يُنۢبِتُ لَكُم بِهِ ٱلزَّرْعَ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلنَّخِيلَ وَٱلْأَعْنَٰبَ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ
اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور (اور بےشمار درخت) اُگاتا ہے۔ اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لیے اس میں (قدرتِ خدا کی بڑی) نشانی ہے
بادل اوپر فضا سے پانی برساتے ہیں اور نیچے زمین پر اس سے نہایت با معنی قسم کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ ’’زمین وآسمان‘‘ کا اس طرح ہم آہنگ ہو کر عمل کرنا واضح طورپر یہ ثابت کرتاہے کہ جو خدا آسمان کا ہے، وہی خدا زمین کا بھی ہے۔
کائنات کے مختلف حصوں کے درمیان کامل ہم آہنگی ہے۔ یہ ہم آہنگی اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ ساری کائنات کا خالق ومالک صرف ایک ہے۔ کائنات کے موجودہ ڈھانچہ میں ایک سے زیادہ خدا کی کوئی گنجائش نہیں۔ اب جب خالق ومالک حقیقۃً صرف ایک خدا ہے تو اس کے سوا دوسری جس چیز کو بھی معبودیت کا درجہ دیا جائے گا، وہ سراسر بے بنیاد ہوگا۔