Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 101–110 of 128

101

وَإِذَا بَدَّلْنَآ ءَايَةًۭ مَّكَانَ ءَايَةٍۢ ۙ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍۭ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں

مشرکین کو معلوم نہیں ہے کہ اس کتاب کا فنکشن کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ یہ ایک عالمی سوسائٹی وجود میں لائے یعنی امت مسلمہ اور اس بات سے وہ بیخبر ہیں۔ یہ امت ایسی ہو جو پوری دنیا کی قیادت کرے اور یہ کہ یہ آخری امت ہے۔ آئندہ دنیا میں سب کچھ اس نے کرنا ہے ، آسمانوں سے اب کوئی نئی رسالت نہیں آتنی ہے۔ پھر یہ کہ اللہ جس نے انسان کو پیدا کیا وہی جانتا ہے کہ انسان کی مصلحت اور ضرورت کیا ہے۔ جب کسی حکم کا مقصد پورا ہوجائے اور اس وقتی حکم کی میعاد پوری ہوجائے تو اللہ ایک جدید حکم لے آتا ہے کیونکہ جدید حالات میں اس جدید حکم کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور وہ زیادہ مناسب بھی ہوتا ہے۔ سابقہ وقتی حکم کے مقابلے میں اب یہ حکم دائمی اور ابد الدھر تک قائم رہنے کا اہل ہوتا ہے۔ اللہ ہی سب کچھ جانتا ہے اور آیات الہیہ کی مثال تو ایسی ہے کہ جس طرح مریض کو گھونٹ گھونٹ دوا پلائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ شفایات ہوجاتا ہے۔ اب دوائی کے بجائے اسے معمول کی غذائیں دی جاتی ہیں تاکہ وہ معمول کی زندگی بسر کرے۔

لیکن مشرکین مکہ اس حکمت سے واقف نہ تھے ، اس لئے وہ یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ ایک آیت کے بعد دوسری آیت کیوں آرہی ہے۔ خود حضور کی زندگی میں قوانین کیوں بدل رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو اس پر محمول کیا کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ اپنی طرف سے آیات بناتے ہیں ، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حضور ﷺ تو صادق و امین ہیں اور کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے ، چہ جائیکہ وہ اللہ پر جھوٹ بولیں۔

بل اکثر ھم لا یعلمون (61 : 101) ” حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے “۔

An-Nahl 16:101Listen in Qur'an →
102

قُلْ نَزَّلَهُۥ رُوحُ ٱلْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ لِيُثَبِّتَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهُدًۭى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے

قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق (61 : 201) ” کہہ دو اسے تو روح القدس مانے ٹھیک ٹھیک تیرے رب کی طرف سے بتدریج مجھ پر نازل کیا ہے “۔ لہٰذا اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ افتراء ہو۔ اسے روح القدس لے کر آئے ہیں ، اللہ کی طرف سے لائے ہیں اور اس کی تعلیمات سچائی پر مشتمل ہیں۔ ان میں باطل کا شائبہ تک نہیں ہے اور یہ اس لئے آئی کہ یشت الذین امنوا (61 : 201) ” تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کریں “۔ ان کے دل اللہ کے ساتھ جڑ جائیں اور وہ معلوم کرلیں کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ حق پر جم جائیں اور ان کی سچائی پر مطمئن ہوجائیں تاکہ وھدی و بشری للمسلمین (61 : 201) ” اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے اور انہیں سعادت اور فلاح کی خوشخبری دے “۔ یہ خوشخبری خصوصا نصرت اور تمکین فی الارض کے بارے میں ہے۔

An-Nahl 16:102Listen in Qur'an →
103

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُۥ بَشَرٌۭ ۗ لِّسَانُ ٱلَّذِى يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِىٌّۭ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّۭ مُّبِينٌ

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے

ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا لسان عربی مبین (61 : 3019 ” ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے “۔

ان کی طرف سے دوسرا افتراء یہ تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو کوئی آدمی یہ قرآن مجید سکھاتا ہے۔ انہوں نے اس کا نام بھی لیا تھا۔ البتہ اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ وہ ایک عجمی غلام کی طرف اشارہ کرتے تھے جو دراصل بعض قبائل قریش کا غلام تھا اور یہ حلفاء کے قریب تجارت کرتا تھا۔ اس کے پاس حضور اکرم ﷺ بیٹھا کرتے تھے۔ یہ شخص عجمی تھا اور عربی زبان جانتا ہی نہ تھا۔ صرف عربی میں بقدر ضرورت شد بد رکھتا تھا۔

محمد ابن اسحاق کی روایت ہے کہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضور اکرم ﷺ مروہ کے قریب ایک عیسائی غلام کے پاس بیٹھا کرتے تھے اس کا نام جبر تھا۔ یہ ابنی الحضرم شاخ کا غلام تھا۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

ولقد تعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا السان عربی میبن (61 : 301) ” ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے “۔

عبد اللہ ابن کثیر نے کہا ہے اور عکرمہ اور قتادہ سے نقل کیا ہے کہ اس کا نام بعیش تھا ابن کثیر نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلام کو تعلیم دیتے تھے۔ یہ مکہ میں تھا اور اس کا نام بلمام تھا اور حضور اکرم ﷺ اس کے پاس جایا کرتے تھے۔ مشرکین کو معلوم تھا کہ آپ ﷺ اس کے پاس آتے جاتے ہیں تو انہوں نے یہ الزام لگایا کہ آپ ﷺ کو یہ تعلیمات بلمام دے رہا ہے۔

بہرحال نام جو بھی ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس الزام کی جو تردید کی ہے وہ سادہ اور لاجواب ہے۔ اور یہ کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ جس شخص کا تم کہتے ہو اس کی تو زبان عجمی ہے اور قرآن عربی مبین میں ہے۔

ان لوگوں نے حضور اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا تھا اسے ہم ہرگز سنجیدہ الزام نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ بھی ان کی جانب سے جھوٹے پروپیگنڈے کی سازش تھی۔ اس لئے کہ وہ قرآن مجید کی ادبی اور نظریاتی قدر و قیمت اور اس کے اعجاز کو اچھی طرح جانتے تھے۔ یہ تو ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی عجمی حضور اکرم ﷺ کو یہ کلام سکھا سکے۔ اگر کوئی عجمی اس قسم کا کلام لاسکتا تو وہ اسے بطور اپنے کلام کے کیوں پیش نہ کرتا۔

آج جبکہ انسان نے بہت زیادہ ترقی کرلی ہے اور انسانی قابلیت کے نتیجے میں تصنیف و تالیف کا فن بہت ہی آگے بڑھ گیا ہے۔ نیز قانون سازی اور نظم و نسق کے جدید ترین طریقے وجود میں آگئے ہیں۔ آج ایک معمولی علم رکھنے والا کوئی شخص اور اجتماعی نظاموں اور قانونی نظاموں سے واقف کوئی بھی شخص یہ تصور نہیں کرسکتا کہ یہ کتاب کسی ایک انسان کی تصنیف ہوسکتی ہے۔

روس کے مادہ پرست اور ملحدوں کی رائے بھی یہ ہے کہ یہ قرآن کریم کسی ایک شخص کی تصنیف نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک پوری جماعت کی تصنیف ہے بلکہ اس کے بعض حصے جزیرۃ العرب کی تصنیف بھی نہیں ہوسکتے۔ اس کے بعض حصے ایسے ہیں کہ وہ یقینا باہر سے لائے گئے ہیں۔ یہ نگارشات انہوں نے 4591 ء میں اس کانفرنس کے نتجے میں مرتب کیں جو قرآن کریم پر تنقید کے لئے انہوں نے منعقد کی تھی۔

روسیوں نے یہ تجویز اس لئے پیش کی کہ ایک شخص کے اندر اس قدر قابلیت نہیں ہوسکتی کہ وہ ایسی کتاب تصنیف کرے۔ اور نہ کسی ایک قوم کا یہ کام ہے لیکن روسیوں کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ سیدھی سادی بات تسلیم کرلیں کہ یہ کتاب انسانی تصنیف نہیں ہوسکتی لہٰذا یہ وحی رب العالمین ہے۔ لیکن وہ چونکہ مادہ پرست اور ملحد تھے ، اور خدا ، رسولوں اور رسالت کے وجود ہی کے منکر تھے اس لیے انہوں نے یہ سچائی تسلیم نہ کی۔

اگر بیسویں صدی کے مستشرقین کی سوچ یہ ہے …

An-Nahl 16:103Listen in Qur'an →
104

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَا يَهْدِيهِمُ ٱللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے

قرآن کریم ان کے ان اقوال کی وجہ یہ بتاتا ہے :

ان الذین لا یومنون بایت اللہ لا یھدیھم اللہ ولھم عذاب الیم (61 : 401) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے ، اللہ کبھی ان کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے “۔

یہ لوگ جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے ، اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق نہیں دی کہ وہ اس کتاب کے بارے میں صحیح رائے قائم کریں۔ نہ وہ اصل حقیقت کی طرف راہ پاسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کفر کریں گے ، منہ موڑیں گے اور کبھی بھی مان کر نہ دیں گے۔ اس لئے ولھم عذاب الیم (61 : 401) ” ان کے لئے دردناک عذاب ہے “۔

یہاں اب بتایا جاتا ہے کہ رسول امین کس طرح اللہ پر افترا باندھ سکتے ہیں۔ ایسا کام تو وہ لوگ کرتے ہیں جو بدقماش لوگ ہوں اور جو افتراء پر دازی کرتے رہتے ہیں۔

An-Nahl 16:104Listen in Qur'an →
105

إِنَّمَا يَفْتَرِى ٱلْكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰذِبُونَ

جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں

انما یفتری الکذب الذین لا یومنون بایت اللہ واولئک ھم الکذبون (61 : 501) ”(جھوٹی باتیں نبی نہیں گھڑتا بلکہ) جھوٹ وہ لوگ گھڑ رہے ہیں جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے ، وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں “۔

جھوٹ اس قدر گھنائونا گناہ ہے کہ کوئی مومن کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ حضور اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں صاف فرمایا ہے کہ کوئی مسلم جھوٹ نہیں بول سکتا اگرچہ مسلم سے دوسرے گناہ سرزد ہوسکتے ہیں۔

اب یہاں سے آگے ان لوگوں کے احکام بیان کیے جات ہیں جو ایمان کے بعد کفر اختیار کرتے ہیں۔

An-Nahl 16:105Listen in Qur'an →
106

مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُۥ مُطْمَئِنٌّۢ بِٱلْإِيمَٰنِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلْكُفْرِ صَدْرًۭا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا

مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔

یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں ، کانوں اور آنکھوں میں مہر لگ جاتی ہے اور آخرت میں یہ لوگ بہت بڑے خسارے سے دور چار ہوں گے اس لئے کہ نظریہ کے بارے میں کوئی تحریک بھی سودا بازی نہیں کرسکتی اور نظریہ اور دعوت کے بارے میں سود و شبان کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شخص ایمان لا کر اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیتا ہے تو پھر چاہیے کہ اس زمین اور اس دنیا کے موثرات میں سے کوئی موثر بھی اس انسان پر اثر انداز نہ ہو کیونکہ زمین کا اپنا حساب و کتاب اور قدرو قیمت ہوتی ہے اور نظریات کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ نظریہ کوئی مذاق نہیں ہوتا ، نظریات کے بارے میں کوئی بھی سودا بازی نہیں ہوسکتی کیونکہ نظریات سودے بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فعل کی سزا میں اس قدر سختی کی گئی ہے۔ اس سخت حکم سے صرف ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کو اعلان کفر پر مجبور کردیا گیا ہو لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، یعنی کوئی شخص اعلان کفر اس حالت میں کردے کہ اسے موت کا خطرہ ہو لیکن اس کا دل ایمان و یقین پر مطئمن ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار ابن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔

ابن جریر نے محمد ابن یاسر سے روایت کی ہے کہ مشرکوں نے عمار ابن یاسر کو پکڑا اور انہیں سخت تکلیف دی۔ بہت تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق بات کرنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی کہ اس نے تشدد کی وجہ سے یہ باتیں کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا تم اپنے دل کو کیسا پا رہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے پھر اس قدر تشدد کیا تو تم پھر ایسی بات کہہ دو ۔ چنانہچ ایسے مشکل حالات میں کلمات کفر کہنے کی اجازت اور رخصت دے دی گئی۔

بعض مسلمان ایسے بھی گرزے جنہوں نے محض زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے مقابلے میں موت کو پسند کیا۔ سمیہ ابن یاسر نے یہ مقام عزیمت حاصل کیا۔ ان کے اندام نہانی میں تیر کا نشانہ لگا۔ اسی طرح ابو یاسر نے بھی یہ مقام حاصل کیا۔ دونوں شہید ہوگئے مگر کلمہ کفر نہ کہا۔

اور حضرت بلال ؓ کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا گیا۔ شدید گرمی میں ایک عظیم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا کلمہ شرک کہو۔ وہ انکار کرتے اور کہتے احد احد اور کہتے کاش اگر اس سے زیادہ سخت بات معلوم ہوتی تو میں وہ بھی کرتا۔

یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسلیمہ کذاب نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ تو ہو کہتے ہاں ، پھر اس نے کہا ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں میں نہیں سن رہا۔ تو وہ ان کا ایک عضوکاٹتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حالت میں شہید ہوگئے۔

ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں ، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو …

An-Nahl 16:106Listen in Qur'an →
107

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْءَاخِرَةِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔

یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں ، کانوں اور آنکھوں میں مہر لگ جاتی ہے اور آخرت میں یہ لوگ بہت بڑے خسارے سے دور چار ہوں گے اس لئے کہ نظریہ کے بارے میں کوئی تحریک بھی سودا بازی نہیں کرسکتی اور نظریہ اور دعوت کے بارے میں سود و شبان کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شخص ایمان لا کر اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیتا ہے تو پھر چاہیے کہ اس زمین اور اس دنیا کے موثرات میں سے کوئی موثر بھی اس انسان پر اثر انداز نہ ہو کیونکہ زمین کا اپنا حساب و کتاب اور قدرو قیمت ہوتی ہے اور نظریات کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ نظریہ کوئی مذاق نہیں ہوتا ، نظریات کے بارے میں کوئی بھی سودا بازی نہیں ہوسکتی کیونکہ نظریات سودے بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فعل کی سزا میں اس قدر سختی کی گئی ہے۔ اس سخت حکم سے صرف ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کو اعلان کفر پر مجبور کردیا گیا ہو لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، یعنی کوئی شخص اعلان کفر اس حالت میں کردے کہ اسے موت کا خطرہ ہو لیکن اس کا دل ایمان و یقین پر مطئمن ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار ابن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔

ابن جریر نے محمد ابن یاسر سے روایت کی ہے کہ مشرکوں نے عمار ابن یاسر کو پکڑا اور انہیں سخت تکلیف دی۔ بہت تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق بات کرنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی کہ اس نے تشدد کی وجہ سے یہ باتیں کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا تم اپنے دل کو کیسا پا رہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے پھر اس قدر تشدد کیا تو تم پھر ایسی بات کہہ دو ۔ چنانہچ ایسے مشکل حالات میں کلمات کفر کہنے کی اجازت اور رخصت دے دی گئی۔

بعض مسلمان ایسے بھی گرزے جنہوں نے محض زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے مقابلے میں موت کو پسند کیا۔ سمیہ ابن یاسر نے یہ مقام عزیمت حاصل کیا۔ ان کے اندام نہانی میں تیر کا نشانہ لگا۔ اسی طرح ابو یاسر نے بھی یہ مقام حاصل کیا۔ دونوں شہید ہوگئے مگر کلمہ کفر نہ کہا۔

اور حضرت بلال ؓ کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا گیا۔ شدید گرمی میں ایک عظیم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا کلمہ شرک کہو۔ وہ انکار کرتے اور کہتے احد احد اور کہتے کاش اگر اس سے زیادہ سخت بات معلوم ہوتی تو میں وہ بھی کرتا۔

یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسلیمہ کذاب نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ تو ہو کہتے ہاں ، پھر اس نے کہا ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں میں نہیں سن رہا۔ تو وہ ان کا ایک عضوکاٹتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حالت میں شہید ہوگئے۔

ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں ، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو …

An-Nahl 16:107Listen in Qur'an →
108

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَٰرِهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَٰفِلُونَ

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔ اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔

یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں ، کانوں اور آنکھوں میں مہر لگ جاتی ہے اور آخرت میں یہ لوگ بہت بڑے خسارے سے دور چار ہوں گے اس لئے کہ نظریہ کے بارے میں کوئی تحریک بھی سودا بازی نہیں کرسکتی اور نظریہ اور دعوت کے بارے میں سود و شبان کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شخص ایمان لا کر اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیتا ہے تو پھر چاہیے کہ اس زمین اور اس دنیا کے موثرات میں سے کوئی موثر بھی اس انسان پر اثر انداز نہ ہو کیونکہ زمین کا اپنا حساب و کتاب اور قدرو قیمت ہوتی ہے اور نظریات کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ نظریہ کوئی مذاق نہیں ہوتا ، نظریات کے بارے میں کوئی بھی سودا بازی نہیں ہوسکتی کیونکہ نظریات سودے بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فعل کی سزا میں اس قدر سختی کی گئی ہے۔ اس سخت حکم سے صرف ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کو اعلان کفر پر مجبور کردیا گیا ہو لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، یعنی کوئی شخص اعلان کفر اس حالت میں کردے کہ اسے موت کا خطرہ ہو لیکن اس کا دل ایمان و یقین پر مطئمن ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار ابن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔

ابن جریر نے محمد ابن یاسر سے روایت کی ہے کہ مشرکوں نے عمار ابن یاسر کو پکڑا اور انہیں سخت تکلیف دی۔ بہت تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق بات کرنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی کہ اس نے تشدد کی وجہ سے یہ باتیں کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا تم اپنے دل کو کیسا پا رہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے پھر اس قدر تشدد کیا تو تم پھر ایسی بات کہہ دو ۔ چنانہچ ایسے مشکل حالات میں کلمات کفر کہنے کی اجازت اور رخصت دے دی گئی۔

بعض مسلمان ایسے بھی گرزے جنہوں نے محض زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے مقابلے میں موت کو پسند کیا۔ سمیہ ابن یاسر نے یہ مقام عزیمت حاصل کیا۔ ان کے اندام نہانی میں تیر کا نشانہ لگا۔ اسی طرح ابو یاسر نے بھی یہ مقام حاصل کیا۔ دونوں شہید ہوگئے مگر کلمہ کفر نہ کہا۔

اور حضرت بلال ؓ کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا گیا۔ شدید گرمی میں ایک عظیم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا کلمہ شرک کہو۔ وہ انکار کرتے اور کہتے احد احد اور کہتے کاش اگر اس سے زیادہ سخت بات معلوم ہوتی تو میں وہ بھی کرتا۔

یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسلیمہ کذاب نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ تو ہو کہتے ہاں ، پھر اس نے کہا ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں میں نہیں سن رہا۔ تو وہ ان کا ایک عضوکاٹتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حالت میں شہید ہوگئے۔

ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں ، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو …

An-Nahl 16:108Listen in Qur'an →
109

لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے

مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔

یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں ، کانوں اور آنکھوں میں مہر لگ جاتی ہے اور آخرت میں یہ لوگ بہت بڑے خسارے سے دور چار ہوں گے اس لئے کہ نظریہ کے بارے میں کوئی تحریک بھی سودا بازی نہیں کرسکتی اور نظریہ اور دعوت کے بارے میں سود و شبان کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شخص ایمان لا کر اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیتا ہے تو پھر چاہیے کہ اس زمین اور اس دنیا کے موثرات میں سے کوئی موثر بھی اس انسان پر اثر انداز نہ ہو کیونکہ زمین کا اپنا حساب و کتاب اور قدرو قیمت ہوتی ہے اور نظریات کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ نظریہ کوئی مذاق نہیں ہوتا ، نظریات کے بارے میں کوئی بھی سودا بازی نہیں ہوسکتی کیونکہ نظریات سودے بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فعل کی سزا میں اس قدر سختی کی گئی ہے۔ اس سخت حکم سے صرف ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کو اعلان کفر پر مجبور کردیا گیا ہو لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، یعنی کوئی شخص اعلان کفر اس حالت میں کردے کہ اسے موت کا خطرہ ہو لیکن اس کا دل ایمان و یقین پر مطئمن ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار ابن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔

ابن جریر نے محمد ابن یاسر سے روایت کی ہے کہ مشرکوں نے عمار ابن یاسر کو پکڑا اور انہیں سخت تکلیف دی۔ بہت تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق بات کرنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی کہ اس نے تشدد کی وجہ سے یہ باتیں کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا تم اپنے دل کو کیسا پا رہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے پھر اس قدر تشدد کیا تو تم پھر ایسی بات کہہ دو ۔ چنانہچ ایسے مشکل حالات میں کلمات کفر کہنے کی اجازت اور رخصت دے دی گئی۔

بعض مسلمان ایسے بھی گرزے جنہوں نے محض زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے مقابلے میں موت کو پسند کیا۔ سمیہ ابن یاسر نے یہ مقام عزیمت حاصل کیا۔ ان کے اندام نہانی میں تیر کا نشانہ لگا۔ اسی طرح ابو یاسر نے بھی یہ مقام حاصل کیا۔ دونوں شہید ہوگئے مگر کلمہ کفر نہ کہا۔

اور حضرت بلال ؓ کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا گیا۔ شدید گرمی میں ایک عظیم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا کلمہ شرک کہو۔ وہ انکار کرتے اور کہتے احد احد اور کہتے کاش اگر اس سے زیادہ سخت بات معلوم ہوتی تو میں وہ بھی کرتا۔

یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسلیمہ کذاب نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ تو ہو کہتے ہاں ، پھر اس نے کہا ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں میں نہیں سن رہا۔ تو وہ ان کا ایک عضوکاٹتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حالت میں شہید ہوگئے۔

ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں ، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو …

An-Nahl 16:109Listen in Qur'an →
110

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوا۟ ثُمَّ جَٰهَدُوا۟ وَصَبَرُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے

یہ لوگ عربوں میں ضعفاء میں سے تھے اور سرکش مشرکین نے ان کو ان کے دین اور نظریہ کی وجہ سے تکالیف دیں۔ لیکن جونہی ان کو مواقعہ ملا انہوں نے ہجرت کی۔ اسلام پختگی حاصل کی۔ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور دعوت اسلامی کی خاطر تکالیف اٹھاتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کو مغفرت کی بشارت دیتے ہیں ۔

ان ربک من بعدھا لغفور رحیم (61 : 011) ” ان کے لئے یقینا تیرا رب غفور ورحیم ہے “۔

یہ وہ دن ہے جس میں ہر نفس اپنے معاملات میں گھرا ہوگا۔ کوئی کسی اور کی طرف متوجہ نہ ہوگا۔

An-Nahl 16:110Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.