Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 21–30 of 128

21

أَمْوَٰتٌ غَيْرُ أَحْيَآءٍۢ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ

لاشیں ہیں بےجان۔ ان کو یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے

اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ : دوسرا وصف یہ کہ وہ مردہ ہیں زندہ نہیں۔ اس آیت میں ” اَمْوَاتٌ“ سے مراد وہ (نیک یا بد) مردہ لوگ ہیں جن کی مشرک لوگ عبادت کرتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ ) ” اور وہ یہ شعور نہیں رکھتے کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ “ اٹھائے جانے کے شعور کا لفظ جمادات (بتوں اور قبروں) پر صادق نہیں آتا، بلکہ صاحب عقل انسانوں، جنوں اور فرشتوں ہی پر صادق آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صرف مردہ کہنے پر اکتفا نہیں فرمایا، بلکہ فرمایا : (غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ) ” زندہ نہیں ہیں۔ “ اس سے قبر پرستوں کا واضح رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ قبروں میں دفن شدہ بزرگ مردہ نہیں زندہ ہیں اور ہم زندوں ہی کو پکارتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ثابت ہوگیا کہ موت وارد ہونے کے بعد دنیوی زندگی کسی کو نصیب نہیں ہوتی، نہ دنیا سے ان کا کوئی تعلق ہی باقی رہتا ہے، پھر ان سے کسی نفع یا نقصان کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ؟- وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ : یہ تیسرا وصف ہے کہ انھیں اپنے اٹھائے جانے کا وقت بھی معلوم نہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ معبود کے لیے یوم بعث کا جاننا ضروری ہے۔ (روح المعانی) اور یہ بات کہ مردے کب اٹھائے جائیں گے اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (١٨٧) ۔

22

إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۚ فَٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٌۭ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ

تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں

اِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۔۔ : گزشتہ تمام دلائل اور احسانات بیان کرنے کے بعد ان کا نتیجہ اور خلاصہ بیان فرمایا کہ تمہارا معبود جس کی عبادت حق ہے، وہ ایک ہی ہے۔ ” وَّاحِدٌ“ کا مطلب ہے کہ وہ ایک ہے، کوئی اس کا ثانی یا شریک نہیں، نہ ذات میں نہ صفات میں۔ آگے وہ اسباب بیان کیے جو انسان کو توحید سے پھسلا کر شرک کی طرف لے جاتے ہیں، یہ اسباب درج ذیل ہیں : 1 ان میں سے پہلا سبب آخرت پر ایمان نہ ہونا ہے۔ آیت میں مشرکین ہی کو ” فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ “ فرمایا ہے، اگر یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زندہ کرکے باز پرس کرنی ہے اور وہاں جزا و سزا صرف اس کے ہاتھ میں ہوگی، کسی دوسرے کا دخل نہ ہوگا تو آدمی کسی اور کو کس طرح اس کے ساتھ شریک کرسکتا ہے۔ اس لیے آخرت کے منکر اللہ اکیلے کا ذکر سن ہی نہیں سکتے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ ) [ الزمر : ٤٥ ] ” اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو وہ بہت خوش ہوجاتے ہیں۔ “ 2 دوسرا سبب یہ کہ ان کے دل انکار کرنے والے ہیں، وہ نہ کسی دلیل کو مانتے ہیں نہ اللہ کی تمام نعمتیں جاننے کے باوجود کوئی نعمت تسلیم کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (يَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا ) [ النحل : ٨٣ ] ” وہ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں، پھر اس کا انکار کرتے ہیں۔ “ وہ مسخ ہوچکے ہیں اور ان پر مہر لگ چکی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰي سَمْعِهِمْ ۭ وَعَلٰٓي اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ) [ البقرۃ : ٧ ] ” اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی نگاہوں پر بھاری پردہ ہے۔ “ حذیفہ (رض) کی حدیث میں ان کی مثال الٹے کوزے کی دی گئی ہے، جس میں کوئی چیز داخل نہیں ہوتی، چناچہ وہ دل نہ نیکی کو نیکی سمجھتے ہیں نہ برائی کو برائی، سوائے ان کی اپنی خواہش کے جس کی محبت انھیں پلا دی گئی ہے۔ [ مسلم، الإیمان، باب رفع الأمانۃ و الإیمان۔۔ : ١٤٤ ]- 3 تیسرا سبب ان کا استکبار یعنی اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنا ہے۔ ان کا تکبر انھیں کوئی خیر خواہی کی بات نہ سننے دیتا ہے نہ ماننے دیتا ہے اور یہی ان کی تمام بیماریوں کی جڑ ہے اور یہ ایسی خطرناک چیز ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : ( لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَکُوْنَ ثَوْبُہُ حَسَنًا، وَنَعْلُہُ حَسَنَۃً. قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ ، الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : ٩١ ]” وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر کبر ہوگا۔ “ ایک آدمی نے کہا : ” آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو۔ “ آپ نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے، جمال کو پسند کرتا ہے، کبر حق کو تسلیم نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “

23

لَا جَرَمَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْتَكْبِرِينَ

یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا اس کو ضرور جانتا ہے۔ وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا

لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ ۔۔ : جس طرح کہا جاتا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو میں دیکھ رہا ہوں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم اس کی سزا پا کر رہو گے، اسی طرح یہاں اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر ان کے ظاہر اور پوشیدہ اعمال کی سزا کی وعید کے لیے ہے اور یہ سزا کیا کم ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت نہیں، بلکہ بغض رکھتا ہے، ” اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ “ کہ وہ تکبر کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

24

وَإِذَا قِيلَ لَهُم مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوٓا۟ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا ۔۔ : ” اَسَاطِيْرُ “ ” أُسْطُوْرَۃٌ“ کی جمع ہے، جیسے ” اَعَاجِیْبُ “ ” أُعْجُوْبَۃٌ“ کی۔ مراد بےاصل جھوٹی کہانیاں اور افسانے ہیں، یہ ان متکبر کفار کا قرآن مجید کے متعلق تبصرہ ہے جو وہ آپس میں کرتے اور اس کو پھیلاتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے، بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچھلے لوگوں کے کچھ قصے کہیں سے سن لیے ہیں، انھی کو جوڑ جاڑ کر اللہ کے کلام کے نام سے لوگوں پر پیش کر رہے ہیں۔

25

لِيَحْمِلُوٓا۟ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةًۭ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ ٱلَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ

(اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں

لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (٣٨، ٣٩) اور سورة عنکبوت (١٢، ١٣) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَنْ دَعَا إِلٰی ہُدًی، کَانَ لَہُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَہُ لاَ یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ أُجُوْرِہِمْ شَیْءًا وَ مَنْ دَعَا إِلٰی ضَلاَلَۃٍ ، کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہُ ، لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ آثَامِھِمْ شَیْءًا ) [ مسلم، العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ أو سیءۃ۔۔ : ٢٦٧٤ ]” جو شخص ہدایت کے کسی کام کی طرف دعوت دے اس کے لیے ان لوگوں کے اجر جتنا اجر ہوگا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے اجروں میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا اور جو شخص گمراہی کے کسی کام کی طرف دعوت دے اس پر ان لوگوں کے گناہوں جتنا گناہ ہوگا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔ “ آدم (علیہ السلام) کے قاتل بیٹے پر قیامت تک کے ہر ناجائز قتل کا بوجھ اس کی مثال ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ (٣١، ٣٢) ۔- یہ اللہ تعالیٰ کا عین عدل ہے کہ گمراہ کرنے والے اپنے گناہوں کا (جو انھوں نے خود کیے) کامل بوجھ اٹھائیں گے اور جن کو گمراہ کیا ان کے سارے بوجھ نہیں بلکہ کچھ بوجھ اٹھائیں گے۔ ”ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ “ میں ” مِنْ “ تبعیض کے لیے ہے، یعنی ان کے صرف ان گناہوں کو جو انھوں نے ان کے کہنے پر کیے۔ (شعراوی) - يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ : اس سے تقلید کا رد نکلتا ہے، کیونکہ تقلید علم کی ضد ہے اللہ اور رسول کی بات دین میں دلیل اور علم ہے، اس کے خلاف جو بھی ہے تقلید اور جہل ہے۔ یہاں بغیر علم گمراہ کرنے والوں اور ان کے پیچھے چل کر گمراہ ہونے والوں میں سے کسی کا عذر تقلید قبول نہیں ہوگا۔ ابن قیم (رض) نے فرمایا :- اَلْعِلْمُ مَعْرِفَۃُ الْھُدٰی بِدَلِیْلِہِ- مَا ذَاکَ وَالتَّقْلِیْدُ یَسْتَوِیَانِ- إِذْ أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ أَنَّ مُقَلِّدًا - لِلنَّاسِ وَالْأَعْمٰی ھُمَا سِیَّانٖ- ” علم ہدایت کو اس کی دلیل (قرآن و سنت) کے ساتھ پہچاننے کا نام ہے۔ یہ اور تقلید کبھی برابر نہیں ہوسکتے، کیونکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لوگوں کی تقلید کرنے والا اور اندھا دونوں برابر ہیں۔ “

26

قَدْ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَى ٱللَّهُ بُنْيَٰنَهُم مِّنَ ٱلْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ ٱلسَّقْفُ مِن فَوْقِهِمْ وَأَتَىٰهُمُ ٱلْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ

ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا

قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : مکر کا معنی خفیہ اور مضبوط تدبیر یا کسی دوسرے کو حیلے کے ساتھ اس کے مقصد سے روکنا ہے، یہ خیر کے لیے ہو تو قابل تعریف ہے، شر کے لیے ہو تو قابل مذمت۔ اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ اس سے پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کے خلاف خفیہ تدبیریں اور سازشیں جتنی کرسکتے تھے کیں مگر بری طرح ناکام ہوئے۔ - فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ ۔۔ : ” بُنْیَانٌ بَنَی یَبْنِيْ “ (ض) کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، بنائی ہوئی عمارت۔ ” الْقَوَاعِدِ “ ” قَاعِدَۃٌ“ کی جمع ہے، بنیادیں۔ اس کی تفسیر دو طرح سے کرتے ہیں، ایک تو یہ کہ یہ ایک تمثیل ہے، یعنی ایک معنوی چیز کو نظر آنے والی چیز کے ساتھ تشبیہ دے کر بات سمجھائی گئی ہے، یعنی جس طرح کوئی شخص ایک عمارت بنائے تو دوسرا کوئی شخص خفیہ طریقے سے اس کی بنیادوں کو اس طرح کھوکھلا کر دے کہ عمارت کی چھت گرپڑے اور بنانے والے اپنے ہی مکان کی چھت کے نیچے آ کر ہلاک ہوجائیں۔ اسی طرح کفار نے رسولوں اور اہل ایمان کے خلاف مکر (سازش) کے محل تعمیر کیے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ان محلوں کی بنیادیں اس طرح ہلا دیں کہ ان کی چھتیں بھی انھی پر گرپڑیں۔ جس طرح کہتے ہیں کہ جو دوسرے کے لیے کنواں کھودتا ہے وہ خود ہی اس میں گرپڑتا ہے۔ یہاں واقعی کنواں ہونا ضروری نہیں۔ کئی مفسرین نے یہ معنی کیا ہے اور رازی نے اسے ترجیح دی ہے۔ - دوسری تفسیر یہ ہے کہ رسولوں کے خلاف سازشیں کرنے والے جن عمارتوں میں رہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی بنیادوں کو زلزلے کا ایسا جھٹکا دیا، یا سیلاب میں ایسا گھیرا کہ ان کی چھتیں ان کے اوپر گرپڑیں اور وہ ان کے نیچے آ کر ہلاک ہوگئے، اس طرح اللہ کے عذاب نے انھیں ایسی جگہ سے آگھیرا جہاں سے وہ گمان بھی نہ رکھتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا) [ العنکبوت : ٤٠ ] ” تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کردیا۔ “ امام المفسرین طبری (رض) نے اس معنی کو ترجیح دی ہے اور فرمایا کہ جب الفاظ کے ظاہر معنی مراد لیے جاسکتے ہیں اور اس میں کوئی خرابی نہیں، تو تمثیل کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے، چناچہ اس میں کیا چیز ناممکن ہے کہ کئی کفار اپنے مکانوں کی چھتوں کے نیچے آ کر مرگئے ہوں، جنھیں وہ نہایت مضبوط سمجھتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے رمضان ١٤٢٦ ھ میں کشمیر کے ہولناک زلزلے میں بیشمار کئی منزلہ مکان زمین میں دھنس گئے، بہت سے اپنے مکینوں پر گرپڑے اور اس کے بعد رمضان ١٤٣١ ھ میں پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے شہروں کے شہر بری طرح متاثر ہوئے، حتیٰ کہ تقریباً نصف پاکستان سیلاب کی زد میں آگیا، یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے۔ [ اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَ عَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ ]

27

ثُمَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يُخْزِيهِمْ وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تُشَٰٓقُّونَ فِيهِمْ ۚ قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ إِنَّ ٱلْخِزْىَ ٱلْيَوْمَ وَٱلسُّوٓءَ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ

پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے

ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُخْــزِيْهِمْ وَيَقُوْلُ ۔۔ : ” یُخْزِيْ “ ” خِزْيٌ“ سے باب افعال کا مضارع ہے، بمعنی رسوائی۔ یہ جسمانی عذاب سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ آدمی جسمانی سزا کے آثار چہرے پر ظاہر نہ ہونے دے، مگر رسوائی کے آثار پورے جسم اور چہرے پر واضح ہوتے ہیں۔ ” ثُمَّ “ نسبتاً ترتیب کے لیے لایا گیا ہے کہ دنیا میں ہلاکت و بربادی کے بعد آخرت کی رسوائی اور عذاب کہیں سخت اور کبھی ختم نہ ہونے والا ہوگا اور اللہ تعالیٰ خود ان سے پوچھے گا کہ تم نے جو میرے شریک بنا رکھے تھے اور تم کہتے تھے کہ فلاں کو قبر میں سوال ہوا تو اس نے فلاں بزرگ کا دھوبی ہونے کا حوالہ دیا اور چھوڑ دیا گیا، فلاں بزرگ کے دم کے باوجود بچہ مرگیا تو اس بزرگ نے چوتھے آسمان پر جاتے ہوئے ملک الموت سے روحوں کا تھیلا چھین کر سب روحوں کو آزاد کردیا اور وہ دوبارہ زندہ ہوگئے۔ فلاں صاحب کے لیے لوح محفوظ میں بھی بچہ قسمت میں نہ تھا تو فلاں بزرگوں نے انھیں بارہ بیٹے عطا کردیے۔ اس قسم کے تمام مشرکوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا بتاؤ وہ جو تم نے میرے شریک بنا رکھے تھے اور جھوٹ پر بنیاد کے باوجود تم مسلمان موحدوں سے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے، انھیں اب لاؤ، پیش کرو، وہ کہاں ہیں ؟ اس کا جواب وہ کیا دیں گے، البتہ اہل علم (فرشتے، انبیاء اور صالحین) یک زبان ہو کر کہیں گے کہ آج کامل رسوائی اور برائی ایمان نہ لانے والوں پر وارد ہوگی۔ اہل ایمان گناہ گاروں سے بھی باز پرس ہوگی، مگر کامل رسوائی صرف کفار کا مقدر ہوگی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ہود (١٨) ” الخزی “ اور ” وَالسُّوْۗءَ “ کے الف لام کی وجہ سے ” کامل رسوائی “ ترجمہ کیا گیا ہے۔

28

ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِىٓ أَنفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا۟ ٱلسَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوٓءٍۭ ۚ بَلَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (اور یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ۔۔ : ”۠فَاَلْقَوُا “ ” أَلْقٰی یُلْقِیْ “ (افعال) سے ماضی معلوم کا جمع مذکر غائب ہے۔ مراد مستقبل ہے، کیونکہ وہ ماضی کی طرح یقینی ہے۔ ” اِلْقَاءٌ“ کا لفظ اجسام کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے : ” فُلاَنٌ أَلْقَی السَّلَاحَ “ کہ فلاں نے ہتھیار پھینک دیے، یعنی اپنے آپ کو حوالے کردیا۔ ” السَّلَمَ “ کا معنی ” اِسْتِسْلَامٌ“ ہے، یعنی مکمل طور پر تابع اور مطیع ہونا۔ - ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ : اس سے مراد کفار ہیں، کیونکہ ” الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ “ پچھلی آیت میں مذکور ” اَلْکٰفِرِیْنَ “ کی صفت ہے اور اپنی جان پر سب سے بڑا ظلم کفر و شرک ہی ہے۔ (دیکھیے انعام : ٢٢) ظالم ہونے کی حالت میں انھیں فرشتوں کے فوت کرنے میں اس سختی کی طرف بھی اشارہ ہے جو اس وقت ان ظالموں پر گزرتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (٩٣) اور سورة انفال (٥٠) براء بن عازب (رض) کی طویل حدیث میں مومن اور کافر کی موت کے وقت فرشتوں کا ان سے سلوک تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ [ مسند أحمد : ٤؍٢٨٧، ٢٨٨، ح : ١٨٥٦١۔ أبوداوٗد : ٤٧٥٣ ]- مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ : یعنی ساری عمر تو اہل ایمان سے مخالفت اور لڑنے میں گزار دی، اب حقیقت واضح ہونے پر اپنی فرماں برداری کا اظہار کریں گے کہ ہم تو کوئی برا کام کیا ہی نہ کرتے تھے۔ وہاں صاف جھوٹ بول کر سمجھیں گے کہ دنیا کی طرح یہاں بھی ہمارا جھوٹ چل جائے گا، بلکہ اس پر قسمیں بھی اٹھائیں گے۔ دیکھیے سورة انعام (٢٢، ٢٣) اور سورة مجادلہ (١٨) ۔

29

فَٱدْخُلُوٓا۟ أَبْوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى ٱلْمُتَكَبِّرِينَ

سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ : جہنم کے دروازوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة حجر (٤٤) ۔

30

۞ وَقِيلَ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ مَاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ ۚ قَالُوا۟ خَيْرًۭا ۗ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةٌۭ ۚ وَلَدَارُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ ۚ وَلَنِعْمَ دَارُ ٱلْمُتَّقِينَ

اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) ۔ جو لوگ نیکوکار ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے۔ اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیز گاروں کا گھر بہت خوب ہے

وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۔۔ : ” خَيْرًا “ ” خَیْرٌ“ اور ” شَرٌّ“ اصل میں اسم تفضیل کے صیغے ہیں، یعنی ” أَخْیَرُ “ اور اَشَرّ “ ، تخفیف کے لیے ” خَیْرٌ“ اور ” شَرٌّ“ بنادیا گیا، اس لیے ترجمہ کیا ہے ” بہترین بات “ یعنی سب سے اچھی بات۔ یہاں زمخشری نے ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ یہی سوال اس سورت کی آیت (٢٤) میں کفار سے کیا گیا تو ان کا جواب تھا ” اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ “ جو مرفوع ہے اور یہاں متقین سے یہی سوال ہوا تو انھوں نے کہا ” خَيْرًا “ جو منصوب ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ” اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ “ مبتدا ” ھِيَ “ کی خبر ہے، اس لیے مرفوع ہے، یعنی کفار نے مانا ہی نہیں کہ رب تعالیٰ نے کچھ نازل فرمایا، ورنہ ” اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ “ منصوب ہوتا، اس کے برعکس متقین کا قول ” خَيْرًا “ ” أَنْزَلَ “ مقدر کا مفعول ہے، یعنی اسی نے خیر نازل فرمائی ہے۔ گویا متقین نے وحی الٰہی کا نزول بھی تسلیم کیا اور اس کے بہترین ہونے کی شہادت بھی دی۔ اس کے برعکس کافروں نے دونوں باتوں کا انکار کیا۔ - لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ : ” حَسَـنَةٌ“ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ مومن کو دنیا کی زندگی میں بھی وہ سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے جو کافر کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا۔ صہیب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ ، إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ لَہُ خَیْرٌ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِیْنَ ، إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ ، وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ ) [ مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : ٢٩٩٩ ]” مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر کام ہی بہترین ہے اور یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے بہترین ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ “ قرآن مجید میں مومن سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ حیات طیبہ عطا کرنے کا ہے۔ دیکھیے سورة نحل (٩٧) ۔- وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ ۔۔ : اس میں ” دَارٌ“ موصوف اپنی صفت ” الْاٰخِرَةِ “ کی طرف مضاف ہے۔ آخری گھر اس لیے فرمایا کہ اس کے بعد اور کوئی گھر نہیں، ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہنا ہے۔ ” وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ “ ” نِعْمَ “ فعل ماضی ہے، یہ مدح کے لیے ہے، مخصوص بالمدح ” ھِيَ “ ہے، اس کی ضد ” بِءْسَ “ ہے جو مذمت کے لیے ہے۔ لام تاکید کا معنی ” تو “ کے ساتھ اور ” خیر “ کا معنی تفضیل کی وجہ سے ” کہیں بہتر “ کے ساتھ کیا ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.