شَاكِرًۭا لِّأَنْعُمِهِ ۚ ٱجْتَبَىٰهُ وَهَدَىٰهُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ
اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا
Explained together with ayah 106
سُورَةُ النَّحۡلِ
Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr
Ayahs 121–128 of 128
شَاكِرًۭا لِّأَنْعُمِهِ ۚ ٱجْتَبَىٰهُ وَهَدَىٰهُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ
اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا
Explained together with ayah 106
وَءَاتَيْنَٰهُ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ
اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی۔ اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے
Explained together with ayah 106
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ ٱتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
Explained together with ayah 106
إِنَّمَا جُعِلَ ٱلسَّبْتُ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
ہفتے کا دن تو ان ہی لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے
Explained together with ayah 106
ٱدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِ ۖ وَجَٰدِلْهُم بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ
(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے
Explained together with ayah 106
وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا۟ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِۦ ۖ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌۭ لِّلصَّٰبِرِينَ
اور اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی۔ اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے
ظلم و زیادتی کا بدلہ کتنا لیا جائے ؟- قول باری ہے (وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتھم لھو خیر للصابرین اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے) شعبی، قتادہ اور عطاء بن یسار سے مروی ہے رجب مشرکین نے احد میں شہید ہونے والے مسلمانوں کا مثلہ کیا تو مسلمانوں نے یہ کہا اگر ہمیں اللہ تعالیٰ ان مشرکین پر غلبہ عطا کرے گا تو ہم اس سے بڑھ کر ان کا مثلہ کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مجاہد اور ابن سیرین کا قول ہے کہ آیت ہر اس شخص کے بارے میں ہے جو غصے کی حالت میں یا کسی اور وجہ کی بنا پر ظلم و زیادتی کر بیٹھے۔ اس سے صرف اتنا ہی بدلہ لیا جائے گا جتنا اس نے ظلم کیا ہوگا۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک کسی سبب کے پس منظر میں آیت کا نزول ان تمام صورتوں میں اس کے عموم کے اعتبار سے مانع نہیں ہوتا جو آیت کے الفاظ کے دائرے میں آتی ہوں۔ اس لئے آیت کو ان تمام صورتوں کے لئے استعمال کرنا واجب ہے جو آیت کے مقتضیٰ کے تحت آتی ہیں چناچہ جو شخص کسی کو قتل کرے گا اس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے گا جو شخص کسی کو زخمی کرے گا اسے بھی اسی طرح زخمی کردیا جائے گا۔ اگر کسی نے کسی کا پہلے ہاتھ کاٹا ہو اور پھر قتل کردیا ہو تو مقتول کے دلی کو یہ حق ہوگا کہ پہلے اس کا ہاتھ کاٹے اور پھر قتل کر دے۔- آیت کا اقتضاء یہ بھی ہے کہ کسی شخص نے اگر کسی کا پتھر سے سر کچل کر ہلاک کردیا ہو یا ٹکٹکی پر باندھ کر تیر برسا کر اسے قتل کردیا ہو تو قاتل کو تلوار مار کر قتل کردیا جائے گا اس لئے کہ اسے بدلے کے طور پر اس صورت میں قتل کرنا ممکن نہیں جس صورت میں اس نے مقتول کی جان لی تھی کیونکہ ہمیں اس امر کا پوری طرح علم نہیں ہتا کہ قاتل نے مقتول کو کتنی ضربات لگائی تھیں اور مقتول کو کس قدر تکلیف برداشت کرنی پڑی تھی۔ ہمارے لئے تو صرف یہ ممکن ہے کہ تلوار کے ذریعے قاتل کی جان لے کر مقتول کے قتل کا بدلہ لے لیا جائے۔ اس لئے اس صورت میں آیت کے حکم پر اسی طریقے سے عمل پیرا ہونا واجب ہوگا۔ اس میں پہلا طریقہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ آیت کی اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ اگر کسی نے کسی کا مال استعمال میں لا کر ختم کردیا ہو تو اس پر اس کا مثل واجب ہوگا۔ اگر کوئی شخص کسی شخص کا س اگر ان (ایک قسم کی مضبوط لکڑی) غصب کر کے اسے اپنے مکان میں لگا دے یا گندم غصب کر کے اسے پیس لے ، تو ان دونوں صورتوں میں ان کا مثل اس پر واجب ہوگا۔ اس لئے کہ گندم میں کیلی یعنی ناپ کے ذریعے مثل کا حصول ممکن ہے اور لکڑی میں اس کی قیمت کے ذریعے مثل حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس پر آیت کی دلالت موجود ہے۔ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ قاتل اور مجرم کو معاف کردینا قصاص لینے سے افضل ہے چناچہ ارشاد ہے (ولئن صبر تم لھو خیر للصابرین)
وَٱصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِٱللَّهِ ۚ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِى ضَيْقٍۢ مِّمَّا يَمْكُرُونَ
اور صبر ہی کرو اور تمہارا صبر بھی خدا ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بداندیشی کرتے ہیں اس سے تنگدل نہ ہو
Explained together with ayah 126
إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ
کچھ شک نہیں کہ جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکوکار ہیں خدا ان کا مددگار ہے
Explained together with ayah 126
Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.