Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 111–120 of 128

111

۞ يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍۢ تُجَٰدِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا

[١١٥] قیامت کے دن صرف اپنی اپنی جان کی فکر ہوگی :۔ ان مہاجرین و مجاہدین کی لغزشیں اس دن معاف کردی جائیں گی جس دن ہر شخص کو صرف اپنی ہی فکر پڑی ہوگی۔ ماں، باپ، بھائی، بہن، بیوی، اولاد کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا حتیٰ کہ اس سے بولنا بھی پسند نہ کرے گا بلکہ ان سے بچتا پھرے گا۔ ہر ایک کو یہ فکر ہوگی کہ وہ عذاب الٰہی سے کیسے نجات حاصل کرسکتا ہے اس غرض کے لیے وہ کچھ جھوٹے سچے عذر بھی تراشے گا اور سوال و جواب کرکے چاہے گا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکے۔

An-Nahl 16:111Listen in Qur'an →
112

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا قَرْيَةًۭ كَانَتْ ءَامِنَةًۭ مُّطْمَئِنَّةًۭ يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًۭا مِّن كُلِّ مَكَانٍۢ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلْجُوعِ وَٱلْخَوْفِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا

[١١٦] مکہ میں بھوک کا عذاب :۔ اس آیت میں اگرچہ اس بستی کا نام نہیں لیا گیا تاہم انداز بیان سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ روئے سخن مکہ ہی کی طرف ہے۔ مکہ کے لوگ اس وقت بھی امن و چین کی زندگی گزار رہے تھے جبکہ عرب بھر میں ہر طرف لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم رہتا تھا۔ بیت اللہ شریف کی تولیت کی وجہ سے لوگ قریش مکہ کا ادب و احترام کرتے تھے۔ ان کے تجارتی قافلے پر کسی کو حملہ آور ہونے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ بلکہ جس تجارتی قافلے کو یہ قریش مکہ پروانہ راہداری دے دیتے۔ وہ بھی امن و عافیت کے ساتھ سفر کرسکتے تھے۔ پھر سیدنا ابراہیم کی دعا کی وجہ سے اطراف عالم سے اشیاء خوردنی اور پھل وغیرہ بھی مکہ پہنچ جاتے تھے اگرچہ وہاں نہ کوئی پھلدار درخت پیدا ہوتا تھا اور نہ کوئی غلہ وغیرہ حتیٰ کہ مویشیوں کے لیے گھاس پات تک بھی پیدا نہ ہوتا تھا۔ پھر جب ان میں رسول اللہ مبعوث ہوئے اور آپ نے انھیں شرکیہ افعال ترک کرنے اور اکیلے اللہ کی پرستش کرنے کی دعوت دی تو وہ بگڑ بیٹھے۔ اور پیغمبر اسلام اور آپ کے ماننے والوں کو دکھ دینا شروع کردیئے اور ان کے جانی دشمن بن گئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی نعمتیں چھین لیں اور ان پر قحط کا عذاب مسلط کردیا اور یہ قحط سات سال تک ان پر مسلط رہا باہر سے کوئی چیز کھانے کے لیے نہ آتی تھی۔ پھر ان لوگوں کا یہ حال ہوگیا کہ مردہ جانوروں کے چمڑے اور ہڈیاں تک کھانے پر مجبور ہوگئے اور جسمانی کمزوری اور بھوک کی شدت کا یہ حال تھا کہ اگر آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے تو انھیں دھواں ہی دھواں نظر آتا حالانکہ مطلع بالکل صاف ہوتا تھا۔ بھوک کی وجہ سے کچھ لوگ تو مرگئے اور جو باقی تھے انھیں بھی ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ اگر کچھ عرصہ یہی حالت رہی تو ان کا زندہ رہنا مشکل نظر آتا ہے۔ گویا یہ عذاب صرف بھوک کا نہ تھا بلکہ بھوک کی وجہ سے مرجانے کا خوف بھی ان پر مسلط رہتا تھا۔

An-Nahl 16:112Listen in Qur'an →
113

وَلَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌۭ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ ٱلْعَذَابُ وَهُمْ ظَٰلِمُونَ

اور ان کے پاس ان ہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

Explained together with ayah 112

An-Nahl 16:113Listen in Qur'an →
114

فَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا وَٱشْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

پس خدا نے جو تم کو حلال طیّب رزق دیا ہے اسے کھاؤ۔ اور الله کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو

[١١٧] اس آیت میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور انھیں سمجھایا یہ جارہا ہے کہ کفران نعمت اتنا بڑا جرم ہے کہ جس کے بدلے اللہ اپنی نعمتیں بھی چھین لیتا ہے اور ایسے مجرموں پر عذاب بھی مسلط کردیتا ہے۔ لہذا اگر تم ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہا کرو۔ اسی کی بندگی کرو۔ اس کی نافرمانی سے اجتناب کرو اور رزق حلال کی تلاش کرو۔ حرام اور گندی چیزوں سے پرہیز کرو۔

An-Nahl 16:114Listen in Qur'an →
115

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

[١١٨] حرام اشیاء کون کون سی ہی ؟ اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ کی آیت نمبر ١٧٣ سورة مائدہ کی آیت نمبر ٣ اور سورة انعام کی آیت نمبر ١٣٥ کے تحت گزر چکی ہے۔ وہ دیکھ لی جائے۔

An-Nahl 16:115Listen in Qur'an →
116

وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ ٱلْكَذِبَ هَٰذَا حَلَٰلٌۭ وَهَٰذَا حَرَامٌۭ لِّتَفْتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ

اور یوں ہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں ہوگا

[١١٩] حلت وحرمت کا اختیار سنبھالنا بھی شرک ہے :۔ ان آیات میں بتایا یہ گیا ہے کہ اشیاء کو حرام یا حلال قرار دینے کا اختیار کلیتاً اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ کسی دوسرے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اللہ کی حرام کردہ چیز کو حلال یا جائز قرار دے لے یا اس کی حلال کردہ چیزوں کو حرام بنا دے۔ اور جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ جھوٹ بکتے ہیں۔ پہلے وہ اس قسم کے جھوٹ اختراع کرتے ہیں پھر انھیں اللہ کے ذمہ لگا کر یا اس کی طرف منسوب کرکے اپنے ایسے عقیدوں کو مذہبی تقدس کا جامہ پہنا دیتے ہیں۔ وہ حقیقتاً خدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے کر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی اخروی نجات کی کوئی صورت نہیں۔

An-Nahl 16:116Listen in Qur'an →
117

مَتَٰعٌۭ قَلِيلٌۭ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اس کے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا

[١٢٠] حلال وحرام بنانے والے خود اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں :۔ یعنی مشرکوں کا بعض جانوروں کو بتوں کے نام پر آزاد چھوڑنا، اپنی کھیتی اور مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام پر اور کچھ بتوں کے نام پر وقف کرنا پھر اللہ کے حصہ میں سے معبودوں کے حصہ کی کمی کو پورا کردینا وغیرہ ایسے سب افعال کا ذکر سورة انعام کی آیت نمبر ١٣٥ کے تحت گذر چکا ہے۔ اور ایسے سب افعال کا فائدہ بالواسطہ یا بلاواسطہ آستانوں کے مجاوروں یا مہنتوں کو پہنچتا تھا۔ وہی ایسی شرکیہ باتوں کو گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے اور اس طرح دنیوی فائدے حاصل کرتے تھے اور اپنے چند روزہ دنیوی مفاد کی خاطر بہت سی خلقت کو شرک میں مبتلا کر رکھا تھا ایسے لوگوں کو سخت دکھ دینے والی مار پڑے گی کیونکہ انہوں نے اپنے چند روزہ دنیوی فائدہ کی خاطر بیشمار اللہ کے بندوں کو شرک جیسے گناہ عظیم میں مبتلا کیا۔

An-Nahl 16:117Listen in Qur'an →
118

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

اور چیزیں ہم تم سے پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

[١٢١] اصلا چار ہی چیزیں حرام ہیں :۔ یہاں سورة انعام کی آیت نمبر ١٤٦ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو سورة نحل سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔ ترتیب نزولی کے لحاظ سے سورة انعام کا نمبر ٥٥ ہے جبکہ اس سورة نحل کا نمبر ٧٠ ہے۔ کفار مکہ کا اعتراض یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں تو ان چار چیزوں کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں حرام ہیں جنہیں تم مسلمانوں نے حلال کر رکھا ہے۔ اگر موسوی شریعت بھی اللہ کی طرف سے ہے تو تم اس کی خلاف ورزی کیوں کر رہے ہو ؟ اور اگر موسوی شریعت اور تمہاری شریعت دونوں ہی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں تو ان میں تضاد کیوں ہے ؟ اسی اعتراض کا یہاں جواب دیا جارہا ہے جو یہ ہے کہ بنیادی طور پر جو چیزیں اللہ نے حرام کی ہیں اور جن کا سب کتابوں میں ذکر موجود ہے وہ یہی چار چیزیں ہیں اور یہودیوں پر جو زائد اشیاء حرام کی گئیں تو وہ ان کی اپنی نافرمانیوں اور زیادتیوں کی بنا پر حرام کی گئی تھیں۔

An-Nahl 16:118Listen in Qur'an →
119

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٍۢ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا۔ پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے

[١٢٢] توبہ کے قبول ہونے کی شرائط :۔ توبہ کی قبولیت کی شرائط کا ذکر پہلے سورة بقرہ کی آیت نمبر ١٦٠ اور سورة انعام کی آیت نمبر ٥٤ کے تحت گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ کہ انسان نے جو گناہ کیا ہو وہ بھول کر یا لاعلمی کی بنا پر کیا ہو۔ دوسرے یہ کہ جب اسے گناہ کا احساس ہو تو فوراً اللہ کے حضور توبہ کرے پھر اس گناہ کے آئندہ کبھی نہ کرنے کا عہد کرے پھر اگر اس جرم میں کسی کا حق غصب کیا ہو تو اس سے معاف کرائے یا اسے کسی نہ کسی طریقہ سے ادائیگی کرے تو امید ہے کہ اللہ اس کا گناہ معاف کر دے گا اور اگر گناہ ہی دیدہ دانستہ یا بددیانتی کی بنا پر کرے کہ بعد میں توبہ تائب کرلیں گے یا گناہ سے توبہ کے بعد پھر اسی گناہ کا اعادہ کرتا جائے یا اگر کسی کا حق اس کے ذمہ واجب الادا ہو اور نہ وہ اس سے معاف کرائے اور نہ ہی ادائیگی کی کوشش کرے تو ایسی صورت میں اس کی توبہ قبول ہونے کی کم ہی توقع ہوسکتی ہے۔

An-Nahl 16:119Listen in Qur'an →
120

إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةًۭ قَانِتًۭا لِّلَّهِ حَنِيفًۭا وَلَمْ يَكُ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

بےشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور خدا کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

[١٢٣] سیدنا ابراہیم کی صفات اور مشرکین کے افعال :۔ مشرکین مکہ چونکہ اپنے آپ کو سیدنا ابراہیم کا پیرو کار بتاتے تھے اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ نے یہاں سیدنا ابراہیم کا ذکر اور ان کے اوصاف بیان فرمائے ان کی سب سے نمایاں اور پہلی صفت یہ ہے کہ وہ باطل کے مقابلہ میں اکیلے ہی ڈٹ گئے تھے۔ ایک طرف کفر و شرک کی علمبردار پوری کی پوری قوم تھی دوسری طرف توحید کا علمبردار صرف فرد واحد تھا۔ اور اس نے اتنا کام کر دکھایا جتنا ایک پوری امت یا ادارے کا ہوتا ہے یہ تو ان کے عزم و ثبات کا حال تھا اور عقائد و اعمال کا یہ حال تھا کہ انہوں نے ہر طرح کے سہارے چھوڑ کر ایک اللہ ہی کی طرف رجوع کرلیا تھا اور اللہ کی فرمانبرداری کا یہ حال تھا کہ وہ اسی کے ہی ہو کے رہ گئے تھے اور اس راہ میں انھیں اپنی جان تک کی پروا نہ رہی تھی اور شرک تو انہوں نے نبوت سے پہلے بھی کبھی نہ کیا تھا۔ بعد میں تو کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب تم خود سوچ لو کہ تم ان کے پیروکار ہونے کے دعوے میں کس قدر حق بجانب ہو۔

An-Nahl 16:120Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.