Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 128

31

جَنَّٰتُ عَدْنٍۢ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْزِى ٱللَّهُ ٱلْمُتَّقِينَ

(وہ) بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں جو چاہیں گے ان کے لیے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے

آیت نمبر 30 تا 32

متقین اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلامی کا بنیادی عنصر خیر ہے۔ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے ، جو امرونہی اور ہدایت و قانون پر مشتمل ہے ، اس کی روح انسان کی بھلائی ہے ۔ یہ لوگ پوری داستان کو ایک لفظ کے کوزے میں بند کردیتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں (خیرا) اور اس کے بعد وہ اس خیر کی تشریح اپنے علم و فضل کے مطابق کرتے ہیں۔

للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ (16 : 30) “ اس طرح کے نیکو کاروں کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے ”۔ بہترین زندگی ، بہترین سازو سامان اور بہترین مقام و مرتبہ۔

ولدار الاخرۃ خیر ( 16 : 30) “ اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے لئے بہتر ہے ”۔ اس دنیا کی بہتری سے بھی اس کی بہتری برتر ہے۔

ولنعم دار المتقین (16 : 30) “ بڑا چھا گھر ہے متقیوں کا ”۔ یہ تو تھی اجمالی بات۔ اب اس اجمال کی تفصیلات یہ ہیں :۔

جنت عدن (16 : 31) “ دائمی قیام کی جنتیں ”۔ یہ ان کی اقامت گاہیں ہوں گی۔

تجری من تحتھا الانھر (16 : 31) “ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ”۔ بہت سہولتیں ہوں گی۔

لھم فیھا ما یشاؤن ( 16 : 31) “ اور سب کچھ وہاں عین ان کی خواہش کے مطابق ہوگا ”۔ وہاں نہ کسی چیز سے محرومیت ہوگی اور نہ محنت ہوگی نہ رزق محدود ہوگا جس طرح اس دنیا میں ہے۔

کذلک یجزی اللہ المتقین (16 : 31) “ اس طرح جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو ”۔

اب متقین کو بھی سیاق کلام ایک قدم پیچھے لے کر چلتا ہے۔ جس طرح اس سے قبل مستکبرین کو پیچھے کی طرف حالت نزع میں لے جایا گیا تھا ۔ کیا دیکھتے ہیں ، ان کی حالت نہایت ہی پرسکون ہے۔

الذین تتوفھم الملئکۃ صبیین (16 : 32) “ وہ لوگ جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں ، ملائکہ قبض کرتے ہیں ”۔ ان کے نفوس پاکیزہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ سے ملنے والے ہوتے ہیں۔ وہ سکرات الموت اور مشکلات نزع روح سے محفوظ ہوتے ہیں۔

یقولون سلم علیکم (16 : 32) “ فرشتے کہتے کہ سلام ہو تم پر ”۔ یہ سلام ان کو اطمینان دلانے کے لئے اور مرحبا اور خوش آمدید کہنے کے لئے ہوگا۔

ادخلوا اجنۃ بما کنتم تعملون (16 : 32) “ جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے ”۔ گویا ان کو جنت کی خوشخبری دے دی جاتی ہے ، حالانکہ وہ ابھی تک آخرت کے دروازے پر ہی ہیں۔ یہ پوری پوری جزاء ہے ان کے اعمال کے بدلے۔

٭٭٭

موت کا منظر اور بعث بعد موت کا منظر فضا پر سایہ فگن ہے کہ اسکرین پر ایک سوال آتا ہے۔ یہ سوال اس فضا میں مشرکین قریش سے کیا جاتا ہے کہ وہ اب کسی چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ آیا وہ فرشتوں کا انتظار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آئیں اور مذکورہ بالا طریقے پر ان کی روح قبض کرلیں یا وہ اس بات کا انتظار کرنا چاہتے کہ اللہ قیامت برپا کر دے کیونکہ ان دونوں مراحل سے ان کو بہرحال گزرنا ہے۔ موت کے وقت بھی یہی منظر ہوگا اور بعث بعد الموت کے وقت وہی سزا ہوگی ، کیا ان دونوں مناظر میں ان کے لئے کوئی عبرت و نصیحت کا مقام نہیں ہے ؟

32

ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ طَيِّبِينَ ۙ يَقُولُونَ سَلَٰمٌ عَلَيْكُمُ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر وشرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ

آیت نمبر 30 تا 32

متقین اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلامی کا بنیادی عنصر خیر ہے۔ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے ، جو امرونہی اور ہدایت و قانون پر مشتمل ہے ، اس کی روح انسان کی بھلائی ہے ۔ یہ لوگ پوری داستان کو ایک لفظ کے کوزے میں بند کردیتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں (خیرا) اور اس کے بعد وہ اس خیر کی تشریح اپنے علم و فضل کے مطابق کرتے ہیں۔

للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ (16 : 30) “ اس طرح کے نیکو کاروں کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے ”۔ بہترین زندگی ، بہترین سازو سامان اور بہترین مقام و مرتبہ۔

ولدار الاخرۃ خیر ( 16 : 30) “ اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے لئے بہتر ہے ”۔ اس دنیا کی بہتری سے بھی اس کی بہتری برتر ہے۔

ولنعم دار المتقین (16 : 30) “ بڑا چھا گھر ہے متقیوں کا ”۔ یہ تو تھی اجمالی بات۔ اب اس اجمال کی تفصیلات یہ ہیں :۔

جنت عدن (16 : 31) “ دائمی قیام کی جنتیں ”۔ یہ ان کی اقامت گاہیں ہوں گی۔

تجری من تحتھا الانھر (16 : 31) “ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ”۔ بہت سہولتیں ہوں گی۔

لھم فیھا ما یشاؤن ( 16 : 31) “ اور سب کچھ وہاں عین ان کی خواہش کے مطابق ہوگا ”۔ وہاں نہ کسی چیز سے محرومیت ہوگی اور نہ محنت ہوگی نہ رزق محدود ہوگا جس طرح اس دنیا میں ہے۔

کذلک یجزی اللہ المتقین (16 : 31) “ اس طرح جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو ”۔

اب متقین کو بھی سیاق کلام ایک قدم پیچھے لے کر چلتا ہے۔ جس طرح اس سے قبل مستکبرین کو پیچھے کی طرف حالت نزع میں لے جایا گیا تھا ۔ کیا دیکھتے ہیں ، ان کی حالت نہایت ہی پرسکون ہے۔

الذین تتوفھم الملئکۃ صبیین (16 : 32) “ وہ لوگ جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں ، ملائکہ قبض کرتے ہیں ”۔ ان کے نفوس پاکیزہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ سے ملنے والے ہوتے ہیں۔ وہ سکرات الموت اور مشکلات نزع روح سے محفوظ ہوتے ہیں۔

یقولون سلم علیکم (16 : 32) “ فرشتے کہتے کہ سلام ہو تم پر ”۔ یہ سلام ان کو اطمینان دلانے کے لئے اور مرحبا اور خوش آمدید کہنے کے لئے ہوگا۔

ادخلوا اجنۃ بما کنتم تعملون (16 : 32) “ جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے ”۔ گویا ان کو جنت کی خوشخبری دے دی جاتی ہے ، حالانکہ وہ ابھی تک آخرت کے دروازے پر ہی ہیں۔ یہ پوری پوری جزاء ہے ان کے اعمال کے بدلے۔

٭٭٭

موت کا منظر اور بعث بعد موت کا منظر فضا پر سایہ فگن ہے کہ اسکرین پر ایک سوال آتا ہے۔ یہ سوال اس فضا میں مشرکین قریش سے کیا جاتا ہے کہ وہ اب کسی چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ آیا وہ فرشتوں کا انتظار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آئیں اور مذکورہ بالا طریقے پر ان کی روح قبض کرلیں یا وہ اس بات کا انتظار کرنا چاہتے کہ اللہ قیامت برپا کر دے کیونکہ ان دونوں مراحل سے ان کو بہرحال گزرنا ہے۔ موت کے وقت بھی یہی منظر ہوگا اور بعث بعد الموت کے وقت وہی سزا ہوگی ، کیا ان دونوں مناظر میں ان کے لئے کوئی عبرت و نصیحت کا مقام نہیں ہے ؟

33

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ أَمْرُ رَبِّكَ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے۔ اسی طرح اُن لوگوں نے کیا تھا جو اُن سے پہلے تھے اور خدا نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

آیت نمبر 33 تا 34

لوگ بھی عجیب ہیں ، وہ دیکھتے ہیں کہ ایک راستے پر ان کے پیش رو چلے اور وہ عذاب الٰہی سے دوچار ہوئے ، تباہی و بربادی ان کے حصے میں آئی ، پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ان لوگوں کا جو حشر ہوا وہ ان کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سوچتے نہیں کہ سنت ۔۔۔ ایک ہے اور اس کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہی نکلتے ہیں۔ یہ کہ مکافات عمل ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے ، یہ کہ قانون قدرت اور سنن الٰہیہ اٹل ہیں اور وہ کسی سے رو رعایت نہیں کرتیں ، نہ ان میں کسی کے لئے کوئی تخلف ہو سکتا ہے۔

وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون (16 : 33) “ پھر جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ان پر اللہ کا ظلم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوں نے خود اپنے اوپر کیا ”۔ اللہ نے تو ان کو تدبر ، تفکر اور اختیار تمیزی کی آزادی دی تھی ، ان پر انبیاء کے ذریعہ آفاقی دلائل اور ان کے نفوس کے اندر پائے جانے والے شواہد دکھائے تھے ، ان کو برے انجام سے ڈرایا تھا ، ان کو عمل کے لئے آزاد چھوڑ دیا تھا کہ اللہ کی سنت کے مطابق جو چاہیں روش اختیار کریں۔ چناچہ ان پر ظلم و زیادتی ان کے برے اعمال نے کی کیونکہ جن نتائج سے وہ دو چار ہوئے وہ ان کے اعمال کے طبیعی نتائج تھے۔

فاصابھم سیات ۔۔۔۔۔ بہ یستھزؤن ( 16 : 34) “ پس ان کے کرتوتوں کی خرابیاں آخر کار ان کی دامن گیر ہوگئیں اور وہی چیز ان پر مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے اعمال سے باہر کوئی سزا نہ ہوگی۔ سزا ان کے اعمال کا طبیعی نتیجہ ہے۔ اور ان کے ذاتی اعمال کے نتائج ہیں جو یہ بھگت رہے ہیں۔ وہ جو اعمال کر رہے ہیں ان کے مطابق وہ انسانیت کے نچلے درجے تک گر جاتے ہیں لہٰذا وہ توہین آمیز درجے کے عذاب ہی کے مستحق ہوں گے۔

34

فَأَصَابَهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا عَمِلُوا۟ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے ملے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا

آیت نمبر 33 تا 34

لوگ بھی عجیب ہیں ، وہ دیکھتے ہیں کہ ایک راستے پر ان کے پیش رو چلے اور وہ عذاب الٰہی سے دوچار ہوئے ، تباہی و بربادی ان کے حصے میں آئی ، پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ان لوگوں کا جو حشر ہوا وہ ان کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سوچتے نہیں کہ سنت ۔۔۔ ایک ہے اور اس کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہی نکلتے ہیں۔ یہ کہ مکافات عمل ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے ، یہ کہ قانون قدرت اور سنن الٰہیہ اٹل ہیں اور وہ کسی سے رو رعایت نہیں کرتیں ، نہ ان میں کسی کے لئے کوئی تخلف ہو سکتا ہے۔

وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون (16 : 33) “ پھر جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ان پر اللہ کا ظلم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوں نے خود اپنے اوپر کیا ”۔ اللہ نے تو ان کو تدبر ، تفکر اور اختیار تمیزی کی آزادی دی تھی ، ان پر انبیاء کے ذریعہ آفاقی دلائل اور ان کے نفوس کے اندر پائے جانے والے شواہد دکھائے تھے ، ان کو برے انجام سے ڈرایا تھا ، ان کو عمل کے لئے آزاد چھوڑ دیا تھا کہ اللہ کی سنت کے مطابق جو چاہیں روش اختیار کریں۔ چناچہ ان پر ظلم و زیادتی ان کے برے اعمال نے کی کیونکہ جن نتائج سے وہ دو چار ہوئے وہ ان کے اعمال کے طبیعی نتائج تھے۔

فاصابھم سیات ۔۔۔۔۔ بہ یستھزؤن ( 16 : 34) “ پس ان کے کرتوتوں کی خرابیاں آخر کار ان کی دامن گیر ہوگئیں اور وہی چیز ان پر مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے اعمال سے باہر کوئی سزا نہ ہوگی۔ سزا ان کے اعمال کا طبیعی نتیجہ ہے۔ اور ان کے ذاتی اعمال کے نتائج ہیں جو یہ بھگت رہے ہیں۔ وہ جو اعمال کر رہے ہیں ان کے مطابق وہ انسانیت کے نچلے درجے تک گر جاتے ہیں لہٰذا وہ توہین آمیز درجے کے عذاب ہی کے مستحق ہوں گے۔

35

وَقَالَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَىْءٍۢ نَّحْنُ وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَىْءٍۢ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَى ٱلرُّسُلِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں

اب مشرکین کے شرکیہ نظریات و افعال پر ان کی جانب سے پیش کردہ نئی دلیل ۔

آیت نمبر 35 تا 36

ان لوگوں کی اس نئی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے شرک ، بتوں کی بندگی اور اپنے آباؤ اجداد کی طرف سے شرک اور بتوں کی بندگی اور بعض حلال چیزوں کو حرام کرنے کے فعل کو اللہ کے ارادے اور مشیت کی طرف موڑتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا اور اس کا ارادہ نہ ہوتا تو نہ ہم یہ خلاف شریعت کام کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو یہ سب کام کب ہوتے ؟

دراصل ان لوگوں نے مشیت کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں۔ یہ لوگ انسان سے انسان کی دو اہم امتیازی خصوصیت چھین لینا چاہتے ہیں جو اللہ نے انسان کو بخشی ہے۔

اللہ اپنے بندوں سے یہ نہیں چاہتے کہ وہ شرک کریں ، نہ اللہ کی یہ رضا ہے کہ اللہ کی حلال کردہ طیبات کو ناحق حرام کردیا جائے۔ اللہ کی رضا تو تمام قوانین شریعت اور تمام نبیوں کی ہدایات میں ثبت شدہ ہے۔ تمام رسولوں نے اس کی تبلیغ کی ہے ، اس کے لئے جدوجہد کی ہے اور انہوں نے پوری طرح فریضہ دعوت دین ادا کیا ہے۔

ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ الطاغوت (16 : 36) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبر دار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ پس یہ ہے اللہ کا حکم اور یہ ہے اس کا ارادہ اپنی مخلوق کے بارے میں۔ اللہ بہرحال لوگوں کو ایسے کاموں سے نہیں روکتا جن کے بارے میں وہ ازروئے تخلیق رکنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ نہ اللہ نے لوگوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخالفت کریں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب لوگ اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں تو اللہ ان کو پکڑتا ہے اور سزا دیتا ہے۔

فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین (16 : 36) ” پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا “۔ اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ وہ انسان کو ہدایت و ضلالت کی استعداد کے ساتھ پیدا کرے اور انسان کو یہ اختیار ہو کہ وہ آزادانہ طور پر جو راہ چاہے اختیار کرے۔ پھر اللہ نے انسان کو عقل عطا کی تا کہ وہ عقل کو کام میں لا کر ان دونوں راستوں میں سے کوئی ایک راہ اپنے لئے منتخب کرے ، خصوصاً عقل کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ایسے دلائل و شواہد بھی رکھے ہیں جو انسان کی آنکھ ، کان اور عقل و شعور اور دل و دماغ کو دعوت غوروفکر دے رہے ہیں ، اور وہ ان دلائل و شواہد کو رات دن دیکھ رہا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر اکتفاء نہ کیا کہ انسان صرف عقل و شعور کے بل بوتے پر ہی اپنے لیے صحیح راہ کا انتخاب کرے۔ اللہ نے ہر دور اور ہر امت کے لئے ایک رسول بھی بھیجا تا کہ اگر انسان کی عقل کے لئے کسی مشکل معاملے کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے تو رسول ایک شریعت کی صورت میں ایک معیار ، نیک و بد بھی مفصل طور پر انسانوں کے سامنے پیش کردے تا کہ انسان کی ذاتی خواہشات اور اس کے میلانات اسے گمراہ نہ کرسکیں۔ پھر اللہ نے ان رسولوں کو قہارو جبار نہیں بنایا کہ لوگوں کی گردنیں موڑ کر ان کو راہ ایمان پر ڈال دیں۔ ان کو بھی صرف مبلغ بنایا کہ وہ لوگوں کو صحیح راستے کی طرف تبلیغ و تلقین کے ذریعے موڑیں ، وہ ان کو بتائیں کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ نہ بتوں ، نہ اپنی ہوا وہوس کی اور نہ کسی بادشاہ کی۔

ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ واجتنبوا الطاغوت (16 : 36) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبردار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ چناچہ ایک فریق نے اس دعوت کو قبول کرلیا۔

فمنھم من ھدی اللہ (16 : 36) ” اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی “۔ اور بعض نے گمراہی اختیار کی راہ لی۔

ومنھم من حقت علیہ الضللۃ (16 : 36) ” اور کسی پر ضلالت مسلط ہوگئی “۔ یہ دونوں فریق اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر ہی رہے۔ ان میں سے کسی فریق کو بھی اللہ نے ہدایت یا ضلالت پر …

36

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلطَّٰغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى ٱللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ ٱلضَّلَٰلَةُ ۚ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ

اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

اب مشرکین کے شرکیہ نظریات و افعال پر ان کی جانب سے پیش کردہ نئی دلیل ۔

آیت نمبر 35 تا 36

ان لوگوں کی اس نئی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے شرک ، بتوں کی بندگی اور اپنے آباؤ اجداد کی طرف سے شرک اور بتوں کی بندگی اور بعض حلال چیزوں کو حرام کرنے کے فعل کو اللہ کے ارادے اور مشیت کی طرف موڑتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا اور اس کا ارادہ نہ ہوتا تو نہ ہم یہ خلاف شریعت کام کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو یہ سب کام کب ہوتے ؟

دراصل ان لوگوں نے مشیت کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں۔ یہ لوگ انسان سے انسان کی دو اہم امتیازی خصوصیت چھین لینا چاہتے ہیں جو اللہ نے انسان کو بخشی ہے۔

اللہ اپنے بندوں سے یہ نہیں چاہتے کہ وہ شرک کریں ، نہ اللہ کی یہ رضا ہے کہ اللہ کی حلال کردہ طیبات کو ناحق حرام کردیا جائے۔ اللہ کی رضا تو تمام قوانین شریعت اور تمام نبیوں کی ہدایات میں ثبت شدہ ہے۔ تمام رسولوں نے اس کی تبلیغ کی ہے ، اس کے لئے جدوجہد کی ہے اور انہوں نے پوری طرح فریضہ دعوت دین ادا کیا ہے۔

ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ الطاغوت (16 : 36) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبر دار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ پس یہ ہے اللہ کا حکم اور یہ ہے اس کا ارادہ اپنی مخلوق کے بارے میں۔ اللہ بہرحال لوگوں کو ایسے کاموں سے نہیں روکتا جن کے بارے میں وہ ازروئے تخلیق رکنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ نہ اللہ نے لوگوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخالفت کریں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب لوگ اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں تو اللہ ان کو پکڑتا ہے اور سزا دیتا ہے۔

فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین (16 : 36) ” پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا “۔ اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ وہ انسان کو ہدایت و ضلالت کی استعداد کے ساتھ پیدا کرے اور انسان کو یہ اختیار ہو کہ وہ آزادانہ طور پر جو راہ چاہے اختیار کرے۔ پھر اللہ نے انسان کو عقل عطا کی تا کہ وہ عقل کو کام میں لا کر ان دونوں راستوں میں سے کوئی ایک راہ اپنے لئے منتخب کرے ، خصوصاً عقل کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ایسے دلائل و شواہد بھی رکھے ہیں جو انسان کی آنکھ ، کان اور عقل و شعور اور دل و دماغ کو دعوت غوروفکر دے رہے ہیں ، اور وہ ان دلائل و شواہد کو رات دن دیکھ رہا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر اکتفاء نہ کیا کہ انسان صرف عقل و شعور کے بل بوتے پر ہی اپنے لیے صحیح راہ کا انتخاب کرے۔ اللہ نے ہر دور اور ہر امت کے لئے ایک رسول بھی بھیجا تا کہ اگر انسان کی عقل کے لئے کسی مشکل معاملے کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے تو رسول ایک شریعت کی صورت میں ایک معیار ، نیک و بد بھی مفصل طور پر انسانوں کے سامنے پیش کردے تا کہ انسان کی ذاتی خواہشات اور اس کے میلانات اسے گمراہ نہ کرسکیں۔ پھر اللہ نے ان رسولوں کو قہارو جبار نہیں بنایا کہ لوگوں کی گردنیں موڑ کر ان کو راہ ایمان پر ڈال دیں۔ ان کو بھی صرف مبلغ بنایا کہ وہ لوگوں کو صحیح راستے کی طرف تبلیغ و تلقین کے ذریعے موڑیں ، وہ ان کو بتائیں کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ نہ بتوں ، نہ اپنی ہوا وہوس کی اور نہ کسی بادشاہ کی۔

ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ واجتنبوا الطاغوت (16 : 36) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبردار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ چناچہ ایک فریق نے اس دعوت کو قبول کرلیا۔

فمنھم من ھدی اللہ (16 : 36) ” اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی “۔ اور بعض نے گمراہی اختیار کی راہ لی۔

ومنھم من حقت علیہ الضللۃ (16 : 36) ” اور کسی پر ضلالت مسلط ہوگئی “۔ یہ دونوں فریق اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر ہی رہے۔ ان میں سے کسی فریق کو بھی اللہ نے ہدایت یا ضلالت پر …

37

إِن تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَىٰهُمْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى مَن يُضِلُّ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ

اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کے لیے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا

آیت نمبر 37

ہدایت و ضلالت کا مدار اس پر نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس پر زیادہ حریص ہیں یا نہیں ہیں کیونکہ رسول کا کام تو صرف ابلاغ ہے۔ رہی ہدایت و ضلالت تو وہ سنت الٰہیہ کے مطابق ملتی ہے اور یہ سنت ایسی ہے کہ اس کے نتائج کو روکا نہیں جاسکتا۔ جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے تو وہ اسے سنت الٰہیہ کے مطابق گمراہ کرتا ہے۔ جو شخص سنت الٰہیہ کے مطابق گمراہ ہوجائے اسے اللہ ہدایت نہیں دیتا کیونکہ سنت الٰہیہ اپنے نتائج ظاہر کرتی رہتی ہے۔ یہ سنت دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور واللہ فعال لما یشاء ” اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے “۔ وما لھم من نصرین (16 : 37) ” ان کے لئے کوئی مدد گار نہ ہوگا “۔ یعنی اللہ کی مشیت کے مقابلے میں ۔

38

وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٰنِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ ٱللَّهُ مَن يَمُوتُ ۚ بَلَىٰ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّۭا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائے گا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

اب منکرین اور مستکبرین کی تیسری کٹ حجتی :۔

آیت نمبر 38 تا 40

جب سے اللہ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور انہوں نے بعث بعد موت سے ڈرایا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شروع ہوا تو اکثر لوگ بعث بعد الموت کے عقیدے کے بارے میں خلجان میں مبتلا رہے ہیں۔ اہل قریش بھی اللہ کے نام کی سخت سے سخت قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ یہ لوگ اللہ کے وجود کے تو قائل تھے لیکن اس بات کے قائل نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اپنی اصلی حالت میں دوبارہ اٹھائے گا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کام تو بہت ہی مشکل ہے کہ جب انسان گل سڑ کر ذرے ذرے ہوجائے تو پھر کس طرح جمع ہوگا۔

لیکن ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ اللہ نے پہلی بار کس طرح ان ذرات کو حیات بخشی۔ یہ لوگ قدرت الٰہیہ کو بھی اچھی طرح نہ سمجھ سکے اور خدا کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کیا۔ اللہ کے لئے کسی چیز کا ایجاد کرنا کچھ ممکن نہیں ہے۔ اللہ جب چاہتا ہے تو کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہوجا ، پھر وہ ہوجاتی ہے۔

نیز انہوں نے یہ بھی نہ سوچا سکہ بعث بعد الموت کی حکمت کیا ہے۔ بیشمار امور اس جہان میں ایسے ہیں جو اپنے قدرتی انجام تک نہیں پہنچتے۔ اس جہان میں حق و باطل کے بارے میں لوگوں کے درمیان سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہدایت و ضلالت کے بارے میں لوگوں کے تصورات مختلف ہیں۔ خیروشر کا معیار مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان ان امور کا فیصلہ اس جہان میں ہی نہیں چکاتا کیونکہ مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگوں کو اس جہاں میں مہلت و امتیاز دیا جائے اور یہاں ہی سب کو جزاء و سزا نہ دے دی جائے۔ ان امور کا فیصلہ قیامت میں بعث بعد الموت کے وقت ہوتا ہے۔

قرآن کریم اس کا فرانہ کٹ حجتی کو آغاز ہی میں رد کردیتا ہے اور اس غلطی اور غلط سوچ کو اللہ تعالیٰ یوں دور کرتا ہے کہ بلی وعدا علیہ حقا (16 : 38) ” یہ تو ایک وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے “۔ اور جب اللہ کسی بات کا ارادہ کرلے تو اس کی خلاف ورزی کسی حال میں بھی نہیں ہوتی۔

ولکن اکثر الناس لا یعلمون (16 : 38) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “ کہ اللہ کے عہد کی حقیقت کیا ہوتی ہے یعنی وہ اٹل ہوتا ہے۔

پھر اللہ کے اس فیصلے کے پیچھے ایک گہری حکمت بھی ہے۔

لیبین لھم الذی ۔۔۔۔۔ کانوا کذبین (16 : 39) ” اور ایسا ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ، اور منکرین حق کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ کس بات میں ؟ اس بات میں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ اس بات میں کہ وہ رسول کو جھوٹا سمجھتے تھے ، اس بات میں کہ ان کے نزدیک قیام قیامت ممکن نہیں ہے۔ نیز اپنے اعمال و اعتقادات وغیرہ ہیں۔

رہا اس کا عملاً قیام تو وہ کوئی مشکل نہیں۔

انما قولنا۔۔۔۔۔۔ کن فیکون (16 : 40) ” ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لئے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں کہ ہوجا اور بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اور قیام قیامت بھی ایسے ہی حالات میں سے ایک حالت ہے جوں ہی ارادہ الٰہی اس طرف متوجہ ہوا وہ برپا ہوجائے گی۔

39

لِيُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِى يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰذِبِينَ

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے

اب منکرین اور مستکبرین کی تیسری کٹ حجتی :۔

آیت نمبر 38 تا 40

جب سے اللہ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور انہوں نے بعث بعد موت سے ڈرایا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شروع ہوا تو اکثر لوگ بعث بعد الموت کے عقیدے کے بارے میں خلجان میں مبتلا رہے ہیں۔ اہل قریش بھی اللہ کے نام کی سخت سے سخت قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ یہ لوگ اللہ کے وجود کے تو قائل تھے لیکن اس بات کے قائل نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اپنی اصلی حالت میں دوبارہ اٹھائے گا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کام تو بہت ہی مشکل ہے کہ جب انسان گل سڑ کر ذرے ذرے ہوجائے تو پھر کس طرح جمع ہوگا۔

لیکن ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ اللہ نے پہلی بار کس طرح ان ذرات کو حیات بخشی۔ یہ لوگ قدرت الٰہیہ کو بھی اچھی طرح نہ سمجھ سکے اور خدا کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کیا۔ اللہ کے لئے کسی چیز کا ایجاد کرنا کچھ ممکن نہیں ہے۔ اللہ جب چاہتا ہے تو کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہوجا ، پھر وہ ہوجاتی ہے۔

نیز انہوں نے یہ بھی نہ سوچا سکہ بعث بعد الموت کی حکمت کیا ہے۔ بیشمار امور اس جہان میں ایسے ہیں جو اپنے قدرتی انجام تک نہیں پہنچتے۔ اس جہان میں حق و باطل کے بارے میں لوگوں کے درمیان سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہدایت و ضلالت کے بارے میں لوگوں کے تصورات مختلف ہیں۔ خیروشر کا معیار مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان ان امور کا فیصلہ اس جہان میں ہی نہیں چکاتا کیونکہ مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگوں کو اس جہاں میں مہلت و امتیاز دیا جائے اور یہاں ہی سب کو جزاء و سزا نہ دے دی جائے۔ ان امور کا فیصلہ قیامت میں بعث بعد الموت کے وقت ہوتا ہے۔

قرآن کریم اس کا فرانہ کٹ حجتی کو آغاز ہی میں رد کردیتا ہے اور اس غلطی اور غلط سوچ کو اللہ تعالیٰ یوں دور کرتا ہے کہ بلی وعدا علیہ حقا (16 : 38) ” یہ تو ایک وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے “۔ اور جب اللہ کسی بات کا ارادہ کرلے تو اس کی خلاف ورزی کسی حال میں بھی نہیں ہوتی۔

ولکن اکثر الناس لا یعلمون (16 : 38) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “ کہ اللہ کے عہد کی حقیقت کیا ہوتی ہے یعنی وہ اٹل ہوتا ہے۔

پھر اللہ کے اس فیصلے کے پیچھے ایک گہری حکمت بھی ہے۔

لیبین لھم الذی ۔۔۔۔۔ کانوا کذبین (16 : 39) ” اور ایسا ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ، اور منکرین حق کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ کس بات میں ؟ اس بات میں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ اس بات میں کہ وہ رسول کو جھوٹا سمجھتے تھے ، اس بات میں کہ ان کے نزدیک قیام قیامت ممکن نہیں ہے۔ نیز اپنے اعمال و اعتقادات وغیرہ ہیں۔

رہا اس کا عملاً قیام تو وہ کوئی مشکل نہیں۔

انما قولنا۔۔۔۔۔۔ کن فیکون (16 : 40) ” ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لئے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں کہ ہوجا اور بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اور قیام قیامت بھی ایسے ہی حالات میں سے ایک حالت ہے جوں ہی ارادہ الٰہی اس طرف متوجہ ہوا وہ برپا ہوجائے گی۔

40

إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَىْءٍ إِذَآ أَرَدْنَٰهُ أَن نَّقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

اب منکرین اور مستکبرین کی تیسری کٹ حجتی :۔

آیت نمبر 38 تا 40

جب سے اللہ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور انہوں نے بعث بعد موت سے ڈرایا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شروع ہوا تو اکثر لوگ بعث بعد الموت کے عقیدے کے بارے میں خلجان میں مبتلا رہے ہیں۔ اہل قریش بھی اللہ کے نام کی سخت سے سخت قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ یہ لوگ اللہ کے وجود کے تو قائل تھے لیکن اس بات کے قائل نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اپنی اصلی حالت میں دوبارہ اٹھائے گا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کام تو بہت ہی مشکل ہے کہ جب انسان گل سڑ کر ذرے ذرے ہوجائے تو پھر کس طرح جمع ہوگا۔

لیکن ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ اللہ نے پہلی بار کس طرح ان ذرات کو حیات بخشی۔ یہ لوگ قدرت الٰہیہ کو بھی اچھی طرح نہ سمجھ سکے اور خدا کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کیا۔ اللہ کے لئے کسی چیز کا ایجاد کرنا کچھ ممکن نہیں ہے۔ اللہ جب چاہتا ہے تو کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہوجا ، پھر وہ ہوجاتی ہے۔

نیز انہوں نے یہ بھی نہ سوچا سکہ بعث بعد الموت کی حکمت کیا ہے۔ بیشمار امور اس جہان میں ایسے ہیں جو اپنے قدرتی انجام تک نہیں پہنچتے۔ اس جہان میں حق و باطل کے بارے میں لوگوں کے درمیان سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہدایت و ضلالت کے بارے میں لوگوں کے تصورات مختلف ہیں۔ خیروشر کا معیار مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان ان امور کا فیصلہ اس جہان میں ہی نہیں چکاتا کیونکہ مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگوں کو اس جہاں میں مہلت و امتیاز دیا جائے اور یہاں ہی سب کو جزاء و سزا نہ دے دی جائے۔ ان امور کا فیصلہ قیامت میں بعث بعد الموت کے وقت ہوتا ہے۔

قرآن کریم اس کا فرانہ کٹ حجتی کو آغاز ہی میں رد کردیتا ہے اور اس غلطی اور غلط سوچ کو اللہ تعالیٰ یوں دور کرتا ہے کہ بلی وعدا علیہ حقا (16 : 38) ” یہ تو ایک وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے “۔ اور جب اللہ کسی بات کا ارادہ کرلے تو اس کی خلاف ورزی کسی حال میں بھی نہیں ہوتی۔

ولکن اکثر الناس لا یعلمون (16 : 38) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “ کہ اللہ کے عہد کی حقیقت کیا ہوتی ہے یعنی وہ اٹل ہوتا ہے۔

پھر اللہ کے اس فیصلے کے پیچھے ایک گہری حکمت بھی ہے۔

لیبین لھم الذی ۔۔۔۔۔ کانوا کذبین (16 : 39) ” اور ایسا ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ، اور منکرین حق کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ کس بات میں ؟ اس بات میں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ اس بات میں کہ وہ رسول کو جھوٹا سمجھتے تھے ، اس بات میں کہ ان کے نزدیک قیام قیامت ممکن نہیں ہے۔ نیز اپنے اعمال و اعتقادات وغیرہ ہیں۔

رہا اس کا عملاً قیام تو وہ کوئی مشکل نہیں۔

انما قولنا۔۔۔۔۔۔ کن فیکون (16 : 40) ” ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لئے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں کہ ہوجا اور بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اور قیام قیامت بھی ایسے ہی حالات میں سے ایک حالت ہے جوں ہی ارادہ الٰہی اس طرف متوجہ ہوا وہ برپا ہوجائے گی۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.