Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 101–110 of 128

101

وَإِذَا بَدَّلْنَآ ءَايَةًۭ مَّكَانَ ءَايَةٍۢ ۙ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍۭ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں

[١٠٤] قیامت کب ؟ ایک سوال کے مختلف جوابات :۔ اس سے مراد کافروں کے کسی سوال یا اعتراض کے مختلف مواقع پر مختلف جواب بھی ہوسکتے ہیں مثلاً کافر اکثر یہ پوچھتے رہتے کہ جس قیامت کی تم بات کرتے رہتے ہو وہ آئے گی کب ؟ اس سوال کا ایک مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ وہ اس طرح دفعتاً آئے گی کہ تمہیں خبر تک نہ ہوسکے گی۔ دوسرے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ جب وہ آئے گی تو اس وقت تمہارا ایمان لانا بےسود ہوگا اور تیسرے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ جب وہ آجائے گی تو اس میں لمحہ بھر کے لیے بھی تقدیم و تاخیر نہ ہوسکے گی اور چوتھے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ انھیں کہہ دیجئے کہ اس کا علم صرف اللہ کو ہے اور میں تو فقط اس کا رسول ہوں۔- ناسخ اور منسوخ احکام کی کیفیت :۔ اور یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ قرآن میں اقوام و انبیائے سابقہ کے حالات مختلف مقامات پر کہیں اجمالاً بیان ہوئے ہیں کہیں تفصیلاً کہیں ایک پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے کہیں کسی دوسرے پہلو کو۔ یہی صورت احکام کی بھی ہے جن میں تدریج کا لحاظ رکھا گیا ہے اور یہ تدریج لوگوں کے عقل و فہم یا ان کی ایک وقت عدم استعداد اور دوسرے وقت استعداد کی بنا پر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ چونکہ ہر طرح کے حالات سے باخبر ہے لہذا اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ حالات کے تقاضوں کے مطابق احکام نازل کرے۔ اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے حکیم ایک مریض کے لیے پہلے کوئی اور دوا تجویز کرتا ہے پھر مریض کی کیفیت کے مطابق دوا تبدیل کردیتا ہے۔- [١٠٥] تبدیلی احکام کی بنا پر آپ پر قرآن گھڑنے کا الزام :۔ ایسی تبدیلی کی صورت میں کافر یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ کلام اللہ کا نہیں ہوسکتا۔ اللہ تو پہلے ہی ہر بات سے باخبر ہے۔ اس کے احکام میں تبدیلی یا ایک سوال کے مختلف جوابات کیوں ہوتے ہیں۔ ہو نہ ہو یہ کلام اس نبی نے خود گھڑ لیا ہے۔ کسی وقت کوئی جواب دے دیتا ہے اور کسی وقت کوئی دوسرا۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ کافروں کا یہ جواب محض جہالت پر مبنی ہے۔ تبدیلی احکام کی وجہ یہ نہیں کہ نعوذ باللہ اللہ پہلے نہیں جانتا تھا بلکہ اس کی اصل وجہ لوگوں کی استعداد اور عدم استعداد اور حالات کے تقاضے ہوتے ہیں۔

An-Nahl 16:101Listen in Qur'an →
102

قُلْ نَزَّلَهُۥ رُوحُ ٱلْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ لِيُثَبِّتَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهُدًۭى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے

[١٠٦] روح القدس سے مراد ؟ پاکیزہ روح یا پاکیزگی کی روح اور اس سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں جو ہر طرح کی بشری کمزوریوں سے پاک ہیں۔ وہ نہ خائن ہیں نہ کذاب ہیں اور نہ مفتری۔ نہ وہ اللہ کے نازل کردہ کلام میں سے کچھ حذف کرتے ہیں اور نہ اس میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ نہ ترمیم و تنسیخ کرسکتے ہیں بلکہ اللہ کا کلام جوں کا توں نبی کے دل پہ نازل کرتے ہیں۔- [١٠٧] نزول قرآن میں تدریج کے فائدے :۔ قرآن اتارنے میں جو حالات کے تقاضوں کے تحت تدریج کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس کے دو بڑے فائدے ہیں ایک یہ کہ تکرار احکام سے ایمان میں بتدریج پختگی واقع ہوتی رہتی ہے اور ان میں ثبات و استقلال پیدا ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ جو کفار مکہ آئے دن مسلمانوں پر ناجائز مظالم اور سختیاں کرتے رہتے تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو بھی بار بار تسلی دینے، مصائب میں ثابت قدم رہنے۔ اس دنیا میں بھی سیدھی راہ پر گامزن رکھنے پر اور مصائب کی برداشت پر اور جنت کی خوشخبری دینے کی ضرورت پیش آتی رہی۔ (احکام میں تدریج اور تبدیلی کے سلسلہ میں سورة بقرہ کی آیت نمبر ١٠٦ کا حاشیہ بھی ملاحظہ فرمالیجئے)

An-Nahl 16:102Listen in Qur'an →
103

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُۥ بَشَرٌۭ ۗ لِّسَانُ ٱلَّذِى يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِىٌّۭ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّۭ مُّبِينٌ

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے

[١٠٨] کسی عجمی سے قرآن سیکھنے کا جواب :۔ اس سلسلے میں کفار مکہ متعدد عجمی غلاموں کے نام لیتے تھے جو تورات اور انجیل کی تعلیم سے واقف تھے۔ جب کبھی کافروں نے دیکھا کہ آپ دعوت اسلام کے لیے ان کے پاس گئے یا وہ غلام آپ کے پاس آیا تو کافروں نے مشہور کردیا کہ یہ نبی تو فلاں آدمی سے سابقہ امتوں کے قصے اور کہانیاں سنتا ہے۔ پھر ہمیں سنا دیتا ہے۔ حالانکہ وہ عجمی غلام اپنی زبان میں تو بات کرسکتے تھے۔ عربی ٹھیک طرح بول بھی نہ سکتے تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا یہ جواب دیا کہ قرآن کی زبان تو اس قدر فصیح وبلیغ ہے کہ اس کی نظیر لانے سے تم عربی لوگ اپنی فصاحت و بلاغت پر فخر کرنے کے باوجود قاصر ہو تو بھلا ایک عجمی شخص یہ کلام کیسے سکھلا سکتا ہے جبکہ وہ خود عربی ٹھیک طرح بول بھی نہیں سکتا اور چند ٹوٹے پھوٹے جملے بول کر اپنا کام چلاتا ہے۔- اور اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر وہ عجمی غلام اتنا ہی بڑا عالم تھا تو اس نے یہ کلام خود اپنی طرف سے کیوں نہ پیش کردیا۔ یا کم از کم اسے اس زمانہ میں نامور تو ضرور ہونا چاہیے جبکہ ان کی گمنامی کا یہ حال ہے کہ کافر ان تین چار غلاموں میں سے کسی ایک کا نام تک متعین نہ کرسکے کہ وہ کون تھا جو آپ کو قرآن سکھلا جاتا تھا۔

An-Nahl 16:103Listen in Qur'an →
104

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَا يَهْدِيهِمُ ٱللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے

[١٠٩] یعنی جن لوگوں نے تہیہ ہی یہ کرلیا ہو کہ وہ کسی قیمت پر بھی حق بات کو تسلیم نہ کریں گے۔ تو اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ زبردستی انھیں راہ راست پر لائے۔ ان کی موت اسی حالت پر ہوگی اور انھیں اپنی کرتوتوں کی درد ناک سزا ملے گی۔

An-Nahl 16:104Listen in Qur'an →
105

إِنَّمَا يَفْتَرِى ٱلْكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰذِبُونَ

جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں

[١١٠] افترا کا الزام لگانے والے قریش خود مفتری تھے :۔ قریش یہ جانتے تھے کہ اس نبی نے زندگی بھر نہ کبھی جھوٹ بولا اور نہ ہی کوئی جھوٹی بات کسی کے ذمہ لگائی ہے۔ تو کیا اب وہی شخص اللہ کے ذمہ جھوٹی بات لگا سکتا ہے ؟ اور انھیں یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کلام مجھ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے درآنحالیکہ واقعتا ایسی بات نہ ہو ؟ بلکہ حقیقتاً جھوٹے اور افتراء پرداز تو یہ لوگ خود ہیں جو سب کچھ جانتے بوجھتے نبی کے متعلق ایسی غلط باتیں کرتے ہیں اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ کلام کو دوسروں کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں۔

An-Nahl 16:105Listen in Qur'an →
106

مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُۥ مُطْمَئِنٌّۢ بِٱلْإِيمَٰنِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلْكُفْرِ صَدْرًۭا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا

[١١١] اضطراری حالت میں کلمہ کفر کہنے کی رخصت :۔ اگر کوئی مسلمان مصیبتوں اور سختیوں سے گھبرا کر یا جان کے خطرہ کے وقت منہ سے کوئی کلمہ کفر کہہ دے بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر بدستور قائم ہو تو اس بات کی رخصت ہے ورنہ اصل حکم یا عزیمت یہی ہے کہ اس وقت بھی اس کے پائے استقلال میں لغزش نہ آنے پائے اور وہ اس رخصت سے فائدہ نہ اٹھائے۔ چناچہ دور مکی میں مسلمانوں پر قریش مکہ کی طرف سے جو مظالم و شدائد ڈھائے جاتے رہے ان میں اکثر صحابہ کرام (رض) عزیمت پر ہی عمل پیرا رہے۔ وہ مصائب جھیلتے رہے مگر ان کے پائے استقلال میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔ حتیٰ کہ بعض صحابہ نے اپنی جانیں تک قربان کردیں۔ لے دے کے ایک مثال سیدنا عمار بن یاسر (رض) کی ہمیں ملتی ہے۔ عمار (رض) خود ان کے باپ یاسر اور ان کی ماں سمیہ سب ابو جہل سردار قریش مکہ کے غلام تھے۔ سیدنا عمار (رض) کے سامنے ان کے والد کو شہید کیا گیا اور ابو جہل لعین نے ان کی والدہ کی شرمگاہ میں نیزہ مار کر انھیں شہید کردیا۔ ان حالات میں آپ نے مجبور ہو کر وہ سب کچھ کہہ دیا جو کافر آپ سے کہلوانا چاہتے تھے پھر اسی وقت آپ حضور کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ میں نے ایسے اور ایسے حالات میں آپ کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر کیا آپ نے فرمایا اپنے دل کی کیفیت بتاؤ سیدنا عمار (رض) کہنے لگے میرا دل تو پوری طرح ایمان پر مطمئن ہے آپ نے فرمایا اچھا اگر پھر تم سے وہ ایسا ہی سلوک کریں تو تم پھر اس رخصت سے فائدہ اٹھا لینا اسی سلسلہ میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ (بخاری۔ کتاب الاکراہ۔ باب قول اللہ الامن اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان)- [١١٢] یعنی جو لوگ اسلام لانے کے بعد پیش آمدہ مصائب سے گھبرا کر اپنی سابقہ کفر کی آرام طلب زندگی کو ترجیح دینے لگیں اور کسی قسم کا دنیوی نقصان بھی برداشت کرنے پر آمادہ نہ ہوں اور انھیں وجوہ کی بنا پر برضاء ورغبت پھر کفر کی راہ اختیار کرلیں۔ تو ایسے لوگ فی الواقع عذاب عظیم کے مستحق ہیں۔

An-Nahl 16:106Listen in Qur'an →
107

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْءَاخِرَةِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

[١١٣] مہر کن لوگوں کے دلوں پہ لگتی ہے ؟ یہ اس لیے کہ ایسے لوگوں نے اسلام کو حق سمجھ کر قبول تو کرلیا مگر اس کی حقانیت اور مصائب کے عوض اخروی اجر کی قدر و قیمت ان کی نگاہوں میں اتنی بھی نہ تھی کہ اپنے دنیوی مفادات کا وقتی طور پر کچھ نقصان برداشت کرلیتے۔ یہ دنیا طلبی اور ہوا پرستی کے نشہ میں ایسے مست ہوچکے ہیں کہ ان کے ہوش میں آنے کی کوئی امید نہیں۔ اور عقل و فکر کی جو قوتیں عطا کی گئی تھیں ان سب کو انہوں نے بیکار بنادیا۔ ایسے ہی لوگوں کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتے ہیں۔

An-Nahl 16:107Listen in Qur'an →
108

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَٰرِهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَٰفِلُونَ

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔ اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

Explained together with ayah 107

An-Nahl 16:108Listen in Qur'an →
109

لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے

Explained together with ayah 107

An-Nahl 16:109Listen in Qur'an →
110

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوا۟ ثُمَّ جَٰهَدُوا۟ وَصَبَرُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے

[١١٤] ہجرت حبشہ :۔ اس آیت میں ان مظلوم مسلمانوں کا ذکر ہے جن پر قریش مکہ نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ اور جو با لآخر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ ہجرت ٤ یا ٥ نبوی میں ہوئی تھی۔ اور تقریباً اسی (٨٠) صحابہ اپنا گھر بار، رشتہ دار، اموال و جائداد اور اپنا وطن مالوف چھوڑ کر مکہ سے حبشہ کی طرف چلے گئے تھے۔ پھر انھیں لوگوں نے دوبارہ حبشہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ پھر آپ کے ہمراہ غزوات میں بھی شریک ہوتے رہے اور ہر طرح کے مصائب خوشدلی سے برداشت کرتے رہے۔ ایسے لوگوں کی چھوٹی موٹی لغزشیں اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔

An-Nahl 16:110Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.