Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 121–128 of 128

121

شَاكِرًۭا لِّأَنْعُمِهِ ۚ ٱجْتَبَىٰهُ وَهَدَىٰهُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ : شکر نعمت زبان سے بھی ہوتا ہے اور عمل سے بھی۔ اللہ تعالیٰ نے شہادت دی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے شکر نعمت، اس کے احکام کی اطاعت، اس کے امتحانات میں کامیابی اور اس کے حقوق کی ادائیگی سب کو پورا کردیا، چناچہ فرمایا : (ۙوَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ ) [ النجم : ٣٧ ] ” اور ابراہیم جس نے پورا حق ادا کردیا۔ “ اور دیکھیے سورة بقرہ (١٢٤) ۔

An-Nahl 16:121Listen in Qur'an →
122

وَءَاتَيْنَٰهُ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی۔ اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

وَاٰتَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا حَسَـنَةً : یعنی دنیا میں حیات طیبہ کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ انھیں عطا فرمائیں، مثلاً دین حق کی ہدایت، نبوت کی نعمت، صالح اولاد، سیرت حسنہ، وافر مال و دولت اور سچی ناموری وغیرہ۔ - وَاِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ : خود ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی : (وَّاَلْـحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ ) [ الشعراء : ٨٣ ] ” مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے۔ “ یوسف (علیہ السلام) نے بھی یہی دعا کی تھی : (تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ ) [ یوسف : ١٠١ ] ” مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ “- 3 معلوم ہوا کہ نیک ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، مگر قیامت کو صالحین کا ساتھ ملنا ایک مزید نعمت ہے، اس لیے ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دنیا سے رخصت ہوتے وقت آخری الفاظ یہی تھے : ( اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَأَلْحِقْنِيْ بالرَّفِیْقِ الْأَعْلٰی ) [ ترمذی، أبواب الدعوات، باب : ٣٤٩٦۔ ابن ماجہ : ١٦١٩۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ٦؍٦٤١، ٦٤٢، ح : ٢٧٧٥ ] ” اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھے سب سے اونچے ساتھی کے ساتھ ملا دے۔ “

An-Nahl 16:122Listen in Qur'an →
123

ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ ٱتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

ثُمَّ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ ۔۔ : یعنی حلال و حرام اور دین سے متعلق تمام معاملات میں اصل نہ یہودیت ہے، نہ نصرانیت ہے اور نہ شرک کہ جس کا ارتکاب یہ کفار مکہ کر رہے ہیں، بلکہ اصل ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ہے جو خالص توحید سے عبارت تھی اور اس میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو بعد میں یہودیوں پر ان کی شرارت کی وجہ سے حرام کردی گئیں، اس لیے آپ کے لیے پیروی کے لائق اگر کوئی ملت ہے تو وہ صرف ملت ابراہیمی ہے۔ (ابن کثیر)- لفظ ” ثُمَّ “ یہاں حقیقی ترتیب کے لیے نہیں بلکہ ترتیب ذکری کے لیے ہے اور آخر میں ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل میں سے یہ ایک بہت بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی ان فضائل کے ساتھ پھر ابراہیم (علیہ السلام) کی اس فضیلت کو دیکھو کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (جو اگرچہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں، مگر ساری اولاد آدم کے سردار ہیں) کو بھی یہی حکم دیا گیا کہ آپ نے ملت ابراہیم کی پیروی کرنی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ملت ابراہیم کے پیروکار ہونے میں جہاں ابراہیم (علیہ السلام) کی فضیلت ظاہر ہے وہیں ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت بھی ظاہر ہے کہ آپ کو ملت ابراہیم کی پیروی کا حکم ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے باعث فضیلت ٹھہرا۔

An-Nahl 16:123Listen in Qur'an →
124

إِنَّمَا جُعِلَ ٱلسَّبْتُ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

ہفتے کا دن تو ان ہی لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ ۔۔ : یعنی ہفتے کے دن کی تعظیم جیسے ملت اسلام میں نہیں ہے، ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی نہ تھی۔ یہ دن تو بعد میں صرف ان لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا تھا جنھوں نے اس میں اختلاف کیا تھا، اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر جمعہ کے دن کی تعظیم واجب کی تھی، مگر انھوں نے اس میں اختلاف کرکے ہفتے کا دن مقرر کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی دن کی تعظیم فرض کردی کہ اس میں شکار مت کرو۔ اس کی تائید ابوہریرہ (رض) کی روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، بَیْدَ أَنَّھُمْ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، ثُمَّ ھٰذَا یَوْمُھُمُ الَّذِیْ فُرِضَ عَلَیْھِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ فَھَدَانَا اللّٰہُ فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ، الْیَھُوْدُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ ) [ بخاری، الجمعۃ، باب فرض الجمعۃ : ٨٧٦ ] ” ہم سب سے بعد میں آنے والے ہیں، جو قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، باوجود اس کے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی، پھر یہ ان کا دن جو ان پر فرض کیا گیا تو انھوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس (جمعہ کے دن) کی ہدایت دی، سو لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں، یہودی ہم سے بعد والے دن اور عیسائی اس سے بھی اگلے دن۔ “ صحیح مسلم کی حدیث میں اس فرض کردہ دن کی تعیین موجود ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا جس سے اختلاف کرکے یہود نے ہفتہ اور نصاریٰ نے اتوار مقرر کرلیا۔ [ دیکھیے مسلم، الجمعۃ، باب - ہدایۃ ھذہ الأمۃ لیوم الجمعۃ : ٨٥٥ ]

An-Nahl 16:124Listen in Qur'an →
125

ٱدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِ ۖ وَجَٰدِلْهُم بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ

(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ : ” اُدْعُ “ کا مفعول یہاں مذکور نہیں کہ کسے دعوت دے، اس لیے مراد عام ہوگا، یعنی غیر مسلم اور مسلم سب کو دعوت دے۔ یا اسے فعل لازم کے قائم مقام قرار دیا جائے، اس وقت مراد یہ ہوگی کہ ہمیشہ دعوت دیتا رہ۔ رب کے راستے سے مراد اسلام اور اس کی تفصیلات ہیں۔ ” بِالْحِكْمَةِ “ ” حِکْمَۃٌ“ کا لفظ موقع کے مطابق کئی چیزوں پر بولا جاتا ہے، چناچہ قاموس میں اس کے یہ معانی لکھے ہیں :” اَلْعَدْلُ وَالْعِلْمُ وَالْحِلْمُ وَالنُّبُوَّۃُ وَالْقُرْآنُ وَالإِْنْجِیْلُ “ اور لکھا ہے کہ ” أَحْکَمَہُ “ کا معنی ” أَتْقَنَہُ “ ہے، یعنی اس نے اسے خوب پختہ اور مضبوط کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف دعوت دو چیزوں سے خالی نہیں ہونی چاہیے، ان میں سے ایک حکمت ہے، یعنی ایسی محکم اور پختہ دلیل جو حقیقت کے عین مطابق ہو، جس میں کوئی غلطی نہ ہو اور مخاطب کے نزدیک بھی مسلم ہو، خواہ وہ عناد کی وجہ سے اسے نہ مانے۔ اسے برہان بھی کہتے ہیں : (قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ) [ البقرۃ : ١١١ ] ” کہہ دے لاؤ اپنی دلیل، اگر تم سچے ہو۔ “ اس لیے حکمت کو دلیل برہانی کہتے ہیں۔ - وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ : ” اچھی نصیحت “ سے مراد ایسی بات ہے جو مخاطب کے دل کو نیکی کے عمل کے لیے نرم کرے، یا بدی کے خلاف ابھار دے، ترغیب کے ذریعے سے یا ترہیب (ڈرانے) کے ساتھ، جیسا کہ فرمایا : (ۤ فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَعِظْھُمْ وَقُلْ لَّھُمْ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا) [ النساء : ٦٣ ] ” سو تو ان سے دھیان ہٹا لے اور انھیں وعظ (نصیحت) کر اور ان سے ایسی بات کہہ جو ان کے دلوں میں بہت اثر کرنے والی ہو۔ “ اسے دلیل خطابی کہتے ہیں۔ دعوت کے اس اسلوب میں حسن و خوبی اور نرمی و ملائمت کو ملحوظ رکھنا اور بدزبانی و سخت کلامی سے پرہیز لازم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا تو حکم دیا : ( فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى ) [ طٰہٰ : ٤٤ ] ” پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے۔ “ - وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ : دعوت کے دوران میں اگر حکمت اور موعظۂ حسنہ کے باوجود مخاطب بحث اور مجادلے (جھگڑے) پر اتر آئیں تو آپ بھی ان سے مجادلہ کریں، کیونکہ پھر اس کے بغیر چارہ نہیں، مگر یہ ہر حال میں احسن (زیادہ اچھا) ہونا چاہیے۔ کس سے احسن ؟ جواب یہ ہے کہ سب سے بہتر یا کم از کم ان کے مجادلے سے بہتر طریقے کے ساتھ ہو، کیونکہ باب مفاعلہ میں دو فریق ہوتے ہیں، یہاں ایک تم ہو اور ایک وہ، اس لیے احسن کا مطلب یہ ہوگا ان کے طریقے سے بہتر، جس میں گالی گلوچ اور ذاتی حملے وغیرہ نہ ہوں، بلکہ ایسی بات ہو جس سے وہ لاجواب ہوجائیں۔ انبیاء اور ان کے حقیقی وارث علماء کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے خاص طور پر نوازتا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی والد کو حکمت اور موعظۂ حسنہ کے ساتھ دعوت (دیکھیے مریم : ٤٢) ، پھر بت توڑ کر بت پرستوں کے ساتھ بحث میں ان کو لاجواب کرنا (دیکھیے انبیاء : ٥١ تا ٦٨) ، پھر سورج، چاند اور ستاروں کے پوجنے والوں کو بحث میں لاجواب کرنا (دیکھیے انعام : ٧٦ تا ٨٣) ، پھر بادشاہ وقت کو رب ہونے کے دعویٰ میں لاجواب کرنا (دیکھیے بقرہ : ٢٥٨) اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کا مجادلہ و بحث میں لاجواب ہو کر عذاب لانے کا مطالبہ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ (دیکھیے ہود : ٣٢) موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے مکالمے بھی اس کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ قرآن مجید مشرکین اور اہل کتاب سے مجادلۂ احسن پر مشتمل آیات سے بھرا پڑا ہے، بلکہ یہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں سے ایک ہے۔ دیکھیے ” الفوز الکبیر “ از شاہ ولی اللہ۔ - بعض لوگوں نے کہا کہ اس قسم کی آیات مکی سورتوں میں ہیں، اس لیے یہ …

An-Nahl 16:125Listen in Qur'an →
126

وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا۟ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِۦ ۖ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌۭ لِّلصَّٰبِرِينَ

اور اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی۔ اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے

وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ : واؤ عطف سے معلوم ہوا کہ اس کا تعلق پچھلی آیت سے ہے کہ اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو بدلے میں اتنی زیادتی تم بھی کرو۔ اس آیت سے دو مسئلے واضح طور پر ثابت ہوتے ہیں، ایک یہ کہ قتل وغیرہ کا قصاص اسی طریقے سے لینا جس طریقے سے قاتل نے قتل کیا ہے، جائز ہے اور اس کی تائید اس یہودی سے قصاص والی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس نے ایک بچی کا سر دو پتھروں میں کچل دیا تھا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بھی اسی طرح قتل کرنے کا حکم دیا۔ [ دیکھیے مسلم، القسامۃ والمحاربین، باب ثبوت القصاص فی القتل۔۔ : ١٧؍١٦٧٢ ] اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے آپ کے چرواہوں کو قتل کرنے والے اور اونٹنیاں لے جانے والے مجرموں کو بھی قصاص میں اسی طرح آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں، جیسا کہ انھوں نے کیا تھا۔ [ دیکھیے بخاری، الحدود، باب المحاربین من أہل الکفر و الردۃ : ٦٨٠٢ ] اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ظالم کے ظلم کے برابر بدلہ جائز ہے زیادہ نہیں، فرمایا : (فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ) [ البقرۃ : ١٩٤ ] ” پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو، اس کی مثل جو اس نے زیادتی کی۔ “ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو مثلہ کرنے سے منع فرمایا اس سے مراد قصاص کے علاوہ صورتیں ہیں اور ابن ماجہ کی روایت (٢٦٦٧) ( لَا قَوَدَ إِلاَّ بالسَّیْفِ ) (قصاص تلوار کے سوا جائز نہیں) ثابت نہیں، بلکہ ضعیف ہے، تفصیلی بحث ارواء الغلیل (٧؍٢٨٥، ٢٨٩، ح : ٢٢٢٩) میں ملاحظہ فرمائیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی کے مال میں خیانت کرے، یا اس کا مال یا کوئی چیز لے کر واپس نہ دے، پھر مظلوم کو اس کا مال یا کوئی چیز ہاتھ آجائے، یا وہ اس کے پاس امانت رکھے تو اسے اپنے مال کے برابر اس میں سے رکھ لینا جائز ہے۔ امام بخاری (رض) نے ” کِتَابُ الْمَظَالِمِ “ میں ” بَابُ قِصَاصِ الْمَظْلُوْمِ إِذَا وَجَدَ مَالَ ظَالِمِہِ “ (مظلوم کا قصاص لینا جب اسے اس پر ظلم کرنے والے کا مال مل جائے) میں اسی آیت سے ابن سیرین (رح) کا یہ استدلال نقل فرمایا ہے اور مزید احادیث سے اسے مدلل کیا ہے۔ بعض لوگ ایک روایت کی بنا پر اسے منع کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَدِّ الْأَمَانَۃَ إِلٰی مَنِ اءْتَمَنَکَ وَلاَ تَخُنْ مَنْ خَانَکَ ) [ أبوداوٗد، البیوع، باب في الرجل یأخذ حقہ من تحت یدہ : ٣٥٣٥ ] ” جو شخص تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمہاری خیانت کرے اس کی خیانت مت کرو۔ “ اگرچہ اس حدیث پر کلام ہے، مگر صحیح ماننے کی صورت میں بھی اپنا مال واپس لینے کو خیانت نہیں کہا جاسکتا۔ حافظ ابن حزم (رض) نے ” المحلٰی “ کی ” کتاب التفلیس “ کے آخر میں اس مسئلہ پر نہایت عمدہ بحث تحریر فرمائی ہے، جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔- وَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ : کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم سے انھیں ان کا بدلہ خود لے کر دے گا اور اپنے ہاں سے انھیں صبر کا اجر عظیم عطا فرمائے گا، اللہ نے فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ 39؀ وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ ) [ الشوری : ٣٩، ٤٠ ] ” اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی واقع ہوتی ہے وہ بدلہ لیتے ہیں۔ اور کسی برائی کا بدلہ اس کی مثل ایک برائی ہے، پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، بیشک وہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔ “ صحیح بخاری میں ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ (صحابہ کرام) ذلت قبول کرنے کو ناپسند کرتے تھے، مگر جب قدرت پالیتے تو معاف کردیتے تھے۔ [ دیکھیے بخاری،- …

An-Nahl 16:126Listen in Qur'an →
127

وَٱصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِٱللَّهِ ۚ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِى ضَيْقٍۢ مِّمَّا يَمْكُرُونَ

اور صبر ہی کرو اور تمہارا صبر بھی خدا ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بداندیشی کرتے ہیں اس سے تنگدل نہ ہو

وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا باللّٰهِ : آخر میں پھر صبر کا حکم دیا، ساتھ ہی متنبہ فرمایا کہ اگر صبر جیسا مشکل اور عظیم کام کرلو تو اسے اپنا کمال مت سمجھنا، بلکہ یقین رکھنا کہ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ممکن ہوا، تمہیں اس کا فائدہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ اللہ کی نعمت سے غافل نہ ہو، اس کے سامنے عاجز و منکسر رہو اور ہر وقت اس سے دعا کرتے رہو۔ - وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ ۔۔ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے پر اتنا غم ہوتا کہ شاید اپنی جان گھلا لیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ نہ آپ ان پر غم کریں اور نہ ان کی سازشوں سے دل تنگ ہوں۔ ” ضَيْقٍ “ اور ” ضِیْقٌ“ دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ دیکھیے سورة شعراء (٣) اور سورة کہف (٦) ۔

An-Nahl 16:127Listen in Qur'an →
128

إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ

کچھ شک نہیں کہ جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکوکار ہیں خدا ان کا مددگار ہے

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۔۔ : یعنی دل تنگ وہ ہو جس کا کوئی ساتھی و مددگار نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تو ہر متقی اور محسن کا ساتھی اور مددگار ہے اور آپ اللہ کے فضل سے تمام متقی اور محسن لوگوں کے سردار ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ ) [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة بني إسرائیل : ٣١٤٨، و صححہ الألباني ] ” میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔ “ پھر آپ دل تنگ کیوں ہوں ؟ احسان کی تفصیل کے دیکھیے سورة نحل کی آیت (٩٠) ، احسان کا مقام تقویٰ سے اونچا ہے۔ - معیت (ساتھ) دو قسم کی ہے، ایک معیت عامہ، یہ ہر شخص بلکہ ہر مخلوق کو حاصل ہے اور اس کے بغیر کوئی چیز باقی نہیں رہ سکتی، فرمایا : (وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ) [ الحدید : ٤ ] ” اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو۔ “ ایک معیت خاصہ ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے فرمایا : (لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ) [ التوبۃ : ٤٠ ] ” غم نہ کر بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ “ اور جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : ( كَلَّا ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ ) [ الشعراء : ٦٢ ] ” ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔ “ یہ خاص معیت ہے، یعنی ہمارا مددگار ہے۔ اس آیت میں معیت خاصہ مراد ہے۔

An-Nahl 16:128Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.