وَإِذَا بَدَّلْنَآ ءَايَةًۭ مَّكَانَ ءَايَةٍۢ ۙ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍۭ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں
44: اﷲ تعالیٰ مختلف حالات کے لحاظ سے اپنے اَحکام میں کبھی کبھی تبدیلی فرماتے تھے، جیسا کہ قبلے کے اَحکام کے متعلق سورۂ بقرہ میں تفصیل گذرچکی ہے، اس پر کفار اِعتراض کرتے تھے کہ یہ احکام کیوں بدلے جارہے ہیں ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں، بلکہ (معاذ اللہ) آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی طرف سے یہ تبدیلیاں کررہے ہیں۔ اس آیت میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس وقت کونسا حکم نازل کیا جائے۔