أَتَىٰٓ أَمْرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس کے لیے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے
1: عربی زبان کے اعتبار سے یہ انتہائی زور دار فقرہ ہے جس میں آئندہ ہونے والے کسی یقینی واقعے کو ماضی کے صیغے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے زور اور تأثیر کو کسی اور زبان میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کا پسِ منظر یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کفار سے یہ فرماتے تھے کہ کفر کا نتیجہ اﷲ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگا، اور مسلمان غالب آئیں گے تو وہ مذاق اُڑانے کے انداز میں کہا کرتے تھے کہ اگر عذاب آنا ہے تو اﷲ تعالیٰ سے کہئے کہ اُسے ابھی بھیج دے۔ اس کا مقصد در حقیقت یہ تھا کہ عذاب کی یہ دھمکی اور مسلمانوں کی فتح کا وعدہ (معاذ اللہ) محض بناوٹی بات ہے، اس کی حقیقت کچھ نہیں۔ اِس سورت کا آغاز اُن کے اِس طرزِ عمل کے مقابلے میں یہ فرما کر کیا گیا ہے کہ کافروں پر آنے والے جس عذاب اور مسلمانوں کے غلبے کی جس خبر کو تم ناممکن سمجھ رہے ہو، وہ اﷲ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے، اور اِتنا یقینی ہے کہ گویا آن ہی پہنچا ہے، لہٰذا اُس کے آنے کی جلدی مچا کر اُس کا مذاق نہ اُڑاؤ، کیونکہ وہ تہارے سر پر کھڑا ہے۔ پھر اگلے فقرے میں اس عذاب کے یقینی ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ تم لوگ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہو، حالانکہ اﷲ تعالیٰ نہ صرف اُس سے پاک بلکہ اُس سے بہت بالا و برتر ہے، لہٰذا اُس کے ساتھ شرک کرنا اُس کی توہین ہے، اور خالقِ کائنات کی توہین کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ توہین کرنے والے پر عذاب نازل ہو (تفسیر المہائمی 402:1)