Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 11–20 of 128

11

يُنۢبِتُ لَكُم بِهِ ٱلزَّرْعَ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلنَّخِيلَ وَٱلْأَعْنَٰبَ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور (اور بےشمار درخت) اُگاتا ہے۔ اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لیے اس میں (قدرتِ خدا کی بڑی) نشانی ہے

يُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُوْنَ ۔۔ : ایک ہی پانی، ایک ہی زمین، ایک ہی ہوا اور ایک ہی سورج کی تپش سے گندم اور جو وغیرہ کے زمین میں سیدھے یا الٹے دفن شدہ دانے سے کھیتی، گٹھلی سے زیتون، قلم سے انگور اور بیشمار کھیتیاں اور پھل پیدا فرمائے۔ لحمیات، نشاستہ، شکر، وٹامنز، دوائیں، لکڑی، الغرض زندگی کی ہر ضرورت کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ تم تو زمین میں دانے یا گٹھلیاں پھینک کر آگئے تھے اور کئی بیج تم نے ڈالے بھی نہیں تھے، یہ سب اگانے والا کون ہے ؟ اپنے اس بابے اور مشکل کشا کا نام تو بتاؤ۔ لطف یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان چیزوں اور آئندہ ذکر ہونے والی چیزوں کا خالق ہونے کا کوئی دعوے دار بھی نہیں۔ ان تمام چیزوں میں اللہ کے بیشمار انعامات اور اس کی توحید اور قدرت کی بہت بڑی نشانی موجود ہے (لَاٰیَةًکی تنوین تعظیم کے لیے ہے) مگر ان کے لیے جو غور و فکر کریں، ان کے لیے نہیں جو سوچنے کی زحمت ہی نہ کریں۔ دیکھیے سورة رعد (٣، ٤) اور سورة واقعہ ( ٦٣ تا ٦٧) ۔

12

وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ ۖ وَٱلنُّجُومُ مُسَخَّرَٰتٌۢ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ

اور اسی نے تمہارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا۔ اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں

وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۔۔ : تسخیر کا معنی کسی چیز کو اس کا اختیار اور مرضی ختم کرکے اپنا تابع بنا کر اپنی مرضی کے مطابق چلانا ہے۔ رات اور دن کے ساتھ سورج اور چاند کے تعلق کی بنا پر چاروں کا ذکر اکٹھا کیا۔ ” لَكُمُ “ (تمھارے لیے) کا یہ مطلب نہیں کہ رات دن اور سورج چاند تمہارے تابع فرمان کردیے ہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے زبردست حکم ہی کے تابع ہیں، اس کے مقرر کردہ نظام سے نہ بال برابر ادھر ادھر ہوسکتے ہیں نہ آنکھ جھپکنے کے برابر ادھر ادھر۔ (دیکھیے فاطر : ٤١) ” لَکُمْ “ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو تمہاری بقا، ضروریات اور منافع کے لیے پابند کر رکھا ہے۔ اسے لام انتفاع کہتے ہیں، اسی لیے ترجمہ ” تمہاری خاطر “ کیا گیا ہے۔ ” وَسَخَّرَ “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی یا اختیار استعمال ہی نہیں کرسکتے، صرف انسان کو آزمائش کے لیے کچھ اختیار دیا ہے، وہ بھی صحیح یا غلط راستہ اختیار کرنے کا، باقی وہ بھی اللہ تعالیٰ کے زبردست حکم کے آگے بےبس ہے، زندگی اور موت پر، فقرو غنا پر، صحت و بیماری پر، الغرض بیشمار چیزیں ہیں جن پر انسان کا کچھ اختیار نہیں۔ باقی تمام مخلوق کو جو مکمل مسخر کردیا اور ان کی مرضی بالکل ختم کردی تو یہ ان سے پوچھ کر ہی کیا، اگر وہ بھی آزمائش قبول کر کے کچھ اختیار چاہتے تو انھیں مل جاتا، مگر انھوں نے جرأت ہی نہیں کی اور مکمل خود سپردگی اختیار کی، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا) [ الأحزاب : ٧٢ ] ” بیشک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈرگئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بلاشبہ وہ ہمیشہ سے بہت ظالم، بہت جاہل ہے۔ “ اور انسان کے فائدے کی مثالوں کے لیے دیکھیے سورة نبا کی ابتدائی آیات اور سورة قصص (٧١، ٧٢) ۔- وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ ۔۔ : ” وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ “ یہ ” وَسَخَّرَ “ کے مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب تھے، ” النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌ“ کو مرفوع اور مبتدا و خبر کی صورت میں الگ فرمایا، کیونکہ سیاروں کا معاملہ سورج چاند سے بھی بیحد وسیع ہے۔ انسان کو اب تک جو کچھ معلوم ہوا ہے اس کے مطابق ایک ایک سیارہ اتنا عظیم ہے کہ سورج چاند اس کے مقابلے میں کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتے اور ایسی بیشمار کہکشائیں ہیں جن کا ہر سیارہ ہمارے سورج سے بھی بڑا ہے اور ہم سے اتنے دور ہیں کہ لاکھوں نوری سالوں میں بعض کی روشنی اب زمین تک پہنچی ہے اور بعض کی اب بھی نہیں، حالانکہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ ہمیں تو ان کے یہی فوائد معلوم ہیں کہ یہ رات کی تاریکی میں چراغ، آسمان کے لیے زینت، شیاطین سے آسمان کی حفاظت کا ذریعہ اور بر و بحر کی ظلمتوں میں راستہ بتانے والے ہیں، مگر جب چاند کی اتنی تاثیر ہے کہ اس کے عروج و زوال سے سمندر جیسی عظیم مخلوق مدو جزر کا شکار ہوجاتی ہے تو ان ستاروں کی کائنات پر تاثیر تو انھیں پیدا کرنے والا ہی جانتا ہے۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ”(پہلی) چار چیزوں سے تو بندوں کے کام صریح طور پر وابستہ نظر آتے ہیں، مگر ستاروں سے انسانی فوائد کا تعلق ہونا صریح نہ تھا، اس لیے ان کو جدا کردیا۔ (فَتَدَبَّرْ ) “ ہاں سورج، چاند یا ستاروں کا تقدیر سے یا غیب کی بات معلوم کرنے سے کوئی تعلق نہیں، نہ ان کے پاس بارش برسانے یا نفع نقصان کا کچھ اختیار ہے۔ جو شخص یہ عقیدہ رکھے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا اور ستاروں پر ایمان رکھنے والا ہے۔ (دیکھیے بخاری : ١٠٣٨) ستاروں کی تسخیر میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی ایک نہیں …

13

وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُخْتَلِفًا أَلْوَٰنُهُۥٓ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَذَّكَّرُونَ

اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں (سب تمہارے زیر فرمان کردیں) نصیحت پکڑنے والوں کے لیے اس میں نشانی ہے

. وَمَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ ۔۔ : ” ذَرَاَ “ کا اصل معنی کسی چیز کو توالد و تناسل کے ذریعے سے پھیلانا ہے، اسی سے ” ذُرِیَّۃٌ“ کا لفظ نکلا ہے، جیسے آدم اور حوا ( علیہ السلام) سے بیشمار انسان، ہر حیوان سے بیشمار حیوان، ہر پودے سے بیشمار پودے، الغرض رنگا رنگ مخلوق کا اس طرح تمہارے فائدے کے لیے پھیلانا اللہ تعالیٰ کی توحید کی بہت بڑی نشانی ہے، ان کے لیے جو نصیحت حاصل کریں۔ ویسے ” ذَرَاَ “ کا معنی ” خَلَقَ “ بھی آتا ہے، یعنی زمین میں جو کچھ اللہ نے پیدا کرکے پھیلا دیا، مثلاً انسان، حیوان، نباتات، معدنیات، سیالات، گیسیں، بجلی، بھاپ اور کئی قسم کی شعاعیں، الغرض مختلف رنگوں اور قسموں والی چیزوں میں، جو سب انسان کے فائدے کے لیے ہیں، خالق کی پہچان اور اس کے وحدہ لا شریک لہ ہونے کے یقین کی بہت سی نشانیاں ہیں، مگر ان کے لیے جو نصیحت قبول کرتے ہوں، جو برتن ہی الٹا ہوجائے اس میں کوئی چیز کیسے ڈالی جاسکتی ہے۔ کائنات کی رنگا رنگی اللہ کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہے۔ دیکھیے سورة روم (٢٢) ۔

14

وَهُوَ ٱلَّذِى سَخَّرَ ٱلْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا۟ مِنْهُ لَحْمًۭا طَرِيًّۭا وَتَسْتَخْرِجُوا۟ مِنْهُ حِلْيَةًۭ تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى ٱلْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکر کرو

وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ ۔۔ : اور وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے سمندر جیسی عظیم مخلوق کہ اگر ب پھر جائے تو خشکی پر چڑھ کر ہر قسم کی زندگی درہم برہم کر ڈالے، کو پابند فرما دیا کہ اپنی حدود میں رہے اور انسان کو اپنی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے دے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سمندر سے حاصل ہونے والی چار نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ وہ نعمتیں جو سمندر میں بنی اسرائیل کو راستہ دینے یا موسیٰ (علیہ السلام) کے تابوت کو کنارے پر پہنچانے کی صورت میں ہوئیں، وہ ان کے علاوہ ہیں۔ یہ چار نعمتیں درج ذیل ہیں :- لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا : ” طَرِيًّا “ کا مصدر ” طَرَاوَۃٌ“ ہے، اس کا فعل ” قَرُبَ “ اور ” شَرُفَ “ کے وزن پر آتا ہے، یہ ” یَابِسٌ“ کی ضد ہے، یعنی تروتازہ۔ مراد مچھلیاں اور پانی کا ہر وہ جانور ہے جو پانی کے بغیر زندہ نہ رہ سکے۔ سمندر کا مردار بھی حلال ہے اور محرم کو بھی سمندری شکار کی اجازت ہے۔ بعض لوگوں نے تمام سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کو حلال قرار دیا ہے، جو پکڑتے وقت زندہ ہو، لیکن یہ بات درست نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (٩٦) اس میں اشارہ ہے کہ سمندری جانور تازہ حالت ہی میں لذیذ اور مفید ہوتا ہے، باسی ہو تو ضرر رساں ہوتا ہے۔ علامہ قاسمی نے فرمایا : ” لَحْمًا طَرِيًّا “ - سے مچھلی کی بناوٹ کا حسن، لچک، ملائمت اور تری مراد ہے، ورنہ اس کا گوشت خشک کرکے محفوظ بھی کیا جاتا ہے۔ “ میں کہتا ہوں غزوہ سیف البحر میں سمندر کے پانی کی چھوڑی ہوئی بہت بڑی مچھلی صحابہ کرام ایک ماہ تک کھاتے رہے اور بچا کر مدینہ بھی لے گئے۔ یہ اسے نمک وغیرہ لگا کر خشک کرنے کے عمل کے بغیر کیسے ممکن ہے، اسی طرح اب برف یافریزر میں مچھلی ایک عرصہ تک محفوظ رہتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کمال ہے کہ سخت نمکین کڑوے پانی میں لذیذ گوشت تیار فرمایا، بتاؤ اس میں کون سے گنج بخش یا دستگیر کا حصہ ہے اور کتنا حصہ ہے ؟- وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا : ” تُخْرِجُوْا “ کے بجائے ” ّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ “ سے کثرت کے ساتھ نکالنے کی طرف اشارہ ہے۔ ” حِلْيَةً “ جس سے آرائش و زینت حاصل ہو، تاکہ تم اس سے زیور، موتی، مرجان، سونا اور اس میں چھپے ہوئے بیشمار خزانے اور دھاتیں کثرت سے نکالو۔ اس میں اللہ کی یہ نعمت بھی آگئی کہ سمندر کو ایسا بنایا کہ انسان اس میں غوطہ لگا سکے۔ مسلمانوں کے لیے یہ ترغیب بھی ہے کہ وہ غوطہ خوری میں مہارت حاصل کریں، خود بھی اور مشینوں کے ساتھ بھی اور سمندر کے خزانوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ کفار کو کھلا نہ چھوڑیں کہ وہ اس کے خزانوں اور تیل، گیس اور دوسری معدنیات اور نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں اور مسلمان ان کی محتاجی ہی پر قانع رہیں۔- : ” وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ مَوَاخِرَ مَاخِرَۃٌ“ کی جمع ہے، اپنے سینے سے پانی کو چیرنے والی۔ اس لیے تمام بحری جہازوں کا سامنے کا حصہ نوک دار رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت ہے کہ پانی جس میں ہر چیز غرق ہوجاتی ہے، حتیٰ کہ سوئی بھی اس میں ڈوب جاتی ہے، اسے اس طرح بنایا کہ جب وزن اور حجم کی خاص نسبت رکھنے والی کوئی چیز اس میں ڈالی جائے تو وہ اسے اٹھا لیتا ہے، حتیٰ کہ لاکھوں ٹن وزن اٹھانے والے بحری جہاز پانی کو چیرتے ہوئے چلے جاتے ہیں، مگر پانی اللہ کے حکم سے انھیں اٹھاتا بھی ہے، راستہ بھی دیتا ہے اور خوراک بھی مہیا کرتا ہے۔ - لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ : دور دراز کے کم خرچ اور آسان سفر، دنیا کی سیر، علم کا حصول، حج و عمرہ، تجارت، جہاد، مال غنیمت، الغرض کوئی ایک فائدہ اور فضل ہو تو گنا جائے، یہ سب کچھ اکیلے اللہ نے بنایا، کسی داتا یا دیوتا کا اس میں کچھ دخل نہیں اور اس نے یہ اس لیے بنایا کہ تم ان نعمتوں کی قدر کرو اور اس کے احکام پر عمل کرکے …

15

وَأَلْقَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ رَوَٰسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَٰرًۭا وَسُبُلًۭا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور رستے بنا دیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جاسکو

وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حجر ( ١٩) اور سورة رعد (٣) یہاں پہاڑوں اور نہروں کے ساتھ راستوں کا بھی ذکر فرمایا، کیونکہ پہاڑوں میں دریا ہی راستہ بناتے ہیں اور انھی کے کناروں پر وسیع سڑکیں بنتی ہیں۔

16

وَعَلَٰمَٰتٍۢ ۚ وَبِٱلنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ

اور (راستوں میں) نشانات بنا دیئے اور لوگ ستاروں سے بھی رستے معلوم کرتے ہیں

وَعَلٰمٰتٍ : یعنی راستوں میں چھوٹے بڑے پہاڑ، دریاؤں کے موڑ، ریت کے ٹیلے، سبزہ زار، باغات، شہر، آبادیاں، الغرض بیشمار علامتیں رکھیں جن کے ساتھ لوگ صحیح راستے پر رواں دواں رہتے ہیں۔ - وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ : ” اَلنَّجْمُ “ سے مراد یہاں جنس ہے، کوئی ایک ستارہ نہیں، یعنی رات کے وقت سمندر یا خشکی میں جہاں دوسری نشانیاں کام نہیں دیتیں، لوگ ستاروں کے ذریعے سے راستہ معلوم کرتے ہیں۔ راستوں کے علاوہ سمت، قبلہ اور اوقات کی پہچان بھی ستاروں سے حاصل ہوتی ہے۔ ” يَهْتَدُوْنَ “ میں یہ سب چیزیں داخل ہیں، (روح المعانی) ” هُمْ “ کی ضمیر خشکی اور سمندر میں چلنے والے ہر مسافر کو شامل ہے، البتہ سب سے پہلے اہل مکہ اس میں داخل ہیں، کیونکہ وہ تجارت کے لیے کثرت سے سفر کرتے تھے اور ستاروں کے ذریعے سے راستے معلوم کرنے میں مشہور تھے۔ دیکھیے سورة قریش کی تفسیر۔ اس سے پہلے کفار سے خطاب چلا آ رہا تھا، یہاں ان کا ذکر غائب کی ضمیر سے فرمایا، یہ التفات اتنی بڑی نعمتوں کے باوجود ان کے شرک پر اظہار ناراضگی کے لیے ہے کہ تم لوگ خطاب کے قابل ہی نہیں، مگر اگلی آیت میں پھر خطاب ہے، کیونکہ اس میں ان کو لاجواب کرنے کے لیے ان سے براہ راست سوال ہے۔

17

أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لَّا يَخْلُقُ ۗ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے۔ کیا وہ ویسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے؟

اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۔۔ : یہ سب نعمتیں جو ذکر ہوئیں، سب جانتے اور مانتے ہیں کہ ایک اللہ کی پیدا کردہ ہیں اور جنھیں مشرکین پکارتے ہیں انھوں نے نہ کچھ پیدا کیا ہے، نہ کرسکتے ہیں، حتیٰ کہ اس کا دعویٰ بھی نہیں کرسکتے (دیکھیے سورة حج : ٧٣) تو یہ بتاؤ کہ ہر چیز کے خالق کو تم نے ان بےبس ہستیوں کے برابر کردیا جو مکھی کا پر بھی نہیں بنا سکتیں، تو کیا یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔ سچ ہے : (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ) [ الأنعام : ٩١ ] ” انھوں نے اللہ کی قدر ہی نہیں کی جو اس کی قدر کا حق تھا۔ “ یہ مضمون مفصل سورة رعد ( ١٦) میں ملاحظہ فرمائیں۔ علامہ زمخشری نے یہاں سوال اٹھایا ہے کہ ” مَنْ “ کا لفظ تو ذوی العقول کے لیے ہوتا ہے، یہاں بتوں کے لیے کیوں استعمال ہوا، پھر جواب دیا ہے کہ چونکہ مشرکین انھیں حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے تھے، اس لیے ان کے عقیدے کے مطابق ” كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ “ فرمایا ہے۔ حالانکہ اس کا سادہ اور صحیح جواب یہ ہے کہ وہ محض پتھروں کو نہیں پوجتے تھے، بلکہ ان ہستیوں کو پکارتے تھے جن کے وہ بت بناتے تھے، مثلاً انھوں نے مریم، ابراہیم اور اسماعیل کے مجسّمے بیت اللہ کے اندر رکھے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھوں میں فال کے تیر پکڑائے ہوئے تھے۔ [ دیکھیے بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : ( و اتخذ اللہ إبراہیم خلیلا ) : ٣٣٥١، ٣٣٥٢ ] قوم نوح کے بت بھی اولیاء اللہ ہی کے مجسمے تھے۔ دیکھیے تفسیر سورة نوح ( ٢٣) یہ سب ذوی العقول تھے، بلکہ ذوی العقول کے استاد تھے، اس لیے زمخشری نے جو سوال اٹھایا ہے وہ پیدا ہی نہیں ہوتا۔

18

وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہ سکو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا : شمار ہی نہیں کرسکتے تو شکر کس طرح ادا کرسکتے ہو ؟ دیکھیے سورة ابراہیم (٣٤) کی تفسیر۔ - اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ : یعنی یہ اس کی بخشش اور مہربانی ہے کہ تمہاری ناشکری کے باوجود تمہیں بیشمار نعمتیں عطا کرتا ہے اور توبہ کرنے اور پلٹ آنے پر تمہارے تمام گناہ معاف کردیتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ ، ثُمَّ تَابَ تَاب اللّٰہُ عَلَیْہِ ) ” بندہ جب اعتراف کرلے، پھر توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہوجاتا ہے۔ “ [ بخاري، المغازي، باب حدیث الإفک : ٤١٤١۔ مسلم : ٢٧٧٠ ] پھر تھوڑے سے شکر پر بہترین جزا دیتا ہے، مقصد امید کا دروازہ کھلا رکھنا ہے۔

19

وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے

وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ : اللہ کے سوا کوئی بھی سب لوگوں کے اعمال نہیں جان سکتا، چھپے ہوئے عمل تو بہت دور کی بات ہے، علانیہ بھی نہیں جان سکتا۔ چند لوگوں کے چند اعمال اس کے دیکھنے سننے میں آ بھی جائیں تو بیشمار انسانوں کے اعمال کیسے جان سکتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ تمام جنوں اور انسانوں کے علانیہ کاموں کے علاوہ ان کے چھپ کر کیے ہوئے کام بھی جانتا ہے، بلکہ سینے کے راز تک جانتا ہے۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (٧) اور سورة اعلیٰ (٧) کی تفسیر۔ لہٰذا یہ نہ سمجھو کہ تمہارے شرک و کفر کے باوجود تم پر جو رحم فرما رہا ہے اور نعمتوں پر نعمتیں دے رہا ہے یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ وہ تمہارے اعمال سے ناواقف ہے، بلکہ اس تمام ناشکری اور نافرمانی کے باوجود اس کی مہربانی اس لیے ہے کہ شاید تمہاری آنکھیں کھلیں اور تم اپنے کرتوتوں سے باز آجاؤ۔ اس میں کافروں کے لیے یہ تنبیہ ہے کہ معبود تو وہی ہونا چاہیے اور ہوسکتا ہے جو ظاہر اور پوشیدہ ہر چیز کا جاننے والا ہو۔

20

وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْـًۭٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ

اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بناسکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں

وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۔۔ : اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کی بےبسی اور عجز کے بیان کے لیے تین اوصاف بیان فرمائے، پہلا یہ کہ وہ کچھ پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، خالق صرف ایک ہی ہے، کیونکہ اگر ان کے معبود نیک یا بد فوت شدہ لوگ ہیں تو ان کا خالق اللہ ہے اور وہ نہ زندگی میں کچھ پیدا کرسکتے تھے نہ اب کرسکتے ہیں۔ اس کی تفصیل اسی سورت کی آیت (١٧) ، سورة رعد (١٦) اور سورة حج (٧٣) میں دیکھیں اور اگر ان کے مجسمے یا ان کی قبریں ہیں تو وہ بھی کچھ پیدا نہیں کرسکتے، بلکہ انھیں تم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو، جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : (اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ ) [ الصافات : ٩٥ ] ” کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو۔ “ اگر تمہارے معبود تراشے ہوئے بت ہیں یا قبریں، تو خالق ان کا بھی اللہ تعالیٰ ہے تم نہیں، جیسا کہ اس سے اگلی آیت میں فرمایا : (ۙوَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ) [ الصافات : ٩٦ ] ” حالانکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم بناتے ہو۔ “

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.