Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 101–110 of 128

101

وَإِذَا بَدَّلْنَآ ءَايَةًۭ مَّكَانَ ءَايَةٍۢ ۙ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍۭ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں

وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ : یعنی پہلی آیت کا حکم منسوخ کرکے نیا حکم نازل فرماتے ہیں۔ نسخ پر بحث کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (١٠٦) اب یہاں سے کفار کے شبہات کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (شوکانی)- بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : یعنی ان کے اکثر لوگ نسخ کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مفتری اس لیے کہتے ہیں کہ انھیں پہلی شریعتوں کا علم نہیں، اگر ہوتا تو سمجھ لیتے کہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے قاعدہ رہا ہے کہ وہ ایک حکم اتارتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے منسوخ کرکے دوسرا حکم دے دیتا ہے۔ ” اَكْثَرُهُمْ “ اس لیے فرمایا کہ کچھ لوگ سب کچھ جاننے کے باوجود ضد اور عناد کی وجہ سے آپ کو مفتری کہتے ہیں۔ - اس آیت کے دو مفہوم ہیں، ایک وہ جو اوپر گزرا، وہاں ” اٰيَةٍ “ سے مراد شرعی آیت اور حکم ہے، دوسرا معنی نشانی اور معجزہ ہے۔ اس وقت ” اٰيَةٍ “ سے مراد آیت کونیہ ہوگی، مثلاً ابراہیم (علیہ السلام) کا آگ میں نہ جلنا، عصائے موسیٰ ، ید بیضا، اللہ کے حکم سے مردہ کو زندہ کرنا وغیرہ۔ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اللہ تعالیٰ نے آیات کونیہ کا نظام بھی بدل دیا اور بطور معجزہ بھی قرآن ہی نازل فرمایا اور صرف کسی ایک سورت کے مقابلے کا چیلنج دیا، جس کا جواب آج تک کوئی نہ دے سکا، نہ دے سکے گا۔ باقی انبیاء کی آیات یعنی معجزوں کے بدلے یہ آیت یعنی معجزہ ایسا نازل ہوا جو آپ کے بعد قیامت تک موجود ہے۔ جب کچھ جواب نہ آیا تو آپ کو مفتری کہہ دیا، فرمایا نبی مفتری نہیں بلکہ یہ بےچارے بےعلم ہیں۔

An-Nahl 16:101Listen in Qur'an →
102

قُلْ نَزَّلَهُۥ رُوحُ ٱلْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ لِيُثَبِّتَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهُدًۭى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بالْحَقِّ : ” نَزَّلَ “ میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کرنے کا معنی پایا جاتا ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : ١٠٦) ” رُوْحُ الْقُدُسِ “ یعنی جبریل (علیہ السلام) ، یہاں ” رُوْحُ “ (موصوف) ” الْقُدُسِ “ (صفت) کی طرف مضاف ہے جو مصدر ہے۔ اس کا معنی طہر اور پاکیزگی ہے، مگر یہاں مصدر بمعنی اسم مفعول ” مُقَدَّسٌ“ ہے، یعنی ” اَلرُّوْحُ الْمُقَدَّسُ “ مبالغے کے لیے اسم مفعول کی جگہ مصدر لائے ہیں، یعنی وہ روح جو سراپا پاکیزگی و طہارت ہے، جیسے ” رَجُلُ صِدْقٍ “ اور ” خَبَرُ سُوْءٍ “ ہے، جو اصل میں ” اَلرَّجُلُ الصَّادِقُ “ اور ” اَلْخَبَرُ السَّيِّءُ “ تھا۔ ” بِالْحَقِّ “ کا مطلب ہے کہ قرآن نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے، کسی مخلوق کا کلام نہیں اور اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے، ورنہ تربیت مکمل نہ ہوسکتی اور ” مِنْ رَّبِّکَ “ کا مطلب ہے کہ اس میں کوئی بات ایسی نہیں جو باطل ہو، یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لے کر قیامت تک کے تمام ادوار کے تقاضوں کے عین مطابق اور حق ہے۔ - لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : تاکہ وہ ایمان والوں کو ایمان پر خوب قائم رکھے اور وہ ناسخ و منسوخ دونوں کو اللہ کی طرف سے سمجھیں۔ اس لیے جب وہ اس حکمت کو سمجھیں گے جو بعض احکام کے ناسخ و منسوخ ہونے میں پائی جاتی ہے تو ایمان پر ان کے قدم جمیں گے اور ان کے عقائد پختہ ہوں گے۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” قرآن پاک میں اکثر اللہ تعالیٰ نے نسخ فرمایا ہے، اس پر کافر شبہ کرتے ہیں، اس کا جواب سمجھا دیا، یعنی ہر وقت پر موافق اس وقت کے حکم بھیجے تو یقین والوں کا ایمان قوی ہو کہ ہمارا رب ہر حال سے خبر رکھتا ہے۔ “ (موضح)- وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ : ” ھُدیً “ یعنی ہر حال میں اس کے مطابق راہ سمجھا دے اور ” بُشْرٰى“ ہر کام پر ویسی خوش خبری سنا دے۔ (موضح) اس کا صحیح اور مکمل مطلب سمجھنے کے لیے سورة عنکبوت کی آیات (٥٠، ٥١) کی تفسیر ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

An-Nahl 16:102Listen in Qur'an →
103

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُۥ بَشَرٌۭ ۗ لِّسَانُ ٱلَّذِى يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِىٌّۭ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّۭ مُّبِينٌ

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ ۔۔ : یہ قرآن پر ان کا دوسرا طعن تھا۔ اس شخص کی تعیین میں کئی روایات ہیں، بعض میں اس کا نام بلعام بتایا گیا ہے، بعض میں مقیس، بعض میں ابن الحضرمی کا ایک غلام۔ مگر ان میں سے صحیح روایت وہ ہے جو عبداللہ بن مسلم الحضرمی نے بیان کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے دو عیسائی غلام تھے جو ” عین التمر “ کے باشندے تھے۔ ایک کا نام یسار تھا، دوسرے کا جبر، وہ دونوں اپنی کوئی کتاب پڑھا کرتے تھے، بعض اوقات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس سے گزرتے تو ٹھہر جاتے۔ مشرکین کہنے لگے، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دونوں سے سیکھتا ہے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (طبری : ٢٢٠٧٣) ” الاستیعاب فی بیان الاسباب “ میں اسے صحیح اور دوسری روایات کو ضعیف کہا گیا ہے اور حافظ ابن حجر (رض) نے بھی ” الاصابۃ “ میں اسے صحیح کہا ہے۔ بہرحال صرف چند لمحے اس شخص کے پاس ٹھہرنے سے انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا شاگرد اور قرآن کو اس کا کلام ہونے کا بہتان جڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جس کی طرف یہ لوگ غلط نسبت کر رہے ہیں وہ خود عجمی ہے، جبکہ قرآن فصیح ترین عربی ہے۔ - 3 آلوسی نے فرمایا : ” قرآن نے اس شخص کے نام کی تصریح نہیں کی، حالانکہ اس میں کفار کا جھوٹ زیادہ واضح ہوتا، اس لیے کہ بتانا یہ مقصود ہے کہ ان کی اصل غلطی کسی خاص شخص کو آپ کا معلم قرار دینا نہیں بلکہ کسی بھی بشر کو آپ کا معلم قرار دینا ہے۔ “ روح القدس کے ذریعے سے نازل شدہ اللہ کے کلام کی اس سے بڑھ کر کیا توہین ہوگی کہ اسے کسی آدمی کا کلام کہا جائے، خواہ وہ کتنا بڑا عالم ہو۔

An-Nahl 16:103Listen in Qur'an →
104

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَا يَهْدِيهِمُ ٱللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔۔ : ہدایت کا معنی سیدھی راہ دکھانا بھی ہے اور اس پر چلنے کی توفیق دینا بھی۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ انھیں راہ راست کی ہدایت نہیں دیتا۔ وہی اس قسم کی بےسروپا باتیں کیا کرتے ہیں۔ بھلا یہ بھی کوئی سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ قرآن جیسی فصیح و بلیغ کتاب کو ایسا شخص تصنیف کر ڈالے جس کی اپنی زبان عربی نہیں ہے۔

An-Nahl 16:104Listen in Qur'an →
105

إِنَّمَا يَفْتَرِى ٱلْكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰذِبُونَ

جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں

اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِيْنَ ۔۔ : کفار کا قول جو اوپر آیت (١٠١) میں ذکر ہوا ہے ” اِنَّمَا اَنْتَ مُفْتَرٍ “ (تو تو گھڑ کر لانے والا ہے) یہ اس کا رد ہے کہ جھوٹ تو ان لوگوں کا کام ہے جو ایمان نہیں رکھتے، کیونکہ انھیں اللہ کا خوف نہیں ہوتا، جسے اللہ کا خوف ہو وہ جھوٹ نہیں بولتا۔ باقی رہا نبی تو وہ اہل ایمان کا سردار ہوتا ہے، اس سے قطعی بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایک لفظ بھی جھوٹ باندھے۔ - وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ : ” وَاُولٰۗىِٕكَ “ سے مراد اللہ پر ایمان نہ رکھنے والے ہیں، یعنی انھی کی عادت جھوٹ ہوتی ہے، کیونکہ وہ ایمان ہی سے محروم ہیں، جو آدمی کو گناہ سے باز رکھتا ہے۔ - 3 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَ إِذَا اءْتُمِنَ خَانَ ) [ بخاری، الإیمان، باب علامات المنافق : ٣٣ ] ” منافق کی نشانیاں تین ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وہ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ “ - شیخ عبد الرحمان معلمی نے ” التنکیل “ میں لکھا ہے کہ اگر غور کیا جائے تو منافق کی تینوں نشانیوں کی بنیاد جھوٹ ہی ہے، کیونکہ وعدہ خلافی پر مؤاخذہ اس وقت ہے جب وعدہ کرتے وقت اسے پورا کرنے کی نیت نہ ہو، اگر وعدہ کرتے وقت پورا کرنے کی نیت ہو، پھر کسی عذر سے پورا نہ کرسکے تو اس پر مؤاخذہ نہیں اور خیانت ہضم نہیں ہوسکتی جب تک جھوٹ نہ بولے۔

An-Nahl 16:105Listen in Qur'an →
106

مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُۥ مُطْمَئِنٌّۢ بِٱلْإِيمَٰنِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلْكُفْرِ صَدْرًۭا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا

مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ ۔۔ : طبری نے معتبر سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس (رض) کا قول نقل فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( مَنْ کَفَرَ مِنْ بَعْدِ إِیْمَانِہِ فَعَلَیْہِ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ وَلَہُ عَذَابٌ عَظِیْمٌ فَأَمَّا مَنْ أُکْرِہَ فَتَکَلَّمَ بِہِ لِسَانُہُ وَ خَالَفَہُ قَلْبُہُ بالإِْیْمَانِ لِیَنْجُوَ بِذٰلِکَ مِنْ عَدُوِّہِ فَلَا حَرَجَ عَلَیْہِ لِأَنَّ اللّٰہَ تَأْخُذُ الْعِبَادَ بِمَا عُقِدَتْ عَلَیْہِ قُلُوْبُھُمْ ) [ طبری : ١٧؍٣٠٥ ] ” جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے اس پر اللہ تعالیٰ کا بھاری غضب ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم ہے، لیکن جسے مجبور کردیا جائے اور وہ زبان سے کوئی بات کہہ دے، جب کہ اس کا دل ایمان کی وجہ سے اس کے خلاف ہو، تاکہ اس کے ساتھ دشمن سے جان بچا لے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ اللہ سبحانہ بندوں کو صرف اس چیز پر پکڑتا ہے جو ان کے دلوں کا پکا عقیدہ ہو۔ “- 3 عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : ( کَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْھَرَ إِسْلَامَہُ سَبْعَۃٌ : رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُوْ بَکْرٍ ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّہُ سُمَیَّۃُ ، وَصُھَیْبٌ، وَبِلاَلٌ، وَالْمِقْدَادُ ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِعَمِّہِ أَبِيْ طَالِبٍ ، وَأَمَّا أَبُوْ بَکْرٍ فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِقَوْمِہِ ، وَأَمَّا سَاءِرُھُمْ ، فَأَخَذَھُمُ الْمُشْرِکُوْنَ وَأَلْبَسُوْھُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِیْدِ وَ صَھَرُوْھُمْ فِي الشَّمْسِ ، فَمَا مِنْھُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاھُمْ عَلٰی مَا أَرَادُوْا، إِلَّا بلاَلاً ، فَإِنَّہُ ھَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِي اللّٰہِ ، وَھَانَ عَلٰی قَوْمِہِ ، فَأَخَذُوْہُ ، فَأَعْطَوْہُ الْوِلْدَانَ ، فَجَعَلُوْا یَطُوْفُوْنَ بِہِ فِيْ شِعَابِ مَکَّۃَ وَھُوَ یَقُوْلُ : أَحَدٌ، أَحَدٌ )[ ابن ماجہ، السنۃ، باب فضل سلمان و أبی ذر والمقداد۔ : ١٥٠، قال البوصیري رجالہ ثقات و قال الحاکم صحیح الأسناد و أقرہ الذھبی، وقال الألباني حسن ] ” سب سے پہلے جن لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا وہ سات آدمی تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد (رض) ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے محفوظ رکھا اور ابوبکر (رض) کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا۔ باقی سب کو مشرکین نے پکڑا اور انھیں لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں جھلسنے کے لیے پھینک دیا، چناچہ وہ جتنے تھے سب نے اس کے مطابق کہہ دیا جو کفار چاہتے تھے سوائے بلال (رض) کے۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس کے نزدیک اس کی جان بےقدر و قیمت ٹھہری (اور اس نے اس کی کوئی پروا نہ کی) اور وہ ان لوگوں کی نظر میں ایسا بےقدر و قیمت ٹھہرا کہ انھوں نے اسے پکڑ کر بچوں کو دے دیا، وہ اسے لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں گھومتے پھرتے اور وہ احد احد (اللہ ایک ہے، ایک ہے) کہتا رہتا۔ “- 3 اوپر کفار کے شبہات ذکر کرکے اس شخص کا حکم بیان فرمایا جو ایسے شبہات سے متاثر ہو کر ایمان سے پھر جائے اور شرح صدر کے ساتھ کفر قبول کرلے کہ اس پر رب تعالیٰ کا بھاری غضب ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم ہے۔ ” الا من اکرہ “ کے ساتھ اس شخص کے بارے میں فرمایا جس پر کوئی ظالم جبر کرے اور وہ اپنی جان بچانے کی خاطر کلمۂ کفر زبان سے کہہ دے، یہ رخصت ہے، لیکن اگر کوئی شخص مرنا قبول کرلے اور منہ سے بھی کلمۂ کفر یا خلاف اسلام کوئی بات نہ نکالے تو یہ عزیمت ہے اور ایسا شخص بہت بڑا شہید ہوگا، جیسا کہ اللہ کے پیغمبروں مثلاً ابراہیم اور مسیح (علیہ السلام) نے موت کے خوف سے کلمۂ کفر نہیں کہا اور شہادت قبول کی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے …

An-Nahl 16:106Listen in Qur'an →
107

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْءَاخِرَةِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا ۔۔ : عذاب عظیم کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور کفر اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ کی طرف سے توفیق ہدایت سے بھی محروم ہوگئے۔

An-Nahl 16:107Listen in Qur'an →
108

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَٰرِهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَٰفِلُونَ

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔ اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ ۔۔ : دیکھنے اور سننے سے حق دکھائی اور سنائی دیتا ہے اور سوچنے سے سمجھ میں آتا ہے، مگر ان کے عناد اور ضد کی وجہ سے ان تینوں چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی، سو وہ حق کی طلب میں انھیں استعمال ہی نہیں کرتے، بلکہ آخرت سے بالکل بیخبر اور بےفکر ہیں۔

An-Nahl 16:108Listen in Qur'an →
109

لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۔۔ : انسان دنیا میں آخرت کے حصول کی تجارت کے لیے آیا ہے، جب وہی حاصل نہ ہوئی تو اس کے خسارے میں کیا شک ہے۔ دیکھیے سورة عصر۔

An-Nahl 16:109Listen in Qur'an →
110

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوا۟ ثُمَّ جَٰهَدُوا۟ وَصَبَرُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا ۔۔ : مکہ کے بعض مسلمان کافروں کے مظالم سے تنگ آ کر بظاہر کچھ لچک کھا گئے، یا بعض ناجائز الفاظ منہ سے کہنے پر مجبور ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے، مگر اس کے بعد انھوں نے ایمان کے تقاضے ممکن حد تک پورے کیے، یعنی ہجرت کی، جہاد میں حصہ لیا اور اپنے موقف پر خوب ڈٹے رہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ غلطی معاف فرما دی۔

An-Nahl 16:110Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.