جَنَّٰتُ عَدْنٍۢ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْزِى ٱللَّهُ ٱلْمُتَّقِينَ
(وہ) بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں جو چاہیں گے ان کے لیے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے
اور (جب) کہا جاتا ہے ان لوگوں سے جو پرہیز گار ہوئے، کیا چیز ہے جو نازل کی تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، خیر، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے نیکی کی اس دنیا میں ، (بدلہ ہے) اچھااور البتہ گھر آخرت کا بہترین ہےاور یقینا بہت ہی اچھا ہے گھر پرہیز گاروں کا (30)(، یعنی ) باغات ہمیشہ کے، وہ داخل ہوں گے ان میں ، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، واسطے ان کے ہو گا ان میں جو کچھ وہ چاہیں گے، اس طرح ہی جزاء دیتا ہے اللہ متقی لوگوں کو (31) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، درآنحالیکہ وہ پاک ہوتے ہیں (کفر وشرک سے) تو کہتے ہیں (فرشتے) سلام ہو تم پر، داخل ہو جاؤ تم جنت میں بوجہ ان کے جو تھے تم عمل کرتے (32)
[30] جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی کو جھٹلایا، ان کے قول کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے قول کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس بات کا اقرار و اعتراف کیا کہ اللہ نے جو کتاب نازل فرمائی ہے، وہ ایک عظیم نعمت اور بڑی بھلائی ہے جس کے ذریعے سے اللہ نے بندوں پر احسان فرمایا۔ (ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے) پس انھوں نے اس نعمت کا قبولیت اور اطاعت کے جذبے کے ساتھ استقبال کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ پس انھوں نے اسے جانا اور اس پر عمل کیا۔ ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا ﴾ ’’ان کے لیے جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر فائز ہوئے اور انھوں نے اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کی ﴿ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةٌ﴾ ’’اس دنیا میں بھلائی ہے‘‘ یعنی اس دنیا میں ان کے لیے وسیع رزق، بہترین زندگی، اطمینان قلب اور امن و سرور ہے۔ ﴿ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہت ہی اچھا ہے۔‘‘ یعنی آخرت کا گھر دنیا کے گھر اور اس میں موجود لذات و شہوات سے بہتر ہے کیونکہ دنیا کی نعمتیں بہت کم، مختلف قسم کی آفات سے گھری ہوئی اور آخر کار ختم ہو جانے والی ہیں ۔ اس کے برعکس آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اس لیے فرمایا:﴿ وَلَنِعۡمَ دَارُ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’ اور کیا خوب گھر ہے پرہیز گاروں کا ‘‘
[32,31]﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ لَهُمۡ فِيۡهَا مَا يَشَآءُوۡنَ﴾ ’’ باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، جن میں وہ داخل ہوں گے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ان کے لیے وہاں وہ ہے جو وہ چاہیں گے‘‘ یعنی جب بھی ان کے دل کسی چیز کی آرزو اور اس کا ارادہ کریں گے تو وہ چیز انھیں اپنی کامل ترین شکل میں حاصل ہو جائے گی، یہ ممکن نہ ہو گا کہ وہ کوئی ایسی نعمت طلب کریں جس میں ان کے دلوں کی لذت اور روح کا سرور ہو اور وہ حاضر نہ ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ اہل جنت کو ہر وہ چیز عطا کرے گا جس کی وہ تمنا کریں گے حتیٰ کہ وہ ان کو ایسی ایسی نعمتیں یاد دلائے گا جو کبھی ان کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی ہوں گی۔نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس کے کرم کی کوئی انتہا اور اس کی سخاوت کی کوئی حد نہیں ۔ اس کی صفات ذات، صفات افعال، ان صفات کے آثار اور اس کے اقتدار اور بادشاہی کی عظمت و جلالت میں ، کوئی چیز اس جیسی نہیں ہے ﴿ كَذٰلِكَ يَجۡزِي اللّٰهُ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’اللہ پرہیز گاروں کو اسی طرح جزا دیتا ہے‘‘ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ان فرائض کو ادا کرتے ہیں جو ان کے ذمے عائد ہیں ، یعنی وہ فرائض و واجبات جو قلب، بدن، زبان اور حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہیں اور ان تمام امور کو ترک کر دینا جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔﴿الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’وہ لوگ، فرشتے جن کی جان قبض کرتے ہیں ‘‘ اس حالت میں کہ وہ دائمی طور پر تقویٰ کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿طَيِّبِيۡنَ﴾ ’’وہ پاکیزہ ہیں ‘‘ یعنی وہ ہر نقص اور گندگی سے پاک صاف رہتے ہیں جو ایمان میں خلل انداز ہوتی ہے۔ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت سے، ان کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر …