Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 111–120 of 128

111

۞ يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍۢ تُجَٰدِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا

یوم تاتی کل نفس تحادل عن نفسھا (61 : 111) ” ہر متنفس اپنے ہی بچائو کی فکر میں لگا ہوا ہوگا “۔ انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن ہر شخص سخت ہولناک حالت میں ہوگا ، ہر شخص اپنے ہی بارے میں فکر کر رہا ہوگا ، اپنا ہی کیس لڑ رہا ہوگا۔ لیکن کسی کا جھگڑا اسے کچھ فائدے نہ دے گا۔ وہاں تو ہر کسی کو اپنی ہی کمائی ملے گی۔

وھم لا یظلمون (61 : 111) ” کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا “۔

درس نمبر 421 ایک نظر میں

اس سے پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ نے اس سورة میں دو مثالوں کے ذریعے اسلامی عقیدہ توحید کو سمجھایا ہے۔ یہاں اباہل مکہ اور مشرکین قریش اور مکہ کے حالات پر ایک مثال دی جاتی ہے۔ اہل مکہ پر اللہ نے اپنے انعامات کی بارش کردی تھی لیکن انہوں نے اپنی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا۔ اس مثال کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو اس انجام سے خبردار کرنا چاہتے ہیں جو مستقبل کے پردوں میں ان کا منتظر ہے۔

اس مثال میں جن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ وافر رزق اور امن و اطمینان کی نعمت ہے جو مکہ میں موجود تھی ، اس حوالے سے پھر ان کے سامنے یہ بات بھی رکھی جاتی ہے کہ انہوں نے بت پرستی کی وجہ سے اپنے اوپر بعض طیبات اور حلال چیزوں کو خواہ مخواہ حرام کر رکھا ہے حالانکہ اللہ نے چیزوں کو حلال قرار دیا ہے۔ اللہ نے حرام چیزوں کو بیان کردیا ہے اور یہ چیزیں ان میں سے نہیں ہیں۔ یہ بھی ایک طرح سے انعامات الہیہ کی ناشکری ہے۔ اس طرح کی ناشکری کے نتیجہ میں بھی تم پر عذاب الیم نازل ہوسکتا ہے اور یہ اللہ پر بہت ہی بڑا افتراء ہے اور اللہ نے ان اشیاء کی حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا ہے۔

پھر مسلمانوں پر جو ناپاک چیزیں حرام کی گئیں اس کے حوالے سے ان اشیاء کا بھی ذکر کیا جاتا ہے جو یہودیوں پر حرام کی گئیں۔ یہ چیزیں ان پر بطور سزائوں کے بعض جرائم کی وجہ سے حرام کی گئی تھیں۔ نیز یہ ان کے بعض مظالم کی وجہ سے بطور سزا حرام ہوئی تھیں۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد سے حرام نہ تھیں جو اپنی ذات میں ایک امت تھے اور اللہ کی طرف یکسو اور حنیف تھے۔ شرک نہ کرتے تھے اور اللہ نے ان کو ہدایت دی تھی۔ وہ برگزیدہ تھے اور صراط مستقیم پر تھے۔ یہ طیبات ان پر بھی حلال تھیں اور ان کی اولاد پر بھی۔ یہاں تک کہ بعد کے ادوار میں بنی اسرائیل پر بطور سزا حرام ہوئیں اور ان جہالتوں سے کوئی تائب نہ ہوجائے تو اللہ غفور ورحیم ہے۔

اس کے بعد دین ابراہیم کے تسلسل کے طور پر حضرت محمد ﷺ کا دین آیا ، اس میں وہ تمام طیبات از سر نو حلال کردی گئیں جو دین ابراہیم میں حلال تھیں ۔ اسی طرح یوم سبت میں یہودیوں کو شکار سے منع کیا گیا تھا ، اسے بھی حلال کردیا گیا تھا کیونکہ یہودیوں نے سبت کی پابندی کو بھی مشکوک بنا دیا تھا۔ بعض لوگ رک گئے اور بعض نے سبت کی پابندی کو توڑ دیا۔ اس لئے اللہ نے ان لوگوں کو بھی مشکوک بنا دیا تھا۔ بعض لوگ رک گئے اور بعض نے سبت کی پابندی کو توڑ دیا ۔ اس لئے اللہ نے ان لوگوں کے چہرے مسخ کردئیے اور ان کو انسانیت کے درجہ سے گرا دیا۔

اس مناسبت سے رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ کی طرف نہایت ہی حکمت سے اور بہترین نصیحت سے دعوت دیتے ہیں اور ان کے ساتھ نہایت ہی بھلے انداز میں مکالمہ کریں۔ اگر آپ پر زیادتی ہو توق صاص اس کی سنتب سے عادلانہ ہو ، کسی صورت میں بھی حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ اگر مخالف کو معاف کردیا جائے اور صبر سے کام لیا جائے تو یہ سب سے بہتر ہے۔ اس کے بعد یاد رکھو کہ اچھا انجام متقین اور محسنین ہی کا ہے کیونکہ اللہ اہل تقویٰ اور اہل احسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ ان کی امداد کرتا ہے ، ان کی نگرانی کرتا ہے اور صلاح و فلاح کی راہ کی طرف ان کو راہنمائی کرتا رہتا ہے۔

An-Nahl 16:111Listen in Qur'an →
112

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا قَرْيَةًۭ كَانَتْ ءَامِنَةًۭ مُّطْمَئِنَّةًۭ يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًۭا مِّن كُلِّ مَكَانٍۢ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلْجُوعِ وَٱلْخَوْفِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا

یہ مثال مکہ پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ اللہ نے اس بستی میں بیت اللہ بنایا۔ پھر اس کو حرکت دیتے ہوئے بلد حرام قرار دیا۔ جو شخص اس میں داخل ہوجائے وہ آمن اور مامون ہوگا۔ کسی کو اجازت نہ ہوگی کہ کوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھائے اگرچہ وہ قاتل ہو۔ جب تک وہ بیت اللہ میں ہے کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ جزیرۃ العرب کی حالت یہ ہوتی تھی کہ مکہ کے ارد گرد کے تمام علاقوں میں امن وامان نہ تھا اور لوگوں کو اچک لیا جاتا تھا۔ لیکن اہل مکہ ہر وقت امن وامان میں رہتے تھے اور نہایت ہی اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ نیز ان کا سامان زیست بھی ہر طرف سے چلا آرہا تھا ، حاجیوں کے ساتھ اور پر امن تجارتی قافلوں کے ساتھ ، حالانکہ وہ وادی غیر ذی زرع میں بستے تھے۔ اس کے باوجود ہر چیز کا ثمرہ اور ہر قسم کا پھل ان تک پہنچتا تھا۔ یوں وہ امن کے مزے لیتے تھے اور خوشحالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کا یہ حال اس وقت سے تھا جب سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے لئے دعا کی تھی۔

پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو یہ لوگ آپ ﷺ سے اچھی طرح واقف تھے ۔ یہ آپ ﷺ کو صادق و امین کہتے تھے۔ وہ آپ ﷺ میں کوئی کمزوری نہ پاتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو نبوت عطا کرتے ہیں تاکہ آپ ﷺ ان کو اور ان کے ارد گرد پھیلی ہوئی پوری کائنات کی اصلاح کریں۔ اور آپ ﷺ کا دین بھی دین ابراہیم ہے جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی۔ جس کے جوار رحمت میں یہ لوگ امن و اطمینان کی زندگی بسر کرتے ہیں اور نہایت ہی خوشحالی اور فارغ البالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ ﷺ پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے پیروکاروں پر قسم قسم کی سختیاں کرتے ہیں اور ستم ڈھاتے ہیں۔

کسی قریہ کی یہ مثال جو اللہ اہل مکہ کے لئے بیان کرتے ہیں اور وہ خود ان کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے۔ اس کا انجام ان کے انتظام میں ہے جس طرح اللہ نے اس گائوں کی مثال دی جس کے باسی مطمئن اور پر امن تھے۔ ان کے لئے سامان زیست وافر مقدار میں ہر طرف سے آرہا تھا لیکن انہوں نے اللہ کے انعامات کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول کی تکذیب کی۔ پھر کیا ہوا۔

فازاقھا اللہ لباس الحوع الخوف بما کانوا یصنعون (61 : 211) ” تب اللہ نے اس کے باشدوں کو ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا لباس ہوگا “۔ ان پر دوسرے عذاب بھی آئے اس لئے کہ وہ ظالم تھے۔ یہاں اللہ تعالیٰ خوف اور بھوک کو لباس کی طرح مجسم کرکے پیش فرماتے ہیں۔ گویا وہ ہر وقت اس حالت میں رہتے ہیں اور بھوک و افلاس ان کا لباس ہے اور اس لباس کو وہ پہنتے نہیں چکھتے ہیں کیونکہ محض لباس پہننے سے چکھنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس میں قوت ذائقہ اور لامسہ بیک وقت کام کرتی ہے اور اس طرح بھوک اور خوف کا احساس دو چند ہوجاتا ہے اور بات نفس میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے۔ یہ نہایت ہی زودار انداز بیان اس لئے اختیار کیا گیا ہے تاکہ وہ آنے والے انجام کے بارے میں اچھی طرح سوچ سکیں۔

اس مثال میں ایک طرف سے اللہ کی نعمتوں اور رزق کا تخیل دیا گیا ہے اور دوسری جانب ان سے محرومتی کا تصور دیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے یہاں یہ …دیا گیا کہ ان کے لئے جو طیبات حلال کردی گئی ہیں ، ان کو کھائو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرو۔ راہ ایمان پرسیدھے چلو اور شرک سے بچو جس کی وجہ سے ان کے نام نہاد الہوں نے ان پر بعض طیبات بےجواز حرام کردئیے ہیں۔

An-Nahl 16:112Listen in Qur'an →
113

وَلَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌۭ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ ٱلْعَذَابُ وَهُمْ ظَٰلِمُونَ

اور ان کے پاس ان ہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

یہ مثال مکہ پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ اللہ نے اس بستی میں بیت اللہ بنایا۔ پھر اس کو حرکت دیتے ہوئے بلد حرام قرار دیا۔ جو شخص اس میں داخل ہوجائے وہ آمن اور مامون ہوگا۔ کسی کو اجازت نہ ہوگی کہ کوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھائے اگرچہ وہ قاتل ہو۔ جب تک وہ بیت اللہ میں ہے کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ جزیرۃ العرب کی حالت یہ ہوتی تھی کہ مکہ کے ارد گرد کے تمام علاقوں میں امن وامان نہ تھا اور لوگوں کو اچک لیا جاتا تھا۔ لیکن اہل مکہ ہر وقت امن وامان میں رہتے تھے اور نہایت ہی اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ نیز ان کا سامان زیست بھی ہر طرف سے چلا آرہا تھا ، حاجیوں کے ساتھ اور پر امن تجارتی قافلوں کے ساتھ ، حالانکہ وہ وادی غیر ذی زرع میں بستے تھے۔ اس کے باوجود ہر چیز کا ثمرہ اور ہر قسم کا پھل ان تک پہنچتا تھا۔ یوں وہ امن کے مزے لیتے تھے اور خوشحالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کا یہ حال اس وقت سے تھا جب سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے لئے دعا کی تھی۔

پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو یہ لوگ آپ ﷺ سے اچھی طرح واقف تھے ۔ یہ آپ ﷺ کو صادق و امین کہتے تھے۔ وہ آپ ﷺ میں کوئی کمزوری نہ پاتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو نبوت عطا کرتے ہیں تاکہ آپ ﷺ ان کو اور ان کے ارد گرد پھیلی ہوئی پوری کائنات کی اصلاح کریں۔ اور آپ ﷺ کا دین بھی دین ابراہیم ہے جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی۔ جس کے جوار رحمت میں یہ لوگ امن و اطمینان کی زندگی بسر کرتے ہیں اور نہایت ہی خوشحالی اور فارغ البالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ ﷺ پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے پیروکاروں پر قسم قسم کی سختیاں کرتے ہیں اور ستم ڈھاتے ہیں۔

کسی قریہ کی یہ مثال جو اللہ اہل مکہ کے لئے بیان کرتے ہیں اور وہ خود ان کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے۔ اس کا انجام ان کے انتظام میں ہے جس طرح اللہ نے اس گائوں کی مثال دی جس کے باسی مطمئن اور پر امن تھے۔ ان کے لئے سامان زیست وافر مقدار میں ہر طرف سے آرہا تھا لیکن انہوں نے اللہ کے انعامات کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول کی تکذیب کی۔ پھر کیا ہوا۔

فازاقھا اللہ لباس الحوع الخوف بما کانوا یصنعون (61 : 211) ” تب اللہ نے اس کے باشدوں کو ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا لباس ہوگا “۔ ان پر دوسرے عذاب بھی آئے اس لئے کہ وہ ظالم تھے۔ یہاں اللہ تعالیٰ خوف اور بھوک کو لباس کی طرح مجسم کرکے پیش فرماتے ہیں۔ گویا وہ ہر وقت اس حالت میں رہتے ہیں اور بھوک و افلاس ان کا لباس ہے اور اس لباس کو وہ پہنتے نہیں چکھتے ہیں کیونکہ محض لباس پہننے سے چکھنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس میں قوت ذائقہ اور لامسہ بیک وقت کام کرتی ہے اور اس طرح بھوک اور خوف کا احساس دو چند ہوجاتا ہے اور بات نفس میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے۔ یہ نہایت ہی زودار انداز بیان اس لئے اختیار کیا گیا ہے تاکہ وہ آنے والے انجام کے بارے میں اچھی طرح سوچ سکیں۔

اس مثال میں ایک طرف سے اللہ کی نعمتوں اور رزق کا تخیل دیا گیا ہے اور دوسری جانب ان سے محرومتی کا تصور دیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے یہاں یہ …دیا گیا کہ ان کے لئے جو طیبات حلال کردی گئی ہیں ، ان کو کھائو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرو۔ راہ ایمان پرسیدھے چلو اور شرک سے بچو جس کی وجہ سے ان کے نام نہاد الہوں نے ان پر بعض طیبات بےجواز حرام کردئیے ہیں۔

An-Nahl 16:113Listen in Qur'an →
114

فَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا وَٱشْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

پس خدا نے جو تم کو حلال طیّب رزق دیا ہے اسے کھاؤ۔ اور الله کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو

تشریح : اللہ تعالیٰ محرمات کی حد بندی فرما دیتے ہیں۔ محرمات کا شمار کردیا جاتا ہے کہ بس یہی ہیں اس کے سوا کوئی چیز حرام نہیں اور اس شمار میں وہ محرمات نہیں جو انہوں نے از خود اپنے اوپر حرام کر رکھے ہیں۔ مثلاً بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔

An-Nahl 16:114Listen in Qur'an →
115

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

یہ چیزیں مختلف وجوہات سے حرام کی گئی ہیں یا تو اس لئے کہ ان میں جسمانی مصرت ہے یا حسی مضرت ہے مثلاً مردار ، خون اور لحم لغنزیز میں یا نفسیاتی اور نظریاتی مضرت ہے مثلاً وہ ذبحیے جن پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہے۔

آیت : فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فان اللہ غفور رحیم۔ (521) ۔

ترجمہ :” البتہ بھوک سے مجبور اور بےقرار ہو کر اگر کوئی ان چیزوں کو کھانے ، بغیر اس کے کہ وہ قانون الٰہی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہو یا حد ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو ، تو یقینا اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے “۔

اس لئے کہ دین اسلام ایک سہل دین ہے اور اس میں کسی پر غیر ضروری سختی نہیں ہے۔ جس شخص کو موت کا ڈر ہو ، یا بھوک سے سخت بیماری کا اندیشہ ہو یا سخت پیاس کا اندیشہ ہو تو وہ بقدر ضرورت ان چیزوں کو استعمال کرسکتا ہے۔ اس بارے میں فقہی اختلافات ہیں جن کا تذکرہ پہلے ہم کر آئے ہیں۔ غیر باغ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اصول حرمت کو توڑنے والا نہ ہو اور غیر عاد کا مطلب یہ ہے کہ وہ قدر ضرورت سے آگے بڑھنے والا نہ ہو کیونکہ صرف بقدر ضرورت اجازت دی گئی ہے۔

یہ ہیں حدود حلال و حرام جو اللہ نے مطعومات میں وضع کیے ہیں۔ لہٰذا بت پرسانہ اوہام کے نتیجے میں حلال و حرام کے ان حدود سے تجاوز مت کرو ور نہ جھوٹ بولو ، اس طرح کہ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دو اور یہ کہو کہ یہ اللہ کا حکم ہے کیونکہ حلال و حرام کے حدود قیود وضع کرنا صرف اللہ کے اختیارات میں ہے۔ اس کا تعلق قانون سازی سے ہے اور قانون سازی کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ جو شخص اللہ کے اذن کے سوا اور قرآن و سنت کی دلیل کے سوا قانون سازی کرے گا اور اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھے گا وہ جھوٹا ہے اور جھوٹے اللہ کے ہاں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

An-Nahl 16:115Listen in Qur'an →
116

وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ ٱلْكَذِبَ هَٰذَا حَلَٰلٌۭ وَهَٰذَا حَرَامٌۭ لِّتَفْتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ

اور یوں ہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں ہوگا

یہ تمہاری زبانیں جو جھوٹے طور پر بعض چیزوں کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہ حرام ہے اور یہ حلال ہے ان کو حلال و حرام نہ سمجھو۔ یہ افتراء علی اللہ ہے۔ نیز تم جو ایسا کہتے ہو کہ یہ حرام ہے اور یہ حلال ہے بغیر دلیل شرعی کے جھوٹ بھی ہے۔ ایسے لوگ ظٓہر ہے کہ دنیا کے چند روزہ زندگی میں ضرورعیش و عشرت کرلیں گے لیکن آخرت میں ان کے لئے عذاب ہے اور یہ لوگ سخت گھاٹے میں ہوں گے۔

ان آیات کے باوجود ، بعض لوگ اسلامی ممالک میں قانون سازی کا کام کرتے ہیں اور ایسی قانون سازی کرتے ہیں جو قرآن و سنت کے صریح خلاف ہوتی ہے اور پھر بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی ہوگی بلکہ عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے۔

An-Nahl 16:116Listen in Qur'an →
117

مَتَٰعٌۭ قَلِيلٌۭ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اس کے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا

یہاں سورة انعام کی ایک آیت کے مضمون کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ ان میں بعض مزید چیزیں بھی یہودیوں پر حرام کی گئی تھیں۔ ایک یہ ہے۔

وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ومن البقر الغنم حرمنا علیھم شحومھما الا ما حملت ظھور ھما او الحوایا او ما اختلط بعظم (6 : 741) ” اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے ، ان پر ہم نے ہر ناخن والی چیز کو حرام کیا تھا اور گائے اور بھیڑ بکری سے ہم نے ان پر چربی حرام کردی تھی ماسوائے اس کے جو ان کی پیٹھ پر یا آنتوں کے ساتھ یا ہڈیوں سے مخلوط ہو “ تو بتایا جاتا ہے کہ یہ چیزیں ان پر بطور سزا حرام ہوئی تھیں۔

An-Nahl 16:117Listen in Qur'an →
118

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

اور چیزیں ہم تم سے پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

بنی اسرائیل پر یہ چیزین اس لئے حرام کی گئی تھیں کہ وہ مسلسل نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرتے تھے اور یہ ان کی جانب سے خود پنے آپ پر ظلم تھا۔ اب اگر کسی نے برے کام پر اصرار نہ کیا اور جہالت سے سچے دل سے تائب ہوگیا تو اللہ غفور الرحیم ہے۔ اس کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ آیت عام ہے یہودیوں کے لئے بھی تھی اور ان کے بعد آج مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ نیز آج یہودی اور غیر یہودی کافر اگر تائب ہوجائیں تو ان کے بھی تمام گناہ بخشے جائیں گے۔

اس مناسبت سے کہ بعض چیزیں یہودیوں پر کیوں حرام کی گئیں اور یہ کہ اہل مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور جن چیزوں کو انہوں نے اپنے الہوں کے نام پر حرام قرار دیا ہے وہ احکام ان کو دین ابراہیم سے ملے ہیں۔ یہاں روئے سخن ابراہیم (علیہ السلام) اور دین ابراہیم کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ کیا تھے اور آپ کا دین کیا تھا اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ حقیقی دین ابراہیم پر ہیں اور یہ کہ یہودیوں پر جو مخصوص چیزیں ان کے جرائم کی وجہ سے حرام ہوئیں وہ دین ابراہیم میں حرام نہ تھیں۔

An-Nahl 16:118Listen in Qur'an →
119

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٍۢ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا۔ پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے

بنی اسرائیل پر یہ چیزین اس لئے حرام کی گئی تھیں کہ وہ مسلسل نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرتے تھے اور یہ ان کی جانب سے خود پنے آپ پر ظلم تھا۔ اب اگر کسی نے برے کام پر اصرار نہ کیا اور جہالت سے سچے دل سے تائب ہوگیا تو اللہ غفور الرحیم ہے۔ اس کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ آیت عام ہے یہودیوں کے لئے بھی تھی اور ان کے بعد آج مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ نیز آج یہودی اور غیر یہودی کافر اگر تائب ہوجائیں تو ان کے بھی تمام گناہ بخشے جائیں گے۔

اس مناسبت سے کہ بعض چیزیں یہودیوں پر کیوں حرام کی گئیں اور یہ کہ اہل مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور جن چیزوں کو انہوں نے اپنے الہوں کے نام پر حرام قرار دیا ہے وہ احکام ان کو دین ابراہیم سے ملے ہیں۔ یہاں روئے سخن ابراہیم (علیہ السلام) اور دین ابراہیم کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ کیا تھے اور آپ کا دین کیا تھا اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ حقیقی دین ابراہیم پر ہیں اور یہ کہ یہودیوں پر جو مخصوص چیزیں ان کے جرائم کی وجہ سے حرام ہوئیں وہ دین ابراہیم میں حرام نہ تھیں۔

An-Nahl 16:119Listen in Qur'an →
120

إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةًۭ قَانِتًۭا لِّلَّهِ حَنِيفًۭا وَلَمْ يَكُ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

بےشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور خدا کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

قرآن کریم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بطور نمونہ ہدایت ، مجسمہ انابت اور صبرو شکر کا پیکر اور مطیع اور عبادت گزار بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ وہ امت تھے ، یعنی ان کے اندر جو اطاعت ، انابت اور شکر و برکت تھی وہ پوری امت کے برابر تھی۔ یا اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ امام ہدایت تھے…مفسرین سے دونوں مفہوم مروی ہیں۔ اور دونوں مفہوم ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ کیونکہ جو امام ہدایت کی راہ دکھائے وہی امت کا قائد ہوتا ہے اور ایسے امام کو ان تمام لوگوں کے اعمال کا ثواب بھی ملے گا جن کو اس نے ہدایت کا راستہ دکھایا۔ اس طرح یہ راہنما بذات خود ایک امت بن جاتا ہے۔ وہ فرد واحد نہیں رہتا۔

قائنا للہ (61 : 021) کا مفہوم ہے اطاعت گزار ، خشوع کرنے والا اور عبادت کرنے والا۔

حنیفا (61 : 021) کا مفہوم ہے حق کی طرف متوجہ ہونے والا۔ سچائی کا قلبی میلان رکھنے والا۔

ولم یک من المشرکین (61 : 021) ” وہ مشرکین میں سے نہ تھے “۔ لہٰذا مشرکین کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنا تعلق ان سے ظاہر کریں۔ نہ اپنے آپ کو ان کے ذریعے متبرک بنائیں۔

An-Nahl 16:120Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.