Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 31–40 of 128

31

جَنَّٰتُ عَدْنٍۢ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْزِى ٱللَّهُ ٱلْمُتَّقِينَ

(وہ) بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں جو چاہیں گے ان کے لیے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے

جو لوگ کبر کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ خدا کی بات سنتے ہیں تو ان کا ذہن الٹی سمت میں چلنے لگتا ہے۔ اس بنا پر وہ اس سے نصیحت نہیں لے پاتے۔ مگر جس شخص کے دل میں اللہ کا ڈر ہو وہ خدا کی بات کو پوری آمادگی کے ساتھ سنے گا۔ ایسے شخص کے لیے اللہ کا کلام معرفت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کو اس کے اندر حقیقت کی جھلکیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔

جنت کی صفت یہ ہے کہ وہاں وہ سب کچھ ہے جو انسان چاہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو کبھی کسی انسان کو، حتی کہ بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل نہ ہوسکی۔ موجودہ دنیا میں انسان کی محدودیت اور خارجی حالات کی عدم موافقت کی بناپر کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے اسے حاصل کرلے۔ یہ تصور کہ ’’جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جو انسان چاہے گا‘‘ اتنا پر کیف ہے کہ اس کی خاطر جو قربانی بھی دینی پڑے وہ یقیناً ہلکی ہے۔

32

ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ طَيِّبِينَ ۙ يَقُولُونَ سَلَٰمٌ عَلَيْكُمُ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر وشرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ

جو لوگ کبر کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ خدا کی بات سنتے ہیں تو ان کا ذہن الٹی سمت میں چلنے لگتا ہے۔ اس بنا پر وہ اس سے نصیحت نہیں لے پاتے۔ مگر جس شخص کے دل میں اللہ کا ڈر ہو وہ خدا کی بات کو پوری آمادگی کے ساتھ سنے گا۔ ایسے شخص کے لیے اللہ کا کلام معرفت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کو اس کے اندر حقیقت کی جھلکیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔

جنت کی صفت یہ ہے کہ وہاں وہ سب کچھ ہے جو انسان چاہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو کبھی کسی انسان کو، حتی کہ بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل نہ ہوسکی۔ موجودہ دنیا میں انسان کی محدودیت اور خارجی حالات کی عدم موافقت کی بناپر کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے اسے حاصل کرلے۔ یہ تصور کہ ’’جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جو انسان چاہے گا‘‘ اتنا پر کیف ہے کہ اس کی خاطر جو قربانی بھی دینی پڑے وہ یقیناً ہلکی ہے۔

33

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ أَمْرُ رَبِّكَ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے۔ اسی طرح اُن لوگوں نے کیا تھا جو اُن سے پہلے تھے اور خدا نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

خدا کی بات انسان کے سامنے اولاً دلائل کے ذریعے بیان کی جاتی ہے۔ یہ دعوتی مرحلہ ہوتا ہے۔ اگر وہ دلائل کے ذریعے نہ مانے تو پھر وہ وقت آجاتا ہے جب کہ انفرادی موت یا اجتماعی قیامت کی صورت میں اس کو لوگوں کے سامنے کھول دیا جائے۔

آدمی کے سامنے اگر خدا کی بات دلائل کے ذریعے آئے اور وہ ا س کو نظر انداز کردے تو گویا وہ اس دوسرے مرحلہ کا انتظار کررہا ہے جب کہ خدا اور اس کے فرشتے ظاہر ہوجائیں اور آدمی اس بات کو ذلت کے ساتھ ماننے پر مجبور ہوجائے جس کو اسے عزّت کے ساتھ ماننے کا موقع دیا گیا تھا، مگر اس نے نہیں مانا۔

34

فَأَصَابَهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا عَمِلُوا۟ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے ملے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا

خدا کی بات انسان کے سامنے اولاً دلائل کے ذریعے بیان کی جاتی ہے۔ یہ دعوتی مرحلہ ہوتا ہے۔ اگر وہ دلائل کے ذریعے نہ مانے تو پھر وہ وقت آجاتا ہے جب کہ انفرادی موت یا اجتماعی قیامت کی صورت میں اس کو لوگوں کے سامنے کھول دیا جائے۔

آدمی کے سامنے اگر خدا کی بات دلائل کے ذریعے آئے اور وہ ا س کو نظر انداز کردے تو گویا وہ اس دوسرے مرحلہ کا انتظار کررہا ہے جب کہ خدا اور اس کے فرشتے ظاہر ہوجائیں اور آدمی اس بات کو ذلت کے ساتھ ماننے پر مجبور ہوجائے جس کو اسے عزّت کے ساتھ ماننے کا موقع دیا گیا تھا، مگر اس نے نہیں مانا۔

35

وَقَالَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَىْءٍۢ نَّحْنُ وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَىْءٍۢ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَى ٱلرُّسُلِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں

غافل انسان اپنے حق سے انحراف کو جائز ثابت کرنے کے لیے جو باتیں کرتا ہے، اس میں ایک بات یہ ہے کہ جب اس دنیا میں ہر چیز خدا کی مرضی سے ہوتی ہے تو ہمارا موجودہ عمل بھی خدا کی مرضی سے ہے۔ اس کی مرضی نہ ہوتی تو ہم ایسا کرہی نہ پاتے۔ اگر واقعی خدا کو ہمارے کام پسند نہ ہوتے تووہ ہمیں ایسا کام کرنے کیوں دیتا۔ پھر تو ایسا ہونا چاہیے تھا کہ جب بھی ہم اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام کریںتو وہ فوراً ہمیں روک دے۔

یہ بات آدمی صرف اس لیے کہتا ہے کہ وہ حق ناحق کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوتا۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتو فوراً اس کی سمجھ میںآجائے کہ اس کو موجودہ عمل کی جو چھوٹ ہے، وہ امتحان کی وجہ سے ہے، نہ کہ خدا کی پسند کی وجہ سے۔

36

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلطَّٰغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى ٱللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ ٱلضَّلَٰلَةُ ۚ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ

اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

خدا نے کہیں براہِ راست اپنے پیغمبر بھیجے اور کہیں پیغمبر کے نائب اور نمائندہ کے ذریعہ بالواسطہ طورپر اپنا پیغام پہنچانے کا انتظام کیا۔ ان تمام لوگوں نے انسان کو جس چیز کی تلقین کی وہ یہی تھی کہ عبادت کا حق صرف ایک خدا کو ہے۔ شیطان اس عبادت سے انسان کو پھیرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ شیطانی ترغیبات سے بچے۔ ورنہ وہ آدمی کو جھوٹے معبودوں کی پرستش کے راستے پر ڈال دے گا۔

ہدایت اگر چہ واضح ہے۔ مگر اس کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا انحصار تمام تر اس بات پر ہے کہ آدمی اس کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ جو شخص ہدایت پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے گا اس کو اس کی صداقت کو پانے میں دیر نہیں لگے گی۔ مگر جو شخص اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو وہ معمولی معمولی باتوں پر اٹک کر رہ جائے گا۔ ایسا آدمی کبھی حق کو نہیں پاسکتا۔

37

إِن تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَىٰهُمْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى مَن يُضِلُّ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ

اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کے لیے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا

خدا نے کہیں براہِ راست اپنے پیغمبر بھیجے اور کہیں پیغمبر کے نائب اور نمائندہ کے ذریعہ بالواسطہ طورپر اپنا پیغام پہنچانے کا انتظام کیا۔ ان تمام لوگوں نے انسان کو جس چیز کی تلقین کی وہ یہی تھی کہ عبادت کا حق صرف ایک خدا کو ہے۔ شیطان اس عبادت سے انسان کو پھیرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ شیطانی ترغیبات سے بچے۔ ورنہ وہ آدمی کو جھوٹے معبودوں کی پرستش کے راستے پر ڈال دے گا۔

ہدایت اگر چہ واضح ہے۔ مگر اس کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا انحصار تمام تر اس بات پر ہے کہ آدمی اس کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ جو شخص ہدایت پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے گا اس کو اس کی صداقت کو پانے میں دیر نہیں لگے گی۔ مگر جو شخص اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو وہ معمولی معمولی باتوں پر اٹک کر رہ جائے گا۔ ایسا آدمی کبھی حق کو نہیں پاسکتا۔

38

وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٰنِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ ٱللَّهُ مَن يَمُوتُ ۚ بَلَىٰ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّۭا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائے گا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

موجودہ دنیا کچھ اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں حق اور ناحق اس طرح ثابت نہیں ہوپاتے کہ کسی کے لیے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے۔ یہاں آدمی ہر دلیل کو کاٹنے کے لیے کچھ الفاظ پالیتاہے۔ ہر ثابت شدہ چیز کو مشتبہ کرنے کے لیے وہ کوئی نہ کوئی بات نکال ليتا ہے۔

یہ بات کائنات کے مزاج کے سراسر خلاف ہے۔ مادی علوم میں آدمی کے لیے ممکن ہوتاہے کہ وہ قطعی نتائج تک پہنچ سکے۔ اسی طرح یہ بھی ضرور ہونا چاہیے کہ انسانی معاملات میں قطعی حقائق کھل کر سامنے آجائیں۔ یہی وہ کام ہے جو قیامت میں انجام پائے گا۔ شاہ عبد القادر دہلوی لکھتے ہیں— ’’اس جہان میں بہت باتوں کا شبہ رہا۔ کسی نے اللہ کو مانا اور کوئی اس کا منکر رہا تو دوسرا جہان ہونا لازم ہے کہ جھگڑے تحقیق ہوں۔ سچ اور جھوٹ جدا ہو اور مطیع اور منکر اپنا کیا پائیں‘‘۔

39

لِيُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِى يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰذِبِينَ

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے

موجودہ دنیا کچھ اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں حق اور ناحق اس طرح ثابت نہیں ہوپاتے کہ کسی کے لیے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے۔ یہاں آدمی ہر دلیل کو کاٹنے کے لیے کچھ الفاظ پالیتاہے۔ ہر ثابت شدہ چیز کو مشتبہ کرنے کے لیے وہ کوئی نہ کوئی بات نکال ليتا ہے۔

یہ بات کائنات کے مزاج کے سراسر خلاف ہے۔ مادی علوم میں آدمی کے لیے ممکن ہوتاہے کہ وہ قطعی نتائج تک پہنچ سکے۔ اسی طرح یہ بھی ضرور ہونا چاہیے کہ انسانی معاملات میں قطعی حقائق کھل کر سامنے آجائیں۔ یہی وہ کام ہے جو قیامت میں انجام پائے گا۔ شاہ عبد القادر دہلوی لکھتے ہیں— ’’اس جہان میں بہت باتوں کا شبہ رہا۔ کسی نے اللہ کو مانا اور کوئی اس کا منکر رہا تو دوسرا جہان ہونا لازم ہے کہ جھگڑے تحقیق ہوں۔ سچ اور جھوٹ جدا ہو اور مطیع اور منکر اپنا کیا پائیں‘‘۔

40

إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَىْءٍ إِذَآ أَرَدْنَٰهُ أَن نَّقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

موجودہ دنیا کچھ اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں حق اور ناحق اس طرح ثابت نہیں ہوپاتے کہ کسی کے لیے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے۔ یہاں آدمی ہر دلیل کو کاٹنے کے لیے کچھ الفاظ پالیتاہے۔ ہر ثابت شدہ چیز کو مشتبہ کرنے کے لیے وہ کوئی نہ کوئی بات نکال ليتا ہے۔

یہ بات کائنات کے مزاج کے سراسر خلاف ہے۔ مادی علوم میں آدمی کے لیے ممکن ہوتاہے کہ وہ قطعی نتائج تک پہنچ سکے۔ اسی طرح یہ بھی ضرور ہونا چاہیے کہ انسانی معاملات میں قطعی حقائق کھل کر سامنے آجائیں۔ یہی وہ کام ہے جو قیامت میں انجام پائے گا۔ شاہ عبد القادر دہلوی لکھتے ہیں— ’’اس جہان میں بہت باتوں کا شبہ رہا۔ کسی نے اللہ کو مانا اور کوئی اس کا منکر رہا تو دوسرا جہان ہونا لازم ہے کہ جھگڑے تحقیق ہوں۔ سچ اور جھوٹ جدا ہو اور مطیع اور منکر اپنا کیا پائیں‘‘۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.