Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 1–10 of 128

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

أَتَىٰٓ أَمْرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس کے لیے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے

آپہنچا حکم اللہ کا سو نہ جلدی طلب کرو تم اسے، پاک ہے وہ اور برتر ہے ان سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (1) وہی نازل کرتا ہے فرشتوں (جبریل) کو ساتھ روح (وحی) کے، اپنے حکم سے، اوپر جس کے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، یہ کہ ڈراؤ تم (لوگوں کو) کہ بے شک نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم ڈرو مجھ ہی سے (2)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وعدے کو قریب بتلاتے ہوئے اور اس کے وقوع کو متحقق کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَتٰۤى اَمۡرُ اللّٰهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡهُ۠﴾ ’’اللہ کا حکم آپہنچا، پس آپ اس میں جلدی نہ کریں ‘‘ کیونکہ یہ وعدہ ضرور آئے گا اور جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ﴾ ’’وہ پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک بناتے ہیں ‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ شریک، بیٹے، بیوی اور ہمسر وغیرہ کی نسبت سے بالکل پاک ہے جن کو یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں ، یہ نسبت اللہ تعالیٰ کے جلال کے لائق نہیں اور اس کے کمال کے منافی ہے۔

[2] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ان سے منزہ قرار دیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کو اس کے دشمنوں نے متصف کیا ہے۔ اس لیے اس وحی کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین پر نازل فرمائی جس کی اتباع کو وہ پسند فرماتا ہے۔ اس وحی میں ان صفات کمال کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جانا چاہیے۔ فرمایا: ﴿ يُنَزِّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِهٖ﴾ ’’وہ اتارتا ہے فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے‘‘ یعنی اس وحی کے ساتھ، جس پر روح کی زندگی کا دارومدار ہے ﴿ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ ﴾ ’’اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے‘‘ یعنی ان بندوں پر وحی نازل فرماتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی رسالت کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت کا لب لباب اور اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ہے: ﴿ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾ ’’انھیں خبردار کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور صفات عظمت میں اس کی وحدانیت کے بارے میں ڈراؤ، جو کہ درحقیقت صفات الوہیت ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاؤ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور اپنے رسول مبعوث کیے۔ تمام شرائع اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر زور دیتی ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی مخالفت کرتا اور اس کے متضاد کام کرتا ہے یہ شرائع اس کے خلاف جہاد کرتی ہیں ۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے دلائل و براہین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۃ النعم‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کیے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کیے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں ۔

2

يُنَزِّلُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ بِٱلرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦٓ أَنْ أَنذِرُوٓا۟ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱتَّقُونِ

وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو

آپہنچا حکم اللہ کا سو نہ جلدی طلب کرو تم اسے، پاک ہے وہ اور برتر ہے ان سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (1) وہی نازل کرتا ہے فرشتوں (جبریل) کو ساتھ روح (وحی) کے، اپنے حکم سے، اوپر جس کے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، یہ کہ ڈراؤ تم (لوگوں کو) کہ بے شک نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم ڈرو مجھ ہی سے (2)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وعدے کو قریب بتلاتے ہوئے اور اس کے وقوع کو متحقق کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَتٰۤى اَمۡرُ اللّٰهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡهُ۠﴾ ’’اللہ کا حکم آپہنچا، پس آپ اس میں جلدی نہ کریں ‘‘ کیونکہ یہ وعدہ ضرور آئے گا اور جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ﴾ ’’وہ پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک بناتے ہیں ‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ شریک، بیٹے، بیوی اور ہمسر وغیرہ کی نسبت سے بالکل پاک ہے جن کو یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں ، یہ نسبت اللہ تعالیٰ کے جلال کے لائق نہیں اور اس کے کمال کے منافی ہے۔

[2] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ان سے منزہ قرار دیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کو اس کے دشمنوں نے متصف کیا ہے۔ اس لیے اس وحی کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین پر نازل فرمائی جس کی اتباع کو وہ پسند فرماتا ہے۔ اس وحی میں ان صفات کمال کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جانا چاہیے۔ فرمایا: ﴿ يُنَزِّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِهٖ﴾ ’’وہ اتارتا ہے فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے‘‘ یعنی اس وحی کے ساتھ، جس پر روح کی زندگی کا دارومدار ہے ﴿ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ ﴾ ’’اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے‘‘ یعنی ان بندوں پر وحی نازل فرماتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی رسالت کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت کا لب لباب اور اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ہے: ﴿ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾ ’’انھیں خبردار کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور صفات عظمت میں اس کی وحدانیت کے بارے میں ڈراؤ، جو کہ درحقیقت صفات الوہیت ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاؤ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور اپنے رسول مبعوث کیے۔ تمام شرائع اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر زور دیتی ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی مخالفت کرتا اور اس کے متضاد کام کرتا ہے یہ شرائع اس کے خلاف جہاد کرتی ہیں ۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے دلائل و براہین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۃ النعم‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کیے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کیے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں ۔

3

خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۚ تَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا۔ اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے

اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ برتر ہے ان سے جو وہ (اس کے) شریک ٹھہراتے ہیں (3) اس نے پیدا کیا انسان کو نطفے سے، پس ناگہاں (ہو گیا) وہ جھگڑنے والا صریح (4) اور چوپائے بھی، اسی نے پیدا کیا ان کو، تمھارے لیے ان میں گرماؤ ہے او رکئی فائدے ہیں اور بعض ان میں سے تم کھاتے ہو (5) اور تمھارے لیے ان (چوپایوں ) میں رونق بھی ہے، جب شام کے وقت تم چرا کر لاتے ہواور جب صبح کے وقت تم چرانے لے جاتے ہو (6) اور وہ اٹھالے جاتے ہیں بوجھ تمھارے طرف اس شہر کی کہ نہیں تھے تم پہنچنے والے اس (شہر) کو مگر ساتھ (سخت) مشقت جسمانی کے، بلاشبہ تمھارا رب بہت ہی شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (7) اور (اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم سوار ہو ان پراورواسطے زینت کےاور وہ پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے (8) اور اوپر اللہ ہی کے (پہنچتی) ہے سیدھی راہ اور کچھ ان (راہوں ) میں سے ٹیڑھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ہدایت دیتا تم کو سب کو (9)

[3] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لیے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کے شرک سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ تَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾ ’’یہ لوگ جو شریک بناتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے جس کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور سے محبت اور کسی اور کے سامنے عاجزی کا اظہار مناسب نہیں ۔

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ فرمایا:﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا‘‘ اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشوونما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بے شمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہو گئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہو گیا۔ فرمایا: ﴿ فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’پھر جبھی ہو گیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔‘‘ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اس کا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کر دیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا۔ اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔

[5]﴿ وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَهَا﴾ ’’اور چوپایوں کو بھی اس نے تمھارے لیے پیدا کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو تمھاری خاطر، تمھارے فوائد اور مصالح کی خاطر تخلیق فرمایا۔ ان کے جملہ بڑے بڑے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا دِفۡءٌ ﴾ ’’ان میں تمھارے لیے گرمی ہے‘‘ جو تم ان کی صوف، ان کی پشم، ان کے بالوں سے لباس، بچھونے اور خیمے بنا کر حاصل کرتے ہو۔ ﴿ وَّمَنَافِعُ ﴾ اس کے علاوہ تمھارے لیے دیگر …

4

خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِن نُّطْفَةٍۢ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌۭ مُّبِينٌۭ

اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا

اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ برتر ہے ان سے جو وہ (اس کے) شریک ٹھہراتے ہیں (3) اس نے پیدا کیا انسان کو نطفے سے، پس ناگہاں (ہو گیا) وہ جھگڑنے والا صریح (4) اور چوپائے بھی، اسی نے پیدا کیا ان کو، تمھارے لیے ان میں گرماؤ ہے او رکئی فائدے ہیں اور بعض ان میں سے تم کھاتے ہو (5) اور تمھارے لیے ان (چوپایوں ) میں رونق بھی ہے، جب شام کے وقت تم چرا کر لاتے ہواور جب صبح کے وقت تم چرانے لے جاتے ہو (6) اور وہ اٹھالے جاتے ہیں بوجھ تمھارے طرف اس شہر کی کہ نہیں تھے تم پہنچنے والے اس (شہر) کو مگر ساتھ (سخت) مشقت جسمانی کے، بلاشبہ تمھارا رب بہت ہی شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (7) اور (اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم سوار ہو ان پراورواسطے زینت کےاور وہ پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے (8) اور اوپر اللہ ہی کے (پہنچتی) ہے سیدھی راہ اور کچھ ان (راہوں ) میں سے ٹیڑھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ہدایت دیتا تم کو سب کو (9)

[3] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لیے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کے شرک سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ تَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾ ’’یہ لوگ جو شریک بناتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے جس کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور سے محبت اور کسی اور کے سامنے عاجزی کا اظہار مناسب نہیں ۔

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ فرمایا:﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا‘‘ اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشوونما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بے شمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہو گئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہو گیا۔ فرمایا: ﴿ فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’پھر جبھی ہو گیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔‘‘ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اس کا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کر دیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا۔ اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔

[5]﴿ وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَهَا﴾ ’’اور چوپایوں کو بھی اس نے تمھارے لیے پیدا کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو تمھاری خاطر، تمھارے فوائد اور مصالح کی خاطر تخلیق فرمایا۔ ان کے جملہ بڑے بڑے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا دِفۡءٌ ﴾ ’’ان میں تمھارے لیے گرمی ہے‘‘ جو تم ان کی صوف، ان کی پشم، ان کے بالوں سے لباس، بچھونے اور خیمے بنا کر حاصل کرتے ہو۔ ﴿ وَّمَنَافِعُ ﴾ اس کے علاوہ تمھارے لیے دیگر …

5

وَٱلْأَنْعَٰمَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌۭ وَمَنَٰفِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ

اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو

اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ برتر ہے ان سے جو وہ (اس کے) شریک ٹھہراتے ہیں (3) اس نے پیدا کیا انسان کو نطفے سے، پس ناگہاں (ہو گیا) وہ جھگڑنے والا صریح (4) اور چوپائے بھی، اسی نے پیدا کیا ان کو، تمھارے لیے ان میں گرماؤ ہے او رکئی فائدے ہیں اور بعض ان میں سے تم کھاتے ہو (5) اور تمھارے لیے ان (چوپایوں ) میں رونق بھی ہے، جب شام کے وقت تم چرا کر لاتے ہواور جب صبح کے وقت تم چرانے لے جاتے ہو (6) اور وہ اٹھالے جاتے ہیں بوجھ تمھارے طرف اس شہر کی کہ نہیں تھے تم پہنچنے والے اس (شہر) کو مگر ساتھ (سخت) مشقت جسمانی کے، بلاشبہ تمھارا رب بہت ہی شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (7) اور (اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم سوار ہو ان پراورواسطے زینت کےاور وہ پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے (8) اور اوپر اللہ ہی کے (پہنچتی) ہے سیدھی راہ اور کچھ ان (راہوں ) میں سے ٹیڑھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ہدایت دیتا تم کو سب کو (9)

[3] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لیے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کے شرک سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ تَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾ ’’یہ لوگ جو شریک بناتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے جس کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور سے محبت اور کسی اور کے سامنے عاجزی کا اظہار مناسب نہیں ۔

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ فرمایا:﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا‘‘ اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشوونما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بے شمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہو گئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہو گیا۔ فرمایا: ﴿ فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’پھر جبھی ہو گیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔‘‘ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اس کا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کر دیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا۔ اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔

[5]﴿ وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَهَا﴾ ’’اور چوپایوں کو بھی اس نے تمھارے لیے پیدا کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو تمھاری خاطر، تمھارے فوائد اور مصالح کی خاطر تخلیق فرمایا۔ ان کے جملہ بڑے بڑے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا دِفۡءٌ ﴾ ’’ان میں تمھارے لیے گرمی ہے‘‘ جو تم ان کی صوف، ان کی پشم، ان کے بالوں سے لباس، بچھونے اور خیمے بنا کر حاصل کرتے ہو۔ ﴿ وَّمَنَافِعُ ﴾ اس کے علاوہ تمھارے لیے دیگر …

6

وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ

اور جب شام کو انہیں (جنگل سے) لاتے ہو اور جب صبح کو (جنگل) چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے

اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ برتر ہے ان سے جو وہ (اس کے) شریک ٹھہراتے ہیں (3) اس نے پیدا کیا انسان کو نطفے سے، پس ناگہاں (ہو گیا) وہ جھگڑنے والا صریح (4) اور چوپائے بھی، اسی نے پیدا کیا ان کو، تمھارے لیے ان میں گرماؤ ہے او رکئی فائدے ہیں اور بعض ان میں سے تم کھاتے ہو (5) اور تمھارے لیے ان (چوپایوں ) میں رونق بھی ہے، جب شام کے وقت تم چرا کر لاتے ہواور جب صبح کے وقت تم چرانے لے جاتے ہو (6) اور وہ اٹھالے جاتے ہیں بوجھ تمھارے طرف اس شہر کی کہ نہیں تھے تم پہنچنے والے اس (شہر) کو مگر ساتھ (سخت) مشقت جسمانی کے، بلاشبہ تمھارا رب بہت ہی شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (7) اور (اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم سوار ہو ان پراورواسطے زینت کےاور وہ پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے (8) اور اوپر اللہ ہی کے (پہنچتی) ہے سیدھی راہ اور کچھ ان (راہوں ) میں سے ٹیڑھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ہدایت دیتا تم کو سب کو (9)

[3] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لیے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کے شرک سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ تَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾ ’’یہ لوگ جو شریک بناتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے جس کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور سے محبت اور کسی اور کے سامنے عاجزی کا اظہار مناسب نہیں ۔

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ فرمایا:﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا‘‘ اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشوونما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بے شمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہو گئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہو گیا۔ فرمایا: ﴿ فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’پھر جبھی ہو گیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔‘‘ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اس کا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کر دیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا۔ اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔

[5]﴿ وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَهَا﴾ ’’اور چوپایوں کو بھی اس نے تمھارے لیے پیدا کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو تمھاری خاطر، تمھارے فوائد اور مصالح کی خاطر تخلیق فرمایا۔ ان کے جملہ بڑے بڑے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا دِفۡءٌ ﴾ ’’ان میں تمھارے لیے گرمی ہے‘‘ جو تم ان کی صوف، ان کی پشم، ان کے بالوں سے لباس، بچھونے اور خیمے بنا کر حاصل کرتے ہو۔ ﴿ وَّمَنَافِعُ ﴾ اس کے علاوہ تمھارے لیے دیگر …

7

وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَىٰ بَلَدٍۢ لَّمْ تَكُونُوا۟ بَٰلِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ ٱلْأَنفُسِ ۚ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمتِ شاقّہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور مہربان ہے

اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ برتر ہے ان سے جو وہ (اس کے) شریک ٹھہراتے ہیں (3) اس نے پیدا کیا انسان کو نطفے سے، پس ناگہاں (ہو گیا) وہ جھگڑنے والا صریح (4) اور چوپائے بھی، اسی نے پیدا کیا ان کو، تمھارے لیے ان میں گرماؤ ہے او رکئی فائدے ہیں اور بعض ان میں سے تم کھاتے ہو (5) اور تمھارے لیے ان (چوپایوں ) میں رونق بھی ہے، جب شام کے وقت تم چرا کر لاتے ہواور جب صبح کے وقت تم چرانے لے جاتے ہو (6) اور وہ اٹھالے جاتے ہیں بوجھ تمھارے طرف اس شہر کی کہ نہیں تھے تم پہنچنے والے اس (شہر) کو مگر ساتھ (سخت) مشقت جسمانی کے، بلاشبہ تمھارا رب بہت ہی شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (7) اور (اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم سوار ہو ان پراورواسطے زینت کےاور وہ پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے (8) اور اوپر اللہ ہی کے (پہنچتی) ہے سیدھی راہ اور کچھ ان (راہوں ) میں سے ٹیڑھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ہدایت دیتا تم کو سب کو (9)

[3] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لیے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کے شرک سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ تَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾ ’’یہ لوگ جو شریک بناتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے جس کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور سے محبت اور کسی اور کے سامنے عاجزی کا اظہار مناسب نہیں ۔

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ فرمایا:﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا‘‘ اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشوونما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بے شمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہو گئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہو گیا۔ فرمایا: ﴿ فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’پھر جبھی ہو گیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔‘‘ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اس کا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کر دیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا۔ اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔

[5]﴿ وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَهَا﴾ ’’اور چوپایوں کو بھی اس نے تمھارے لیے پیدا کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو تمھاری خاطر، تمھارے فوائد اور مصالح کی خاطر تخلیق فرمایا۔ ان کے جملہ بڑے بڑے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا دِفۡءٌ ﴾ ’’ان میں تمھارے لیے گرمی ہے‘‘ جو تم ان کی صوف، ان کی پشم، ان کے بالوں سے لباس، بچھونے اور خیمے بنا کر حاصل کرتے ہو۔ ﴿ وَّمَنَافِعُ ﴾ اس کے علاوہ تمھارے لیے دیگر …

8

وَٱلْخَيْلَ وَٱلْبِغَالَ وَٱلْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةًۭ ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لیے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جن کی تم کو خبر نہیں

اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ برتر ہے ان سے جو وہ (اس کے) شریک ٹھہراتے ہیں (3) اس نے پیدا کیا انسان کو نطفے سے، پس ناگہاں (ہو گیا) وہ جھگڑنے والا صریح (4) اور چوپائے بھی، اسی نے پیدا کیا ان کو، تمھارے لیے ان میں گرماؤ ہے او رکئی فائدے ہیں اور بعض ان میں سے تم کھاتے ہو (5) اور تمھارے لیے ان (چوپایوں ) میں رونق بھی ہے، جب شام کے وقت تم چرا کر لاتے ہواور جب صبح کے وقت تم چرانے لے جاتے ہو (6) اور وہ اٹھالے جاتے ہیں بوجھ تمھارے طرف اس شہر کی کہ نہیں تھے تم پہنچنے والے اس (شہر) کو مگر ساتھ (سخت) مشقت جسمانی کے، بلاشبہ تمھارا رب بہت ہی شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (7) اور (اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم سوار ہو ان پراورواسطے زینت کےاور وہ پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے (8) اور اوپر اللہ ہی کے (پہنچتی) ہے سیدھی راہ اور کچھ ان (راہوں ) میں سے ٹیڑھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ہدایت دیتا تم کو سب کو (9)

[3] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لیے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کے شرک سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ تَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾ ’’یہ لوگ جو شریک بناتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے جس کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور سے محبت اور کسی اور کے سامنے عاجزی کا اظہار مناسب نہیں ۔

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ فرمایا:﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا‘‘ اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشوونما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بے شمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہو گئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہو گیا۔ فرمایا: ﴿ فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’پھر جبھی ہو گیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔‘‘ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اس کا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کر دیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا۔ اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔

[5]﴿ وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَهَا﴾ ’’اور چوپایوں کو بھی اس نے تمھارے لیے پیدا کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو تمھاری خاطر، تمھارے فوائد اور مصالح کی خاطر تخلیق فرمایا۔ ان کے جملہ بڑے بڑے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا دِفۡءٌ ﴾ ’’ان میں تمھارے لیے گرمی ہے‘‘ جو تم ان کی صوف، ان کی پشم، ان کے بالوں سے لباس، بچھونے اور خیمے بنا کر حاصل کرتے ہو۔ ﴿ وَّمَنَافِعُ ﴾ اس کے علاوہ تمھارے لیے دیگر …

9

وَعَلَى ٱللَّهِ قَصْدُ ٱلسَّبِيلِ وَمِنْهَا جَآئِرٌۭ ۚ وَلَوْ شَآءَ لَهَدَىٰكُمْ أَجْمَعِينَ

اور سیدھا رستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے۔ اور بعض رستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے رستے پر چلا دیتا

اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ برتر ہے ان سے جو وہ (اس کے) شریک ٹھہراتے ہیں (3) اس نے پیدا کیا انسان کو نطفے سے، پس ناگہاں (ہو گیا) وہ جھگڑنے والا صریح (4) اور چوپائے بھی، اسی نے پیدا کیا ان کو، تمھارے لیے ان میں گرماؤ ہے او رکئی فائدے ہیں اور بعض ان میں سے تم کھاتے ہو (5) اور تمھارے لیے ان (چوپایوں ) میں رونق بھی ہے، جب شام کے وقت تم چرا کر لاتے ہواور جب صبح کے وقت تم چرانے لے جاتے ہو (6) اور وہ اٹھالے جاتے ہیں بوجھ تمھارے طرف اس شہر کی کہ نہیں تھے تم پہنچنے والے اس (شہر) کو مگر ساتھ (سخت) مشقت جسمانی کے، بلاشبہ تمھارا رب بہت ہی شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (7) اور (اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم سوار ہو ان پراورواسطے زینت کےاور وہ پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے (8) اور اوپر اللہ ہی کے (پہنچتی) ہے سیدھی راہ اور کچھ ان (راہوں ) میں سے ٹیڑھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ہدایت دیتا تم کو سب کو (9)

[3] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لیے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کے شرک سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ تَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾ ’’یہ لوگ جو شریک بناتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے جس کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور سے محبت اور کسی اور کے سامنے عاجزی کا اظہار مناسب نہیں ۔

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ فرمایا:﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا‘‘ اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشوونما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بے شمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہو گئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہو گیا۔ فرمایا: ﴿ فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’پھر جبھی ہو گیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔‘‘ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اس کا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کر دیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا۔ اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔

[5]﴿ وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَهَا﴾ ’’اور چوپایوں کو بھی اس نے تمھارے لیے پیدا کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو تمھاری خاطر، تمھارے فوائد اور مصالح کی خاطر تخلیق فرمایا۔ ان کے جملہ بڑے بڑے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا دِفۡءٌ ﴾ ’’ان میں تمھارے لیے گرمی ہے‘‘ جو تم ان کی صوف، ان کی پشم، ان کے بالوں سے لباس، بچھونے اور خیمے بنا کر حاصل کرتے ہو۔ ﴿ وَّمَنَافِعُ ﴾ اس کے علاوہ تمھارے لیے دیگر …

10

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ ۖ لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌۭ وَمِنْهُ شَجَرٌۭ فِيهِ تُسِيمُونَ

وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو

وہی ہے جس نے نازل کیا آسمان سے پانی تمھارے لیے، اسی میں سے ہے پینااور اسی سے (ہوتے) ہیں درخت، ان میں تم چراتے ہو (جانور)(10) وہی اگاتا ہے تمھارے لیے ساتھ اس(پانی) کے کھیتی اور زیتون اور کھجور اورانگور اور ہر قسم کے پھل، بے شک اس میں (بڑی) نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں (11)

[11,10] اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں اپنی عظمت اور قدرت کے بارے میں انسان کو آگاہ فرماتا ہے اور ان آیات کے اختتام پر ﴿ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠﴾ ’’غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔‘‘ کہہ کر اپنی قدرت کاملہ پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دی ہے، جس نے اپنی قدرت کاملہ سے اس رقیق و لطیف بادل سے پانی برسایا، یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے بکثرت پانی نازل کیا جسے وہ خود پیتے ہیں ، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہیں اور اس سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں ، پس ان کھیتوں سے بے شمار پھل اوردیگر نعمتیں پیدا ہوتی ہیں ۔

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.