Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 121–128 of 128

121

شَاكِرًۭا لِّأَنْعُمِهِ ۚ ٱجْتَبَىٰهُ وَهَدَىٰهُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا

حضرت ابراہیم کو قرآن میں خداکے مطلوب انسان کے نمونہ کے طورپر پیش کیا گیاہے۔ وہ انسانوں كے ليے نمونہ كيسے بنے۔ اس لیے کہ وہ ماحول کے بگاڑ کے علی الرغم تنہا ایمان پر قائم ہونے والے انسان تھے۔ وہ اکیلے خداکے لیے کھڑے ہوئے جب کہ اس راہ میں کوئی ان کا ساتھ دینے والانہ تھا۔

حضرت ابراہیم پوری طرح اپنے آپ کو خدا کی پابندی میں دئے ہوئے تھے۔ انھوںنے عالم گیر مشرکانہ ماحول میں اپنے آپ کو توحید کے لیے یکسو کرلیا تھا۔ وہ تمام چیزوں کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھتے تھے اور ان کے لیے ان کا دل خدا کے شکر کے جذبہ سے بھرا رہتاتھا۔ حضرت ابراہیم کے اس کمالِ ایمان کی وجہ سے خدا نے ان پر اپنی ہدایت کی راہیں کھول دیں اور ان کو پیغمبری کے لیے چن لیا تاکہ وہ دنیا والوں کو خدا کے دین سے آگاہ کریں۔

حضرت ابراہیم کو دنیا کا حسنہ (بہتری) دی گئی اور آخرت کی بہتری بھی۔ یہ معلوم ہے کہ دنیا میں حضرت ابراہیم کو نہ عوام کی بھیڑ ملی، نہ اقتدار کا تخت، اور نہ اور کوئی دنیوی رونق کی چیز۔ اس کے باوجود قرآن کی یہ گواہی ہے کہ ان کو خدا کی طرف سے دنیا کی بہتری ملی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی نظر میں دنیا کی بہتری نہ عوامی مقبولیت کا نام ہے اور نہ دولت وحکومت کا۔ بلکہ دنیا کی بہتری خدا کی نظر میں اصلاً وہی چیزیں ہیں جن کو یہاں حضرت ابراہیم کی خصوصیات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

An-Nahl 16:121Listen in Qur'an →
122

وَءَاتَيْنَٰهُ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی۔ اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

حضرت ابراہیم کو قرآن میں خداکے مطلوب انسان کے نمونہ کے طورپر پیش کیا گیاہے۔ وہ انسانوں كے ليے نمونہ كيسے بنے۔ اس لیے کہ وہ ماحول کے بگاڑ کے علی الرغم تنہا ایمان پر قائم ہونے والے انسان تھے۔ وہ اکیلے خداکے لیے کھڑے ہوئے جب کہ اس راہ میں کوئی ان کا ساتھ دینے والانہ تھا۔

حضرت ابراہیم پوری طرح اپنے آپ کو خدا کی پابندی میں دئے ہوئے تھے۔ انھوںنے عالم گیر مشرکانہ ماحول میں اپنے آپ کو توحید کے لیے یکسو کرلیا تھا۔ وہ تمام چیزوں کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھتے تھے اور ان کے لیے ان کا دل خدا کے شکر کے جذبہ سے بھرا رہتاتھا۔ حضرت ابراہیم کے اس کمالِ ایمان کی وجہ سے خدا نے ان پر اپنی ہدایت کی راہیں کھول دیں اور ان کو پیغمبری کے لیے چن لیا تاکہ وہ دنیا والوں کو خدا کے دین سے آگاہ کریں۔

حضرت ابراہیم کو دنیا کا حسنہ (بہتری) دی گئی اور آخرت کی بہتری بھی۔ یہ معلوم ہے کہ دنیا میں حضرت ابراہیم کو نہ عوام کی بھیڑ ملی، نہ اقتدار کا تخت، اور نہ اور کوئی دنیوی رونق کی چیز۔ اس کے باوجود قرآن کی یہ گواہی ہے کہ ان کو خدا کی طرف سے دنیا کی بہتری ملی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی نظر میں دنیا کی بہتری نہ عوامی مقبولیت کا نام ہے اور نہ دولت وحکومت کا۔ بلکہ دنیا کی بہتری خدا کی نظر میں اصلاً وہی چیزیں ہیں جن کو یہاں حضرت ابراہیم کی خصوصیات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

An-Nahl 16:122Listen in Qur'an →
123

ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ ٱتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

حضرت ابراہیم کو قرآن میں خداکے مطلوب انسان کے نمونہ کے طورپر پیش کیا گیاہے۔ وہ انسانوں كے ليے نمونہ كيسے بنے۔ اس لیے کہ وہ ماحول کے بگاڑ کے علی الرغم تنہا ایمان پر قائم ہونے والے انسان تھے۔ وہ اکیلے خداکے لیے کھڑے ہوئے جب کہ اس راہ میں کوئی ان کا ساتھ دینے والانہ تھا۔

حضرت ابراہیم پوری طرح اپنے آپ کو خدا کی پابندی میں دئے ہوئے تھے۔ انھوںنے عالم گیر مشرکانہ ماحول میں اپنے آپ کو توحید کے لیے یکسو کرلیا تھا۔ وہ تمام چیزوں کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھتے تھے اور ان کے لیے ان کا دل خدا کے شکر کے جذبہ سے بھرا رہتاتھا۔ حضرت ابراہیم کے اس کمالِ ایمان کی وجہ سے خدا نے ان پر اپنی ہدایت کی راہیں کھول دیں اور ان کو پیغمبری کے لیے چن لیا تاکہ وہ دنیا والوں کو خدا کے دین سے آگاہ کریں۔

حضرت ابراہیم کو دنیا کا حسنہ (بہتری) دی گئی اور آخرت کی بہتری بھی۔ یہ معلوم ہے کہ دنیا میں حضرت ابراہیم کو نہ عوام کی بھیڑ ملی، نہ اقتدار کا تخت، اور نہ اور کوئی دنیوی رونق کی چیز۔ اس کے باوجود قرآن کی یہ گواہی ہے کہ ان کو خدا کی طرف سے دنیا کی بہتری ملی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی نظر میں دنیا کی بہتری نہ عوامی مقبولیت کا نام ہے اور نہ دولت وحکومت کا۔ بلکہ دنیا کی بہتری خدا کی نظر میں اصلاً وہی چیزیں ہیں جن کو یہاں حضرت ابراہیم کی خصوصیات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

An-Nahl 16:123Listen in Qur'an →
124

إِنَّمَا جُعِلَ ٱلسَّبْتُ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

ہفتے کا دن تو ان ہی لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے

ہفتہ کا ایک دن تمام شریعتوں میں اجتماعی عبادت کا دن رہاہے۔ یہود اس کو سنیچر (سبت) کے دن مناتے ہیں۔ عیسائی اتوار کے دن۔ اور مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ جمعہ کے دن اس کا اہتمام کریں۔

یہود کے بزرگوں نے موشگافیاں کرکے بطور خود سبت (sabbath) کے لیے نئے نئے ضوابط بنائے اور اپنے آپ کو مصنوعی پابندیوں میں جکڑ لیا۔ پھر جب ان پابندیوں پر عمل کرنا ان کو ناممکن معلوم ہوا تو اپنے بزرگوں کے تقدس کی وجہ سے وہ ان کو رد نہ کرسکے۔ البتہ عملی طورپر انھوںنے ان کے خلاف چلنا شروع کردیا۔

خداکے دین میں بعد کے عالموں اور بزرگوں نے اپنی تشریحات سے جو اختلافات پیدا کيے ان کا فیصلہ دنیا میں ہونے والا نہیں۔ مگر جب قیامت آئے گی تو خدا بتا دے گا کہ اصل آسمانی دین کیا تھا اور وہ کیا چیزیں تھیں جو لوگوں نے اپنی طرف سے اضافہ کرکے دین میں شامل کردیں۔

An-Nahl 16:124Listen in Qur'an →
125

ٱدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِ ۖ وَجَٰدِلْهُم بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ

(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے

دعوت کا عمل ایک ایسا عمل ہے جو انتہائی سنجیدگی اور خیر خواہی کے جذبہ کے تحت ابھرتاہے۔ خداکے سامنے جواب دہی کا احساس آدمی کو مجبور کرتاہے کہ وہ خدا کے بندوں کے سامنے داعی بن کر کھڑا ہو۔ وہ دوسروںکو اس لیے پکارتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے اگر میں نے ایسا نہ کیا تو میں قیامت کے دن پکڑا جاؤں گا۔ اس نفسیات کا قدرتی نتیجہ ہے کہ آدمی کا دعوتی عمل وہ انداز اختیار کرلیتاہے جس کو حکمت، موعظت حسنہ اور جدال احسن کہاگیاہے۔

حکمت سے مراد دلیل وبرہان ہے۔ کوئی دعوتی عمل اسی وقت حقیقی دعوتی عمل ہے جب کہ وہ ایسے دلائل کے ساتھ ہو جس میں مخاطب کے ذہن کی پوری رعایت شامل ہو۔ مخاطب کے نزدیک، کسی چیز کے ثابت شدہ چیز ہونے کی جوشرائط ہیں،ان شرائط کی تکمیل کے ساتھ جو کلام کیاجائے اسی کو یہاں حکمت کا کلام کہاگیا ہے۔ جس کلام میں مخاطب کی ذہنی وفکری رعایت شامل نہ ہو وہ غیر حکیمانہ کلام ہے۔ اور ایسا کلام کسی کو داعی کا مرتبہ نہیںدے سکتا۔

موعظتِ حسنہ اس خصوصیت کا نام ہے جو درد مندی اور خیر خواہی کی نفسیات سے کسی کے کلام میں پیدا ہوتی ہے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ خدا کے عظمت وجلال کے احساس سے اس کی شخصیت کے اندر بھونچال آگیا ہو جب وہ خدا کے بارے میں بولے گاتو یقینی طورپر اس کے کلام میں عظمتِ خداوندی کی بجلیاں چمک اٹھیں گی، جو داعی جنت اور جہنم کو دیکھ کر دوسروں کو اسے دکھانے کے لیے اٹھے، اس كے کلام میں یقینی طورپر جنت کی بہاریں اور جہنم کی ہولناکیاں گونجتی ہوئی نظر آئیںگی۔ ان چیزوں کی آمیزش داعی کے کلام کو ایسا بنا دے گی جو دلوں کو پگھلادے اور آنکھوں کو اشک بار کردے۔

دعوتی کلام کی ایجابی خصوصیات یہی دو ہیں— حکمت اور موعظت حسنہ۔ تاہم ہمیشہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو غیر ضروری بحثیں کرتے ہیں۔ جن کا مقصد الجھانا ہوتا ہے، نہ کہ سمجھنا سمجھانا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں مذکورہ قسم کا داعی جو انداز اختیار کرتا ہے، اسی کا نام جِدَال بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ہے۔ وہ ٹیڑھی بات کا جواب سیدھی بات سے دیتاہے، وہ سخت الفاظ سن کر بھی اپنی زبان سے نرم الفاظ نکالتا ہے۔ وہ الزام تراشی کے مقابلہ میںاستدلال اور تجزیہ کاانداز اختیار کرتا ہے۔ وہ اشتعال کے اسلوب کے جواب میں صبر کا اسلوب اختیار کرتا ہے۔

داعی حق کی نظر سامنے کے انسان کی طرف نہیں ہوتی بلکہ اس خدا کی طرف ہوتی ہے جو سب کے اوپر ہے۔ اس لیے وہ وہی بات کہتا ہے جو خداکے میزان میں حقیقی بات ٹھہرے، نہ کہ انسان کی میزان میں۔

An-Nahl 16:125Listen in Qur'an →
126

وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا۟ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِۦ ۖ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌۭ لِّلصَّٰبِرِينَ

اور اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی۔ اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے

یہاں داعی کا وہ کردار بتایا گیاہے جو مخالفین کے مقابلہ میں اس کو اختیار کرنا ہے۔ فرمایا کہ اگر مخالفین کی طرف سے ایسی تکلیف پہنچے جس کو تم برداشت نہ کرسکو تو تم کو اتنا ہی کرنے کی اجازت ہے جتنا تمھارے ساتھ کیا گیاہے۔ تاہم یہ اجازت صرف انسان کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے بطور رعایت ہے۔ ورنہ داعی کا اصل کردار تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی ہر تکلیف پر صبر کرے۔ وہ مدعوسے حساب چکانے کے بجائے ایسے تمام معاملات کو خداکے خانہ میں ڈال دے۔

مخاطب اگر حق کو نہ مانے۔ وہ اس کو مٹانے کے درپے ہو جائے تواس وقت داعی کو سب سے بڑی تدبیر جو کرنی ہے وہ صبر ہے۔ یعنی ردعمل کی نفسیات یا جوابی کارروائیوں سے بچتے ہوئے مثبت طورپر حق کا پیغام پہنچاتے رہنا۔ داعی کو اصلاً جو ثبوت دینا ہے وہ یہ کہ وہ فی الواقع اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ اس کے اندر وہ کردار پیدا ہوچکا ہے جو ا س وقت پیدا ہوتاہے جب کہ آدمی دنیا کے پردوں سے گزر کر خدا کو اس کی چھپی ہوئی عظمتوں کے ساتھ دیکھ لے۔ اگر داعی یہ ثبوت دے دے تو اس کے بعد بقیہ امور میں خدا اس کی طرف سے کافی ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد دعوت کے مخالفین کی کوئی تدبیر داعی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی، خواہ وہ تدبیر کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔

دنیا میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کی نگاہیں انسانوں میں اٹکی ہوئی ہوں۔ جن کو بس انسانوں کی کارروائیاں دکھائی دیتی ہوں۔ دوسرے وہ لوگ جن کی نگاہیں خدا میں اٹکی ہوئی ہوں۔ جو خدا کی طاقتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ پہلی قسم کے لوگ کبھی صبر پر قادر نہیں ہوسکتے۔ یہ صرف دوسری قسم کے انسان ہیں جن کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ شکایتوں اور تلخیوں کو سہہ لیں۔ اور جو کچھ خدا کی طرف سے ملنے والا ہے اس کی خاطر اس کو نظر انداز کردیں جو انسان کی طرف سے مل رہاہے۔

داعی کو جس طرح جوابی نفسیات سے پرہیز کرنا ہے اسی طرح اس کو جوابی کارروائی سے بھی اپنے آپ کو بچانا ہے۔ مخالفین کی سازشیں اور تدبیریں بظاہر ڈراتی ہیں کہ کہیں وہ دعوت اور داعی کو تہس نہس نہ کر ڈالیں۔ مگر داعی کو ہر حال میں خدا پر بھروسہ رکھنا ہے۔ اس کو یہ یقین رکھنا ہے کہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ اور وہ یقینا ً دعوت حق کا ساتھ دے کر باطل پرستوں کو ناکام بنا دے گا۔

An-Nahl 16:126Listen in Qur'an →
127

وَٱصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِٱللَّهِ ۚ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِى ضَيْقٍۢ مِّمَّا يَمْكُرُونَ

اور صبر ہی کرو اور تمہارا صبر بھی خدا ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بداندیشی کرتے ہیں اس سے تنگدل نہ ہو

یہاں داعی کا وہ کردار بتایا گیاہے جو مخالفین کے مقابلہ میں اس کو اختیار کرنا ہے۔ فرمایا کہ اگر مخالفین کی طرف سے ایسی تکلیف پہنچے جس کو تم برداشت نہ کرسکو تو تم کو اتنا ہی کرنے کی اجازت ہے جتنا تمھارے ساتھ کیا گیاہے۔ تاہم یہ اجازت صرف انسان کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے بطور رعایت ہے۔ ورنہ داعی کا اصل کردار تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی ہر تکلیف پر صبر کرے۔ وہ مدعوسے حساب چکانے کے بجائے ایسے تمام معاملات کو خداکے خانہ میں ڈال دے۔

مخاطب اگر حق کو نہ مانے۔ وہ اس کو مٹانے کے درپے ہو جائے تواس وقت داعی کو سب سے بڑی تدبیر جو کرنی ہے وہ صبر ہے۔ یعنی ردعمل کی نفسیات یا جوابی کارروائیوں سے بچتے ہوئے مثبت طورپر حق کا پیغام پہنچاتے رہنا۔ داعی کو اصلاً جو ثبوت دینا ہے وہ یہ کہ وہ فی الواقع اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ اس کے اندر وہ کردار پیدا ہوچکا ہے جو ا س وقت پیدا ہوتاہے جب کہ آدمی دنیا کے پردوں سے گزر کر خدا کو اس کی چھپی ہوئی عظمتوں کے ساتھ دیکھ لے۔ اگر داعی یہ ثبوت دے دے تو اس کے بعد بقیہ امور میں خدا اس کی طرف سے کافی ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد دعوت کے مخالفین کی کوئی تدبیر داعی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی، خواہ وہ تدبیر کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔

دنیا میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کی نگاہیں انسانوں میں اٹکی ہوئی ہوں۔ جن کو بس انسانوں کی کارروائیاں دکھائی دیتی ہوں۔ دوسرے وہ لوگ جن کی نگاہیں خدا میں اٹکی ہوئی ہوں۔ جو خدا کی طاقتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ پہلی قسم کے لوگ کبھی صبر پر قادر نہیں ہوسکتے۔ یہ صرف دوسری قسم کے انسان ہیں جن کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ شکایتوں اور تلخیوں کو سہہ لیں۔ اور جو کچھ خدا کی طرف سے ملنے والا ہے اس کی خاطر اس کو نظر انداز کردیں جو انسان کی طرف سے مل رہاہے۔

داعی کو جس طرح جوابی نفسیات سے پرہیز کرنا ہے اسی طرح اس کو جوابی کارروائی سے بھی اپنے آپ کو بچانا ہے۔ مخالفین کی سازشیں اور تدبیریں بظاہر ڈراتی ہیں کہ کہیں وہ دعوت اور داعی کو تہس نہس نہ کر ڈالیں۔ مگر داعی کو ہر حال میں خدا پر بھروسہ رکھنا ہے۔ اس کو یہ یقین رکھنا ہے کہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ اور وہ یقینا ً دعوت حق کا ساتھ دے کر باطل پرستوں کو ناکام بنا دے گا۔

An-Nahl 16:127Listen in Qur'an →
128

إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ

کچھ شک نہیں کہ جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکوکار ہیں خدا ان کا مددگار ہے

یہاں داعی کا وہ کردار بتایا گیاہے جو مخالفین کے مقابلہ میں اس کو اختیار کرنا ہے۔ فرمایا کہ اگر مخالفین کی طرف سے ایسی تکلیف پہنچے جس کو تم برداشت نہ کرسکو تو تم کو اتنا ہی کرنے کی اجازت ہے جتنا تمھارے ساتھ کیا گیاہے۔ تاہم یہ اجازت صرف انسان کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے بطور رعایت ہے۔ ورنہ داعی کا اصل کردار تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی ہر تکلیف پر صبر کرے۔ وہ مدعوسے حساب چکانے کے بجائے ایسے تمام معاملات کو خداکے خانہ میں ڈال دے۔

مخاطب اگر حق کو نہ مانے۔ وہ اس کو مٹانے کے درپے ہو جائے تواس وقت داعی کو سب سے بڑی تدبیر جو کرنی ہے وہ صبر ہے۔ یعنی ردعمل کی نفسیات یا جوابی کارروائیوں سے بچتے ہوئے مثبت طورپر حق کا پیغام پہنچاتے رہنا۔ داعی کو اصلاً جو ثبوت دینا ہے وہ یہ کہ وہ فی الواقع اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ اس کے اندر وہ کردار پیدا ہوچکا ہے جو ا س وقت پیدا ہوتاہے جب کہ آدمی دنیا کے پردوں سے گزر کر خدا کو اس کی چھپی ہوئی عظمتوں کے ساتھ دیکھ لے۔ اگر داعی یہ ثبوت دے دے تو اس کے بعد بقیہ امور میں خدا اس کی طرف سے کافی ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد دعوت کے مخالفین کی کوئی تدبیر داعی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی، خواہ وہ تدبیر کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔

دنیا میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کی نگاہیں انسانوں میں اٹکی ہوئی ہوں۔ جن کو بس انسانوں کی کارروائیاں دکھائی دیتی ہوں۔ دوسرے وہ لوگ جن کی نگاہیں خدا میں اٹکی ہوئی ہوں۔ جو خدا کی طاقتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ پہلی قسم کے لوگ کبھی صبر پر قادر نہیں ہوسکتے۔ یہ صرف دوسری قسم کے انسان ہیں جن کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ شکایتوں اور تلخیوں کو سہہ لیں۔ اور جو کچھ خدا کی طرف سے ملنے والا ہے اس کی خاطر اس کو نظر انداز کردیں جو انسان کی طرف سے مل رہاہے۔

داعی کو جس طرح جوابی نفسیات سے پرہیز کرنا ہے اسی طرح اس کو جوابی کارروائی سے بھی اپنے آپ کو بچانا ہے۔ مخالفین کی سازشیں اور تدبیریں بظاہر ڈراتی ہیں کہ کہیں وہ دعوت اور داعی کو تہس نہس نہ کر ڈالیں۔ مگر داعی کو ہر حال میں خدا پر بھروسہ رکھنا ہے۔ اس کو یہ یقین رکھنا ہے کہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ اور وہ یقینا ً دعوت حق کا ساتھ دے کر باطل پرستوں کو ناکام بنا دے گا۔

An-Nahl 16:128Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.