زیور کے بارے میں حکم - قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات فروخت کرنے والا نہیں کہلائے گا۔ رہ گئی آیت تو اس میں یہ بھی ارشاد ہے (لتاکلوا منہ لحما طربا تاکہ تم اس سے تروتازہ گوشت لے کر کھائو) جبکہ اس مسئلے میں فقہاء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کہ اگر کسی نے گوشت نہ کھانے کی قسم کھائی ہو اور پھر مچھلی کھالے تو حانث نہیں ہوگا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو بھی تروتازہ گوشت کا نام دیا ہے۔