Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 31–40 of 128

31

جَنَّٰتُ عَدْنٍۢ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْزِى ٱللَّهُ ٱلْمُتَّقِينَ

(وہ) بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں جو چاہیں گے ان کے لیے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے

اور (جب) کہا جاتا ہے ان لوگوں سے جو پرہیز گار ہوئے، کیا چیز ہے جو نازل کی تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، خیر، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے نیکی کی اس دنیا میں ، (بدلہ ہے) اچھااور البتہ گھر آخرت کا بہترین ہےاور یقینا بہت ہی اچھا ہے گھر پرہیز گاروں کا (30)(، یعنی ) باغات ہمیشہ کے، وہ داخل ہوں گے ان میں ، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، واسطے ان کے ہو گا ان میں جو کچھ وہ چاہیں گے، اس طرح ہی جزاء دیتا ہے اللہ متقی لوگوں کو (31) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، درآنحالیکہ وہ پاک ہوتے ہیں (کفر وشرک سے) تو کہتے ہیں (فرشتے) سلام ہو تم پر، داخل ہو جاؤ تم جنت میں بوجہ ان کے جو تھے تم عمل کرتے (32)

[30] جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی کو جھٹلایا، ان کے قول کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے قول کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس بات کا اقرار و اعتراف کیا کہ اللہ نے جو کتاب نازل فرمائی ہے، وہ ایک عظیم نعمت اور بڑی بھلائی ہے جس کے ذریعے سے اللہ نے بندوں پر احسان فرمایا۔ (ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے) پس انھوں نے اس نعمت کا قبولیت اور اطاعت کے جذبے کے ساتھ استقبال کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ پس انھوں نے اسے جانا اور اس پر عمل کیا۔ ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا ﴾ ’’ان کے لیے جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر فائز ہوئے اور انھوں نے اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کی ﴿ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةٌ﴾ ’’اس دنیا میں بھلائی ہے‘‘ یعنی اس دنیا میں ان کے لیے وسیع رزق، بہترین زندگی، اطمینان قلب اور امن و سرور ہے۔ ﴿ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہت ہی اچھا ہے۔‘‘ یعنی آخرت کا گھر دنیا کے گھر اور اس میں موجود لذات و شہوات سے بہتر ہے کیونکہ دنیا کی نعمتیں بہت کم، مختلف قسم کی آفات سے گھری ہوئی اور آخر کار ختم ہو جانے والی ہیں ۔ اس کے برعکس آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اس لیے فرمایا:﴿ وَلَنِعۡمَ دَارُ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’ اور کیا خوب گھر ہے پرہیز گاروں کا ‘‘

[32,31]﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ لَهُمۡ فِيۡهَا مَا يَشَآءُوۡنَ﴾ ’’ باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، جن میں وہ داخل ہوں گے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ان کے لیے وہاں وہ ہے جو وہ چاہیں گے‘‘ یعنی جب بھی ان کے دل کسی چیز کی آرزو اور اس کا ارادہ کریں گے تو وہ چیز انھیں اپنی کامل ترین شکل میں حاصل ہو جائے گی، یہ ممکن نہ ہو گا کہ وہ کوئی ایسی نعمت طلب کریں جس میں ان کے دلوں کی لذت اور روح کا سرور ہو اور وہ حاضر نہ ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ اہل جنت کو ہر وہ چیز عطا کرے گا جس کی وہ تمنا کریں گے حتیٰ کہ وہ ان کو ایسی ایسی نعمتیں یاد دلائے گا جو کبھی ان کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی ہوں گی۔نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس کے کرم کی کوئی انتہا اور اس کی سخاوت کی کوئی حد نہیں ۔ اس کی صفات ذات، صفات افعال، ان صفات کے آثار اور اس کے اقتدار اور بادشاہی کی عظمت و جلالت میں ، کوئی چیز اس جیسی نہیں ہے ﴿ كَذٰلِكَ يَجۡزِي اللّٰهُ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’اللہ پرہیز گاروں کو اسی طرح جزا دیتا ہے‘‘ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ان فرائض کو ادا کرتے ہیں جو ان کے ذمے عائد ہیں ، یعنی وہ فرائض و واجبات جو قلب، بدن، زبان اور حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہیں اور ان تمام امور کو ترک کر دینا جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔﴿الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’وہ لوگ، فرشتے جن کی جان قبض کرتے ہیں ‘‘ اس حالت میں کہ وہ دائمی طور پر تقویٰ کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿طَيِّبِيۡنَ﴾ ’’وہ پاکیزہ ہیں ‘‘ یعنی وہ ہر نقص اور گندگی سے پاک صاف رہتے ہیں جو ایمان میں خلل انداز ہوتی ہے۔ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت سے، ان کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر …

32

ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ طَيِّبِينَ ۙ يَقُولُونَ سَلَٰمٌ عَلَيْكُمُ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر وشرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ

اور (جب) کہا جاتا ہے ان لوگوں سے جو پرہیز گار ہوئے، کیا چیز ہے جو نازل کی تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، خیر، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے نیکی کی اس دنیا میں ، (بدلہ ہے) اچھااور البتہ گھر آخرت کا بہترین ہےاور یقینا بہت ہی اچھا ہے گھر پرہیز گاروں کا (30)(، یعنی ) باغات ہمیشہ کے، وہ داخل ہوں گے ان میں ، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، واسطے ان کے ہو گا ان میں جو کچھ وہ چاہیں گے، اس طرح ہی جزاء دیتا ہے اللہ متقی لوگوں کو (31) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، درآنحالیکہ وہ پاک ہوتے ہیں (کفر وشرک سے) تو کہتے ہیں (فرشتے) سلام ہو تم پر، داخل ہو جاؤ تم جنت میں بوجہ ان کے جو تھے تم عمل کرتے (32)

[30] جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی کو جھٹلایا، ان کے قول کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے قول کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس بات کا اقرار و اعتراف کیا کہ اللہ نے جو کتاب نازل فرمائی ہے، وہ ایک عظیم نعمت اور بڑی بھلائی ہے جس کے ذریعے سے اللہ نے بندوں پر احسان فرمایا۔ (ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے) پس انھوں نے اس نعمت کا قبولیت اور اطاعت کے جذبے کے ساتھ استقبال کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ پس انھوں نے اسے جانا اور اس پر عمل کیا۔ ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا ﴾ ’’ان کے لیے جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر فائز ہوئے اور انھوں نے اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کی ﴿ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةٌ﴾ ’’اس دنیا میں بھلائی ہے‘‘ یعنی اس دنیا میں ان کے لیے وسیع رزق، بہترین زندگی، اطمینان قلب اور امن و سرور ہے۔ ﴿ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہت ہی اچھا ہے۔‘‘ یعنی آخرت کا گھر دنیا کے گھر اور اس میں موجود لذات و شہوات سے بہتر ہے کیونکہ دنیا کی نعمتیں بہت کم، مختلف قسم کی آفات سے گھری ہوئی اور آخر کار ختم ہو جانے والی ہیں ۔ اس کے برعکس آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اس لیے فرمایا:﴿ وَلَنِعۡمَ دَارُ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’ اور کیا خوب گھر ہے پرہیز گاروں کا ‘‘

[32,31]﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ لَهُمۡ فِيۡهَا مَا يَشَآءُوۡنَ﴾ ’’ باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، جن میں وہ داخل ہوں گے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ان کے لیے وہاں وہ ہے جو وہ چاہیں گے‘‘ یعنی جب بھی ان کے دل کسی چیز کی آرزو اور اس کا ارادہ کریں گے تو وہ چیز انھیں اپنی کامل ترین شکل میں حاصل ہو جائے گی، یہ ممکن نہ ہو گا کہ وہ کوئی ایسی نعمت طلب کریں جس میں ان کے دلوں کی لذت اور روح کا سرور ہو اور وہ حاضر نہ ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ اہل جنت کو ہر وہ چیز عطا کرے گا جس کی وہ تمنا کریں گے حتیٰ کہ وہ ان کو ایسی ایسی نعمتیں یاد دلائے گا جو کبھی ان کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی ہوں گی۔نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس کے کرم کی کوئی انتہا اور اس کی سخاوت کی کوئی حد نہیں ۔ اس کی صفات ذات، صفات افعال، ان صفات کے آثار اور اس کے اقتدار اور بادشاہی کی عظمت و جلالت میں ، کوئی چیز اس جیسی نہیں ہے ﴿ كَذٰلِكَ يَجۡزِي اللّٰهُ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’اللہ پرہیز گاروں کو اسی طرح جزا دیتا ہے‘‘ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ان فرائض کو ادا کرتے ہیں جو ان کے ذمے عائد ہیں ، یعنی وہ فرائض و واجبات جو قلب، بدن، زبان اور حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہیں اور ان تمام امور کو ترک کر دینا جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔﴿الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’وہ لوگ، فرشتے جن کی جان قبض کرتے ہیں ‘‘ اس حالت میں کہ وہ دائمی طور پر تقویٰ کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿طَيِّبِيۡنَ﴾ ’’وہ پاکیزہ ہیں ‘‘ یعنی وہ ہر نقص اور گندگی سے پاک صاف رہتے ہیں جو ایمان میں خلل انداز ہوتی ہے۔ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت سے، ان کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر …

33

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ أَمْرُ رَبِّكَ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے۔ اسی طرح اُن لوگوں نے کیا تھا جو اُن سے پہلے تھے اور خدا نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

نہیں انتظار کرتے وہ مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے یا آئے حکم آپ کے رب کا، اس طرح ہی کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھےاور نہیں ظلم کیا تھا ان پر اللہ نے لیکن تھے وہ (خود ہی) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (33) پس پہنچی ان کو (جزاء) ان برائیوں کی جن کا ارتکاب انھوں نے کیااور گھیر لیا ان کو اس عذاب نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (34)

[33] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیتیں آئیں مگر وہ ایمان نہ لائے انھیں نصیحت کی گئی مگر انھوں نے نصیحت نہ پکڑی… اس بات کا انتظار کر رہے ہیں ؟ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’کہ فرشتے (ان کی روح قبض کرنے کے لیے) ان کے پاس آئیں ۔‘‘ ﴿ اَوۡ يَاۡتِيَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’یا تمھارے رب کا حکم (عذاب) نازل ہو جائے‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو عذاب کے وقوع کا مستحق بنا لیا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’اسی طرح کیا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘‘ انھوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کا انکار کیا، پھر وہ اس وقت تک ایمان نہ لائے جب تک ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہ ہوا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں ظلم کیا ان پر اللہ نے‘‘ یعنی جب ان پر اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل کیا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَؔ ﴾ ’’لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے‘‘ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں تاکہ ان کا انجام اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا حصول ہو۔ پس انھوں نے ظلم کیا اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا اور انھوں نے اپنے نفوس کو دائمی اہانت اور پیچھا نہ چھوڑنے والی بدبختی کے سامنے پیش کر دیا۔

[34]﴿ فَاَصَابَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’پھر پڑے ان کے سر ان کے برے کام‘‘ یعنی ان کے اعمال بد کے اثرات اور ان کی سزا ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ ’’اور الٹ پڑا ان پر‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا ﴿ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کے ساتھ وہ ٹھٹھا کرتے تھے‘‘ کیونکہ ان کے رسولوں نے جب انھیں عذاب سے ڈرایا تو انھوں نے ان سے استہزا کیا اورجو خبر انھوں نے دی اس کا تمسخر اڑایا آخر ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔

34

فَأَصَابَهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا عَمِلُوا۟ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے ملے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا

نہیں انتظار کرتے وہ مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے یا آئے حکم آپ کے رب کا، اس طرح ہی کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھےاور نہیں ظلم کیا تھا ان پر اللہ نے لیکن تھے وہ (خود ہی) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (33) پس پہنچی ان کو (جزاء) ان برائیوں کی جن کا ارتکاب انھوں نے کیااور گھیر لیا ان کو اس عذاب نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (34)

[33] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیتیں آئیں مگر وہ ایمان نہ لائے انھیں نصیحت کی گئی مگر انھوں نے نصیحت نہ پکڑی… اس بات کا انتظار کر رہے ہیں ؟ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’کہ فرشتے (ان کی روح قبض کرنے کے لیے) ان کے پاس آئیں ۔‘‘ ﴿ اَوۡ يَاۡتِيَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’یا تمھارے رب کا حکم (عذاب) نازل ہو جائے‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو عذاب کے وقوع کا مستحق بنا لیا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’اسی طرح کیا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘‘ انھوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کا انکار کیا، پھر وہ اس وقت تک ایمان نہ لائے جب تک ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہ ہوا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں ظلم کیا ان پر اللہ نے‘‘ یعنی جب ان پر اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل کیا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَؔ ﴾ ’’لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے‘‘ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں تاکہ ان کا انجام اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا حصول ہو۔ پس انھوں نے ظلم کیا اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا اور انھوں نے اپنے نفوس کو دائمی اہانت اور پیچھا نہ چھوڑنے والی بدبختی کے سامنے پیش کر دیا۔

[34]﴿ فَاَصَابَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’پھر پڑے ان کے سر ان کے برے کام‘‘ یعنی ان کے اعمال بد کے اثرات اور ان کی سزا ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ ’’اور الٹ پڑا ان پر‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا ﴿ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کے ساتھ وہ ٹھٹھا کرتے تھے‘‘ کیونکہ ان کے رسولوں نے جب انھیں عذاب سے ڈرایا تو انھوں نے ان سے استہزا کیا اورجو خبر انھوں نے دی اس کا تمسخر اڑایا آخر ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔

35

وَقَالَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَىْءٍۢ نَّحْنُ وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَىْءٍۢ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَى ٱلرُّسُلِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے شریک ٹھہرائے، اگر چاہتا اللہ تو نہ عبادت کرتے ہم سوائے اللہ کے کسی (اور) چیز کی، ہم اور نہ ہمارے باپ دادا ہی اور نہ حرام کرتے ہم بغیر اس (کے حکم) کے کسی چیز کو، اس طرح ہی کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس نہیں ہے اوپر رسولوں کے (کچھ اور) مگر پہنچا دینا صریح (35)

[35] مشرکین اپنے شرک پر مشیت الٰہی کو دلیل بناتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ کبھی شرک نہ کرتے اور نہ وہ ان مویشیوں کو حرام ٹھہراتے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے، مثلاً:بحیرہ، وصیلہ اور حام وغیرہ… مگر ان کی یہ دلیل باطل ہے اگر ان کی یہ دلیل صحیح ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان سے پہلے لوگوں کو ان کے شرک کی پاداش میں کبھی عذاب نہ دیتا اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت عذاب کا مزا چکھایا۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے شرک کو پسند کرتا تو ان کو کبھی عذاب نہ دیتا۔ دراصل حق کو، جسے رسول لے کر آئے، رد کرنے کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ہے ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو امرونہی کا پابند بنایا ہے، ان کو اسی چیز کا مکلف ٹھہرایا ہے جس پر عمل پیرا ہونا ممکن ہے اور اس پر عمل پیرا ہونے اور دو چیزوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی ان کو قوت عطا کی ہے جس سے ان کے افعال صادر ہوتے ہیں ۔ اس لیے ان کا قضاء و قدر کو دلیل بنانا سب سے بڑا باطل ہے اور ہر شخص حسی طور پر جانتا ہے کہ انسان جس فعل کا ارادہ کرتا ہے، اسے اس کو کرنے کی قدرت حاصل ہوتی ہے، اس میں کوئی نزاع نہیں ہے، پس انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی تکذیب اور عقلی اور حسی امور کی تکذیب کا ارتکاب کیا۔ ﴿فَهَلۡ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’پس رسولوں کی ذمے داری، کھول کر پہنچا دینا ہے‘‘ یعنی واضح اور ظاہر ابلاغ جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جائے اور کسی کے پاس اللہ تعالیٰ کے خلاف کوئی حجت نہ رہے۔ جب انبیاء و رسل ان کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے اوامر و نواہی پہنچا دیتے ہیں اور وہ اس کے مقابلے میں تقدیر کا بہانہ کرتے ہیں تو رسولوں کے اختیار میں کچھ نہیں ، ان کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے۔

36

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلطَّٰغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى ٱللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ ٱلضَّلَٰلَةُ ۚ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ

اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے ہر امت میں رسول یہ کہ عبادت کروتم اللہ کی او ربچو تم طاغوت سے، پھر بعض ان میں سے وہ تھے جنھیں ہدایت دی اللہ نےاور بعض ان میں سے وہ تھے کہ ثابت ہو گئی ان پر گمراہی، پس سیر کرو تم زمین میں ، پھر دیکھو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا؟ (36) اگر حرص کریں آپ ان کو ہدایت پر لانے کی تو بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا اس کو جسے وہ گمراہ کرتا ہےاور نہیں ہے ان کے لیے کوئی مدد گار (37)

[36] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ تمام قوموں میں اس کی حجت قائم ہو چکی ہے، نیز یہ کہ متقدمین یا متاخرین میں کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول مبعوث نہ فرمایا ہو اور تمام رسول ایک دعوت اور ایک دین پر متفق تھے اور وہ ہے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ﴾ ’’صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (غیر اللہ کی عبادت) سے بچو۔‘‘ پس قومیں ، انبیاء کی دعوت کو قبول کرنے اور رد کرنے کی بنیاد پر دو گروہوں میں منقسم ہو گئیں ۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ هَدَى اللّٰهُ ﴾ ’’بعض ان میں سے وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی‘‘ پس انھوں نے علم و عمل کے لحاظ سے رسولوں کی اتباع کی ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَيۡهِ الضَّلٰلَةُ﴾ ’’اور بعض ان میں سے وہ ہیں جن پر گمراہی ثابت ہو گئی‘‘ پس انھوں نے گمراہی کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’پس تم (اپنے قلب و بدن کے ساتھ) زمین پر چلو پھرو۔‘‘ ﴿ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا‘‘ پس تم روئے زمین پر بڑی بڑی عجیب چیزوں کا مشاہدہ کرو گے۔ تم جھٹلانے والا کوئی ایسا شخص نہیں پاؤ گے جس کا انجام ہلاکت نہ ہو۔

[37]﴿ اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰى هُدٰؔىهُمۡ ﴾ ’’اگر آپ خواہش رکھیں ان کی ہدایت کی‘‘ اور اس بارے میں آپ اپنی جدوجہد صرف کریں ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ يُّضِلُّ ﴾ ’’تو اللہ اس کو ہدایت نہیں دیتا جس کو وہ گمراہ کر دے‘‘ اگرچہ وہ ہدایت کا ہر سبب ہی کیوں نہ استعمال کر لے، اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نہ نوازے گا۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ﴾ ’’اور ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ‘‘ جو اللہ کے عذاب کے مقابلے میں ان کی مدد کر سکیں اور ان کو اللہ کے عذاب سے بچا سکیں ۔

37

إِن تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَىٰهُمْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى مَن يُضِلُّ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ

اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کے لیے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے ہر امت میں رسول یہ کہ عبادت کروتم اللہ کی او ربچو تم طاغوت سے، پھر بعض ان میں سے وہ تھے جنھیں ہدایت دی اللہ نےاور بعض ان میں سے وہ تھے کہ ثابت ہو گئی ان پر گمراہی، پس سیر کرو تم زمین میں ، پھر دیکھو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا؟ (36) اگر حرص کریں آپ ان کو ہدایت پر لانے کی تو بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا اس کو جسے وہ گمراہ کرتا ہےاور نہیں ہے ان کے لیے کوئی مدد گار (37)

[36] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ تمام قوموں میں اس کی حجت قائم ہو چکی ہے، نیز یہ کہ متقدمین یا متاخرین میں کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول مبعوث نہ فرمایا ہو اور تمام رسول ایک دعوت اور ایک دین پر متفق تھے اور وہ ہے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ﴾ ’’صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (غیر اللہ کی عبادت) سے بچو۔‘‘ پس قومیں ، انبیاء کی دعوت کو قبول کرنے اور رد کرنے کی بنیاد پر دو گروہوں میں منقسم ہو گئیں ۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ هَدَى اللّٰهُ ﴾ ’’بعض ان میں سے وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی‘‘ پس انھوں نے علم و عمل کے لحاظ سے رسولوں کی اتباع کی ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَيۡهِ الضَّلٰلَةُ﴾ ’’اور بعض ان میں سے وہ ہیں جن پر گمراہی ثابت ہو گئی‘‘ پس انھوں نے گمراہی کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’پس تم (اپنے قلب و بدن کے ساتھ) زمین پر چلو پھرو۔‘‘ ﴿ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا‘‘ پس تم روئے زمین پر بڑی بڑی عجیب چیزوں کا مشاہدہ کرو گے۔ تم جھٹلانے والا کوئی ایسا شخص نہیں پاؤ گے جس کا انجام ہلاکت نہ ہو۔

[37]﴿ اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰى هُدٰؔىهُمۡ ﴾ ’’اگر آپ خواہش رکھیں ان کی ہدایت کی‘‘ اور اس بارے میں آپ اپنی جدوجہد صرف کریں ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ يُّضِلُّ ﴾ ’’تو اللہ اس کو ہدایت نہیں دیتا جس کو وہ گمراہ کر دے‘‘ اگرچہ وہ ہدایت کا ہر سبب ہی کیوں نہ استعمال کر لے، اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نہ نوازے گا۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ﴾ ’’اور ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ‘‘ جو اللہ کے عذاب کے مقابلے میں ان کی مدد کر سکیں اور ان کو اللہ کے عذاب سے بچا سکیں ۔

38

وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٰنِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ ٱللَّهُ مَن يَمُوتُ ۚ بَلَىٰ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّۭا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائے گا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی، اپنی پختہ قسمیں ، کہ نہیں دوبارہ اٹھائے گا اللہ اس کو جو مر جاتا ہے، کیوں نہیں ؟ (ضرور اٹھائے گا) وعدہ ہے اس کے ذمے سچا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (38) تاکہ واضح کرے ان کے لیے وہ چیز کہ اختلاف کرتے تھے وہ اس میں اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ بے شک وہی تھے جھوٹے (39) یقینا ہمارا کہنا کسی بھی چیز کے لیے، جب ارادہ کریں ہم اس کا، ( یہ ہوتا ہے) کہ ہم کہتے ہیں اس کو’’ ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے (40)

[38] اپنے رسولوں کو جھٹلانے والے مشرکین کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اور یہ اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب پر بہت پکی قسمیں کھاتے ہیں اور اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا نہ وہ ان کے مٹی ہو جانے کے بعد ان کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے: ﴿ بَلٰى﴾ ’’کیوں نہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر انھیں ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ﴿ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا ﴾ ’’اس پر وعدہ ہو چکا ہے پکا‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے نہ اسے تبدیل کرتا ہے ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی اور جزا سزا کو جھٹلانا ان کی سب سے بڑی جہالت ہے۔

[40,39] پھر اللہ تعالیٰ زندگی بعد موت اور سزا و جزا کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ ’’تاکہ وہ ان کے سامنے واضح کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ‘‘ وہ مسائل بڑے ہوں یا چھوٹے۔ پس وہ ان کے حقائق کو بیان کرے گا۔ ﴿ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ﴾ ’’اور تاکہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ حتیٰ کہ وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے اعمال ان کے لیے حسرت کا باعث ہیں اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے خود ساختہ معبود ان کی کوئی مدد نہ کرسکے جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارا کرتے تھے اور اس وقت وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے معبودان باطل جہنم کا ایندھن ہیں اور سورج اور چاند بے نور کر دیے جائیں گے، ستارے جھڑ کر بکھر جائیں گے اور جو لوگ سورج، چاند اور ستاروں کی عبادت کیا کرتے تھے ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غلام اور اس کے سامنے مسخر ہیں اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ صرف اتنا کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے بغیر اس کے کہ کوئی جھگڑا ہو یا کوئی رکاوٹ بلکہ وہ چیز اس کے ارادے اور مشیت کے مطابق ہی ہوتی ہے۔

39

لِيُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِى يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰذِبِينَ

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے

اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی، اپنی پختہ قسمیں ، کہ نہیں دوبارہ اٹھائے گا اللہ اس کو جو مر جاتا ہے، کیوں نہیں ؟ (ضرور اٹھائے گا) وعدہ ہے اس کے ذمے سچا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (38) تاکہ واضح کرے ان کے لیے وہ چیز کہ اختلاف کرتے تھے وہ اس میں اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ بے شک وہی تھے جھوٹے (39) یقینا ہمارا کہنا کسی بھی چیز کے لیے، جب ارادہ کریں ہم اس کا، ( یہ ہوتا ہے) کہ ہم کہتے ہیں اس کو’’ ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے (40)

[38] اپنے رسولوں کو جھٹلانے والے مشرکین کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اور یہ اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب پر بہت پکی قسمیں کھاتے ہیں اور اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا نہ وہ ان کے مٹی ہو جانے کے بعد ان کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے: ﴿ بَلٰى﴾ ’’کیوں نہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر انھیں ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ﴿ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا ﴾ ’’اس پر وعدہ ہو چکا ہے پکا‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے نہ اسے تبدیل کرتا ہے ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی اور جزا سزا کو جھٹلانا ان کی سب سے بڑی جہالت ہے۔

[40,39] پھر اللہ تعالیٰ زندگی بعد موت اور سزا و جزا کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ ’’تاکہ وہ ان کے سامنے واضح کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ‘‘ وہ مسائل بڑے ہوں یا چھوٹے۔ پس وہ ان کے حقائق کو بیان کرے گا۔ ﴿ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ﴾ ’’اور تاکہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ حتیٰ کہ وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے اعمال ان کے لیے حسرت کا باعث ہیں اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے خود ساختہ معبود ان کی کوئی مدد نہ کرسکے جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارا کرتے تھے اور اس وقت وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے معبودان باطل جہنم کا ایندھن ہیں اور سورج اور چاند بے نور کر دیے جائیں گے، ستارے جھڑ کر بکھر جائیں گے اور جو لوگ سورج، چاند اور ستاروں کی عبادت کیا کرتے تھے ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غلام اور اس کے سامنے مسخر ہیں اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ صرف اتنا کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے بغیر اس کے کہ کوئی جھگڑا ہو یا کوئی رکاوٹ بلکہ وہ چیز اس کے ارادے اور مشیت کے مطابق ہی ہوتی ہے۔

40

إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَىْءٍ إِذَآ أَرَدْنَٰهُ أَن نَّقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی، اپنی پختہ قسمیں ، کہ نہیں دوبارہ اٹھائے گا اللہ اس کو جو مر جاتا ہے، کیوں نہیں ؟ (ضرور اٹھائے گا) وعدہ ہے اس کے ذمے سچا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (38) تاکہ واضح کرے ان کے لیے وہ چیز کہ اختلاف کرتے تھے وہ اس میں اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ بے شک وہی تھے جھوٹے (39) یقینا ہمارا کہنا کسی بھی چیز کے لیے، جب ارادہ کریں ہم اس کا، ( یہ ہوتا ہے) کہ ہم کہتے ہیں اس کو’’ ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے (40)

[38] اپنے رسولوں کو جھٹلانے والے مشرکین کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اور یہ اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب پر بہت پکی قسمیں کھاتے ہیں اور اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا نہ وہ ان کے مٹی ہو جانے کے بعد ان کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے: ﴿ بَلٰى﴾ ’’کیوں نہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر انھیں ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ﴿ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا ﴾ ’’اس پر وعدہ ہو چکا ہے پکا‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے نہ اسے تبدیل کرتا ہے ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی اور جزا سزا کو جھٹلانا ان کی سب سے بڑی جہالت ہے۔

[40,39] پھر اللہ تعالیٰ زندگی بعد موت اور سزا و جزا کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ ’’تاکہ وہ ان کے سامنے واضح کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ‘‘ وہ مسائل بڑے ہوں یا چھوٹے۔ پس وہ ان کے حقائق کو بیان کرے گا۔ ﴿ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ﴾ ’’اور تاکہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ حتیٰ کہ وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے اعمال ان کے لیے حسرت کا باعث ہیں اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے خود ساختہ معبود ان کی کوئی مدد نہ کرسکے جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارا کرتے تھے اور اس وقت وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے معبودان باطل جہنم کا ایندھن ہیں اور سورج اور چاند بے نور کر دیے جائیں گے، ستارے جھڑ کر بکھر جائیں گے اور جو لوگ سورج، چاند اور ستاروں کی عبادت کیا کرتے تھے ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غلام اور اس کے سامنے مسخر ہیں اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ صرف اتنا کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے بغیر اس کے کہ کوئی جھگڑا ہو یا کوئی رکاوٹ بلکہ وہ چیز اس کے ارادے اور مشیت کے مطابق ہی ہوتی ہے۔

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.