Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 111–120 of 128

111

۞ يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍۢ تُجَٰدِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا

يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ : یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے غفور و رحیم ہے اس دن جب۔۔ - تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَتُوَفّٰى ۔۔ : یعنی اس دن ہر مرد و عورت صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوگا، نہ اسے کسی کی فکر ہوگی نہ کسی کو اس کی۔ ہر ایک بس اپنی ذات کے دفاع کے لیے بحث اور عذر بہانے کر رہا ہوگا، پھر ہر ایک نے جو کیا اسے اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا، کسی پر ظلم نہ ہوگا۔

An-Nahl 16:111Listen in Qur'an →
112

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا قَرْيَةًۭ كَانَتْ ءَامِنَةًۭ مُّطْمَئِنَّةًۭ يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًۭا مِّن كُلِّ مَكَانٍۢ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلْجُوعِ وَٱلْخَوْفِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے آخرت کے عذاب کا ذکر فرمایا، اس کے بعد دنیا میں بھی کفران نعمت کی سزا خوف اور بھوک کا ذکر کیا، اس لیے آیت کی ابتدا میں واؤ عطف آئی ہے۔ (قاسمی) - كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً ۔۔ : یعنی اس بستی کو نہ باہر سے دشمن کا کھٹکا تھا، نہ اندر سے کسی طرح کی فکر و تشویش۔ اس سے مراد کوئی بھی ایسی بستی ہوسکتی ہے، جیسے عاد وثمود اور فرعون کی قوم کی بستیاں، مگر مکہ معظمہ میں یہ اوصاف سب سے زیادہ موجود تھے۔ پورے عرب میں کسی کو امن میسر نہ تھا، کسی بھی وقت کسی بھی قبیلے پر حملہ ہوسکتا تھا۔ مرد قتل، عورتیں اور بچے لونڈی و غلام اور مال مویشی غنیمت بن جاتے۔ کوئی سفر کرتا تو اسے اغوا کرکے بیچ دیا جاتا یا قتل کردیا جاتا۔ ان کی معیشت بھی نہایت تنگ تھی، وہ اپنے ریوڑ لے کر پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے۔ صرف مکہ میں بیت اللہ کی حرمت کی وجہ سے مکمل امن تھا اور پوری دنیا سے لوگ حج و عمرہ کے لیے آتے تو اہل مکہ کو ان سے خریدو فروخت اور کرایہ مکان وغیرہ کی صورت میں وافر رزق مل جاتا اور ہر قسم کا پھل اور سبزی اور ضرورت کی ہر چیز میسر رہتی۔ اہل مکہ سردی میں یمن کو تجارتی قافلے لے جاتے اور گرمی میں شام کو۔ ان کے قافلوں کو حرم کے احترام میں کوئی کچھ نہ کہتا، جب کہ دوسرے کسی قافلے کا زبردست جنگجوؤں کی معیت کے بغیر سفر کرنا ہی ناممکن تھا۔ ہاں حرمت کے چار مہینوں میں پورے عرب میں امن ہوتا، وہ بھی بیت اللہ کے حج و عمرہ کے احترام کی خاطر۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قریش، سورة قصص (٥٧) ، عنکبوت (٦٧) ، آل عمران (٩٧) اور سورة بقرہ (١٢٥) ۔- فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ ۔۔ : ” أَنْعُمٌ“ ” نِعْمَۃٌ“ کی جمع ہے، جیسا کہ ” أَشُدٌّ“ ” شِدَّۃٌ“ کی۔ بعض کہتے ہیں ” نُعْمٰی “ کی جمع ہے، جیسے ” بُؤْسٰی “ کی جمع ” أَبْؤُسٌ“ ہے۔ (قرطبی) اس بستی والوں کی ناشکری اور احسان ناشناسی کی وجہ سے امن و اطمینان کی جگہ خوف و ہراس نے اور فراخئ رزق کی جگہ بھوک نے انھیں اس طرح گھیر لیا جیسے کپڑا اپنے پہننے والے کو گھیر لیتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے کلام میں عجیب جامعیت ہے، بھوک اور خوف کی تلخی کے اظہار کے لیے ” فَاَذَاقَهَا “ (اس کو چکھایا) کا لفظ استعمال فرمایا اور اس عذاب کے چمٹ جانے کو لباس بن جانے کے ساتھ تعبیر کیا اور ایک لمبی بات کو دو لفظوں میں سمیٹ دیا۔ اس استعارے کی لذت مومن عالم ہی اٹھا سکتا ہے، اس جاہل و ملحد کو اس لذت کی کیا خبر جس نے کہا کہ بھلا لباس بھی چکھا جاتا ہے ؟

An-Nahl 16:112Listen in Qur'an →
113

وَلَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌۭ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ ٱلْعَذَابُ وَهُمْ ظَٰلِمُونَ

اور ان کے پاس ان ہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ ۔۔ : یہ ان احسانات میں سے ایک بہت بڑا احسان تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ایک رسول ان کی طرف بھیجا۔ غالباً اسی لفظ کو بنیاد بنا کر اکثر مفسرین نے اس بستی سے مراد مکہ معظمہ لیا ہے، ورنہ اس کی تعیین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ پہلے رسولوں کی کوئی بستی بھی مراد ہوسکتی ہے اور ان کی طرف آنے والا رسول بھی۔ البتہ اس سے مکہ بالاولیٰ مراد ہے۔ یہاں جس بھوک اور خوف کا لباس چکھانے کا ذکر ہے اس کی تفصیل عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان فرمائی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب لوگوں (کے ایمان لانے) سے گریز کو دیکھا تو آپ نے عرض کیا : ( اَللّٰہُمَّ سَبْعًا کَسَبْعِ یُوْسُفَ )” اے اللہ یوسف ( (علیہ السلام) ) کے سات سالوں جیسے سات سال مسلط فرما۔ “ تو انھیں ایسی قحط سالی نے آپکڑا جس نے ہر چیز کو تباہ و برباد کردیا، یہاں تک کہ وہ چمڑے، مردار اور لاشیں بھی کھا گئے، بھوک کی وہ شدت تھی کہ ان میں سے کوئی آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھواں نظر آتا۔ [ بخاری، الاستسقاء، باب دعاء النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : اجعلھا سنین۔۔ : ١٠٠٧ ] ادھر مسلمانوں کے ساتھ ہر وقت حالت جنگ کی وجہ سے باہر سے آنے والے لوگوں کی آمد بھی رک گئی اور خوف کی یہ حالت تھی کہ وہ ہر وقت مکہ میں اور مکہ سے باہر بھی مسلمانوں کے حملے سے خوف زدہ رہتے تھے۔ بہرحال شوکانی اور کئی مفسرین کہتے ہیں کہ ان آیات میں کسی متعین بستی کا ذکر نہیں ہے، محض ایک تباہ شدہ بستی کی مثال دے کر اہل مکہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر تم نے ہماری نعمتوں خصوصاً رسول بھیجنے کی ناشکری کی تو تمہارے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا جائے گا۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” ایسے بہت سے شہر ہوتے ہیں، پر احوال فرمایا مکہ کا۔ “ (موضح)

An-Nahl 16:113Listen in Qur'an →
114

فَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا وَٱشْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

پس خدا نے جو تم کو حلال طیّب رزق دیا ہے اسے کھاؤ۔ اور الله کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا۔۔ : مشرکین نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اس کے ساتھ شریک بنائے تو اے ایمان والو اگر تم واقعی صرف اللہ کی بندگی کرتے ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو لازم ہے کہ اپنی عقل اور مصلحت کے بل بوتے پر کسی چیز کو حلال یا حرام قرار نہ دو ، جیسا کہ مشرکوں نے اپنے پاس سے بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دے رکھا ہے، حالانکہ یہ کہیں اللہ کا حکم نہیں اور مردار اور خون وغیرہ کو حلال کر رکھا ہے جنھیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ سو تم صرف انھی چیزوں کو کھاؤ جنھیں اللہ نے حلال اور طیب قرار دیا ہے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔

An-Nahl 16:114Listen in Qur'an →
115

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ : یعنی جس جانور کو بھی غیر اللہ کے نام کے ساتھ شہرت دی جائے، مثلاً گنج بخش کا بکرا، چشتی اجمیری کی گائے یا فلاں شاہ کا مرغا، تو یقیناً وہ جانور حرام ہوگیا اور ” اُهِلَّ “ کا لفظ ذبح کے علاوہ اس کو بھی شامل ہے، کیونکہ ” اُهِلَّ “ کا معنی آواز بلند کرنا ہے، لہٰذا جس پر غیر اللہ کا نام آگیا اس میں ایسی خباثت آگئی جو مردار میں بھی نہیں، کیونکہ مردار پر تو صرف اللہ کا نام نہیں لیا گیا مگر ” مَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ “ (جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے) میں اس جانور کی روح اس کے خالق کے سوا دوسرے کے نام پر بھینٹ چڑھا دی گئی۔ یہ آیت شریفہ قرآن میں چار مرتبہ آئی ہے، سورة بقرہ (١٧٣) ، مائدہ (٣) ، انعام ( ١٤٥) اور یہاں سورة نحل (١١٥) میں، تمام مقامات پر نظر ڈال لیں۔ اس کے معنی ” مَا رُفِعَ الصَّوْتُ بِہِ لِغَیْرٍ “ ہیں (یعنی جس پر غیر اللہ کا نام بلند کیا جائے) ، نہ کہ ” مَا ذُبِحَ باسْمِ غَیْرِ اللّٰہِ “ (یعنی جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے) ۔ گو یہ اس میں بطریق اولیٰ داخل ہے، جس کی بنا پر بعض مفسرین نے ” اُهِلَّ “ کی تفسیر ” ذُبِحَ “ کی ہے، جو اس وقت کی صورت حال کے پیش نظر اور بیان واقعہ کے لیے ہے۔ ہمارے دور میں اس نئے شرک کا وقوع ہوا ہے، اس برصغیر پاک و ہند کے علماء نے اسے خوب حل فرمایا ہے اور شاہ عبد العزیز کی تفسیر عزیزی اس پر شاہد عدل ہے۔ - فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (١٧٣) ، مائدہ (٣) اور سورة انعام (١٤٥) ۔

An-Nahl 16:115Listen in Qur'an →
116

وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ ٱلْكَذِبَ هَٰذَا حَلَٰلٌۭ وَهَٰذَا حَرَامٌۭ لِّتَفْتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ

اور یوں ہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں ہوگا

وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ ۔۔ : ” اَلْسِنَۃٌ“ ” لِسَانٌ“ کی جمع ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال و حرام کو خود واضح فرما دیا ہے تو اب اسی کے پابند رہو اور یہ جرأت مت کرو کہ تمہاری زبانیں جسے جھوٹ سے حلال کہہ دیں اسے حلال اور جسے حرام کہہ دیں اسے حرام قرار دے لو، اگر ایسا کرو گے تو یہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہوگا اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے، اگر اس کے بدلے انھیں دنیا میں کچھ فائدہ حاصل بھی ہوجائے، خواہ پوری دنیا مل جائے، وہ بہت ہی تھوڑا سامان ہے، کیونکہ یہ سامان ہر حال میں ختم ہوجانے والا ہے، پھر ان کا ہمیشہ کا ٹھکانا جہنم ہے۔ مشرکین کے اپنے پاس سے حلال و حرام بنانے کی مثالوں کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (١٠٣، ١٠٤) ، انعام (١٣٨ تا ١٤٠) اور سورة یونس (٥٩، ٦٠) ۔- حافظ ابن کثیر (رض) نے فرمایا، اس آیت میں ہر وہ شخص داخل ہے جو دین میں کوئی نئی بات (بدعت) ایجاد کرے، جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو، یا محض اپنی عقل اور رائے سے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام یا حرام کردہ چیز کو حلال ہونے کا فتویٰ دے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کے صحیح ہونے پر تو ساری امت کا اتفاق ہے : ( مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ ) “ [ بخاری، العلم، باب إثم من کذب علی النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ١٠٧۔ مسلم، المقدمۃ : ٣ ] ” جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے (کیونکہ یہ درحقیقت اللہ پر جھوٹ ہے) ۔ “

An-Nahl 16:116Listen in Qur'an →
117

مَتَٰعٌۭ قَلِيلٌۭ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اس کے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا

Explained together with ayah 116

An-Nahl 16:117Listen in Qur'an →
118

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

اور چیزیں ہم تم سے پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا ۔۔ : حافظ ابن کثیر (رض) نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے جب مسلمان پر حرام کردہ چیزوں مردار اور خون وغیرہ کا ذکر فرمایا اور صرف مجبوری کے وقت انھیں جائز قرار دینے کا ذکر فرمایا، تاکہ امت پر آسانی رہے تو اس کے بعد یہودیوں پر ان چیزوں کے حرام کرنے کا ذکر فرمایا، جن کا ذکر پہلے سورة نساء (١٦٠) اور سورة انعام (١٤٦) میں گزر چکا ہے، جو پاکیزہ اور حلال ہونے کے باوجود ان کی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے ان پر حرام کی گئی تھیں اور اس اصر و اغلال میں شامل تھیں جو ان کی سرکشی کی وجہ سے ان پر لادے گئے تھے۔ پھر ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے پر ان کی حرمت ختم ہوئی اور صرف وہ چیزیں حرام کی گئیں جن کا حرام کرنا بطور سزا نہیں بلکہ بطور مصلحت و رحمت تھا۔ - وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نساء (١٦٠، ١٦١) اس سے یہودیوں کے اس دعویٰ کی بھی تردید ہوگئی کہ ان پر حرام کردہ چیزیں ہمیشہ سے حرام چلی آرہی ہیں، اس لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہیں۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (٩٣) ۔

An-Nahl 16:118Listen in Qur'an →
119

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٍۢ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا۔ پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْۗءَ بِجَــهَالَةٍ ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام گناہ گاروں کو، وہ یہودی ہوں یا عیسائی یا مشرک یا مسلمان، سب کو توبہ اور اصلاح کے بعد بےانتہا مغفرت اور رحمت کی نوید سنائی ہے۔ یاد رہے کہ یہاں جہالت کا معنی لاعلمی نہیں بلکہ بےوقوفی اور اکھڑ پن ہے، جو آدمی سے بےعقلی کے کاموں کا ارتکاب کرواتا ہے، جیسا کہ گھر سے نکلنے کی لمبی دعا میں ہے : ( اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ ۔۔ أَجْھَلَ أَوْ یُجْھَلَ عَلَيَّ ) ” اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ۔۔ میں کسی پر جہالت کروں یا کوئی مجھ پر جہالت کرے۔ “ [ أبوداوٗد، الأدب، باب ما یقول إذا خرج من بیتہ : ٥٠٩٤۔ ابن ماجہ : ٣٨٨٤، و صححہ الألباني ] اور عمرو بن کلثوم نے کہا ؂ - أَلَا لَا یَجْھَلَنْ أَحَدٌ عَلَیْنَا - فَنَجْھَلْ فَوْقَ جَھْلِ الْجَاھِلِیْنَا - ” خبردار ہم پر کوئی جہالت کا ارتکاب ہرگز نہ کرے، ورنہ ہم جاہلوں کی جہالت سے بڑھ کر جہالت کریں گے۔ “ اس حدیث اور شعر سے جہل کا مفہوم واضح ہوتا ہے جو یہاں مراد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر گناہ لاعلمی سے ہو یا جان بوجھ کر، ہوتا ہی بےوقوفی اور جہالت سے ہے، اسلام سے پہلے والے زمانے کو اسی لیے زمانۂ جاہلیت کہتے ہیں۔ دیکھیے سورة انعام (٥٤) ، نساء (١٨، ١٩) اور سورة فرقان (٦٣) ۔

An-Nahl 16:119Listen in Qur'an →
120

إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةًۭ قَانِتًۭا لِّلَّهِ حَنِيفًۭا وَلَمْ يَكُ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

بےشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور خدا کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا ۔۔ : ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی : (قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا كَذٰلِكَ يَفْعَلُوْن) [ الشعراء : ٨٤ ] ” اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔ “ اس لیے مشرکین مکہ، یہود اور نصاریٰ میں سے ہر ایک ابراہیم (علیہ السلام) کی عزت و تکریم کرنے والا اور ان کی ملت کا متبع ہونے کا دعوے دار تھا، چناچہ فرمایا : (وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ ١٠٨؀ۖسَلٰمٌ عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ ) [ الصافات : ١٠٨، ١٠٩ ] ” اور پیچھے آنے والوں میں اس کے لیے یہ بات چھوڑی کہ ابراہیم پر سلام ہو۔ “ یعنی بعد میں آنے والے سب لوگ ان پر سلام بھیجیں گے، اس لیے اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی صفات اور ان کا منہج بیان فرمایا، جس سے واضح ہو رہا ہے کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ملت ابراہیم پر قائم نہیں ہے۔ - اُمَّةً : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی پہلی صفت ” اُمَّةً “ بیان فرمائی۔ اس آیت میں لفظ ” اُمَّةً “ کا معنی پیشوا اور امام بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنِّىْ جَاعِلُكَ للنَّاسِ اِمَامً ) [ البقرۃ : ١٢٤ ] ” بیشک میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ “ اور یہ بھی کہ وہ اکیلے ہی ایک امت (جماعت) تھے، کیونکہ اکیلے ہی میں اتنے کمالات تھے جو ایک جماعت میں ہوتے ہیں اور اکیلے شخص نے اتنا کام کیا جو ایک امت کے برابر تھا۔ تیسرا معنی یہ کہ ایک مدت تک اکیلے ہی وہ اور ان کی بیوی امت مسلمہ تھے، جیسا کہ جبار مصر اور سارہ[ کے واقعہ میں ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے سارہ[ سے کہا کہ اس وقت اس سرزمین میں میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں، سو تم ایمان میں میری بہن ہو۔ [ بخاری : ٣٣٥٨ ]- دوسری صفت ” قَانِتًا لِّلّٰهِ “ بیان فرمائی، یعنی اللہ کے فرماں بردار نہایت عاجزی کے ساتھ، کیونکہ ان دونوں کے مجموعی مفہوم کو قنوت کہتے ہیں۔ - ” حَنِيْفًا “ تیسری صفت ہے، ” حَنَفٌ“ کا معنی ہے ایک طرف جھک جانا، یعنی تمام باطل دینوں سے ہٹ کر حق کی طرف مائل ہونے والا، تمام خداؤں کا انکار کرکے صرف ایک اللہ کی طرف ہوجانے والا۔ جس کی قولی، بدنی اور مالی عبادت، زندگی اور موت سب ایک اللہ کے لیے تھے۔ دیکھیے سورة انعام (١٦١ تا ١٦٣) ۔- وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : یہ مشرکین مکہ اور یہود و نصاریٰ پر تعریض اور ان سب کے ابراہیمی ہونے کے دعویٰ کی نفی کا اظہار ہے کہ وہ تو مشرکوں میں سے نہیں تھے، جب کہ تم سب بتوں کو یا قبروں کو، عزیر یا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور اپنے احبارو رہبان کو رب بنا کر شرک میں گرفتار ہوچکے ہو۔

An-Nahl 16:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.