Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 21–30 of 128

21

أَمْوَٰتٌ غَيْرُ أَحْيَآءٍۢ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ

لاشیں ہیں بےجان۔ ان کو یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے

اکثر شرک کی صورت یہ ہوتی ہے کہ پچھلے بزرگوں کو مقدس اور مقرب مان کر لوگ ان کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہ پرستش سراسر احمقانہ ہوتی ہے۔ جن مدفون بزرگوں کی بڑی بڑی قبریں بنا کر لوگ ان سے مرادیں مانگتے ہیں وہ خود مُردہ حالت میں عالم برزخ میں پڑے ہوتے ہیں۔ ان کو خود اپنے بارے میں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے، کجا کہ وہ کسی دوسرے کی مدد کریں۔

’’وہ تکبر کرتے ہیں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا سے تکبر کرتے ہیں۔ زمین وآسمان کے خالق سے تکبر کی جرأت کون کرے گا۔ اس سے مراد دراصل خدا کے داعی سے تکبر ہے نہ کہ خود خدا سے تکبر۔ اللہ کا جو بندہ توحید کا داعی بن کر اٹھتا ہے وہ دنیوی اعتبار سے اپنے مخاطبین کے مقابلہ میں ہمیشہ کم ہوتا ہے۔ کیونکہ مخاطب رواجی مذہب کا حامل ہونے کی وجہ سے وقت کے نقشہ میں اونچا درجہ حاصل کیے ہوئے ہوتاہے۔ جب کہ داعی حق ’’نئے دین‘‘ کا علم بردار ہونے کی بنا پر ان درجات ومقامات سے محروم ہوتاہے۔ وہ مخاطبین کو اپنے مقابلہ میں مادی اعتبار سے کمتر نظرآتاہے۔ چنانچہ ان کے اندر برتری کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اس کی بات کو بے وزن سمجھ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

ایسے لوگوں کا کیس اگر چہ تکبر کا کیس ہوتاہے لیکن وہ اس کو اصولی اور نظریاتی کیس بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مگر اللہ کو لوگوں کی اندرونی نفسیات کا حال خوب معلوم ہے۔ اللہ ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کے ساتھ سلوک کرے گا، نہ کہ ان کی ظاہری باتوں کے اعتبار سے۔

22

إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۚ فَٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٌۭ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ

تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں

اکثر شرک کی صورت یہ ہوتی ہے کہ پچھلے بزرگوں کو مقدس اور مقرب مان کر لوگ ان کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہ پرستش سراسر احمقانہ ہوتی ہے۔ جن مدفون بزرگوں کی بڑی بڑی قبریں بنا کر لوگ ان سے مرادیں مانگتے ہیں وہ خود مُردہ حالت میں عالم برزخ میں پڑے ہوتے ہیں۔ ان کو خود اپنے بارے میں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے، کجا کہ وہ کسی دوسرے کی مدد کریں۔

’’وہ تکبر کرتے ہیں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا سے تکبر کرتے ہیں۔ زمین وآسمان کے خالق سے تکبر کی جرأت کون کرے گا۔ اس سے مراد دراصل خدا کے داعی سے تکبر ہے نہ کہ خود خدا سے تکبر۔ اللہ کا جو بندہ توحید کا داعی بن کر اٹھتا ہے وہ دنیوی اعتبار سے اپنے مخاطبین کے مقابلہ میں ہمیشہ کم ہوتا ہے۔ کیونکہ مخاطب رواجی مذہب کا حامل ہونے کی وجہ سے وقت کے نقشہ میں اونچا درجہ حاصل کیے ہوئے ہوتاہے۔ جب کہ داعی حق ’’نئے دین‘‘ کا علم بردار ہونے کی بنا پر ان درجات ومقامات سے محروم ہوتاہے۔ وہ مخاطبین کو اپنے مقابلہ میں مادی اعتبار سے کمتر نظرآتاہے۔ چنانچہ ان کے اندر برتری کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اس کی بات کو بے وزن سمجھ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

ایسے لوگوں کا کیس اگر چہ تکبر کا کیس ہوتاہے لیکن وہ اس کو اصولی اور نظریاتی کیس بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مگر اللہ کو لوگوں کی اندرونی نفسیات کا حال خوب معلوم ہے۔ اللہ ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کے ساتھ سلوک کرے گا، نہ کہ ان کی ظاہری باتوں کے اعتبار سے۔

23

لَا جَرَمَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْتَكْبِرِينَ

یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا اس کو ضرور جانتا ہے۔ وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا

اکثر شرک کی صورت یہ ہوتی ہے کہ پچھلے بزرگوں کو مقدس اور مقرب مان کر لوگ ان کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہ پرستش سراسر احمقانہ ہوتی ہے۔ جن مدفون بزرگوں کی بڑی بڑی قبریں بنا کر لوگ ان سے مرادیں مانگتے ہیں وہ خود مُردہ حالت میں عالم برزخ میں پڑے ہوتے ہیں۔ ان کو خود اپنے بارے میں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے، کجا کہ وہ کسی دوسرے کی مدد کریں۔

’’وہ تکبر کرتے ہیں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا سے تکبر کرتے ہیں۔ زمین وآسمان کے خالق سے تکبر کی جرأت کون کرے گا۔ اس سے مراد دراصل خدا کے داعی سے تکبر ہے نہ کہ خود خدا سے تکبر۔ اللہ کا جو بندہ توحید کا داعی بن کر اٹھتا ہے وہ دنیوی اعتبار سے اپنے مخاطبین کے مقابلہ میں ہمیشہ کم ہوتا ہے۔ کیونکہ مخاطب رواجی مذہب کا حامل ہونے کی وجہ سے وقت کے نقشہ میں اونچا درجہ حاصل کیے ہوئے ہوتاہے۔ جب کہ داعی حق ’’نئے دین‘‘ کا علم بردار ہونے کی بنا پر ان درجات ومقامات سے محروم ہوتاہے۔ وہ مخاطبین کو اپنے مقابلہ میں مادی اعتبار سے کمتر نظرآتاہے۔ چنانچہ ان کے اندر برتری کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اس کی بات کو بے وزن سمجھ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

ایسے لوگوں کا کیس اگر چہ تکبر کا کیس ہوتاہے لیکن وہ اس کو اصولی اور نظریاتی کیس بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مگر اللہ کو لوگوں کی اندرونی نفسیات کا حال خوب معلوم ہے۔ اللہ ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کے ساتھ سلوک کرے گا، نہ کہ ان کی ظاہری باتوں کے اعتبار سے۔

24

وَإِذَا قِيلَ لَهُم مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوٓا۟ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کی خبر دھیرے دھیرے عرب کے دوسرے قبائل میں پہنچی تو وہ ملاقات کے وقت مکہ کے سرداروں سے پوچھتے کہ جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے۔اس کے جواب میں مکہ کے سردار کوئی ایسی بات کہہ دیتے جس سے آپؐ کی شخصیت اور آپ کے کلام کے بارے میں لوگ شک میں مبتلا ہوجائیں (التفسیر المظہری، جلد5، صفحہ 334 )

اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بات کو بگڑے ہوئے الفاظ میں بیان کیا جائے۔ مثلاً قرآن میںپیغمبروں کا جو ذکر ہے اس کے متعلق وہ ’’پچھلے پیغمبروں کی تاریخ‘‘ کا لفظ بھی بول سکتے تھے، مگر اس کو انھوں نے ’’پچھلے لوگوں کے قصے کہانیوں‘‘ کا نام دے دیا۔

دعوت حق سے لوگوں کو اس طرح پھیرنا یا مشتبہ کرنا خدا کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگوں کو قیامت کے دن دگنا عذاب ہوگا۔ کیوں کہ وہ نہ صرف خود گمراہ ہوئے بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بنے۔

25

لِيَحْمِلُوٓا۟ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةًۭ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ ٱلَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ

(اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں

روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کی خبر دھیرے دھیرے عرب کے دوسرے قبائل میں پہنچی تو وہ ملاقات کے وقت مکہ کے سرداروں سے پوچھتے کہ جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے۔اس کے جواب میں مکہ کے سردار کوئی ایسی بات کہہ دیتے جس سے آپؐ کی شخصیت اور آپ کے کلام کے بارے میں لوگ شک میں مبتلا ہوجائیں (التفسیر المظہری، جلد5، صفحہ 334 )

اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بات کو بگڑے ہوئے الفاظ میں بیان کیا جائے۔ مثلاً قرآن میںپیغمبروں کا جو ذکر ہے اس کے متعلق وہ ’’پچھلے پیغمبروں کی تاریخ‘‘ کا لفظ بھی بول سکتے تھے، مگر اس کو انھوں نے ’’پچھلے لوگوں کے قصے کہانیوں‘‘ کا نام دے دیا۔

دعوت حق سے لوگوں کو اس طرح پھیرنا یا مشتبہ کرنا خدا کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگوں کو قیامت کے دن دگنا عذاب ہوگا۔ کیوں کہ وہ نہ صرف خود گمراہ ہوئے بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بنے۔

26

قَدْ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَى ٱللَّهُ بُنْيَٰنَهُم مِّنَ ٱلْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ ٱلسَّقْفُ مِن فَوْقِهِمْ وَأَتَىٰهُمُ ٱلْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ

ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا

جو لوگ جھوٹی بنیادوں پر بڑائی کا مقام حاصل کيے ہوئے ہیں، وہ جب کسی دعوتِ حق کو اٹھتا ہوا دیکھتے ہیں تو ان کو اپنے مقام کے لیے خطرہ محسوس ہونے لگتاہے۔ وہ اپنے مقام کے تحفظ کے لیے یہ تدبیر کرتے ہیں کہ دعوتِ حق کے خلاف ایسی فتنہ انگیز باتیں پھیلاتے ہیں جن سے عوام اس کے بارے میں مشتبہ ہوجائیں اور ا س کے گرد جمع نہ ہوسکیں۔

مگر دعوت حق کے خلاف ایسے لوگوں کی تدبیریں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔ مخالفین حق اپنی جن بنیادوں پر بھروسہ کررہے تھے عین وہی بنیادیں اس طرح کمزور ثابت ہوتی ہیں کہ ان کی چھت ان کے اوپر گرپڑتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتاہے کہ کوئی قدرتی زلزلہ ان کی بنیادوں کو ہلاکر ان کی تعمیرات کو ان کے اوپر گرادیتاہے۔ کبھی ان کے عوام ان کا ساتھ چھوڑ کر حق کی صفوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے مددگاروں کو کھو کر مجبور ہوجاتے ہیں کہ دعوتِ حق کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔ یہ انجام اپنی آخری اور تکمیلی صورت میں قیامت میں سامنے آئے گا۔ جب کہ منکرین اپنی ابدی ذلت کو دیکھیں گے اور کچھ نہ کرسکیں گے۔

27

ثُمَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يُخْزِيهِمْ وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تُشَٰٓقُّونَ فِيهِمْ ۚ قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ إِنَّ ٱلْخِزْىَ ٱلْيَوْمَ وَٱلسُّوٓءَ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ

پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے

جو لوگ جھوٹی بنیادوں پر بڑائی کا مقام حاصل کيے ہوئے ہیں، وہ جب کسی دعوتِ حق کو اٹھتا ہوا دیکھتے ہیں تو ان کو اپنے مقام کے لیے خطرہ محسوس ہونے لگتاہے۔ وہ اپنے مقام کے تحفظ کے لیے یہ تدبیر کرتے ہیں کہ دعوتِ حق کے خلاف ایسی فتنہ انگیز باتیں پھیلاتے ہیں جن سے عوام اس کے بارے میں مشتبہ ہوجائیں اور ا س کے گرد جمع نہ ہوسکیں۔

مگر دعوت حق کے خلاف ایسے لوگوں کی تدبیریں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔ مخالفین حق اپنی جن بنیادوں پر بھروسہ کررہے تھے عین وہی بنیادیں اس طرح کمزور ثابت ہوتی ہیں کہ ان کی چھت ان کے اوپر گرپڑتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتاہے کہ کوئی قدرتی زلزلہ ان کی بنیادوں کو ہلاکر ان کی تعمیرات کو ان کے اوپر گرادیتاہے۔ کبھی ان کے عوام ان کا ساتھ چھوڑ کر حق کی صفوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے مددگاروں کو کھو کر مجبور ہوجاتے ہیں کہ دعوتِ حق کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔ یہ انجام اپنی آخری اور تکمیلی صورت میں قیامت میں سامنے آئے گا۔ جب کہ منکرین اپنی ابدی ذلت کو دیکھیں گے اور کچھ نہ کرسکیں گے۔

28

ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِىٓ أَنفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا۟ ٱلسَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوٓءٍۭ ۚ بَلَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (اور یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے

تکبر سب سے بڑا جرم ہے۔خدا انسان کی ہر غلطی معاف کردے گا مگر وہ تکبر کو معاف نہیں کرے گا۔تکبر کے اظہار کی دو بڑی صورتیں ہیں۔ ایک تکبر وہ جو عام بندوں کے درمیان ظاہر ہوتا ہے ۔ ایک آدمی طاقت، دولت اور دیگر سازوسامان میں اپنے کو دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ پاتا ہے، اس بنا پر وہ اس سے تکبر کرنے لگتا ہے۔

دوسرا زیادہ شدید تکبر وہ ہے جو داعیٔ حق کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ خدا کا ایک بندہ خدا کے سچے دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے۔ اب جو لوگ جھوٹے دین کی بنیاد پر بڑائی کا مقام حاصل کيے ہوئے ہیں، وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اوپر اس کی زد پڑ رہی ہے۔ وہ سچے دین کے معیار پر بے قیمت قرار پارہے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ بپھر اٹھتے ہیں۔ اور داعیٔ حق کو متکبرانہ نفسیات کے ساتھ نظر انداز کردیتے ہیں۔

آدمی جب کسی کے مقابلہ میں تکبر کرتا ہے تو اس لیے کرتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ مگر جب موت کے فرشتے آئیں گے اور اس کو بے بس کردیں گے، اس وقت اس کو معلوم ہوگا کہ معاملہ کسی انسان کا نہیں بلکہ خدا کا تھا، انسان کسی دوسرے انسان کے مقابلہ میں طاقت ور ہوسکتا ہے مگر خدا کے مقابلہ میں کون طاقت ور ہے۔ خداکے فرشتے جب انسان کو اپنے قبضہ میں لیتے ہیں تو اس وقت ہر آدمی ہتھیار ڈال دیتاہے۔ مگر اللہ کا سچّا بندہ وہ ہے جو اس موقع کے آنے سے پہلے خدا کے آگے ہتھیار ڈال دے۔

29

فَٱدْخُلُوٓا۟ أَبْوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى ٱلْمُتَكَبِّرِينَ

سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

تکبر سب سے بڑا جرم ہے۔خدا انسان کی ہر غلطی معاف کردے گا مگر وہ تکبر کو معاف نہیں کرے گا۔تکبر کے اظہار کی دو بڑی صورتیں ہیں۔ ایک تکبر وہ جو عام بندوں کے درمیان ظاہر ہوتا ہے ۔ ایک آدمی طاقت، دولت اور دیگر سازوسامان میں اپنے کو دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ پاتا ہے، اس بنا پر وہ اس سے تکبر کرنے لگتا ہے۔

دوسرا زیادہ شدید تکبر وہ ہے جو داعیٔ حق کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ خدا کا ایک بندہ خدا کے سچے دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے۔ اب جو لوگ جھوٹے دین کی بنیاد پر بڑائی کا مقام حاصل کيے ہوئے ہیں، وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اوپر اس کی زد پڑ رہی ہے۔ وہ سچے دین کے معیار پر بے قیمت قرار پارہے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ بپھر اٹھتے ہیں۔ اور داعیٔ حق کو متکبرانہ نفسیات کے ساتھ نظر انداز کردیتے ہیں۔

آدمی جب کسی کے مقابلہ میں تکبر کرتا ہے تو اس لیے کرتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ مگر جب موت کے فرشتے آئیں گے اور اس کو بے بس کردیں گے، اس وقت اس کو معلوم ہوگا کہ معاملہ کسی انسان کا نہیں بلکہ خدا کا تھا، انسان کسی دوسرے انسان کے مقابلہ میں طاقت ور ہوسکتا ہے مگر خدا کے مقابلہ میں کون طاقت ور ہے۔ خداکے فرشتے جب انسان کو اپنے قبضہ میں لیتے ہیں تو اس وقت ہر آدمی ہتھیار ڈال دیتاہے۔ مگر اللہ کا سچّا بندہ وہ ہے جو اس موقع کے آنے سے پہلے خدا کے آگے ہتھیار ڈال دے۔

30

۞ وَقِيلَ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ مَاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ ۚ قَالُوا۟ خَيْرًۭا ۗ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةٌۭ ۚ وَلَدَارُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ ۚ وَلَنِعْمَ دَارُ ٱلْمُتَّقِينَ

اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) ۔ جو لوگ نیکوکار ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے۔ اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیز گاروں کا گھر بہت خوب ہے

جو لوگ کبر کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ خدا کی بات سنتے ہیں تو ان کا ذہن الٹی سمت میں چلنے لگتا ہے۔ اس بنا پر وہ اس سے نصیحت نہیں لے پاتے۔ مگر جس شخص کے دل میں اللہ کا ڈر ہو وہ خدا کی بات کو پوری آمادگی کے ساتھ سنے گا۔ ایسے شخص کے لیے اللہ کا کلام معرفت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کو اس کے اندر حقیقت کی جھلکیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔

جنت کی صفت یہ ہے کہ وہاں وہ سب کچھ ہے جو انسان چاہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو کبھی کسی انسان کو، حتی کہ بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل نہ ہوسکی۔ موجودہ دنیا میں انسان کی محدودیت اور خارجی حالات کی عدم موافقت کی بناپر کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے اسے حاصل کرلے۔ یہ تصور کہ ’’جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جو انسان چاہے گا‘‘ اتنا پر کیف ہے کہ اس کی خاطر جو قربانی بھی دینی پڑے وہ یقیناً ہلکی ہے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.