Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 91–100 of 128

91

وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ إِذَا عَٰهَدتُّمْ وَلَا تَنقُضُوا۟ ٱلْأَيْمَٰنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ ٱللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ

اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو اُن کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے

سوت کاتنا محنت کے ذریعہ بکھرے ہوئے ریشوں کا یکجا کرنا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ انسان کے لیے کار آمد چیزیں تیا رہوں۔ اب اگر کوئی مرد یا عورت دن بھر محنت کرکے سوت کاتے اور پھر شام کے وقت اپنے کاتے ہوئے سوت کو پارہ پارہ کردے تو اس کی ساری محنت بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گی۔

یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو آپس میں ایک معاہدہ کریں اور پھر ایک یا دوسرا فریق کسی معقول سبب کے بغیر اس کو توڑ ڈالے۔ کاتے ہوئے سوت کو خواہ مخواہ بکھیرنا اپنی محنت کو اکارت کرنا ہے۔ اسی طرح کيے ہوئے معاہدے کو توڑڈالنا اس پورے عمل کو باطل کرنا ہے جس کے نتیجے میں باہمی اتفاق کا ایک معاملہ وجود میں آیا تھا۔

موجودہ دنیا میں ایک آدمی دوسرے آدمیوں کے ساتھ مل کر زندگی گزارتا ہے۔ ہر آدمی کو اپنا کام دوسرے بہت سے آدمیوں کے درمیان کرنا ہوتاہے۔ اس بنا پر اجتماعی زندگی میں باہمی اعتماد کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اسی اجتماعی زندگی کو قائم کرنے کی خاطر بار بار ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان معاہدے اور قول وقرار وجود میں آتے ہیں، کبھی قسم کھا کر اور کبھی قسم کے بغیر۔ اب اگر لوگ ایسا کریں کہ معاہدوں کو حقیقی جواز کے بغیر توڑ ڈالیں تو اجتماعی زندگی میں فساد پھیل جائے اور کسی قسم کی تعمیر ممکن نہ رہے۔

خدا کے نام پر معاہدہ کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ باقاعدہ قسم کے الفاظ اداکرکے کسی سے کوئی عہد کیاجائے۔ دوسري یہ کہ قسم کے الفاظ نہ بولے جائیں تاہم جو معاہدہ کیا گیا ہے اس میں خدا کا حوالہ بھی کسی پہلو سے شامل ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں عہد کرنے والے گویا خدا کو اس معاملہ کا گواہ یا ضامن بناتے ہیں۔ ایسے معاہدے جن میں خدا کا نام شامل کیا گیا ہو ان کو توڑنا اور بھی زیادہ برا ہے، کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کو دوسروں کے اوپراپنا اعتبار قائم کرنا تھا تو اس نے خدا کے نام کو استعمال کیااور جب اس پر نفس یا مفاد کے تقاضے غالب آئے تو اس نے خدا کو نظر انداز کردیا۔

افراد یا قوموں کے درمیان جو معاہدے ہوتے ہیں ان کی دوصورتیںهيں ۔ ایک یہ کہ وہ اصولوں کے تابع ہوں۔ دوسري یہ کہ وہ مفادات کے تابع ہوں۔ قدیم زمانے میں اور آج بھی عام حالت یہ ہے کہ جب معاہدہ کرنے میں کوئی فائدہ نظر آیا تو معاہدہ کرلیا ۔ اور جب توڑنا مفید معلوم ہوا تو اس کو توڑ دیا۔ اس کے برعکس، اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ معاہدات کو شرعی اور اخلاقی اصولوں کے تابع رکھا جائے۔

92

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّتِى نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَٰثًۭا تَتَّخِذُونَ أَيْمَٰنَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِىَ أَرْبَىٰ مِنْ أُمَّةٍ ۚ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ ٱللَّهُ بِهِۦ ۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ مَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا

سوت کاتنا محنت کے ذریعہ بکھرے ہوئے ریشوں کا یکجا کرنا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ انسان کے لیے کار آمد چیزیں تیا رہوں۔ اب اگر کوئی مرد یا عورت دن بھر محنت کرکے سوت کاتے اور پھر شام کے وقت اپنے کاتے ہوئے سوت کو پارہ پارہ کردے تو اس کی ساری محنت بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گی۔

یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو آپس میں ایک معاہدہ کریں اور پھر ایک یا دوسرا فریق کسی معقول سبب کے بغیر اس کو توڑ ڈالے۔ کاتے ہوئے سوت کو خواہ مخواہ بکھیرنا اپنی محنت کو اکارت کرنا ہے۔ اسی طرح کيے ہوئے معاہدے کو توڑڈالنا اس پورے عمل کو باطل کرنا ہے جس کے نتیجے میں باہمی اتفاق کا ایک معاملہ وجود میں آیا تھا۔

موجودہ دنیا میں ایک آدمی دوسرے آدمیوں کے ساتھ مل کر زندگی گزارتا ہے۔ ہر آدمی کو اپنا کام دوسرے بہت سے آدمیوں کے درمیان کرنا ہوتاہے۔ اس بنا پر اجتماعی زندگی میں باہمی اعتماد کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اسی اجتماعی زندگی کو قائم کرنے کی خاطر بار بار ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان معاہدے اور قول وقرار وجود میں آتے ہیں، کبھی قسم کھا کر اور کبھی قسم کے بغیر۔ اب اگر لوگ ایسا کریں کہ معاہدوں کو حقیقی جواز کے بغیر توڑ ڈالیں تو اجتماعی زندگی میں فساد پھیل جائے اور کسی قسم کی تعمیر ممکن نہ رہے۔

خدا کے نام پر معاہدہ کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ باقاعدہ قسم کے الفاظ اداکرکے کسی سے کوئی عہد کیاجائے۔ دوسري یہ کہ قسم کے الفاظ نہ بولے جائیں تاہم جو معاہدہ کیا گیا ہے اس میں خدا کا حوالہ بھی کسی پہلو سے شامل ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں عہد کرنے والے گویا خدا کو اس معاملہ کا گواہ یا ضامن بناتے ہیں۔ ایسے معاہدے جن میں خدا کا نام شامل کیا گیا ہو ان کو توڑنا اور بھی زیادہ برا ہے، کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کو دوسروں کے اوپراپنا اعتبار قائم کرنا تھا تو اس نے خدا کے نام کو استعمال کیااور جب اس پر نفس یا مفاد کے تقاضے غالب آئے تو اس نے خدا کو نظر انداز کردیا۔

افراد یا قوموں کے درمیان جو معاہدے ہوتے ہیں ان کی دوصورتیںهيں ۔ ایک یہ کہ وہ اصولوں کے تابع ہوں۔ دوسري یہ کہ وہ مفادات کے تابع ہوں۔ قدیم زمانے میں اور آج بھی عام حالت یہ ہے کہ جب معاہدہ کرنے میں کوئی فائدہ نظر آیا تو معاہدہ کرلیا ۔ اور جب توڑنا مفید معلوم ہوا تو اس کو توڑ دیا۔ اس کے برعکس، اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ معاہدات کو شرعی اور اخلاقی اصولوں کے تابع رکھا جائے۔

93

وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ وَلَٰكِن يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَلَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

اور اگر خدا چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اُس دن) اُن کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا

دنیا میں اختلافات ہیں۔ حق اور ناحق ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ خدا کا وہ منصوبہ ہے جس کے تحت اس نے موجودہ دنیا کو بنایا ہے۔ اور وہ منصوبہ امتحان ہے۔

موجودہ دنیا میں انسان کو جانچ کی غرض سے رکھا گیا ہے۔ یہ مقصد اس کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا تھا کہ ہر آدمی کو ماننے اور نہ ماننے کی آزادی ہو۔ حتیٰ کہ اسے یہ بھی آزادی ہو وہ حق کو ناحق ثابت کرے اور ناحق کو حق کے روپ میں پیش کرے۔ اگر یہ مصلحت نہ ہوتی تو خدا تمام انسانوں کو اسی طرح اپنے حکم کا پابند بنا دیتا جس طرح وہ بقیہ کائنات کو اپنے حکم کا پابند بنائے ہوئے ہے۔

یہ صورت حال قیامت تک کے لیے ہے۔ قیامت کے دن کھل جائے گا کہ کس نے اپنی سمجھ کو صحیح طور پر استعمال کیا اور کس نے اپنے مفاد کی خاطر سچائی کو نظر انداز کیا۔ اس وقت خدا ہر ایک کے ساتھ وہ معاملہ کرے گا جس کا اس نے موجودہ امتحانی مرحلہ میں اپنے كو اہل ثابت کیا تھا۔

94

وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ أَيْمَٰنَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے رستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزہ چکھنا پڑے۔ اور بڑا سخت عذاب ملے

قسم کھا کر معاہدہ کرنا پختہ معاہدہ کی آخری صورت ہے۔ اس اعتبار سے اس آیت کے تحت تمام معاہدے آجاتے ہیں۔

اگر مسلمان ایسا کریں کہ وہ دوسروں سے معاہداتی معاملے کریں اور پھر کسی حقیقی سبب کے بغیر محض مفاد کی خاطر ان کو توڑ دیں تو اس سے ماحول میں مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ ختم ہوجائے گی۔ اور نتیجۃً ان کا یہ عمل لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب منکر اسلام دیکھے گا کہ مسلمان نے معاہدہ کیا اور پھر اس نے اس سے بے وفائی کی تو اس کو دین اسلام پر اعتماد باقی نہ رہے گا اور اس کی وجہ سے وہ خدا کے دین میں داخل ہونے سے رک جائے گا (لِأَنَّ الْكَافِرَ إِذَا رَأَى أَنَّ الْمُؤْمِنَ قَدْ عَاهَدَهُ ثُمَّ غَدَرَ بِهِ، لَمْ يَبْقَ لَهُ وُثُوقٌ بِالدِّينِ، فَانْصَدَّ بِسَبَبِهِ عَنِ الدُّخُولِ فِي الْإِسْلَامِ) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 600۔

عہد کو غیر شرعی طورپر توڑنے کا واقعہ ہمیشہ اس لیے پیش آتا ہے کہ آدمی کو یہ نظر آنے لگتا ہے کہ اگر وہ معاہدہ کو توڑ دے تو اس کو فلاں دنیوی فائدہ حاصل ہوجائے گا۔ مگر مومن کی نظر آخرت پسندانہ نظر ہوتی ہے۔ جب بھی اس کا نفس اس قسم کی تحریک کرتاہے تو وہ اپنے نفس کو یہ کہہ کر دبا دیتا ہے کہ معاہدہ توڑنے میں اگر دنیا کا فائدہ ہے تو معاہدہ نہ توڑنے میں آخرت کا فائدہ۔ اور دنیا کے فائدہ کے مقابلہ میں آخرت کا فائدہ یقیناً زیادہ بڑا ہے۔

95

وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًا ۚ إِنَّمَا عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو۔ (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو صلہ خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لیے بہتر ہے

قسم کھا کر معاہدہ کرنا پختہ معاہدہ کی آخری صورت ہے۔ اس اعتبار سے اس آیت کے تحت تمام معاہدے آجاتے ہیں۔

اگر مسلمان ایسا کریں کہ وہ دوسروں سے معاہداتی معاملے کریں اور پھر کسی حقیقی سبب کے بغیر محض مفاد کی خاطر ان کو توڑ دیں تو اس سے ماحول میں مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ ختم ہوجائے گی۔ اور نتیجۃً ان کا یہ عمل لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب منکر اسلام دیکھے گا کہ مسلمان نے معاہدہ کیا اور پھر اس نے اس سے بے وفائی کی تو اس کو دین اسلام پر اعتماد باقی نہ رہے گا اور اس کی وجہ سے وہ خدا کے دین میں داخل ہونے سے رک جائے گا (لِأَنَّ الْكَافِرَ إِذَا رَأَى أَنَّ الْمُؤْمِنَ قَدْ عَاهَدَهُ ثُمَّ غَدَرَ بِهِ، لَمْ يَبْقَ لَهُ وُثُوقٌ بِالدِّينِ، فَانْصَدَّ بِسَبَبِهِ عَنِ الدُّخُولِ فِي الْإِسْلَامِ) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 600۔

عہد کو غیر شرعی طورپر توڑنے کا واقعہ ہمیشہ اس لیے پیش آتا ہے کہ آدمی کو یہ نظر آنے لگتا ہے کہ اگر وہ معاہدہ کو توڑ دے تو اس کو فلاں دنیوی فائدہ حاصل ہوجائے گا۔ مگر مومن کی نظر آخرت پسندانہ نظر ہوتی ہے۔ جب بھی اس کا نفس اس قسم کی تحریک کرتاہے تو وہ اپنے نفس کو یہ کہہ کر دبا دیتا ہے کہ معاہدہ توڑنے میں اگر دنیا کا فائدہ ہے تو معاہدہ نہ توڑنے میں آخرت کا فائدہ۔ اور دنیا کے فائدہ کے مقابلہ میں آخرت کا فائدہ یقیناً زیادہ بڑا ہے۔

96

مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍۢ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓا۟ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے کہ (کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم اُن کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

خدا کے داعی کا ساتھ دینا رواج یافتہ مذہبی نظام کو چھوڑ کر غیر رواجی مذہب کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرنا ہے۔ اس طرح کا اقدام ہمیشہ آدمی کے لیے مشکل ترین ہوتا ہے۔ اس میں اس فائدہ کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے جو انسانوں سے مل رہا ہے۔ اور اس فائدہ کی طرف بڑھنا ہوتاہے جو خدا سے ملنے والا ہے۔

اس قسم کا فیصلہ کرنے کے لیے واحد چیز جو درکار ہے وہ ’’صبر‘‘ ہے۔ یعنی یہ برداشت کہ آدمی کل کے فائدہ کی خاطر آج کا نقصان گوارا کرسکے۔ یہ صلاحیت کہ آدمی نظر آنے والی چیز کے مقابلہ میں اس کو زیادہ اہمیت دے سکے جو نظر نہیںآتی۔ یہ حوصلہ کہ آدمی قربانی کی قیمت پر کسی چیز کو اختیار کرے، نہ کہ محض فوری نفع کی قیمت پر۔ خدا کے جو بندے اس اولوالعزمی کا ثبوت دیں یقینا وہ اس قابل ہیں کہ خدا ان کو اپنی اعلیٰ ترین نعمتوں سے نوازے۔

جو افراد بے آمیز حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے مروجہ نظام میں نقصان اٹھاتے ہیں۔ ان کو لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ برباد ہوگئے۔ مگر خدا کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو ان کی قربانیوں کا بھر پور معاوضہ دے گا۔ موت کے بعد کی ابدی دنیا میں وہ انھیں نہایت بہتر زندگی سے نوازے گا۔ جن چیزوں کو انھوں نے وقتی طورپر کھویا ہے، ان کو وہ زیادہ بہتر شکل میں ابدی طور پر دے دے گا۔

خدا کا یہ وعدہ عورتوں کے لیے بھی اسی طرح ہے جس طرح وہ مردوں کے لیے ہے۔ خدا کے یہاں جزا کے معاملہ میں عورت اور مرد کی کوئی تقسیم نہیں۔

97

مَنْ عَمِلَ صَٰلِحًۭا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةًۭ طَيِّبَةًۭ ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے

خدا کے داعی کا ساتھ دینا رواج یافتہ مذہبی نظام کو چھوڑ کر غیر رواجی مذہب کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرنا ہے۔ اس طرح کا اقدام ہمیشہ آدمی کے لیے مشکل ترین ہوتا ہے۔ اس میں اس فائدہ کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے جو انسانوں سے مل رہا ہے۔ اور اس فائدہ کی طرف بڑھنا ہوتاہے جو خدا سے ملنے والا ہے۔

اس قسم کا فیصلہ کرنے کے لیے واحد چیز جو درکار ہے وہ ’’صبر‘‘ ہے۔ یعنی یہ برداشت کہ آدمی کل کے فائدہ کی خاطر آج کا نقصان گوارا کرسکے۔ یہ صلاحیت کہ آدمی نظر آنے والی چیز کے مقابلہ میں اس کو زیادہ اہمیت دے سکے جو نظر نہیںآتی۔ یہ حوصلہ کہ آدمی قربانی کی قیمت پر کسی چیز کو اختیار کرے، نہ کہ محض فوری نفع کی قیمت پر۔ خدا کے جو بندے اس اولوالعزمی کا ثبوت دیں یقینا وہ اس قابل ہیں کہ خدا ان کو اپنی اعلیٰ ترین نعمتوں سے نوازے۔

جو افراد بے آمیز حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے مروجہ نظام میں نقصان اٹھاتے ہیں۔ ان کو لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ برباد ہوگئے۔ مگر خدا کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو ان کی قربانیوں کا بھر پور معاوضہ دے گا۔ موت کے بعد کی ابدی دنیا میں وہ انھیں نہایت بہتر زندگی سے نوازے گا۔ جن چیزوں کو انھوں نے وقتی طورپر کھویا ہے، ان کو وہ زیادہ بہتر شکل میں ابدی طور پر دے دے گا۔

خدا کا یہ وعدہ عورتوں کے لیے بھی اسی طرح ہے جس طرح وہ مردوں کے لیے ہے۔ خدا کے یہاں جزا کے معاملہ میں عورت اور مرد کی کوئی تقسیم نہیں۔

98

فَإِذَا قَرَأْتَ ٱلْقُرْءَانَ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ

اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو

قرآن کو پڑھنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، اپنی نصیحت کے لیے پڑھنا۔ دوسري، دعوت کی خاطر دوسروں کے سامنے پیش کرنا، خواہ قر آن کے الفاظ دُہرائے جائیں یا اس کے مطالب بیان کيے جائیں۔دونوں صورتوں میں ضروری ہے کہ آدمی شیطان کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے۔ تعوذ کا مطلب صرف کچھ مقرر الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ اپنے آپ کو شعوری طورپر مسلح کرنا ہے تاکہ شیطان کا حملہ بے اثر ہو کر رہ جائے۔

شیطان ہر وقت آدمی کی گھات میںہے۔وہ قرآن کے الفاظ کے مفہوم کواس کے قاری کے ذہن میں بدل دیتاہے۔ اور جو چیز متن میں نہ ہو اس کو تفسیر میں شامل کرا دیتاہے۔ اسی طرح شیطان داعی اور مدعوکے درمیان ایسے فتنے ابھارتا ہے جس کے نتیجے میں دعوت کا عمل رک جائے۔

تاہم شیطان کو خدانے صرف بہکانے اور ورغلانے کی آزادی دی ہے۔ اس کو یہ طاقت نہیں دی کہ وہ کسی کو بزور گمراہی کے راستے پر ڈال دے۔ جو لوگ خدا سے اپنا ذہنی رابطہ قائم کيے ہوئے ہوں ان پر اس کا کچھ بس نہیں چلتا۔ البتہ جو لوگ خدا سے غافل ہوں اور شیطان کی باتوں پر دھیان دیں ان کے اورپر شیطان مسلط ہوجاتا ہے اور پھر جدھر چاہتا ہے ادھر انھیں لے جاتا ہے۔

99

إِنَّهُۥ لَيْسَ لَهُۥ سُلْطَٰنٌ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

کہ جو مومن ہیں اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں اُن پر اس کا کچھ زور نہیں چلتا

قرآن کو پڑھنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، اپنی نصیحت کے لیے پڑھنا۔ دوسري، دعوت کی خاطر دوسروں کے سامنے پیش کرنا، خواہ قر آن کے الفاظ دُہرائے جائیں یا اس کے مطالب بیان کيے جائیں۔دونوں صورتوں میں ضروری ہے کہ آدمی شیطان کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے۔ تعوذ کا مطلب صرف کچھ مقرر الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ اپنے آپ کو شعوری طورپر مسلح کرنا ہے تاکہ شیطان کا حملہ بے اثر ہو کر رہ جائے۔

شیطان ہر وقت آدمی کی گھات میںہے۔وہ قرآن کے الفاظ کے مفہوم کواس کے قاری کے ذہن میں بدل دیتاہے۔ اور جو چیز متن میں نہ ہو اس کو تفسیر میں شامل کرا دیتاہے۔ اسی طرح شیطان داعی اور مدعوکے درمیان ایسے فتنے ابھارتا ہے جس کے نتیجے میں دعوت کا عمل رک جائے۔

تاہم شیطان کو خدانے صرف بہکانے اور ورغلانے کی آزادی دی ہے۔ اس کو یہ طاقت نہیں دی کہ وہ کسی کو بزور گمراہی کے راستے پر ڈال دے۔ جو لوگ خدا سے اپنا ذہنی رابطہ قائم کيے ہوئے ہوں ان پر اس کا کچھ بس نہیں چلتا۔ البتہ جو لوگ خدا سے غافل ہوں اور شیطان کی باتوں پر دھیان دیں ان کے اورپر شیطان مسلط ہوجاتا ہے اور پھر جدھر چاہتا ہے ادھر انھیں لے جاتا ہے۔

100

إِنَّمَا سُلْطَٰنُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُۥ وَٱلَّذِينَ هُم بِهِۦ مُشْرِكُونَ

اس کا زور ان ہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسوسے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں

قرآن کو پڑھنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، اپنی نصیحت کے لیے پڑھنا۔ دوسري، دعوت کی خاطر دوسروں کے سامنے پیش کرنا، خواہ قر آن کے الفاظ دُہرائے جائیں یا اس کے مطالب بیان کيے جائیں۔دونوں صورتوں میں ضروری ہے کہ آدمی شیطان کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے۔ تعوذ کا مطلب صرف کچھ مقرر الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ اپنے آپ کو شعوری طورپر مسلح کرنا ہے تاکہ شیطان کا حملہ بے اثر ہو کر رہ جائے۔

شیطان ہر وقت آدمی کی گھات میںہے۔وہ قرآن کے الفاظ کے مفہوم کواس کے قاری کے ذہن میں بدل دیتاہے۔ اور جو چیز متن میں نہ ہو اس کو تفسیر میں شامل کرا دیتاہے۔ اسی طرح شیطان داعی اور مدعوکے درمیان ایسے فتنے ابھارتا ہے جس کے نتیجے میں دعوت کا عمل رک جائے۔

تاہم شیطان کو خدانے صرف بہکانے اور ورغلانے کی آزادی دی ہے۔ اس کو یہ طاقت نہیں دی کہ وہ کسی کو بزور گمراہی کے راستے پر ڈال دے۔ جو لوگ خدا سے اپنا ذہنی رابطہ قائم کيے ہوئے ہوں ان پر اس کا کچھ بس نہیں چلتا۔ البتہ جو لوگ خدا سے غافل ہوں اور شیطان کی باتوں پر دھیان دیں ان کے اورپر شیطان مسلط ہوجاتا ہے اور پھر جدھر چاہتا ہے ادھر انھیں لے جاتا ہے۔

An-Nahl 16:100Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.