Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 11–20 of 128

11

يُنۢبِتُ لَكُم بِهِ ٱلزَّرْعَ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلنَّخِيلَ وَٱلْأَعْنَٰبَ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور (اور بےشمار درخت) اُگاتا ہے۔ اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لیے اس میں (قدرتِ خدا کی بڑی) نشانی ہے

بادل اوپر فضا سے پانی برساتے ہیں اور نیچے زمین پر اس سے نہایت با معنی قسم کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ ’’زمین وآسمان‘‘ کا اس طرح ہم آہنگ ہو کر عمل کرنا واضح طورپر یہ ثابت کرتاہے کہ جو خدا آسمان کا ہے، وہی خدا زمین کا بھی ہے۔

کائنات کے مختلف حصوں کے درمیان کامل ہم آہنگی ہے۔ یہ ہم آہنگی اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ ساری کائنات کا خالق ومالک صرف ایک ہے۔ کائنات کے موجودہ ڈھانچہ میں ایک سے زیادہ خدا کی کوئی گنجائش نہیں۔ اب جب خالق ومالک حقیقۃً صرف ایک خدا ہے تو اس کے سوا دوسری جس چیز کو بھی معبودیت کا درجہ دیا جائے گا، وہ سراسر بے بنیاد ہوگا۔

12

وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ ۖ وَٱلنُّجُومُ مُسَخَّرَٰتٌۢ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ

اور اسی نے تمہارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا۔ اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں

سورج، چاند، ستارے وسیع خلا میں انتہائی صحت کے ساتھ مسلسل گردش کرتے ہیں۔ زمین میں طرح طرح کی مخلوقات (حیوانات، نباتات، جمادات) بے شمار تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ اوّل الذکر میں تسخیر امر کا پہلو نمایاں ہے۔ اور ثانی الذکر میں اختلاف الوان کا پہلو۔ ایک منظر خدا کی قدرت کے بے پناہ ہونے کو یاد دلاتا ہے۔ دوسرا منظر خدائی صفات کے اَن گنت ہونے کو۔

یہ مناظر اتنے حیرت ناک ہیں کہ جو شخص ان کو نظر ٹھہرا کر دیکھے وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان چیزوں میں اس کو خدا کی عظمت اور اس کی ربوبیت دکھائی دے گی۔ وہ ظاہری واقعات کے اندر چھپے ہوئے غیبی حقائق کو دریافت کرے گا۔ وہ مخلوقات کو دیکھ کر خالق کی معرفت میں ڈوب جائے گا۔

13

وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُخْتَلِفًا أَلْوَٰنُهُۥٓ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَذَّكَّرُونَ

اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں (سب تمہارے زیر فرمان کردیں) نصیحت پکڑنے والوں کے لیے اس میں نشانی ہے

سورج، چاند، ستارے وسیع خلا میں انتہائی صحت کے ساتھ مسلسل گردش کرتے ہیں۔ زمین میں طرح طرح کی مخلوقات (حیوانات، نباتات، جمادات) بے شمار تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ اوّل الذکر میں تسخیر امر کا پہلو نمایاں ہے۔ اور ثانی الذکر میں اختلاف الوان کا پہلو۔ ایک منظر خدا کی قدرت کے بے پناہ ہونے کو یاد دلاتا ہے۔ دوسرا منظر خدائی صفات کے اَن گنت ہونے کو۔

یہ مناظر اتنے حیرت ناک ہیں کہ جو شخص ان کو نظر ٹھہرا کر دیکھے وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان چیزوں میں اس کو خدا کی عظمت اور اس کی ربوبیت دکھائی دے گی۔ وہ ظاہری واقعات کے اندر چھپے ہوئے غیبی حقائق کو دریافت کرے گا۔ وہ مخلوقات کو دیکھ کر خالق کی معرفت میں ڈوب جائے گا۔

14

وَهُوَ ٱلَّذِى سَخَّرَ ٱلْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا۟ مِنْهُ لَحْمًۭا طَرِيًّۭا وَتَسْتَخْرِجُوا۟ مِنْهُ حِلْيَةًۭ تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى ٱلْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکر کرو

سمندر میں لوہے کا ٹکڑا ڈالیں تو فوراً ڈوب کر پانی کی تہ میں چلا جائے گا۔ مگر اسی لوہے کو جب جہاز کی شکل دے دی جائے تو وہ بھاری بوجھ لیے ہوئے سمندر میں تیرنے لگتا ہے اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچ جاتا ہے۔

یہ خدا کا خاص قانون ہے جس کے ذریعہ اس نے سمندر جیسی مہیب مخلوق کو انسان کے لیے کار آمد بنا رکھا ہے۔ اسی طرح سمندر کے اندر حیرت ناک انتظام کے تحت مچھلی کی صورت میں تازہ گوشت تیار کیا جاتا ہے اور اس کے اندر انسانی زینت کے لیے قیمتی موتی بنتے ہیں۔

خدا کے لیے انتظام دنیا کی دوسری صورتیں بھی ممکن تھیں۔ مثلاً ایسا ہوسکتا تھاکہ زمین پر سمندر نہ ہوں۔ یا انسان جس طرح خشکی پر چلتا ہے اسی طرح وہ سمندر میں چلنے لگے۔ مگر خدا نے ایسا نہیں کیا اس کا مقصد آدمی کے اندر شکر گزاری کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔ آدمی جب اپنے پیروں سے سمندر میں نہ چل سکے اور کشتی اور جہاز پر بیٹھے تونہایت آسانی سے سمندر کو عبور کرنے لگے تو اس کو دیکھ کر قدرتی طورپرآدمی کے اندر شکر کا جذبہ موجزن ہوتاہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جس سمندر کو میں اپنے قدموں کے ذریعہ پار نہیں کرسکتا تھا، خدا نے کشتی اور جہاز کے ذریعہ اس کو پار کرنے کا انتظام کردیا۔ وہ فضا جس میں میں خود نہیں اڑ سکتا تھا، اس میں ہوائی جہاز کے ذریعہ نہایت تیز رفتاری کے ساتھ اُڑنے کی صورت پیدا کردی۔

اس قسم کے فرق نظام قدرت میں اسی لیے رکھے گئے ہیں کہ وہ انسان کے شعور کو جگائیں اور اس کے اندر اپنے رب کے لیے شکر اور احسان مندی کا جذبہ پیدا کریں۔

15

وَأَلْقَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ رَوَٰسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَٰرًۭا وَسُبُلًۭا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور رستے بنا دیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جاسکو

یہاں دو چیزوں کا ذکر ہے۔ پہاڑ ابھار کر زمین پر توازن قائم کرنے کا۔ اور زمین وآسمان میں ایسی علامتیں قائم کرنا جو لوگوں کے لیے راستہ معلوم کرنے کا کام دیں۔

جغرافی مطالعہ بتاتا ہے کہ زمین میں جب گہرائیاں پیدا ہوئیں اور ان میں پانی جمع ہو کر سمندر بنے تو زمین ہلنے لگی۔ اس کے بعد خشکی پر اونچے پہاڑ ابھر آئے۔ اس طرح دوطرفہ عمل کے نتیجے میں زمین پر توازن قائم ہوگیا۔ اگر زمین کی سطح پر یہ توازن نہ ہوتا تو انسان کے لیے یہاں زندگی ناممکن یا کم از کم سخت دشوار ہوجاتی۔

اسی طرح انسان کو اپنے سفر اور نقل وحرکت کے لیے علامتوں کی ضرورت ہے جن کی مدد سے وہ سمت کو پہچانے اور بھٹکے بغیر اپنے منزل پر پہنچ جائے ۔ اس کا انتظام بھی یہاں کامل طورپر موجود ہے۔ قدیم زمانہ کا انسان دریاؤں اور ستاروں جیسی چیزوں سے اپنے راستے پہچانتا تھا۔ اب وہ مقناطیسی آلات کی مدد سے اپنا راستہ اور دوسری ضروری باتیں معلوم کرتاہے۔ خشکی اور تری، نیز فضاؤں اور خلاؤں میںتیز رفتار پروازیں اسی کی مدد سے ممکن ہوتی ہیں۔اگر اس قسم کی علامتیں موجود نہ ہوں تو انسانی سرگرمیاں انتہائی حد تک سمٹ کر رہ جائیں۔

16

وَعَلَٰمَٰتٍۢ ۚ وَبِٱلنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ

اور (راستوں میں) نشانات بنا دیئے اور لوگ ستاروں سے بھی رستے معلوم کرتے ہیں

یہاں دو چیزوں کا ذکر ہے۔ پہاڑ ابھار کر زمین پر توازن قائم کرنے کا۔ اور زمین وآسمان میں ایسی علامتیں قائم کرنا جو لوگوں کے لیے راستہ معلوم کرنے کا کام دیں۔

جغرافی مطالعہ بتاتا ہے کہ زمین میں جب گہرائیاں پیدا ہوئیں اور ان میں پانی جمع ہو کر سمندر بنے تو زمین ہلنے لگی۔ اس کے بعد خشکی پر اونچے پہاڑ ابھر آئے۔ اس طرح دوطرفہ عمل کے نتیجے میں زمین پر توازن قائم ہوگیا۔ اگر زمین کی سطح پر یہ توازن نہ ہوتا تو انسان کے لیے یہاں زندگی ناممکن یا کم از کم سخت دشوار ہوجاتی۔

اسی طرح انسان کو اپنے سفر اور نقل وحرکت کے لیے علامتوں کی ضرورت ہے جن کی مدد سے وہ سمت کو پہچانے اور بھٹکے بغیر اپنے منزل پر پہنچ جائے ۔ اس کا انتظام بھی یہاں کامل طورپر موجود ہے۔ قدیم زمانہ کا انسان دریاؤں اور ستاروں جیسی چیزوں سے اپنے راستے پہچانتا تھا۔ اب وہ مقناطیسی آلات کی مدد سے اپنا راستہ اور دوسری ضروری باتیں معلوم کرتاہے۔ خشکی اور تری، نیز فضاؤں اور خلاؤں میںتیز رفتار پروازیں اسی کی مدد سے ممکن ہوتی ہیں۔اگر اس قسم کی علامتیں موجود نہ ہوں تو انسانی سرگرمیاں انتہائی حد تک سمٹ کر رہ جائیں۔

17

أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لَّا يَخْلُقُ ۗ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے۔ کیا وہ ویسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے؟

دنیا میں جتنی چیزیں ہیں ان میں سے کسی کے اندر تخلیق (عدم سے وجود میں لانے) کی طاقت نہیں۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ یہ دنیا اپنی خالق آپ نہیں ہے۔ اس کا خالق وہی ہوسکتاہے جس کے اندر یہ طاقت ہو کہ ایک چیز جو موجود نہیں ہے اس کو موجود کردے۔ اس لیے ایک خدا کا عقیدہ عین فطری ہے۔ کائنات کی توجیہہ ایک ایسے خداکو مانے بغیر نہیںہوسکتی جس کے اندر تخلیق کی صلاحیت کامل درجہ میں پائی جائے۔

مشرکین نے خدا کے سوا جتنے شریک خدا کے گھڑے ہیں یا منکرین نے خدا کو چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو خدا کا بدل بنانے کی کوشش کی ہے، ان میں سے کوئی بھی نہیں جس کے اندر ذاتی تخلیق کی صلاحیت ہو۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ شرک اور الحاد کے گھڑے ہوئے تمام خدا سراسر فرضی ہیں۔کیوں کہ جس کے اندر تخلیقی قوت نہ ہو اس کے متعلق یہ دعویٰ کرنا سراسر بے بنیاد ہے کہ وہ ایک موجود کائنات کا خدا ہے۔ جو خود ذاتی وجود نہ رکھتاہو وہ کس طرح دوسری چیز کو وجود دے سکتا ہے۔

خدا کو اپنے بندوں سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ اس کی نعمتوں پر شکر گزاری ہے۔ اگرچہ خدا کی نعمتیں اس سے زیادہ ہیں کہ کوئی شخص بھی ان کا واقعی شکر ادا کرسکے۔ مگر خدا بے نیاز ہے۔ وہ زیادہ نعمت کے لیے تھوڑا شکر بھی قبول کرلیتا ہے۔ تاہم یہ شکر حقیقی شکرہونا چاہیے، نہ کہ محض رسمی قسم کی حمد خوانی۔

18

وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہ سکو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

دنیا میں جتنی چیزیں ہیں ان میں سے کسی کے اندر تخلیق (عدم سے وجود میں لانے) کی طاقت نہیں۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ یہ دنیا اپنی خالق آپ نہیں ہے۔ اس کا خالق وہی ہوسکتاہے جس کے اندر یہ طاقت ہو کہ ایک چیز جو موجود نہیں ہے اس کو موجود کردے۔ اس لیے ایک خدا کا عقیدہ عین فطری ہے۔ کائنات کی توجیہہ ایک ایسے خداکو مانے بغیر نہیںہوسکتی جس کے اندر تخلیق کی صلاحیت کامل درجہ میں پائی جائے۔

مشرکین نے خدا کے سوا جتنے شریک خدا کے گھڑے ہیں یا منکرین نے خدا کو چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو خدا کا بدل بنانے کی کوشش کی ہے، ان میں سے کوئی بھی نہیں جس کے اندر ذاتی تخلیق کی صلاحیت ہو۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ شرک اور الحاد کے گھڑے ہوئے تمام خدا سراسر فرضی ہیں۔کیوں کہ جس کے اندر تخلیقی قوت نہ ہو اس کے متعلق یہ دعویٰ کرنا سراسر بے بنیاد ہے کہ وہ ایک موجود کائنات کا خدا ہے۔ جو خود ذاتی وجود نہ رکھتاہو وہ کس طرح دوسری چیز کو وجود دے سکتا ہے۔

خدا کو اپنے بندوں سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ اس کی نعمتوں پر شکر گزاری ہے۔ اگرچہ خدا کی نعمتیں اس سے زیادہ ہیں کہ کوئی شخص بھی ان کا واقعی شکر ادا کرسکے۔ مگر خدا بے نیاز ہے۔ وہ زیادہ نعمت کے لیے تھوڑا شکر بھی قبول کرلیتا ہے۔ تاہم یہ شکر حقیقی شکرہونا چاہیے، نہ کہ محض رسمی قسم کی حمد خوانی۔

19

وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے

دنیا میں جتنی چیزیں ہیں ان میں سے کسی کے اندر تخلیق (عدم سے وجود میں لانے) کی طاقت نہیں۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ یہ دنیا اپنی خالق آپ نہیں ہے۔ اس کا خالق وہی ہوسکتاہے جس کے اندر یہ طاقت ہو کہ ایک چیز جو موجود نہیں ہے اس کو موجود کردے۔ اس لیے ایک خدا کا عقیدہ عین فطری ہے۔ کائنات کی توجیہہ ایک ایسے خداکو مانے بغیر نہیںہوسکتی جس کے اندر تخلیق کی صلاحیت کامل درجہ میں پائی جائے۔

مشرکین نے خدا کے سوا جتنے شریک خدا کے گھڑے ہیں یا منکرین نے خدا کو چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو خدا کا بدل بنانے کی کوشش کی ہے، ان میں سے کوئی بھی نہیں جس کے اندر ذاتی تخلیق کی صلاحیت ہو۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ شرک اور الحاد کے گھڑے ہوئے تمام خدا سراسر فرضی ہیں۔کیوں کہ جس کے اندر تخلیقی قوت نہ ہو اس کے متعلق یہ دعویٰ کرنا سراسر بے بنیاد ہے کہ وہ ایک موجود کائنات کا خدا ہے۔ جو خود ذاتی وجود نہ رکھتاہو وہ کس طرح دوسری چیز کو وجود دے سکتا ہے۔

خدا کو اپنے بندوں سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ اس کی نعمتوں پر شکر گزاری ہے۔ اگرچہ خدا کی نعمتیں اس سے زیادہ ہیں کہ کوئی شخص بھی ان کا واقعی شکر ادا کرسکے۔ مگر خدا بے نیاز ہے۔ وہ زیادہ نعمت کے لیے تھوڑا شکر بھی قبول کرلیتا ہے۔ تاہم یہ شکر حقیقی شکرہونا چاہیے، نہ کہ محض رسمی قسم کی حمد خوانی۔

20

وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْـًۭٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ

اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بناسکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں

اکثر شرک کی صورت یہ ہوتی ہے کہ پچھلے بزرگوں کو مقدس اور مقرب مان کر لوگ ان کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہ پرستش سراسر احمقانہ ہوتی ہے۔ جن مدفون بزرگوں کی بڑی بڑی قبریں بنا کر لوگ ان سے مرادیں مانگتے ہیں وہ خود مُردہ حالت میں عالم برزخ میں پڑے ہوتے ہیں۔ ان کو خود اپنے بارے میں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے، کجا کہ وہ کسی دوسرے کی مدد کریں۔

’’وہ تکبر کرتے ہیں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا سے تکبر کرتے ہیں۔ زمین وآسمان کے خالق سے تکبر کی جرأت کون کرے گا۔ اس سے مراد دراصل خدا کے داعی سے تکبر ہے نہ کہ خود خدا سے تکبر۔ اللہ کا جو بندہ توحید کا داعی بن کر اٹھتا ہے وہ دنیوی اعتبار سے اپنے مخاطبین کے مقابلہ میں ہمیشہ کم ہوتا ہے۔ کیونکہ مخاطب رواجی مذہب کا حامل ہونے کی وجہ سے وقت کے نقشہ میں اونچا درجہ حاصل کیے ہوئے ہوتاہے۔ جب کہ داعی حق ’’نئے دین‘‘ کا علم بردار ہونے کی بنا پر ان درجات ومقامات سے محروم ہوتاہے۔ وہ مخاطبین کو اپنے مقابلہ میں مادی اعتبار سے کمتر نظرآتاہے۔ چنانچہ ان کے اندر برتری کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اس کی بات کو بے وزن سمجھ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

ایسے لوگوں کا کیس اگر چہ تکبر کا کیس ہوتاہے لیکن وہ اس کو اصولی اور نظریاتی کیس بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مگر اللہ کو لوگوں کی اندرونی نفسیات کا حال خوب معلوم ہے۔ اللہ ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کے ساتھ سلوک کرے گا، نہ کہ ان کی ظاہری باتوں کے اعتبار سے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.