Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 121–128 of 128

121

شَاكِرًۭا لِّأَنْعُمِهِ ۚ ٱجْتَبَىٰهُ وَهَدَىٰهُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا

[١٢٤] سیدنا ابراہیم کو اللہ نے نبوت عطا فرمائی اور پاکیزہ رزق بھی تو انہوں نے فرمانبرداری کا حق ادا کرکے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور تم پر اللہ نے جو ظاہری انعامات کیے وہ تمہیں معلوم ہیں اور باطنی یہ ہے کہ تم میں نبی آخرالزمان کو مبعوث کیا تو تم نے اللہ کی ان نعمتوں کی کیا قدر کی ؟ پھر تمہاری سیدنا ابراہیم سے کیا نسبت یا مماثلت ہوسکتی ہے ؟۔

An-Nahl 16:121Listen in Qur'an →
122

وَءَاتَيْنَٰهُ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی۔ اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

Explained together with ayah 121

An-Nahl 16:122Listen in Qur'an →
123

ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ ٱتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

[١٢٥] چار بنیادی اشیاء ہی سیدنا ابراہیم کی شریعت میں حرام تھیں :۔ یعنی اگر آج کوئی ملت ابراہیمی کا پیرو کار موجود ہے تو وہ صرف یہ نبی آخر الزمان ہے جسے ہم نے ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ نہ مشرکین مکہ سیدنا ابراہیم کے پیرو کار ہیں اور نہ یہود اور نہ نصاریٰ حالانکہ یہ سب اپنا سلسلہ سیدنا ابراہیم سے ملانا چاہتے ہیں اور اسے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ مشرک ہیں اور سیدنا ابراہیم مشرک نہ تھے۔ مشرکین مکہ کا شرک تو واضح ہے۔ یہود کا شرک یہ تھا کہ انہوں نے سیدنا عزیر کو اللہ کا بیٹا بنایا۔ نیز کئی حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیا جس کی پاداش میں اللہ نے بھی وہ چیزیں ان پر حرام کردی تھیں۔ اور نصاریٰ بھی مشرک ہیں جنہوں نے ایک کے بجائے تین چار خدا بنا رکھے ہیں۔

An-Nahl 16:123Listen in Qur'an →
124

إِنَّمَا جُعِلَ ٱلسَّبْتُ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

ہفتے کا دن تو ان ہی لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے

[١٢٦] ہفتہ کی چھٹی یہود کے اصرار پر مقرر کی گئی :۔ ہفتہ کے دن کی تعظیم کا بھی ملت ابراہیمی میں کوئی حکم نہ تھا بلکہ جمعہ کا دن ہی مقرر کیا گیا تھا اور مسلمان بھی جمعہ ہی کی تعظیم کرتے ہیں۔ اور ہفتہ کا دن یہودیوں پر یوں مسلط کیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں جمعہ کی تعظیم کے لیے کہا تو کہنے لگے کہ اللہ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔ وہ جمعہ کے دن فارغ ہوا اور ساتویں (ہفتہ) کے دن آرام کیا تو ہم بھی ہفتہ کے دن چھٹی کیا کریں گے اللہ کے آرام کے متعلق یہود کا یہ تصور انتہائی غلط تھا۔ تاہم ان کی اپنے نبی سے ضد کے نتیجہ میں ان پر ہفتہ کا دن مقرر کیا گیا اور سختی یہ کی گئی کہ وہ ہفتہ کے دن کاروبار سے مکمل طور پر چھٹی کریں۔ اور اللہ کی عبادت میں سارا دن گزاریں۔ پھر جس طرح انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس کا تفصیلی بیان سورة بقرہ آیت نمبر ٦٥ اور سورة اعراف آیت نمبر ١٦٦ کے تحت گذر چکا ہے۔- سبت کے بارے یہود نے پہلا اختلاف تو یہ کیا کہ جمعہ کے دن کے بجائے ہفتہ کے دن پر اصرار کیا۔ پھر یہود کا ایک قبیلہ جو بستی ایلہ میں مقیم تھا، سبت کی تعظیم پر قائم نہ رہا اور حیلوں بہانوں سے اس دن مچھلیوں کے شکار کی راہ ہموار کرلی۔ اور جب انھیں دوسرا فریق منع کرتا تو زبانی وہ یہی کہتے تھے کہ ہم نے کب سبت کی حرمت کو توڑا ہے۔ ہم سبت کے دن کب شکار کرتے ہیں۔ شکار تو ہم اتوار کو کرتے ہیں پھر عیسیٰ آئے تو وہ بھی موسوی شریعت کی پیروی کی تعلیم دیتے رہے۔ اور ہفتہ کے دن کی تعظیم کی تاکید کرتے رہے مگر بعد میں نصاریٰ نے اختلاف کیا اور ہفتہ کی بجائے اتوار کا دن چھٹی کا دن قرار دے دیا۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ہم پیچھے آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اہل کتاب کو کتاب پہلے ملی اور ہمیں بعد میں ملی۔ پس وہ دن جو اللہ نے ان پر فرض کیا تھا اس میں انہوں نے اختلاف کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ دن بتادیا کہ وہ ہمارے پیچھے رہ گئے یہود تو ایک دن پیچھے رہے اور نصاریٰ اس کے بعد مزید ایک دن - [١٢٧] ایک قسم کے اختلاف تو وہ ہیں جو اوپر مذکور ہوئے اور دوسرا یہ کہ یہود یہ کہتے تھے کہ سیدنا ابراہیم ہمارے دین پر تھے یعنی یہودی تھے۔ اور نصاریٰ یہ کہتے تھے کہ سیدنا ابراہیم ہمارے دین پر تھے یعنی نصاریٰ تھے۔ پھر مشرکین مکہ ہوں یا یہود، نصاریٰ ہوں یا مسلمان سب اپنا رشتہ سیدنا ابراہیم سے جوڑتے ہیں اور انھیں اپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ ان سب باتوں کا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے گا کہ سچا کون تھا۔ اور جھوٹا کون اور ان میں اختلافات کی حقیقت کیا تھی۔ ؟

An-Nahl 16:124Listen in Qur'an →
125

ٱدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِ ۖ وَجَٰدِلْهُم بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ

(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے

[١٢٨] تبلیغ کے لئے داعی کو تین ہدایات :۔ یہاں سے خطاب رسول اللہ کی طرف ہے۔ اور اس آیت میں تبلیغ دین کے متعلق تین ہدایات دی گئی ہیں۔ پہلی ہدایت حکمت ہے حکمت کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو موقع محل دیکھ کر دعوت دی جائے۔ یعنی اس وقت دعوت دی جائے جب مخاطب کے دل میں سننے کی خواہش ہو اور وہ سننے کو تیار ہو اور دوسرے جو بات کہی جائے وہ مخاطب کے عقل و فہم کو ملحوظ رکھ کر کی جائے۔ عمدہ نصیحت سے مراد یہ ہے کہ جو بات آپ کہیں میٹھے اور دلنشیں انداز میں کہیں جو مخاطب کے دل میں اتر جائے۔ عقلی دلیل کے ساتھ ترغیب و ترہیب اور جذبات کو اپیل کرنے والی باتوں کی طرف بھی توجہ دلائیں آپ کے دل میں اس کے لیے تڑپ ہونی چاہیے۔ حتیٰ کہ مخاطب یہ سمجھے کہ آپ فی الواقع اس کے ہمدرد ہیں۔ ایسا نہ ہونا چاہیے کہ آپ مخاطب پر اپنی علمی برتری جتلانے اور اسے مرعوب کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اگر آپس میں دلائل سے بات کرنے کی نوبت آئے تو اس کی بات غور سے سنیں اور اپنی دلیل بھی شائستہ زبان میں پیش کریں اور اس کا مقصد افہام و تفہیم ہو۔ ایک دوسرے کو مات کرنا مقصود نہ ہو۔ اور اگر کج بحثی تک نوبت پہنچ جائے تو پھر بحث کو بند کردیں۔ کیونکہ اس صورت میں عین ممکن ہے مخاطب ضد میں آکر پہلے سے بھی زیادہ گمراہی میں مبتلا ہوجائے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو تین ہدایات، حکمت، موعظۃ الحسنہ اور جدال بالاحسن فرمائی ہیں۔ تو یہ سب الگ الگ تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں۔ یعنی مخالفین میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک تو اہل عقل و خرد ہوتے ہیں جو صرف معقول دلائل سے ہی قائل ہوسکتے ہیں۔ انھیں آپ حکیمانہ انداز میں دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کیجئے۔ دوسرے وہ لوگ جو زیادہ ذہین تو نہیں ہوتے مگر عقل سلیم رکھتے ہیں ضدی اور ہٹ دھرم نہیں ہوتے۔ انھیں پند و نصیحت اور انذار اور تبشیر سے سمجھائیے۔ یہی چیزان کے لیے زیادہ موثر ثابت ہوگی۔ تیسرے وہ لوگ جو کج بحث، ضدی اور ہٹ دھرم ہوتے ہیں۔ ان سے آپ کو دلیل بازی سے کام لینا ہوگا۔ الزامی جوابات اور مناظرہ کی صورت بھی پیش آسکتی ہے لیکن ان سے بھی احسن طریقہ سے دلیل بازی کیجئے۔ انھیں صرف حقائق سے آگاہ کرنا آپ کے ذمہ ہے۔ منوا کے چھوڑنا آپ کے ذمہ نہیں۔ اور جب آپ دیکھیں کہ مخاطب کچھ سمجھنے کی بجائے ضد بازی پر اتر آیا ہے تو پھر اس سے اعراض کیجئے۔ اور ایسے لوگوں پر اپنا وقت اور محنت صرف نہ کیجئے۔ اس کے بجائے ان لوگوں کی طرف توجہ فرمائیے جو حق کے متلاشی ہوں۔

An-Nahl 16:125Listen in Qur'an →
126

وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا۟ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِۦ ۖ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌۭ لِّلصَّٰبِرِينَ

اور اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی۔ اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے

[١٢٩] بدلہ لینے میں انصاف ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے :۔ اس آیت کی تفسیر میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :- سیدنا ابی بن کعبص فرماتے ہیں کہ احد کے دن انصار کے چونسٹھ اور مہاجرین کے چھ آدمی شہید ہوگئے ان میں سیدنا حمزہ بھی تھے جن کا کفار نے مثلہ کیا۔ چناچہ انصار نے کہا۔ اگر ہمیں ان پر کبھی فتح ہوئی تو ہم بھی ان سے یہی سلوک کریں گے پھر جب مکہ فتح ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ ١٢٦۔ ) 16 ۔ النحل :126) ۔ کسی شخص نے کہا۔ آج کے بعد قریش نہ رہیں گے مگر آپ نے فرمایا، چار شخصوں کے علاوہ باقی سب قریش سے ہاتھ روک لو (ترمذی۔ کتاب التفسیر)- واضح رہے کہ یہ سورت اگرچہ مکی ہے تاہم یہ چند آیات مدینہ میں اس وقت نازل ہوئیں جب احد کے میدان میں مسلمانوں کی لاشوں کا مثلہ کیا گیا۔ اور انصار نے بدلہ لینے کا عہد کیا تھا۔ جیسا کہ حدیث بالا سے ظاہر ہوتا ہے اور ربط مضمون کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دعوت و تبلیغ کی راہ میں اگر تمہیں سختیاں اور تکلیفیں پہنچائی جائیں۔ پھر تمہیں ان پر کسی وقت قدرت حاصل ہو تو تمہیں ان سے بدلہ لینے کی اجازت ہے مگر اس بدلہ میں زیادتی ہرگز نہ ہونی چاہیے۔ اور اگر تم برداشت کرکے درگزر کردو تو یہ بات بدلہ لینے سے بہت زیادہ بہتر ہے اور تبلیغ دین کے سلسلہ میں درگزر کا نتیجہ تمہارے حق میں بہت بہتر ثابت ہوگا۔ بہرحال اس آیت میں حکم عام ہے جس کا اطلاق ہر ایسے موقع پر ہوسکتا ہے۔

An-Nahl 16:126Listen in Qur'an →
127

وَٱصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِٱللَّهِ ۚ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِى ضَيْقٍۢ مِّمَّا يَمْكُرُونَ

اور صبر ہی کرو اور تمہارا صبر بھی خدا ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بداندیشی کرتے ہیں اس سے تنگدل نہ ہو

[١٣٠] مخالفین حق کے مظالم و شدائد کو ٹھنڈے دل سے برداشت کیے جانا کوئی سہل کام نہیں۔ اللہ ہی اس کی توفیق عطا فرمائے تو ہوسکتا ہے تاہم آپ ان کی معاندانہ سرگرمیوں سے دل میں گھٹن محسوس نہ کیجئے۔ اللہ یقیناً آپ کو صبر کی توفیق دے گا۔

An-Nahl 16:127Listen in Qur'an →
128

إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ

کچھ شک نہیں کہ جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکوکار ہیں خدا ان کا مددگار ہے

[١٣١] اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو بھی وہ نیکی کے کام کرتے ہیں۔ اسے بہتر سے بہتر طریقہ سے سرانجام دیتے ہیں۔

An-Nahl 16:128Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.