Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 21–30 of 128

21

أَمْوَٰتٌ غَيْرُ أَحْيَآءٍۢ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ

لاشیں ہیں بےجان۔ ان کو یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے

کیا پس وہ (اللہ) جو (سب کچھ) پیدا کرتا ہے، اس کی طرح ہے جو (کچھ بھی) پیدا نہیں کرتا؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (17) اور اگر گنو تم نعمتیں اللہ کی تو نہ گن سکو گے تم ان کو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (18) اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو (19) اوروہ لوگ جن کو وہ پکارتے ہیں سوائے اللہ کے، نہیں پیدا کر سکتے وہ کوئی چیز بھی جبکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں (20)(وہ) مردے ہیں ، نہیں ہیں زندہ اور نہیں شعور رکھتے وہ کہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (21) معبود تمھارا، معبود ایک ہی ہے، پس وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، ان کے دل ہی انکاری ہیں (توحید کے) اور وہ تکبر کرتے ہیں (22) یقینا بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا تکبر کرنے والوں کو (23)

[17] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمھیں لامحدود نعمتیں عطا کیں … فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ ہے نہ اس کی برابری کر سکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ يَّخۡلُقُ﴾ ’’پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے‘‘ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ ﴿ كَمَنۡ لَّا يَخۡلُقُ﴾ ’’اس ہستی کی مانند ہو سکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں ۔‘‘ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے‘‘ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلیق و تدبیر میں یکتا ہے اسی طرح وہ اپنی الوہیت، وحدانیت اور عبادت میں بھی یکتا ہے اور جس طرح اس وقت اس کا کوئی شریک نہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے تمھیں اور دیگر چیزوں کو پیدا کیا۔ پس اس کی عبادت میں اس کے ہم سر نہ بناؤ بلکہ دین کو اس کے لیے خالص رکھو۔

[18]﴿ وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اگر تم شمار کرو اللہ کی نعمتوں کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے شکر سے صرف نظر کرتے ہوئے، صرف تعداد کے اعتبار سے ﴿ لَا تُحۡصُوۡهَا ﴾ ’’تو تم ان کو شمار نہیں کر سکو گے‘‘ یعنی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو کجا تم ان کو شمار بھی نہیں کر سکتے اس لیے کہ ہر قسم کی ظاہری و باطنی نعمتیں ، جو اس نے سانسوں اور لحظوں کی تعداد میں بندوں پر کی ہیں ، جن میں سے کچھ کو وہ جانتے ہیں اور کچھ کو نہیں جانتے، اسی طرح جو تکلیفیں وہ ان سے دور فرماتا رہتا ہے، یہ سب اتنی زیادہ ہیں کہ حیطۂ شمار سے باہر ہیں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے‘‘ وہ معمولی سے شکر کو بھی قبول کر لیتا ہے باوجود اس بات کے کہ اس کے انعامات بہت زیادہ ہیں ۔

[20,19] اور جیسے اس کی رحمت بے پایاں ، اس کا جودوکرم لا محدود اور اس کی مغفرت تمام بندوں کو شامل ہے، ایسے ہی اس کا علم ان سب کو محیط ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘ اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے، وہ اس کے برعکس ہیں یعنی وہ کچھ نہیں جانتے۔ کیونکہ ﴿ لَا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’وہ (کم یا زیادہ) کچھ بھی تخلیق کرنے پر قادر نہیں ہیں‘‘ ﴿ وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَؔ﴾ ’’اور ان کو پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ یعنی حالت یہ ہے کہ خود ان کو پیدا کیا گیا ہے وہ ہستیاں جو خود اپنے وجود کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہوں وہ کیسے کوئی چیز پیدا کر سکتی ہیں۔

[22,21] اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام اوصاف کمال اور علم وغیرہ سے محروم ہیں ۔ ﴿ اَمۡوَاتٌ غَيۡرُ اَحۡيَآءٍ﴾ ’’وہ مردہ ہیں ، زندہ نہیں ‘‘ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ وہ کچھ عقل رکھتے ہیں ۔ کیا تم اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر ان کو خدا بناتے ہو؟ پس مشرکین …

22

إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۚ فَٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٌۭ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ

تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں

کیا پس وہ (اللہ) جو (سب کچھ) پیدا کرتا ہے، اس کی طرح ہے جو (کچھ بھی) پیدا نہیں کرتا؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (17) اور اگر گنو تم نعمتیں اللہ کی تو نہ گن سکو گے تم ان کو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (18) اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو (19) اوروہ لوگ جن کو وہ پکارتے ہیں سوائے اللہ کے، نہیں پیدا کر سکتے وہ کوئی چیز بھی جبکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں (20)(وہ) مردے ہیں ، نہیں ہیں زندہ اور نہیں شعور رکھتے وہ کہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (21) معبود تمھارا، معبود ایک ہی ہے، پس وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، ان کے دل ہی انکاری ہیں (توحید کے) اور وہ تکبر کرتے ہیں (22) یقینا بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا تکبر کرنے والوں کو (23)

[17] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمھیں لامحدود نعمتیں عطا کیں … فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ ہے نہ اس کی برابری کر سکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ يَّخۡلُقُ﴾ ’’پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے‘‘ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ ﴿ كَمَنۡ لَّا يَخۡلُقُ﴾ ’’اس ہستی کی مانند ہو سکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں ۔‘‘ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے‘‘ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلیق و تدبیر میں یکتا ہے اسی طرح وہ اپنی الوہیت، وحدانیت اور عبادت میں بھی یکتا ہے اور جس طرح اس وقت اس کا کوئی شریک نہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے تمھیں اور دیگر چیزوں کو پیدا کیا۔ پس اس کی عبادت میں اس کے ہم سر نہ بناؤ بلکہ دین کو اس کے لیے خالص رکھو۔

[18]﴿ وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اگر تم شمار کرو اللہ کی نعمتوں کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے شکر سے صرف نظر کرتے ہوئے، صرف تعداد کے اعتبار سے ﴿ لَا تُحۡصُوۡهَا ﴾ ’’تو تم ان کو شمار نہیں کر سکو گے‘‘ یعنی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو کجا تم ان کو شمار بھی نہیں کر سکتے اس لیے کہ ہر قسم کی ظاہری و باطنی نعمتیں ، جو اس نے سانسوں اور لحظوں کی تعداد میں بندوں پر کی ہیں ، جن میں سے کچھ کو وہ جانتے ہیں اور کچھ کو نہیں جانتے، اسی طرح جو تکلیفیں وہ ان سے دور فرماتا رہتا ہے، یہ سب اتنی زیادہ ہیں کہ حیطۂ شمار سے باہر ہیں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے‘‘ وہ معمولی سے شکر کو بھی قبول کر لیتا ہے باوجود اس بات کے کہ اس کے انعامات بہت زیادہ ہیں ۔

[20,19] اور جیسے اس کی رحمت بے پایاں ، اس کا جودوکرم لا محدود اور اس کی مغفرت تمام بندوں کو شامل ہے، ایسے ہی اس کا علم ان سب کو محیط ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘ اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے، وہ اس کے برعکس ہیں یعنی وہ کچھ نہیں جانتے۔ کیونکہ ﴿ لَا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’وہ (کم یا زیادہ) کچھ بھی تخلیق کرنے پر قادر نہیں ہیں‘‘ ﴿ وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَؔ﴾ ’’اور ان کو پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ یعنی حالت یہ ہے کہ خود ان کو پیدا کیا گیا ہے وہ ہستیاں جو خود اپنے وجود کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہوں وہ کیسے کوئی چیز پیدا کر سکتی ہیں۔

[22,21] اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام اوصاف کمال اور علم وغیرہ سے محروم ہیں ۔ ﴿ اَمۡوَاتٌ غَيۡرُ اَحۡيَآءٍ﴾ ’’وہ مردہ ہیں ، زندہ نہیں ‘‘ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ وہ کچھ عقل رکھتے ہیں ۔ کیا تم اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر ان کو خدا بناتے ہو؟ پس مشرکین …

23

لَا جَرَمَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْتَكْبِرِينَ

یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا اس کو ضرور جانتا ہے۔ وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا

کیا پس وہ (اللہ) جو (سب کچھ) پیدا کرتا ہے، اس کی طرح ہے جو (کچھ بھی) پیدا نہیں کرتا؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (17) اور اگر گنو تم نعمتیں اللہ کی تو نہ گن سکو گے تم ان کو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (18) اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو (19) اوروہ لوگ جن کو وہ پکارتے ہیں سوائے اللہ کے، نہیں پیدا کر سکتے وہ کوئی چیز بھی جبکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں (20)(وہ) مردے ہیں ، نہیں ہیں زندہ اور نہیں شعور رکھتے وہ کہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (21) معبود تمھارا، معبود ایک ہی ہے، پس وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، ان کے دل ہی انکاری ہیں (توحید کے) اور وہ تکبر کرتے ہیں (22) یقینا بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا تکبر کرنے والوں کو (23)

[17] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمھیں لامحدود نعمتیں عطا کیں … فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ ہے نہ اس کی برابری کر سکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ يَّخۡلُقُ﴾ ’’پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے‘‘ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ ﴿ كَمَنۡ لَّا يَخۡلُقُ﴾ ’’اس ہستی کی مانند ہو سکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں ۔‘‘ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے‘‘ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلیق و تدبیر میں یکتا ہے اسی طرح وہ اپنی الوہیت، وحدانیت اور عبادت میں بھی یکتا ہے اور جس طرح اس وقت اس کا کوئی شریک نہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے تمھیں اور دیگر چیزوں کو پیدا کیا۔ پس اس کی عبادت میں اس کے ہم سر نہ بناؤ بلکہ دین کو اس کے لیے خالص رکھو۔

[18]﴿ وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اگر تم شمار کرو اللہ کی نعمتوں کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے شکر سے صرف نظر کرتے ہوئے، صرف تعداد کے اعتبار سے ﴿ لَا تُحۡصُوۡهَا ﴾ ’’تو تم ان کو شمار نہیں کر سکو گے‘‘ یعنی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو کجا تم ان کو شمار بھی نہیں کر سکتے اس لیے کہ ہر قسم کی ظاہری و باطنی نعمتیں ، جو اس نے سانسوں اور لحظوں کی تعداد میں بندوں پر کی ہیں ، جن میں سے کچھ کو وہ جانتے ہیں اور کچھ کو نہیں جانتے، اسی طرح جو تکلیفیں وہ ان سے دور فرماتا رہتا ہے، یہ سب اتنی زیادہ ہیں کہ حیطۂ شمار سے باہر ہیں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے‘‘ وہ معمولی سے شکر کو بھی قبول کر لیتا ہے باوجود اس بات کے کہ اس کے انعامات بہت زیادہ ہیں ۔

[20,19] اور جیسے اس کی رحمت بے پایاں ، اس کا جودوکرم لا محدود اور اس کی مغفرت تمام بندوں کو شامل ہے، ایسے ہی اس کا علم ان سب کو محیط ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘ اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے، وہ اس کے برعکس ہیں یعنی وہ کچھ نہیں جانتے۔ کیونکہ ﴿ لَا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’وہ (کم یا زیادہ) کچھ بھی تخلیق کرنے پر قادر نہیں ہیں‘‘ ﴿ وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَؔ﴾ ’’اور ان کو پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ یعنی حالت یہ ہے کہ خود ان کو پیدا کیا گیا ہے وہ ہستیاں جو خود اپنے وجود کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہوں وہ کیسے کوئی چیز پیدا کر سکتی ہیں۔

[22,21] اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام اوصاف کمال اور علم وغیرہ سے محروم ہیں ۔ ﴿ اَمۡوَاتٌ غَيۡرُ اَحۡيَآءٍ﴾ ’’وہ مردہ ہیں ، زندہ نہیں ‘‘ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ وہ کچھ عقل رکھتے ہیں ۔ کیا تم اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر ان کو خدا بناتے ہو؟ پس مشرکین …

24

وَإِذَا قِيلَ لَهُم مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوٓا۟ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ کیا ہے جو نازل کیا تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، قصے کہانیاں پہلے لوگوں کی (24) تا کہ وہ اٹھائیں اپنے بوجھ پورے، دن قیامت کےاور بوجھ ان لوگوں کے بھی جنھیں وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے، آگاہ رہو! بہت ہی برا ہے جو کچھ وہ اٹھا رہے ہیں (25)تحقیق مکر کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس آیا اللہ (کا عذاب) ان کی عمارت کو (تباہ کرنے) بنیادوں سے، پس گر پڑی ان پرچھت ان کے اوپر سے، اور آیا ان کے پاس عذاب جہاں سے نہیں شعور رکھتے تھے وہ (26) ، پھر دن قیامت کے اللہ رسوا کرے گا انھیں اور کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک وہ جو تھے تم جھگڑا کرتے ان کی بابت (مومنوں سے)؟ کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم، بلاشبہ رسوائی آج کے دن اور برائی (عذاب) ہے اوپر کافروں کے (27) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے تھے اپنی جانوں پر، پس پیش کریں گے وہ صلح (موت کے وقت یہ کہتے ہوئے )، کہ نہیں تھے ہم عمل کرتے کوئی بھی برا، (کہتے ہیں فرشتے) کیوں نہیں ؟ بے شک اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم عمل کرتے (28)(انھیں کہا جائے گا) پس داخل ہو جاؤ تم دروازوں میں جہنم کے، ہمیشہ رہو گے اس میں ، پس ، البتہ بہت ہی برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (29)

[24] اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’جب ان سے کہا جاتا ہے، تمھارے رب نے کیا اتارا ہے؟‘‘ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے… کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے… کہ تمھارا اس کی بابت کیا جواب ہے؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو؟ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ) نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنھیں لوگ نسل در نسل نقل کرتے چلے آ رہے ہیں ، ان میں کچھ قصے سچے ہیں اور بعض محض جھوٹے ہیں ۔

[25] یہ ان کا نظریہ تھا اور انھوں نے اپنے پیروکاروں کو اس نظریہ کے قبول کرنے کی دعوت دی اور اس طرح انھوں نے ان کا بوجھ اٹھایا اور قیامت تک کے لیے ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھا لیا جو ان کی پیروی کریں گے۔﴿وَمِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِيۡنَ يُضِلُّوۡنَهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ﴾ ’’اور ان لوگوں کا بوجھ، جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے‘‘ یعنی اپنے مقلدین کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس کے جس کی طرف یہ قائدین بلاتے ہیں ۔ پس یہ قائدین ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ان کے باطل ہونے کا علم رکھتے ہیں تو ان میں ہر ایک مستقل مجرم ہے کیونکہ وہ ان کے باطل نظریات کو جانتے ہیں جس طرح وہ خود جانتے ہیں ۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوۡنَ ﴾ ’’سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں ، برے ہیں ۔‘‘ یعنی کتنا برا ہے وہ بھاری بوجھ جو انھوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے۔ خود ان کے اپنے گناہوں کا اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ جن کو انھوں نے گمراہ کیا۔

[27,26]﴿ قَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ ’’تحقیق سازش کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف سازشیں کیں اور ان کی دعوت کو ٹھکرانے کے لیے مختلف قسم کے حیلے ایجاد کیے اور اپنے مکروفریب کی اساس اور بنیاد پر خوفناک عمارت اور محل تعمیر کیے۔ ﴿ فَاَتَى اللّٰهُ بُنۡيَانَهُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ﴾یعنی اللہ کے عذاب نے ان کے مکر و فریب (کی عمارتوں) کو بنیادوں اور جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ﴿ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ﴾ ’’پس گر پڑی ان پر چھت‘‘ سازشوں کا تانا بانا بن کر انھوں نے مکرو فریب کی جو …

25

لِيَحْمِلُوٓا۟ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةًۭ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ ٱلَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ

(اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں

اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ کیا ہے جو نازل کیا تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، قصے کہانیاں پہلے لوگوں کی (24) تا کہ وہ اٹھائیں اپنے بوجھ پورے، دن قیامت کےاور بوجھ ان لوگوں کے بھی جنھیں وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے، آگاہ رہو! بہت ہی برا ہے جو کچھ وہ اٹھا رہے ہیں (25)تحقیق مکر کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس آیا اللہ (کا عذاب) ان کی عمارت کو (تباہ کرنے) بنیادوں سے، پس گر پڑی ان پرچھت ان کے اوپر سے، اور آیا ان کے پاس عذاب جہاں سے نہیں شعور رکھتے تھے وہ (26) ، پھر دن قیامت کے اللہ رسوا کرے گا انھیں اور کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک وہ جو تھے تم جھگڑا کرتے ان کی بابت (مومنوں سے)؟ کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم، بلاشبہ رسوائی آج کے دن اور برائی (عذاب) ہے اوپر کافروں کے (27) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے تھے اپنی جانوں پر، پس پیش کریں گے وہ صلح (موت کے وقت یہ کہتے ہوئے )، کہ نہیں تھے ہم عمل کرتے کوئی بھی برا، (کہتے ہیں فرشتے) کیوں نہیں ؟ بے شک اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم عمل کرتے (28)(انھیں کہا جائے گا) پس داخل ہو جاؤ تم دروازوں میں جہنم کے، ہمیشہ رہو گے اس میں ، پس ، البتہ بہت ہی برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (29)

[24] اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’جب ان سے کہا جاتا ہے، تمھارے رب نے کیا اتارا ہے؟‘‘ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے… کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے… کہ تمھارا اس کی بابت کیا جواب ہے؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو؟ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ) نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنھیں لوگ نسل در نسل نقل کرتے چلے آ رہے ہیں ، ان میں کچھ قصے سچے ہیں اور بعض محض جھوٹے ہیں ۔

[25] یہ ان کا نظریہ تھا اور انھوں نے اپنے پیروکاروں کو اس نظریہ کے قبول کرنے کی دعوت دی اور اس طرح انھوں نے ان کا بوجھ اٹھایا اور قیامت تک کے لیے ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھا لیا جو ان کی پیروی کریں گے۔﴿وَمِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِيۡنَ يُضِلُّوۡنَهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ﴾ ’’اور ان لوگوں کا بوجھ، جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے‘‘ یعنی اپنے مقلدین کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس کے جس کی طرف یہ قائدین بلاتے ہیں ۔ پس یہ قائدین ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ان کے باطل ہونے کا علم رکھتے ہیں تو ان میں ہر ایک مستقل مجرم ہے کیونکہ وہ ان کے باطل نظریات کو جانتے ہیں جس طرح وہ خود جانتے ہیں ۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوۡنَ ﴾ ’’سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں ، برے ہیں ۔‘‘ یعنی کتنا برا ہے وہ بھاری بوجھ جو انھوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے۔ خود ان کے اپنے گناہوں کا اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ جن کو انھوں نے گمراہ کیا۔

[27,26]﴿ قَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ ’’تحقیق سازش کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف سازشیں کیں اور ان کی دعوت کو ٹھکرانے کے لیے مختلف قسم کے حیلے ایجاد کیے اور اپنے مکروفریب کی اساس اور بنیاد پر خوفناک عمارت اور محل تعمیر کیے۔ ﴿ فَاَتَى اللّٰهُ بُنۡيَانَهُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ﴾یعنی اللہ کے عذاب نے ان کے مکر و فریب (کی عمارتوں) کو بنیادوں اور جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ﴿ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ﴾ ’’پس گر پڑی ان پر چھت‘‘ سازشوں کا تانا بانا بن کر انھوں نے مکرو فریب کی جو …

26

قَدْ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَى ٱللَّهُ بُنْيَٰنَهُم مِّنَ ٱلْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ ٱلسَّقْفُ مِن فَوْقِهِمْ وَأَتَىٰهُمُ ٱلْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ

ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا

اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ کیا ہے جو نازل کیا تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، قصے کہانیاں پہلے لوگوں کی (24) تا کہ وہ اٹھائیں اپنے بوجھ پورے، دن قیامت کےاور بوجھ ان لوگوں کے بھی جنھیں وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے، آگاہ رہو! بہت ہی برا ہے جو کچھ وہ اٹھا رہے ہیں (25)تحقیق مکر کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس آیا اللہ (کا عذاب) ان کی عمارت کو (تباہ کرنے) بنیادوں سے، پس گر پڑی ان پرچھت ان کے اوپر سے، اور آیا ان کے پاس عذاب جہاں سے نہیں شعور رکھتے تھے وہ (26) ، پھر دن قیامت کے اللہ رسوا کرے گا انھیں اور کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک وہ جو تھے تم جھگڑا کرتے ان کی بابت (مومنوں سے)؟ کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم، بلاشبہ رسوائی آج کے دن اور برائی (عذاب) ہے اوپر کافروں کے (27) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے تھے اپنی جانوں پر، پس پیش کریں گے وہ صلح (موت کے وقت یہ کہتے ہوئے )، کہ نہیں تھے ہم عمل کرتے کوئی بھی برا، (کہتے ہیں فرشتے) کیوں نہیں ؟ بے شک اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم عمل کرتے (28)(انھیں کہا جائے گا) پس داخل ہو جاؤ تم دروازوں میں جہنم کے، ہمیشہ رہو گے اس میں ، پس ، البتہ بہت ہی برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (29)

[24] اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’جب ان سے کہا جاتا ہے، تمھارے رب نے کیا اتارا ہے؟‘‘ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے… کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے… کہ تمھارا اس کی بابت کیا جواب ہے؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو؟ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ) نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنھیں لوگ نسل در نسل نقل کرتے چلے آ رہے ہیں ، ان میں کچھ قصے سچے ہیں اور بعض محض جھوٹے ہیں ۔

[25] یہ ان کا نظریہ تھا اور انھوں نے اپنے پیروکاروں کو اس نظریہ کے قبول کرنے کی دعوت دی اور اس طرح انھوں نے ان کا بوجھ اٹھایا اور قیامت تک کے لیے ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھا لیا جو ان کی پیروی کریں گے۔﴿وَمِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِيۡنَ يُضِلُّوۡنَهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ﴾ ’’اور ان لوگوں کا بوجھ، جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے‘‘ یعنی اپنے مقلدین کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس کے جس کی طرف یہ قائدین بلاتے ہیں ۔ پس یہ قائدین ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ان کے باطل ہونے کا علم رکھتے ہیں تو ان میں ہر ایک مستقل مجرم ہے کیونکہ وہ ان کے باطل نظریات کو جانتے ہیں جس طرح وہ خود جانتے ہیں ۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوۡنَ ﴾ ’’سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں ، برے ہیں ۔‘‘ یعنی کتنا برا ہے وہ بھاری بوجھ جو انھوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے۔ خود ان کے اپنے گناہوں کا اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ جن کو انھوں نے گمراہ کیا۔

[27,26]﴿ قَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ ’’تحقیق سازش کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف سازشیں کیں اور ان کی دعوت کو ٹھکرانے کے لیے مختلف قسم کے حیلے ایجاد کیے اور اپنے مکروفریب کی اساس اور بنیاد پر خوفناک عمارت اور محل تعمیر کیے۔ ﴿ فَاَتَى اللّٰهُ بُنۡيَانَهُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ﴾یعنی اللہ کے عذاب نے ان کے مکر و فریب (کی عمارتوں) کو بنیادوں اور جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ﴿ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ﴾ ’’پس گر پڑی ان پر چھت‘‘ سازشوں کا تانا بانا بن کر انھوں نے مکرو فریب کی جو …

27

ثُمَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يُخْزِيهِمْ وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تُشَٰٓقُّونَ فِيهِمْ ۚ قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ إِنَّ ٱلْخِزْىَ ٱلْيَوْمَ وَٱلسُّوٓءَ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ

پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے

اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ کیا ہے جو نازل کیا تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، قصے کہانیاں پہلے لوگوں کی (24) تا کہ وہ اٹھائیں اپنے بوجھ پورے، دن قیامت کےاور بوجھ ان لوگوں کے بھی جنھیں وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے، آگاہ رہو! بہت ہی برا ہے جو کچھ وہ اٹھا رہے ہیں (25)تحقیق مکر کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس آیا اللہ (کا عذاب) ان کی عمارت کو (تباہ کرنے) بنیادوں سے، پس گر پڑی ان پرچھت ان کے اوپر سے، اور آیا ان کے پاس عذاب جہاں سے نہیں شعور رکھتے تھے وہ (26) ، پھر دن قیامت کے اللہ رسوا کرے گا انھیں اور کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک وہ جو تھے تم جھگڑا کرتے ان کی بابت (مومنوں سے)؟ کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم، بلاشبہ رسوائی آج کے دن اور برائی (عذاب) ہے اوپر کافروں کے (27) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے تھے اپنی جانوں پر، پس پیش کریں گے وہ صلح (موت کے وقت یہ کہتے ہوئے )، کہ نہیں تھے ہم عمل کرتے کوئی بھی برا، (کہتے ہیں فرشتے) کیوں نہیں ؟ بے شک اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم عمل کرتے (28)(انھیں کہا جائے گا) پس داخل ہو جاؤ تم دروازوں میں جہنم کے، ہمیشہ رہو گے اس میں ، پس ، البتہ بہت ہی برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (29)

[24] اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’جب ان سے کہا جاتا ہے، تمھارے رب نے کیا اتارا ہے؟‘‘ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے… کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے… کہ تمھارا اس کی بابت کیا جواب ہے؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو؟ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ) نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنھیں لوگ نسل در نسل نقل کرتے چلے آ رہے ہیں ، ان میں کچھ قصے سچے ہیں اور بعض محض جھوٹے ہیں ۔

[25] یہ ان کا نظریہ تھا اور انھوں نے اپنے پیروکاروں کو اس نظریہ کے قبول کرنے کی دعوت دی اور اس طرح انھوں نے ان کا بوجھ اٹھایا اور قیامت تک کے لیے ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھا لیا جو ان کی پیروی کریں گے۔﴿وَمِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِيۡنَ يُضِلُّوۡنَهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ﴾ ’’اور ان لوگوں کا بوجھ، جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے‘‘ یعنی اپنے مقلدین کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس کے جس کی طرف یہ قائدین بلاتے ہیں ۔ پس یہ قائدین ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ان کے باطل ہونے کا علم رکھتے ہیں تو ان میں ہر ایک مستقل مجرم ہے کیونکہ وہ ان کے باطل نظریات کو جانتے ہیں جس طرح وہ خود جانتے ہیں ۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوۡنَ ﴾ ’’سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں ، برے ہیں ۔‘‘ یعنی کتنا برا ہے وہ بھاری بوجھ جو انھوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے۔ خود ان کے اپنے گناہوں کا اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ جن کو انھوں نے گمراہ کیا۔

[27,26]﴿ قَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ ’’تحقیق سازش کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف سازشیں کیں اور ان کی دعوت کو ٹھکرانے کے لیے مختلف قسم کے حیلے ایجاد کیے اور اپنے مکروفریب کی اساس اور بنیاد پر خوفناک عمارت اور محل تعمیر کیے۔ ﴿ فَاَتَى اللّٰهُ بُنۡيَانَهُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ﴾یعنی اللہ کے عذاب نے ان کے مکر و فریب (کی عمارتوں) کو بنیادوں اور جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ﴿ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ﴾ ’’پس گر پڑی ان پر چھت‘‘ سازشوں کا تانا بانا بن کر انھوں نے مکرو فریب کی جو …

28

ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِىٓ أَنفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا۟ ٱلسَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوٓءٍۭ ۚ بَلَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (اور یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے

اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ کیا ہے جو نازل کیا تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، قصے کہانیاں پہلے لوگوں کی (24) تا کہ وہ اٹھائیں اپنے بوجھ پورے، دن قیامت کےاور بوجھ ان لوگوں کے بھی جنھیں وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے، آگاہ رہو! بہت ہی برا ہے جو کچھ وہ اٹھا رہے ہیں (25)تحقیق مکر کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس آیا اللہ (کا عذاب) ان کی عمارت کو (تباہ کرنے) بنیادوں سے، پس گر پڑی ان پرچھت ان کے اوپر سے، اور آیا ان کے پاس عذاب جہاں سے نہیں شعور رکھتے تھے وہ (26) ، پھر دن قیامت کے اللہ رسوا کرے گا انھیں اور کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک وہ جو تھے تم جھگڑا کرتے ان کی بابت (مومنوں سے)؟ کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم، بلاشبہ رسوائی آج کے دن اور برائی (عذاب) ہے اوپر کافروں کے (27) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے تھے اپنی جانوں پر، پس پیش کریں گے وہ صلح (موت کے وقت یہ کہتے ہوئے )، کہ نہیں تھے ہم عمل کرتے کوئی بھی برا، (کہتے ہیں فرشتے) کیوں نہیں ؟ بے شک اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم عمل کرتے (28)(انھیں کہا جائے گا) پس داخل ہو جاؤ تم دروازوں میں جہنم کے، ہمیشہ رہو گے اس میں ، پس ، البتہ بہت ہی برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (29)

[24] اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’جب ان سے کہا جاتا ہے، تمھارے رب نے کیا اتارا ہے؟‘‘ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے… کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے… کہ تمھارا اس کی بابت کیا جواب ہے؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو؟ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ) نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنھیں لوگ نسل در نسل نقل کرتے چلے آ رہے ہیں ، ان میں کچھ قصے سچے ہیں اور بعض محض جھوٹے ہیں ۔

[25] یہ ان کا نظریہ تھا اور انھوں نے اپنے پیروکاروں کو اس نظریہ کے قبول کرنے کی دعوت دی اور اس طرح انھوں نے ان کا بوجھ اٹھایا اور قیامت تک کے لیے ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھا لیا جو ان کی پیروی کریں گے۔﴿وَمِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِيۡنَ يُضِلُّوۡنَهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ﴾ ’’اور ان لوگوں کا بوجھ، جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے‘‘ یعنی اپنے مقلدین کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس کے جس کی طرف یہ قائدین بلاتے ہیں ۔ پس یہ قائدین ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ان کے باطل ہونے کا علم رکھتے ہیں تو ان میں ہر ایک مستقل مجرم ہے کیونکہ وہ ان کے باطل نظریات کو جانتے ہیں جس طرح وہ خود جانتے ہیں ۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوۡنَ ﴾ ’’سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں ، برے ہیں ۔‘‘ یعنی کتنا برا ہے وہ بھاری بوجھ جو انھوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے۔ خود ان کے اپنے گناہوں کا اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ جن کو انھوں نے گمراہ کیا۔

[27,26]﴿ قَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ ’’تحقیق سازش کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف سازشیں کیں اور ان کی دعوت کو ٹھکرانے کے لیے مختلف قسم کے حیلے ایجاد کیے اور اپنے مکروفریب کی اساس اور بنیاد پر خوفناک عمارت اور محل تعمیر کیے۔ ﴿ فَاَتَى اللّٰهُ بُنۡيَانَهُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ﴾یعنی اللہ کے عذاب نے ان کے مکر و فریب (کی عمارتوں) کو بنیادوں اور جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ﴿ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ﴾ ’’پس گر پڑی ان پر چھت‘‘ سازشوں کا تانا بانا بن کر انھوں نے مکرو فریب کی جو …

29

فَٱدْخُلُوٓا۟ أَبْوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى ٱلْمُتَكَبِّرِينَ

سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ کیا ہے جو نازل کیا تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، قصے کہانیاں پہلے لوگوں کی (24) تا کہ وہ اٹھائیں اپنے بوجھ پورے، دن قیامت کےاور بوجھ ان لوگوں کے بھی جنھیں وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے، آگاہ رہو! بہت ہی برا ہے جو کچھ وہ اٹھا رہے ہیں (25)تحقیق مکر کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس آیا اللہ (کا عذاب) ان کی عمارت کو (تباہ کرنے) بنیادوں سے، پس گر پڑی ان پرچھت ان کے اوپر سے، اور آیا ان کے پاس عذاب جہاں سے نہیں شعور رکھتے تھے وہ (26) ، پھر دن قیامت کے اللہ رسوا کرے گا انھیں اور کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک وہ جو تھے تم جھگڑا کرتے ان کی بابت (مومنوں سے)؟ کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم، بلاشبہ رسوائی آج کے دن اور برائی (عذاب) ہے اوپر کافروں کے (27) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے تھے اپنی جانوں پر، پس پیش کریں گے وہ صلح (موت کے وقت یہ کہتے ہوئے )، کہ نہیں تھے ہم عمل کرتے کوئی بھی برا، (کہتے ہیں فرشتے) کیوں نہیں ؟ بے شک اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم عمل کرتے (28)(انھیں کہا جائے گا) پس داخل ہو جاؤ تم دروازوں میں جہنم کے، ہمیشہ رہو گے اس میں ، پس ، البتہ بہت ہی برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (29)

[24] اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’جب ان سے کہا جاتا ہے، تمھارے رب نے کیا اتارا ہے؟‘‘ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے… کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے… کہ تمھارا اس کی بابت کیا جواب ہے؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو؟ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ) نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنھیں لوگ نسل در نسل نقل کرتے چلے آ رہے ہیں ، ان میں کچھ قصے سچے ہیں اور بعض محض جھوٹے ہیں ۔

[25] یہ ان کا نظریہ تھا اور انھوں نے اپنے پیروکاروں کو اس نظریہ کے قبول کرنے کی دعوت دی اور اس طرح انھوں نے ان کا بوجھ اٹھایا اور قیامت تک کے لیے ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھا لیا جو ان کی پیروی کریں گے۔﴿وَمِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِيۡنَ يُضِلُّوۡنَهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ﴾ ’’اور ان لوگوں کا بوجھ، جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے‘‘ یعنی اپنے مقلدین کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس کے جس کی طرف یہ قائدین بلاتے ہیں ۔ پس یہ قائدین ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ان کے باطل ہونے کا علم رکھتے ہیں تو ان میں ہر ایک مستقل مجرم ہے کیونکہ وہ ان کے باطل نظریات کو جانتے ہیں جس طرح وہ خود جانتے ہیں ۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوۡنَ ﴾ ’’سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں ، برے ہیں ۔‘‘ یعنی کتنا برا ہے وہ بھاری بوجھ جو انھوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے۔ خود ان کے اپنے گناہوں کا اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ جن کو انھوں نے گمراہ کیا۔

[27,26]﴿ قَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ ’’تحقیق سازش کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف سازشیں کیں اور ان کی دعوت کو ٹھکرانے کے لیے مختلف قسم کے حیلے ایجاد کیے اور اپنے مکروفریب کی اساس اور بنیاد پر خوفناک عمارت اور محل تعمیر کیے۔ ﴿ فَاَتَى اللّٰهُ بُنۡيَانَهُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ﴾یعنی اللہ کے عذاب نے ان کے مکر و فریب (کی عمارتوں) کو بنیادوں اور جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ﴿ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ﴾ ’’پس گر پڑی ان پر چھت‘‘ سازشوں کا تانا بانا بن کر انھوں نے مکرو فریب کی جو …

30

۞ وَقِيلَ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ مَاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ ۚ قَالُوا۟ خَيْرًۭا ۗ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةٌۭ ۚ وَلَدَارُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ ۚ وَلَنِعْمَ دَارُ ٱلْمُتَّقِينَ

اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) ۔ جو لوگ نیکوکار ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے۔ اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیز گاروں کا گھر بہت خوب ہے

اور (جب) کہا جاتا ہے ان لوگوں سے جو پرہیز گار ہوئے، کیا چیز ہے جو نازل کی تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، خیر، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے نیکی کی اس دنیا میں ، (بدلہ ہے) اچھااور البتہ گھر آخرت کا بہترین ہےاور یقینا بہت ہی اچھا ہے گھر پرہیز گاروں کا (30)(، یعنی ) باغات ہمیشہ کے، وہ داخل ہوں گے ان میں ، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، واسطے ان کے ہو گا ان میں جو کچھ وہ چاہیں گے، اس طرح ہی جزاء دیتا ہے اللہ متقی لوگوں کو (31) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، درآنحالیکہ وہ پاک ہوتے ہیں (کفر وشرک سے) تو کہتے ہیں (فرشتے) سلام ہو تم پر، داخل ہو جاؤ تم جنت میں بوجہ ان کے جو تھے تم عمل کرتے (32)

[30] جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی کو جھٹلایا، ان کے قول کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے قول کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس بات کا اقرار و اعتراف کیا کہ اللہ نے جو کتاب نازل فرمائی ہے، وہ ایک عظیم نعمت اور بڑی بھلائی ہے جس کے ذریعے سے اللہ نے بندوں پر احسان فرمایا۔ (ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے) پس انھوں نے اس نعمت کا قبولیت اور اطاعت کے جذبے کے ساتھ استقبال کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ پس انھوں نے اسے جانا اور اس پر عمل کیا۔ ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا ﴾ ’’ان کے لیے جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر فائز ہوئے اور انھوں نے اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کی ﴿ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةٌ﴾ ’’اس دنیا میں بھلائی ہے‘‘ یعنی اس دنیا میں ان کے لیے وسیع رزق، بہترین زندگی، اطمینان قلب اور امن و سرور ہے۔ ﴿ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہت ہی اچھا ہے۔‘‘ یعنی آخرت کا گھر دنیا کے گھر اور اس میں موجود لذات و شہوات سے بہتر ہے کیونکہ دنیا کی نعمتیں بہت کم، مختلف قسم کی آفات سے گھری ہوئی اور آخر کار ختم ہو جانے والی ہیں ۔ اس کے برعکس آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اس لیے فرمایا:﴿ وَلَنِعۡمَ دَارُ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’ اور کیا خوب گھر ہے پرہیز گاروں کا ‘‘

[32,31]﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ لَهُمۡ فِيۡهَا مَا يَشَآءُوۡنَ﴾ ’’ باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، جن میں وہ داخل ہوں گے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ان کے لیے وہاں وہ ہے جو وہ چاہیں گے‘‘ یعنی جب بھی ان کے دل کسی چیز کی آرزو اور اس کا ارادہ کریں گے تو وہ چیز انھیں اپنی کامل ترین شکل میں حاصل ہو جائے گی، یہ ممکن نہ ہو گا کہ وہ کوئی ایسی نعمت طلب کریں جس میں ان کے دلوں کی لذت اور روح کا سرور ہو اور وہ حاضر نہ ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ اہل جنت کو ہر وہ چیز عطا کرے گا جس کی وہ تمنا کریں گے حتیٰ کہ وہ ان کو ایسی ایسی نعمتیں یاد دلائے گا جو کبھی ان کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی ہوں گی۔نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس کے کرم کی کوئی انتہا اور اس کی سخاوت کی کوئی حد نہیں ۔ اس کی صفات ذات، صفات افعال، ان صفات کے آثار اور اس کے اقتدار اور بادشاہی کی عظمت و جلالت میں ، کوئی چیز اس جیسی نہیں ہے ﴿ كَذٰلِكَ يَجۡزِي اللّٰهُ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’اللہ پرہیز گاروں کو اسی طرح جزا دیتا ہے‘‘ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ان فرائض کو ادا کرتے ہیں جو ان کے ذمے عائد ہیں ، یعنی وہ فرائض و واجبات جو قلب، بدن، زبان اور حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہیں اور ان تمام امور کو ترک کر دینا جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔﴿الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’وہ لوگ، فرشتے جن کی جان قبض کرتے ہیں ‘‘ اس حالت میں کہ وہ دائمی طور پر تقویٰ کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿طَيِّبِيۡنَ﴾ ’’وہ پاکیزہ ہیں ‘‘ یعنی وہ ہر نقص اور گندگی سے پاک صاف رہتے ہیں جو ایمان میں خلل انداز ہوتی ہے۔ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت سے، ان کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.