کیا پس وہ (اللہ) جو (سب کچھ) پیدا کرتا ہے، اس کی طرح ہے جو (کچھ بھی) پیدا نہیں کرتا؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (17) اور اگر گنو تم نعمتیں اللہ کی تو نہ گن سکو گے تم ان کو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (18) اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو (19) اوروہ لوگ جن کو وہ پکارتے ہیں سوائے اللہ کے، نہیں پیدا کر سکتے وہ کوئی چیز بھی جبکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں (20)(وہ) مردے ہیں ، نہیں ہیں زندہ اور نہیں شعور رکھتے وہ کہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (21) معبود تمھارا، معبود ایک ہی ہے، پس وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، ان کے دل ہی انکاری ہیں (توحید کے) اور وہ تکبر کرتے ہیں (22) یقینا بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا تکبر کرنے والوں کو (23)
[17] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمھیں لامحدود نعمتیں عطا کیں … فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ ہے نہ اس کی برابری کر سکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ يَّخۡلُقُ﴾ ’’پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے‘‘ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ ﴿ كَمَنۡ لَّا يَخۡلُقُ﴾ ’’اس ہستی کی مانند ہو سکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں ۔‘‘ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے‘‘ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلیق و تدبیر میں یکتا ہے اسی طرح وہ اپنی الوہیت، وحدانیت اور عبادت میں بھی یکتا ہے اور جس طرح اس وقت اس کا کوئی شریک نہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے تمھیں اور دیگر چیزوں کو پیدا کیا۔ پس اس کی عبادت میں اس کے ہم سر نہ بناؤ بلکہ دین کو اس کے لیے خالص رکھو۔
[18]﴿ وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اگر تم شمار کرو اللہ کی نعمتوں کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے شکر سے صرف نظر کرتے ہوئے، صرف تعداد کے اعتبار سے ﴿ لَا تُحۡصُوۡهَا ﴾ ’’تو تم ان کو شمار نہیں کر سکو گے‘‘ یعنی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو کجا تم ان کو شمار بھی نہیں کر سکتے اس لیے کہ ہر قسم کی ظاہری و باطنی نعمتیں ، جو اس نے سانسوں اور لحظوں کی تعداد میں بندوں پر کی ہیں ، جن میں سے کچھ کو وہ جانتے ہیں اور کچھ کو نہیں جانتے، اسی طرح جو تکلیفیں وہ ان سے دور فرماتا رہتا ہے، یہ سب اتنی زیادہ ہیں کہ حیطۂ شمار سے باہر ہیں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے‘‘ وہ معمولی سے شکر کو بھی قبول کر لیتا ہے باوجود اس بات کے کہ اس کے انعامات بہت زیادہ ہیں ۔
[20,19] اور جیسے اس کی رحمت بے پایاں ، اس کا جودوکرم لا محدود اور اس کی مغفرت تمام بندوں کو شامل ہے، ایسے ہی اس کا علم ان سب کو محیط ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘ اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے، وہ اس کے برعکس ہیں یعنی وہ کچھ نہیں جانتے۔ کیونکہ ﴿ لَا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’وہ (کم یا زیادہ) کچھ بھی تخلیق کرنے پر قادر نہیں ہیں‘‘ ﴿ وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَؔ﴾ ’’اور ان کو پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ یعنی حالت یہ ہے کہ خود ان کو پیدا کیا گیا ہے وہ ہستیاں جو خود اپنے وجود کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہوں وہ کیسے کوئی چیز پیدا کر سکتی ہیں۔
[22,21] اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام اوصاف کمال اور علم وغیرہ سے محروم ہیں ۔ ﴿ اَمۡوَاتٌ غَيۡرُ اَحۡيَآءٍ﴾ ’’وہ مردہ ہیں ، زندہ نہیں ‘‘ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ وہ کچھ عقل رکھتے ہیں ۔ کیا تم اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر ان کو خدا بناتے ہو؟ پس مشرکین …