفاعلہ میں مقابلہ پایا جاتا ہے، یعنی قوم کی طرف سے مزاحمت اور مقابلے نے اسے وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، وہ اپنی جگہ چھوڑنے پر ازخود راضی نہ تھا۔ (شعراوی)- 3 اللہ کی توحید اور قیامت پر ایمان لانے والوں کا توحید اور قیامت کے منکروں کے ساتھ خوشی سے مل جل کر رہنا ممکن ہی نہ تھا، خصوصاً جب اہل ایمان تعداد اور قوت میں کمزور بھی تھے۔ اپنے وطن کو جہاں بیت اللہ بھی ہو، کون خوشی سے چھوڑ سکتا ہے ؟ اس لیے انھوں نے وطن چھوڑا تو دو وجہوں سے، ایک تو قوم کے ظلم کی وجہ سے، جیسا کہ فرمایا : (مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا) اور دوسرا اس لیے کہ اللہ کے دین پر عمل کرنا وطن میں ممکن نہ رہا، تو انھوں نے گھر بار، خویش، قبیلے، جائداد، غرض ہر چیز کو اللہ کی خاطر چھوڑ دیا اور ایسی جگہ چلے گئے جہاں وہ ظلم سے بھی بچ جائیں اور اللہ کے دین پر بھی عمل کرسکیں۔ چونکہ یہ سورت مکی ہے، اس لیے اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ ان کی تعداد مردوں، عورتوں اور بچوں سمیت ایک سو یا کم و بیش تھی، جن میں عثمان غنی (رض) اور ان کی بیوی رقیہ (رض) (بنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بھی تھے، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں ہر مہاجر شامل ہے، خواہ مکہ سے حبشہ کی طرف ہو یا مدینہ کی طرف، یا کسی بھی ظالم بستی سے امن کی بستی کی طرف۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں حبشہ کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کا پیشگی اشارہ ہو۔ - لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَـنَةً ۔۔ : ” بَوَّءَ یُبَوِّئُ “ (تفعیل) رہنے کی جگہ دینا، ٹھکانا دینا۔ اللہ تعالیٰ نے لام اور نون ثقیلہ دو تاکیدوں کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا، چناچہ اس نے ان ناتواں اور غریب الوطن مہاجرین کو دنیا میں عزت، شرف، عظمت، حکومت، دولت غرض ہر چیز عطا فرمائی۔ وہ جزیرۂ عرب ہی کے نہیں، شام، مصر، عراق، فارس کے مالک بنے اور نصف صدی گزری تھی کہ وہ تمام دنیا پر غالب تھے۔ یہ بھی کوئی اجر صغیر نہیں، اجر کبیر ہے، جو دین کی اشاعت اور آخرت کی تیاری میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کبیر ہی کے مقابلے میں اکبر ہوتا ہے، نہ کہ صغیر کے مقابلے میں، اس لیے فرمایا، یقیناً آخرت کا اجر اکبر ہے، یعنی اس سے بھی بڑا، بلکہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (٢١٨) ، آل عمران (١٩٥) اور سورة نساء (١٠٠) ۔- لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ : اس سے مراد تین طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں : 1 کافر کہ وہ علم رکھتے ہوتے تو ایمان لے آتے۔ 2 مہاجر کہ وہ ہجرت کی فضیلت جانتے ہوتے تو انھیں بیحد خوشی ہوتی۔ 3 وہ مومن جنھوں نے ہجرت نہیں کی کہ وہ ہجرت کی فضیلت جانتے ہوتے تو ضرور ہجرت کرتے۔

42

ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

یعنی وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں

الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ : صبر اور اللہ پر توکل ہی سے وطن چھوڑنے کی جرأت پیدا ہوتی ہے، ورنہ بندہ مستقبل کے خوف سے کہ اپنا گھر چھوڑ کر کہیں گیا تو کہاں سے کھاؤں گا، اپنی جگہ سے نہیں ہلتا اور نہ ہلنے کی وجہ سے چکی کے نچلے پاٹ کی طرح ہمیشہ اپنے سینے پر اوپر کے پاٹ کا بوجھ برداشت کرتا رہتا ہے اور آخر کار یا تو ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا جان سے۔ دیکھیے سورة نساء (٩٧) ۔

43

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِمْ ۚ فَسْـَٔلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یوسف (١٠٩) ۔- فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ : ” اَهْلَ الذِّكْرِ “ سے مراد اہل کتاب یہود و نصاریٰ ہیں، یعنی یہ بات اگر تمہیں معلوم نہیں کہ پہلے تمام رسول مرد (انسان) ہی تھے تو یہودو نصاریٰ سے پوچھ لو جو انبیاء کی تاریخ سے واقف ہیں اور تم ان پر اعتماد بھی مسلمانوں کی نسبت زیادہ کرتے ہو کہ موسیٰ ، عیسیٰ ، داؤد اور سلیمان وغیرہم فرشتے تھے یا بشر ؟ پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ اعتراض کیوں کہ یہ نبی انسان کیوں ہے، فرشتہ کیوں نہیں ؟- اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ : ” اگر تم نہیں جانتے “ یہ دراصل تعریض ہے کہ ” جانتے تم بھی ہو “ کیا اپنے باپ ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) کو تم نہیں جانتے کہ وہ فرشتہ رسول تھے یا بشر ؟ یقیناً تم جانتے ہو، خیر اگر نہیں جانتے تو یہود و نصاریٰ سے پوچھ لو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور یوسف اور سارے بنی اسرائیل کے انبیاء بشر تھے یا فرشتے ؟ تم پر حقیقت واضح ہوجائے گی۔ - 3 بعض لوگ اس آیت سے تقلید کے وجوب یا جواز پر استدلال کرتے ہیں، حالانکہ آیت کے سیاق وسباق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے مخاطب مشرکین ہیں اور ” اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ “ سے مراد اہل کتاب ہیں اور آیت میں ایک خاص اعتراض کے حل میں ان کی طرف رجوع کا حکم دیا جا رہا ہے، اس کا تقلیدِ ائمہ سے کیا تعلق ؟- 3 اگر آیت کو عام بھی سمجھ لیا جائے تو غیر عالم مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے کسی بھی موجود عالم سے کتاب و سنت کا حکم معلوم کرلیں، کیونکہ فوت شدہ شخص سے پوچھا ہی نہیں جاسکتا۔ ظاہر ہے چاروں امام بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی فوت ہوچکے ہیں، ان سے سوال تو ممکن ہی نہیں۔ ہاں اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کتاب و سنت میں محفوظ ہیں اور اماموں کے اقوال ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اب کوئی شخص دونوں میں سے جو بھی پوچھے گا کسی زندہ عالم ہی سے پوچھے گا، وہ عالم مکمل طور پر محفوظ کتاب و سنت سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم بھی بتاسکتا ہے اور کسی معتبر یا غیر معتبر کتاب سے امام کا قول بھی۔ اس لیے سائل کا فرض یہ ہے کہ وہ کسی بھی عالم سے یہ پوچھے کہ اس مسئلہ میں اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا حکم ہے، کیونکہ دین صرف کتاب و سنت کا نام ہے۔ جب بڑے سے بڑے امتی کا قول بھی دین نہیں تو پھر سائل عالم سے کسی امام کا قول کیوں پوچھے ؟ کیا وہ امام نبی تھا، یا اللہ تعالیٰ نے اس کی اطاعت کا حکم دیا ہے، یا وحی کے ذریعے سے اس کی خطا کی اصلاح کردی جاتی تھی۔ اس سے بڑھ کر بدقسمتی کیا ہوگی کہ مسلمانوں نے علماء سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم پوچھنے کے بجائے اپنے اپنے فرقے کے بنائے ہوئے امام کے اقوال پوچھنا اور ان پر عمل کرنا شروع کردیا۔ نتیجہ اس کا ظاہر ہے کہ مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ اس کا علاج اب بھی سب فرقے چھوڑ کر کتاب و سنت پر متحد ہونا ہے۔ خصوصاً آگے صاف لفظ بھی آ رہے ہیں کہ ” بِالْبَیِّنٰتِ والزُّبُر “ یعنی اہل ذکر سے سوال کرو کہ وہ بینات (دلائل) اور آسمانی کتابوں کے ساتھ جواب دیں، نہ کہ اپنے یا کسی امتی کے قیاس یا عقل سے نکالی ہوئی کسی بات کے ساتھ۔ گویا اس آیت کو اگر تقلید کے متعلق مان بھی لیا جائے تو یہ تقلید کو جڑ سے اکھیڑنے والی اور کتاب و سنت کا پابند بنانے والی ہے۔ - ” اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ “ سے معلوم ہوا کہ اہل ذکر سے پوچھنے کی ضرورت اسے ہے جو لاعلم ہو۔ کیا بڑے بڑے مدارس میں دس، دس سال پڑھنے کے بعد اور چالیس پچاس سال پڑھانے کے بعد بھی مقلد حضرات ” لاتعلمون “ ہی رہتے ہیں، حالانکہ وہ …

44

بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِ ۗ وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ

(اور ان پیغمبروں کو) دلیلیں اور کتابیں دے کر (بھیجا تھا) اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو اور تاکہ وہ غور کریں

بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ : ” وَالزُّبُرِ “ ” اَلزَّبُوْرُ “ کی جمع ہے، بمعنی ” مَزْبُوْرٌ“ یعنی مکتوب۔ ” بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ “ یہ جار مجرور گزشتہ آیت کے دو افعال میں سے کسی ایک کے متعلق ہوسکتا ہے، یا تو ” وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا “ میں ” اَرْسَلْنَا “ کے متعلق، یعنی ہم نے آپ سے پہلے نہیں بھیجے مگر مرد واضح دلائل اور کتابیں دے کر، یا ” فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ “ میں ” فَسْئَلُوا “ کے متعلق، یعنی اگر تم نہیں جانتے تو ذکر والوں سے واضح دلائل اور کتابوں کے ساتھ پوچھ لو۔ (طنطاوی)- وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ ۔۔ : ” الذِّكْرَ “ کی تفسیر کے لیے اسی سورة حجر کی آیت (٩) کے حواشی ملاحظہ فرمائیں۔- اس آیت میں ” الذِّكْرَ “ یعنی وحی الٰہی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کرنے کی دو حکمتیں بیان فرمائیں، ایک تو یہ کہ لوگوں کو اس کا مطلب سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آنے پر آپ ان کے لیے اس کی وضاحت فرما دیں، بلکہ خود اس پر عمل کرکے انھیں اس کی عملی تصویر دکھا دیں، کیونکہ آپ کی وضاحت اور نمونے کے بغیر وحی الٰہی میں بیان کردہ چیزوں کو سمجھنا ممکن ہی نہیں، مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر احکام۔ قرآن مجید کے علاوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر قول، فعل اور حال وحی الٰہی اور اس کی وضاحت ہی ہے، فرمایا : (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) [ الأحزاب : ٢١ ] ” بلاشبہ یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے۔ “ مقدام بن معدیکرب (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلَا، إِنِّيْ أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ ، أَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلٰی أَرِیْکَتِہِ یَقُوْلُ عَلَیْکُمْ بِھٰذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوْہُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ أَلاَ وَ إِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ، أَلاَ ، لَا یَحِلُّ لَکُمْ الْحِمَارُ الْأَھْلِيُّ وَلَا کُلُّ ذِيْ نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَلَا لُقَطَۃُ مُعَاھِدٍ إِلاَّ أَنْ یَسْتَغْنِيَ عَنْھَا صَاحِبُھَا ) [ أبوداوٗد، السنۃ، باب فی لزوم السنۃ : ٤٦٠٤۔ ابن ماجہ : ١٢، و صححہ الألباني ] ” سنو مجھے کتاب اور اس کے ساتھ اس کی مثل دی گئی ہے، یاد رکھو قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا ہوا آدمی اپنی شاندار چارپائی پر بیٹھا ہوا یہ کہے کہ اس قرآن کو لازم پکڑو، جو اس میں حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔ سن لو بیشک جو کچھ اللہ کے رسول نے حرام کیا ہے وہ اسی طرح ہے جیسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ یاد رکھو تمہارے لیے گھریلو گدھے کا گوشت حلال نہیں اور نہ درندوں میں سے کوئی کچلی والا اور نہ کسی ذمی (کافر) کی گری ہوئی چیز، الا یہ کہ اس کے مالک کو اس کی ضرورت نہ رہے۔ “ دوسری حکمت ” وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ “ اور تاکہ لوگ وحی الٰہی میں غور و فکر کریں اور اس سے نصیحت حاصل کریں۔

45

أَفَأَمِنَ ٱلَّذِينَ مَكَرُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَخْسِفَ ٱللَّهُ بِهِمُ ٱلْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ ٱلْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ

کیا جو لوگ بری بری چالیں چلتے ہیں اس بات سے بےخوف ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے یا (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آجائے جہاں سے ان کو خبر ہی نہ ہو

اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ ۔۔ : فاء عاطفہ ہے، لیکن ہمزۂ استفہام عربی میں کلام کے شروع میں آتا ہے، اس لیے عطف کی فاء ہو یا واؤ، ہمزۂ استفہام کے بعد لائی جاتی ہے، لہٰذا ترجمے میں حرف عطف کا معنی پہلے کیا جاتا ہے۔ ان تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے واضح دلائل اور کتاب دیکھنے سننے کے باوجود رسول اور اہل ایمان کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو چار قسم کے عذاب سے خبردار کیا ہے، پہلا یہ کہ کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں دھنسا دے اور ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کے متعلق فرمایا : (فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ ) [ القصص : ٨١ ] ” تو ہم نے اسے اور اس کے مکان کو زمین میں دھنسا دیا۔ “ خود ہمارے دیکھنے میں آزاد کشمیر کے اندر آنے والے زلزلے میں کئی جگہوں پر زمین پھٹی اور کئی آدمی اور مکان اس کے اندر دھنس گئے، پھر دوسرے جھٹکوں کے ساتھ زمین کے وہ شگاف دوبارہ مل گئے اور دھنسنے والوں کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ دوسرا یہ کہ انھیں عذاب ایسی جگہ سے آپکڑے جہاں سے وہ سوچتے بھی نہ ہوں کہ یہاں سے بھی عذاب آسکتا ہے اور اچانک آجانے کی وجہ سے نہ اس کا دفاع کرسکیں اور نہ اس سے بھاگ کر بچ سکیں۔ اس کے مشابہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا ) [ الحشر : ٢ ] ” تو اللہ ان کے پاس آیا جہاں سے انھوں نے گمان نہیں کیا تھا۔ “

46

أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ

یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے

اَوْ يَاْخُذَهُمْ فِيْ تَقَلُّبِهِمْ ۔۔ : ” تَقَلُّبٌ“ چلنا پھرنا، یعنی زندگی کی مصروفیات میں چلتے پھرتے، آتے جاتے اپنے شہر یا سفر میں کہیں بھی پکڑ لے۔ ” بِمُعْجِزِيْنَ “ یہ ” أَعْجَزَ یُعْجِزُ إِعْجَازًا “ باب افعال سے اسم فاعل کا صیغہ ہے، لفظی معنی ہے عاجز کرنے والے، یعنی اگر اللہ چاہے تو انھیں چلتے پھرتے مصروفیت کی حالت میں پکڑ لے، پھر یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اللہ کی گرفت سے بچ کر نکل جائیں اور اللہ تعالیٰ کو پکڑنے سے عاجز کردیں۔ ” بِمُعْجِزِيْنَ “ پر باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” کسی طرح عاجز کرنے والے نہیں “ کیا گیا ہے۔

47

أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍۢ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌ

یا جب ان کو عذاب کا ڈر پیدا ہوگیا ہو تو ان کو پکڑلے۔ بےشک تمہارا پروردگار بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے

اَوْ يَاْخُذَهُمْ عَلٰي تَخَــوُّفٍ ۭ : ” تَخَــوُّفٍ “ کا ایک معنی خوف زدہ ہونا ہے اور ایک معنی ” تَنَقُّص “ یعنی آہستہ آہستہ کم ہونا ہے۔ یعنی عذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ انھیں پہلے ہی سے نظر آ رہا ہو کہ عذاب آ رہا ہے، جس کے آنے سے وہ ہر وقت خوف زدہ رہیں اور اس کے نتیجے میں دن بدن ان کی جانیں، مال اور پیداوار کم ہوتی چلی جائیں، حتیٰ کہ دیکھتے دیکھتے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آجائیں۔ یہ بھی عذاب کی نہایت تکلیف دہ صورت ہے، کیونکہ انسان خوف کی وجہ سے نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے، بلکہ گھلتا چلا جاتا ہے۔ اس تفسیر میں ” تَخَــوُّفٍ “ اور ” تَنَقُّص “ (خوف زدہ ہونا اور آہستہ آہستہ کم ہونا) دونوں معنی آگئے ہیں۔ - فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ : یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اگرچہ عذاب کی بیشمار صورتیں ہیں، مگر وہ تمہیں مہلت دیتا ہے اور درگزر فرماتا ہے، تاکہ تم نافرمانی چھوڑ کر واپس پلٹ آؤ۔ یہ اس کی بیحد شفقت اور نہایت مہربانی ہے کہ تم گناہ کرتے رہتے ہو، اس کے باوجود وہ تمہیں رزق دیتا ہے اور تندرستی بخشتا ہے اور اس کی طرف سے تمہاری فوری گرفت نہیں ہوتی۔ ورنہ اگر وہ تمہیں تمہاری نافرمانیوں کی وجہ سے پکڑے تو زمین پر کوئی چلنے والی چیز باقی نہ رہے۔ دیکھیے سورة فاطر کی آخری آیت۔

48

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ يَتَفَيَّؤُا۟ ظِلَٰلُهُۥ عَنِ ٱلْيَمِينِ وَٱلشَّمَآئِلِ سُجَّدًۭا لِّلَّهِ وَهُمْ دَٰخِرُونَ

کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں

اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۔۔ : ” يَّتَفَيَّؤُا “ ” فَاءَ یَفِیْئُ فَیْءًا “ (لوٹنا) سے باب تفعل ہے۔ سایوں کے لوٹنے سے مراد سورج نکلنے کے بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ حتیٰ کہ زوال کے بعد بالکل ہی دوسری طرف منتقل ہونا ہے۔ ” دٰخِرُوْنَ “ ” دَخِرَ یَدْخَرُ دُخُوْرًا “ (ع) سے ہے، ” دَخِرَ فُلَانٌ لِفُلَانٍ “ فلاں شخص دوسرے کا بالکل مطیع اور اس کے سامنے عاجز اور ذلیل ہوگیا۔” اَوَلَمْ يَرَوْا “ میں استفہام پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ ڈانٹنے کے لیے ہے کہ کیا ان مشرکوں کو نظر نہیں آتا، یقیناً یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز اور عاجز و مطیع ہے، مگر یہ اللہ کے دیے ہوئے اختیار کو اس کی ساری مخلوق کی طرح عاجزی، اطاعت اور عبادت کے بجائے سرکشی اور کفر و شرک میں استعمال کر رہے ہیں۔ - اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۔۔ : یعنی دنیا کی کوئی بھی چیز جو اللہ نے پیدا فرمائی ہے، مثلاً پہاڑ، درخت اور انسان وغیرہ، جس کا سایہ بڑھتا، گھٹتا اور ڈھلتا ہے، ہر ایک تکوینی طور پر (اپنے اختیار کے بغیر) اللہ تعالیٰ ہی کی فرماں برداری میں مصروف ہے اور وہ قانون قدرت سے بال برابر ادھر ادھر نہیں ہوسکتی۔ یہاں تمام چیزوں پر ذوی العقول کو غلبہ دے کر ” دٰخِرُوْنَ “ فرمایا ہے۔ (روح المعانی) شاہ عبد القادر (رض) اس سجدہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ” ہر چیز ٹھیک دوپہر میں کھڑی ہے، اس کا سایہ بھی کھڑا ہے، جب دن ڈھلا، سایہ بھی جھکا، پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑگیا، جیسے نماز میں قیام سے رکوع اور رکوع سے سجدہ، اسی طرح ہر چیز اپنے سائے سے نماز ادا کرتی ہے۔ “ (موضح) ” الْيَمِيْنِ “ کو اختصار کے لیے واحد اور ” وَالشَّمَاۗىِٕلِ “ کو تفصیل کے لیے جمع لائے۔ پہلے سے مراد جنس ہے، اس میں بھی تمام افراد شامل ہیں، دوسرے سے مراد بائیں جانب کے تمام اطراف ہیں۔

49

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ مِن دَآبَّةٍۢ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ

اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۔۔ : پہلے ان چیزوں کا سجدہ بیان فرمایا جو زمین میں پائی جاتی ہیں، اب یہاں زمین و آسمان میں پائے جانے والے تمام جان دار، خصوصاً فرشتوں کا سجدہ بیان کرکے متنبہ فرمایا کہ ایسی مقرب ہستیاں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہیں اور ان میں کوئی تکبر یا غرور نہیں پایا جاتا، لہٰذا ان کے متعلق یہ سمجھنا قطعی غلط ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کا اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں کوئی حصہ ہے۔ (شوکانی)

50

يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩

اور اپنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں اور جو ان کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں

يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ۔۔ : ” مِّنْ فَوْقِهِمْ “ ” رَبَّهُمْ “ سے حال ہے، یعنی وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، اس حال میں کہ وہ ان کے اوپر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے اور تمام اہل السنہ کا اس پر اتفاق ہے۔ یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے، درست نہیں، کیونکہ یہ ” اَلرَّحْمٰن عَلیٰ الْعَرْشِ اسْتَویٰ “ کے خلاف ہے۔ ہاں، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن و حدیث کی رو سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، مگر کس طرح ہے، یہ معلوم نہیں، نہ صحابہ میں سے کسی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی کیفیت پوچھی، اس لیے امام مالک (رض) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے، اس کی کیفیت معلوم نہیں، اس لیے اس کی کیفیت کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے۔ “ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ دائیں نہ بائیں، نہ آگے نہ پیچھے، بلکہ وہ لا مکان ہے، یعنی کسی جگہ بھی نہیں، کیونکہ عرش اور مکان تو اس کی مخلوق ہے، اگر اسے عرش پر یا کسی مکان میں مانیں تو وہ اپنی مخلوق کا محتاج ٹھہرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے اوپر کی جانب ہونے یا عرش پر ہونے کے منکرین میں سے بعض لوگ تو یہاں تک بڑھ گئے کہ انھوں نے کہا یہ کہنا ہی جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟- اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، ان کی بات قرآن کی ان متعدد آیات جن میں اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا یا اوپر کی جانب ہونا بیان ہوا ہے، کے صریح خلاف ہے۔ ان کی بات کا نتیجہ تو یہی ہے کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ موجود ہی نہیں۔ رہی یہ بات کہ اس سے اللہ کا عرش یا مکان کا محتاج ہونا لازم آتا ہے تو یہ بات فضول ہے، کیونکہ بہت سی نیچے والی چیزیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے اوپر والی چیز کی محتاج ہوتی ہیں، مثلاً چھت کے نیچے پنکھا یا بلب وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کی مثل تو کوئی چیز نہیں، سو عرش اور مکان اللہ تعالیٰ کے مخلوق ہو کر بھی اپنی پیدائش اور وجود میں اللہ کے محتاج ہیں، اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں، کیونکہ وہ ان کے پیدا کرنے سے پہلے بھی ہمیشہ سے موجود ہے۔ ہاں، اس کی کوئی صفت یا اس کی ذات کسی مخلوق کی صفت یا ذات کی مثل نہیں۔ جن لوگوں نے اس سوال پر کہ ” اللہ کہاں ہے “ ناجائز ہونے کا فتویٰ لگایا وہ سوچ لیں کہ ان کا فتویٰ کس کس ہستی پر لگتا ہے۔ صحیح مسلم میں معاویہ بن حکم السلمی (رض) سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں : ( کَانَتْ لِيْ جَارِیَۃٌ تَرْعَی غَنَمًا لِيْ قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃِ ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ یَوْمٍ فَإِذَا الذِّءْبُ قَدْ ذَھَبَ بِشَاۃٍ عَنْ غَنَمِھَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِيْ آدَمَ ، آسَفُ کَمَا یَأْسَفُوْنَ ، لٰکِنِّيْ صَکَکْتُھَا صَکَّۃً ، فَأَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذٰلِکَ عَلَيَّ ، قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَفَلاَ أُعْتِقُھَا ؟ قَالَ اءْتِنِیْ بِھَا، فَأَتَیْتُہُ بِھَا، فَقَالَ لَھَا أَیْنَ اللّٰہُ ؟ قَالَتْ فِي السَّمَاءِ قَالَ مَنْ أَنَا ؟ قَالَتْ أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ، قَالَ أَعْتِقْھَا، فَإِنَّھَا مُؤْمِنَۃٌ ) [ مسلم، المساجد، باب تحریم الکلام فی الصلاۃ۔۔ : ٥٣٧ ] ” میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ (پہاڑ) کی طرف میری بھیڑ بکریاں چرایا کرتی تھی۔ میں نے ایک دن دیکھا کہ بھیڑیا اس کی بھیڑوں میں سے ایک بھیڑ لے گیا تھا، میں بنی آدم ہی میں سے ایک آدمی ہوں، مجھے اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے انھیں غصہ آتا ہے، لیکن میں نے اسے (بس) ایک تھپڑ مارا، پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ نے اسے مجھ پر بہت بڑا (گناہ) قرار دیا۔ میں نے کہا : ” یا رسول اللہ کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں ؟ “ فرمایا : ” اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ “ میں اسے آپ کے پاس لے کر آیا، آپ نے اس سے فرمایا : ” اللہ کہاں ہے ؟ “ اس نے کہا : …

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.