Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 101–110 of 128

101

وَإِذَا بَدَّلْنَآ ءَايَةًۭ مَّكَانَ ءَايَةٍۢ ۙ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍۭ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں

قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ اس کے مختلف حصے 23 سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کرکے اترتے رہے۔ دعوت وتربیت کے مصالح کے تحت بعض احکام میں تدریج کا طریقہ بھی اختیا رکیا گیا ۔مثلاً پہلے یہ حکم آیا کہ مخالفوں کے مقابلہ میں صبر کرو۔ اس کے بعد یہ حکم آیا کہ ان سے بطورِ دفاع جنگ کرو۔

اس قسم کی ’’تبدیلیوں‘‘ کو لے کر مخالفین یہ کہتے کہ قرآن خدا کی کتاب نہیں۔ یہ محمد کی اپنی تصنیف ہے، جس کو انھوںنے خدا کی طرف منسوب کردیا ہے۔ اگر وہ خدا کی طرف سے ہوتی تو اس میں کبھی اس قسم کی تبدیلیاں نہ ہوتیں۔

مخالفین اگر قرآن کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے اور تبدیلی کے واقعہ کو صحیح رخ سے دیکھتے تو اس میںانھیں تدریج فی الاحکام کی حکمت نظر آتی۔ مگر جب انھوں نے اس کو غلط رخ سے دیکھا تو تبدیلی کا واقعہ انھیں انسانی علم کی کمی کا نتیجہ نظر آیا، جس چیز میں ان کے لیے تصدیق کا سامان چھپا ہوا تھا اس کو انھوںنے اپنے لیے افترا کا ذریعہ بنالیا۔

قرآن کو حق کے ساتھ اتارا گیا ہے — یہاں حق سے مراد خدا کا خالص اور بے آمیز دین ہے۔ جو لوگ سچائی کے طالب ہوں اور ملاوٹی دینوں میں اطمینان نہ پاتے ہوں، ان کےلیے قرآنی دین میں اپنی تلاش کا جواب بھی ہے اور ان کی تسکین قلب کا سامان بھی۔

An-Nahl 16:101Listen in Qur'an →
102

قُلْ نَزَّلَهُۥ رُوحُ ٱلْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ لِيُثَبِّتَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهُدًۭى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے

قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ اس کے مختلف حصے 23 سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کرکے اترتے رہے۔ دعوت وتربیت کے مصالح کے تحت بعض احکام میں تدریج کا طریقہ بھی اختیا رکیا گیا ۔مثلاً پہلے یہ حکم آیا کہ مخالفوں کے مقابلہ میں صبر کرو۔ اس کے بعد یہ حکم آیا کہ ان سے بطورِ دفاع جنگ کرو۔

اس قسم کی ’’تبدیلیوں‘‘ کو لے کر مخالفین یہ کہتے کہ قرآن خدا کی کتاب نہیں۔ یہ محمد کی اپنی تصنیف ہے، جس کو انھوںنے خدا کی طرف منسوب کردیا ہے۔ اگر وہ خدا کی طرف سے ہوتی تو اس میں کبھی اس قسم کی تبدیلیاں نہ ہوتیں۔

مخالفین اگر قرآن کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے اور تبدیلی کے واقعہ کو صحیح رخ سے دیکھتے تو اس میںانھیں تدریج فی الاحکام کی حکمت نظر آتی۔ مگر جب انھوں نے اس کو غلط رخ سے دیکھا تو تبدیلی کا واقعہ انھیں انسانی علم کی کمی کا نتیجہ نظر آیا، جس چیز میں ان کے لیے تصدیق کا سامان چھپا ہوا تھا اس کو انھوںنے اپنے لیے افترا کا ذریعہ بنالیا۔

قرآن کو حق کے ساتھ اتارا گیا ہے — یہاں حق سے مراد خدا کا خالص اور بے آمیز دین ہے۔ جو لوگ سچائی کے طالب ہوں اور ملاوٹی دینوں میں اطمینان نہ پاتے ہوں، ان کےلیے قرآنی دین میں اپنی تلاش کا جواب بھی ہے اور ان کی تسکین قلب کا سامان بھی۔

An-Nahl 16:102Listen in Qur'an →
103

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُۥ بَشَرٌۭ ۗ لِّسَانُ ٱلَّذِى يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِىٌّۭ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّۭ مُّبِينٌ

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے

مکہ میں کچھ عجمی غلام تھے۔ ان کے نام تفسیر کی کتابوں میںحیر، یسار، عائش، یعیش وغیرہ آئے ہیں۔ اس ضمن میں سلمان فارسی کا نام بھی لیا گیا ہے جو بعد کو مسلمان ہوگئے۔ یہ غلام یا یہودی تھے یا نصرانی۔ اس بنا پر وہ قدیم آسمانی مذاہب، یہودیت اور نصرانیت کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ ان میں سے کسی کی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوجاتی تھی۔ اس طرح کی ملاقاتوں کو بنیاد بنا کر قریش کے لیڈروں نے کہا کہ ’’یہی عجمی لوگ محمد کو کچھ باتیں بتا دیتے ہیں اور وہ ان کو خدائی کلام بتا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں‘‘۔

یہ مضحکہ خیز بات انھوں نے کیوں کہی۔ اس کی وجہ وہی عام برائی ہے جو ہر زمانہ میں اور ہمیشہ دنیا میں پائی گئی ہے۔وہ ہے— اپنے ہم عصر کو میرٹ کی سطح پر نہ پہچاننا۔ قریش کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک معاصر شخصیت تھے، اس لیے وہ آپ کو پہچاننے اور آپ کی قدر کرنے میں ناکام رہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ جو لوگ معاصرانہ نفسیات کے فتنہ میں مبتلا ہوں وہ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ حق کو مان لینے کے بجائے یہ کرتے ہیں کہ حق کے علم بردار کے خلاف جھوٹی باتیں گھڑتے رہتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی حقیقتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں، اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر داعی کی شخصیت کو بدنام کرتے ہیں۔ وہ اسی میں مشغول رہتے ہیں، یہاں تک کہ مرکر خدا کی پکڑ کے مستحق بن جاتے ہیں۔

An-Nahl 16:103Listen in Qur'an →
104

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَا يَهْدِيهِمُ ٱللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے

مکہ میں کچھ عجمی غلام تھے۔ ان کے نام تفسیر کی کتابوں میںحیر، یسار، عائش، یعیش وغیرہ آئے ہیں۔ اس ضمن میں سلمان فارسی کا نام بھی لیا گیا ہے جو بعد کو مسلمان ہوگئے۔ یہ غلام یا یہودی تھے یا نصرانی۔ اس بنا پر وہ قدیم آسمانی مذاہب، یہودیت اور نصرانیت کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ ان میں سے کسی کی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوجاتی تھی۔ اس طرح کی ملاقاتوں کو بنیاد بنا کر قریش کے لیڈروں نے کہا کہ ’’یہی عجمی لوگ محمد کو کچھ باتیں بتا دیتے ہیں اور وہ ان کو خدائی کلام بتا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں‘‘۔

یہ مضحکہ خیز بات انھوں نے کیوں کہی۔ اس کی وجہ وہی عام برائی ہے جو ہر زمانہ میں اور ہمیشہ دنیا میں پائی گئی ہے۔وہ ہے— اپنے ہم عصر کو میرٹ کی سطح پر نہ پہچاننا۔ قریش کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک معاصر شخصیت تھے، اس لیے وہ آپ کو پہچاننے اور آپ کی قدر کرنے میں ناکام رہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ جو لوگ معاصرانہ نفسیات کے فتنہ میں مبتلا ہوں وہ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ حق کو مان لینے کے بجائے یہ کرتے ہیں کہ حق کے علم بردار کے خلاف جھوٹی باتیں گھڑتے رہتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی حقیقتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں، اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر داعی کی شخصیت کو بدنام کرتے ہیں۔ وہ اسی میں مشغول رہتے ہیں، یہاں تک کہ مرکر خدا کی پکڑ کے مستحق بن جاتے ہیں۔

An-Nahl 16:104Listen in Qur'an →
105

إِنَّمَا يَفْتَرِى ٱلْكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰذِبُونَ

جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں

مکہ میں کچھ عجمی غلام تھے۔ ان کے نام تفسیر کی کتابوں میںحیر، یسار، عائش، یعیش وغیرہ آئے ہیں۔ اس ضمن میں سلمان فارسی کا نام بھی لیا گیا ہے جو بعد کو مسلمان ہوگئے۔ یہ غلام یا یہودی تھے یا نصرانی۔ اس بنا پر وہ قدیم آسمانی مذاہب، یہودیت اور نصرانیت کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ ان میں سے کسی کی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوجاتی تھی۔ اس طرح کی ملاقاتوں کو بنیاد بنا کر قریش کے لیڈروں نے کہا کہ ’’یہی عجمی لوگ محمد کو کچھ باتیں بتا دیتے ہیں اور وہ ان کو خدائی کلام بتا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں‘‘۔

یہ مضحکہ خیز بات انھوں نے کیوں کہی۔ اس کی وجہ وہی عام برائی ہے جو ہر زمانہ میں اور ہمیشہ دنیا میں پائی گئی ہے۔وہ ہے— اپنے ہم عصر کو میرٹ کی سطح پر نہ پہچاننا۔ قریش کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک معاصر شخصیت تھے، اس لیے وہ آپ کو پہچاننے اور آپ کی قدر کرنے میں ناکام رہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ جو لوگ معاصرانہ نفسیات کے فتنہ میں مبتلا ہوں وہ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ حق کو مان لینے کے بجائے یہ کرتے ہیں کہ حق کے علم بردار کے خلاف جھوٹی باتیں گھڑتے رہتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی حقیقتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں، اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر داعی کی شخصیت کو بدنام کرتے ہیں۔ وہ اسی میں مشغول رہتے ہیں، یہاں تک کہ مرکر خدا کی پکڑ کے مستحق بن جاتے ہیں۔

An-Nahl 16:105Listen in Qur'an →
106

مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُۥ مُطْمَئِنٌّۢ بِٱلْإِيمَٰنِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلْكُفْرِ صَدْرًۭا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا

خدا کے یہاں حقیقت کا اعتبار کیا جاتاہے، نہ کہ محض ظاہر کا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں انسان کے ساتھ بہت رعایت کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص دل سے خدا کا سچا وفادار ہو مگر سخت مجبوری کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لیے وقتی طور پر کوئی خلافِ ایمان کلمہ کہہ دے تو خدا کے یہاں اس پر اس کی پکڑ نہیں ہوگی۔ مگر وہ لوگ خدا کے یہاں ناقابلِ معافی ہیں جو اندر سے بدل چکے ہوں۔ جو شیطانی شبہات یا حالات کہ دباؤ سے متاثر ہو کر دل کی رضامندی سے کسی اور راستہ پر چل پڑیں۔

جب آدمی ایمان کے بجائے غیر ایمان کی روش اختیار کرتا ہے تو اس کی وجہ ہمیشہ دنیا پرستی ہوتی ہے۔ وہ دنیوی مفاد کو خطرہ میں دیکھ کر غیر مومنانہ روش پر چل پڑتا ہے۔ اگر وہ آخرت کی قدر وقیمت کو سمجھتا تو دنیا کا مفاد اس کو اتنا حقیر نظر آتا کہ اس کو یہ بات بالکل لغو معلوم ہوتی کہ دنیا کی خاطر وہ آخرت کو چھوڑ دے۔

آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے فائدے اگر کسی کے نزدیک اہم ترین بن جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ معاملات کو آخرت کے نقطۂ نظر سے سوچ نہیں پاتا۔ وہ دیکھتا اور سنتا ہے مگر دنیا کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے چیزوں کا اخروی پہلو اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ اسی پہلو کو دیکھ پاتا ہے جو دنیوی مصالح سے تعلق رکھتے ہوں۔ جو لوگ غفلت کے اس مرتبہ کو پہنچ جائیں ان کے حصہ میں ابدی نقصان کے سوا اور کچھ نہیں۔

An-Nahl 16:106Listen in Qur'an →
107

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْءَاخِرَةِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

خدا کے یہاں حقیقت کا اعتبار کیا جاتاہے، نہ کہ محض ظاہر کا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں انسان کے ساتھ بہت رعایت کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص دل سے خدا کا سچا وفادار ہو مگر سخت مجبوری کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لیے وقتی طور پر کوئی خلافِ ایمان کلمہ کہہ دے تو خدا کے یہاں اس پر اس کی پکڑ نہیں ہوگی۔ مگر وہ لوگ خدا کے یہاں ناقابلِ معافی ہیں جو اندر سے بدل چکے ہوں۔ جو شیطانی شبہات یا حالات کہ دباؤ سے متاثر ہو کر دل کی رضامندی سے کسی اور راستہ پر چل پڑیں۔

جب آدمی ایمان کے بجائے غیر ایمان کی روش اختیار کرتا ہے تو اس کی وجہ ہمیشہ دنیا پرستی ہوتی ہے۔ وہ دنیوی مفاد کو خطرہ میں دیکھ کر غیر مومنانہ روش پر چل پڑتا ہے۔ اگر وہ آخرت کی قدر وقیمت کو سمجھتا تو دنیا کا مفاد اس کو اتنا حقیر نظر آتا کہ اس کو یہ بات بالکل لغو معلوم ہوتی کہ دنیا کی خاطر وہ آخرت کو چھوڑ دے۔

آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے فائدے اگر کسی کے نزدیک اہم ترین بن جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ معاملات کو آخرت کے نقطۂ نظر سے سوچ نہیں پاتا۔ وہ دیکھتا اور سنتا ہے مگر دنیا کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے چیزوں کا اخروی پہلو اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ اسی پہلو کو دیکھ پاتا ہے جو دنیوی مصالح سے تعلق رکھتے ہوں۔ جو لوگ غفلت کے اس مرتبہ کو پہنچ جائیں ان کے حصہ میں ابدی نقصان کے سوا اور کچھ نہیں۔

An-Nahl 16:107Listen in Qur'an →
108

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَٰرِهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَٰفِلُونَ

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔ اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

خدا کے یہاں حقیقت کا اعتبار کیا جاتاہے، نہ کہ محض ظاہر کا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں انسان کے ساتھ بہت رعایت کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص دل سے خدا کا سچا وفادار ہو مگر سخت مجبوری کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لیے وقتی طور پر کوئی خلافِ ایمان کلمہ کہہ دے تو خدا کے یہاں اس پر اس کی پکڑ نہیں ہوگی۔ مگر وہ لوگ خدا کے یہاں ناقابلِ معافی ہیں جو اندر سے بدل چکے ہوں۔ جو شیطانی شبہات یا حالات کہ دباؤ سے متاثر ہو کر دل کی رضامندی سے کسی اور راستہ پر چل پڑیں۔

جب آدمی ایمان کے بجائے غیر ایمان کی روش اختیار کرتا ہے تو اس کی وجہ ہمیشہ دنیا پرستی ہوتی ہے۔ وہ دنیوی مفاد کو خطرہ میں دیکھ کر غیر مومنانہ روش پر چل پڑتا ہے۔ اگر وہ آخرت کی قدر وقیمت کو سمجھتا تو دنیا کا مفاد اس کو اتنا حقیر نظر آتا کہ اس کو یہ بات بالکل لغو معلوم ہوتی کہ دنیا کی خاطر وہ آخرت کو چھوڑ دے۔

آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے فائدے اگر کسی کے نزدیک اہم ترین بن جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ معاملات کو آخرت کے نقطۂ نظر سے سوچ نہیں پاتا۔ وہ دیکھتا اور سنتا ہے مگر دنیا کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے چیزوں کا اخروی پہلو اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ اسی پہلو کو دیکھ پاتا ہے جو دنیوی مصالح سے تعلق رکھتے ہوں۔ جو لوگ غفلت کے اس مرتبہ کو پہنچ جائیں ان کے حصہ میں ابدی نقصان کے سوا اور کچھ نہیں۔

An-Nahl 16:108Listen in Qur'an →
109

لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے

خدا کے یہاں حقیقت کا اعتبار کیا جاتاہے، نہ کہ محض ظاہر کا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں انسان کے ساتھ بہت رعایت کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص دل سے خدا کا سچا وفادار ہو مگر سخت مجبوری کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لیے وقتی طور پر کوئی خلافِ ایمان کلمہ کہہ دے تو خدا کے یہاں اس پر اس کی پکڑ نہیں ہوگی۔ مگر وہ لوگ خدا کے یہاں ناقابلِ معافی ہیں جو اندر سے بدل چکے ہوں۔ جو شیطانی شبہات یا حالات کہ دباؤ سے متاثر ہو کر دل کی رضامندی سے کسی اور راستہ پر چل پڑیں۔

جب آدمی ایمان کے بجائے غیر ایمان کی روش اختیار کرتا ہے تو اس کی وجہ ہمیشہ دنیا پرستی ہوتی ہے۔ وہ دنیوی مفاد کو خطرہ میں دیکھ کر غیر مومنانہ روش پر چل پڑتا ہے۔ اگر وہ آخرت کی قدر وقیمت کو سمجھتا تو دنیا کا مفاد اس کو اتنا حقیر نظر آتا کہ اس کو یہ بات بالکل لغو معلوم ہوتی کہ دنیا کی خاطر وہ آخرت کو چھوڑ دے۔

آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے فائدے اگر کسی کے نزدیک اہم ترین بن جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ معاملات کو آخرت کے نقطۂ نظر سے سوچ نہیں پاتا۔ وہ دیکھتا اور سنتا ہے مگر دنیا کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے چیزوں کا اخروی پہلو اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ اسی پہلو کو دیکھ پاتا ہے جو دنیوی مصالح سے تعلق رکھتے ہوں۔ جو لوگ غفلت کے اس مرتبہ کو پہنچ جائیں ان کے حصہ میں ابدی نقصان کے سوا اور کچھ نہیں۔

An-Nahl 16:109Listen in Qur'an →
110

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوا۟ ثُمَّ جَٰهَدُوا۟ وَصَبَرُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے

انسانوں کی کوئی آبادی اطمینان کی حالت میں ہو اور اس کے درمیان رزق کی فراوانی ہو۔ پھر خدا اپنے کسی بندے کو ان کے درمیان کھڑا کرے جوان کو حق کی طرف بلائے تو ایسی حالت میں ہمیشہ دو میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے۔ یاتو یہ آبادی حق کو قبول کرکے مزید خدائی انعامات کی مستحق بنے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر یہ ہوتا کہ اس پر طرح طرح کے حادثات گزرتے ہیں۔ یہ حادثات اس کے حق میں خدائی عذاب نہیں ہوتے بلکہ خدائی تنبیہات ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ چوکنے ہوجائیں۔ ان کی حساسیت جاگے اور وہ خدا کے داعی کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

اگر اس قسم کی تنبیہات کار گر نہ ہوں تو دعوت کی تکمیل کے بعد دوسرا مرحلہ یہ آتا ہے کہ اس قوم کو ہلاک کردیا جائے تاکہ وہ آخرت کے عالم میں پہنچ کر اپنے ابدی انجام کو بھگتے۔

An-Nahl 16:110Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.