Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 1–10 of 128

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

أَتَىٰٓ أَمْرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس کے لیے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے

اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ :” اَمْرُ اللّٰهِ “ سے مراد قیامت ہے اور مشرکین پر مختلف قسم کے عذاب کا نزول بھی ہے اور ” اَتٰٓى“ (آ گیا) سے مراد بالکل قریب آنا ہے، کیونکہ آ ہی چکا ہو تو پھر کفار کی طرف سے اسے جلدی لانے کا مطالبہ بےمعنی ہے۔ - فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : مشرکین قیامت یا عذاب کا ذکر آنے پر مذاق اڑانے کے لیے اسے فوراً لانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ دیکھیے سورة انفال ( ٣٢) اور سورة عنکبوت (٥٣ تا ٥٥) لفظ ماضی ” اَتٰٓى“ (آگیا) کا مطلب ہے کہ اس کا آنا اتنا یقینی ہے کہ سمجھو آ ہی چکا، اس لیے جلدی نہ مچاؤ، وہ بالکل قریب ہے اور طے شدہ وقت پر آجائے گا۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ مسلمان بھی بعض اوقات پریشان ہو کر مسلمانوں کے لیے اللہ کی نصرت اور کفر پر عذاب میں تاخیر پر اس کے جلدی آنے کی دعا کرتے تھے، انھیں بھی تسلی دی کہ سمجھو اللہ کا حکم آ ہی گیا، جیسا کہ فرمایا : (حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ) [ البقرۃ : ٢١٤ ] ” یہاں تک کہ وہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہوگی ؟ سن لو، بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔ “- سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ : عذاب کے جلدی نہ آنے کی و جہ سے وہ کہتے تھے اللہ تعالیٰ وہ عذاب لا ہی نہیں سکتا، ورنہ فوراً کیوں نہیں لے آتا۔ فرمایا ان کا اللہ تعالیٰ کو اپنا حکم نافذ کرنے سے اور عذاب لانے سے عاجز قرار دینا، یا وعدہ خلافی کرنے والا سمجھنا کفر و شرک کا نتیجہ ہے، جس سے اللہ تعالیٰ ہر طرح پاک اور نہایت بلند ہے۔ وہ نہ عاجز ہے نہ وعدہ خلاف، مگر وہ اپنی مرضی کا مالک ہے، ان کی فرمائشوں کا پابند نہیں۔ دیکھیے سورة حج (٤٧) ۔- آیت کے شروع میں مخاطب کرکے فرمایا : (فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ) ” تم اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو “ اور آیت کے آخر میں مشرکین کا ذکر غائب کے لفظ سے کیا : (سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ) ” وہ اس سے پاک اور بہت بلند ہے جو وہ شریک بناتے ہیں “ اسے التفات کہتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ اس قابل ہی نہیں کہ انھیں مخاطب کیا جائے۔

2

يُنَزِّلُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ بِٱلرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦٓ أَنْ أَنذِرُوٓا۟ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱتَّقُونِ

وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو

يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ : ملائکہ سے مراد جبریل (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ وحی کے محافظ فرشتے ہیں۔ صرف جبریل (علیہ السلام) بھی مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ کسی بڑی شخصیت کے لیے جمع کا لفظ بھی بول لیا جاتا ہے۔ ” اَلرُّوْحُ “ سے مراد وہ چیز جس سے زندگی حاصل ہوتی ہے، یہاں مراد وحی ہے، کیونکہ حقیقی زندگی اسی سے حاصل ہوتی ہے، دل کی زندگی بھی اور آخرت کی زندگی بھی، جیسا کہ فرمایا : (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ) [ الشوریٰ : ٥٢ ] ” اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی۔ “ یہاں بھی ”“ سے مراد وحی ہے۔ ” اَمْرِهٖ “ یعنی فرشتے اس کے حکم کے بغیر نہیں اترتے۔ دیکھیے سورة مریم (٦٤) ۔- عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ : معلوم ہوا نبوت وہبی چیز ہے جو محض اللہ کی مشیت اور اس کے انتخاب سے عطا ہوتی ہے، فرمایا : (اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ) [ الحج : ٧٥ ] ” اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔ “ اور فرمایا : (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ) [ الأنعام : ١٢٤ ] ” اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔ “ یہ اپنی ریاضت یا چلہ کشی سے حاصل ہونے والی چیز نہیں، جیسا کہ قادیانی دجال اور بعض گمراہ لوگوں کا دعویٰ ہے۔ - اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ : آیت کے اس ٹکڑے میں فرشتوں کو وحی دے کر اپنے تمام رسولوں کی طرف بھیجنے کا مقصد بیان فرمایا کہ وہ اللہ کی توحید، اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے شرک سے بچنا اور اسی سے ڈرتے رہنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) [ الأنبیاء : ٢٥ ] ” اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔ “

3

خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۚ تَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا۔ اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بالْحَقِّ ۔۔ : یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قدرت کے بہت سے دلائل نہایت عمدہ اور انوکھے انداز سے شروع فرمائے ہیں۔ فرمایا اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ خالق ہے اور زمین و آسمان کی ہر ہستی اور ہر چیز مخلوق ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، پھر خالق و مخلوق یکساں کیسے ہوسکتے ہیں ؟ - بِالْحَقِّ : باطل کے مقابلے میں حق کا لفظ آتا ہے، یہاں بمعنی حکمت ہے، یعنی زمین و آسمان کی پیدائش بیشمار حکمتوں پر مبنی ہے، یہ کوئی کھیل یا فضول اور بےکار کام نہیں۔ دیکھیے سورة ابراہیم ( ١٩، ٢٠) ، سورة ص ( ٢٧) اور سورة دخان (٣٨، ٣٩) سب سے پہلے اپنی وحدانیت کی دلیل کے لیے زمین و آسمان کا ذکر فرمایا، کیونکہ یہ دوسری اکثر مخلوقات سے عظیم اور ان پر حاوی ہیں، چناچہ فرمایا : (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ) [ المؤمن : ٥٧ ] ” یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا ہے۔ “

4

خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِن نُّطْفَةٍۢ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌۭ مُّبِينٌۭ

اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ ۔۔ : ” نَطَفَ “ (ض، ن) ٹپکنا۔ ” نُّطْفَةٍ “ قطرہ۔ تاء تحقیر کے لیے ہے، یعنی حقیر اور معمولی قطرے سے۔ ” خَصِيْمٌ“ مبالغے کا صیغہ ہے۔ زمین و آسمان کے بعد ان میں پیدا کردہ چیزیں توحید کی دلیل کے طور پر پیش فرمائیں، سب سے پہلے انسان کا ذکر فرمایا، یہی بات سورة یس میں تفصیل سے بیان فرمائی، فرمایا : (اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ ) [ یٰسٓ : ٧٧، ٧٨ ] ” اور کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ بیشک ہم نے اسے ایک قطرے سے پیدا کیا تو اچانک وہ کھلا جھگڑنے والا ہے اور اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، اس نے کہا، کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جبکہ وہ بوسیدہ ہوں گی ؟ “ ” إِذَا “ فجائیہ ” اچانک “ کے معنی میں آتا ہے، یعنی ایسی عجیب چیز کا وجود میں آنا جس کا وہم و گمان بھی نہ ہو، یعنی اگر یاد رکھتا تو ایک حقیر قطرے سے مختلف اطوار سے گزر کر وجود میں آنے والے انسان سے اس جھگڑے کی توقع ہی نہ کی جاسکتی تھی، بلکہ حق یہ تھا کہ وہ اپنی پیدائش کو یاد رکھتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت کے دونوں حصوں سے اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر استدلال مقصود ہو، یعنی نطفہ سے پیدا کیا، پھر اس میں کامل طور پر ساری قوتیں یعنی سوچنے سمجھنے کی اور بولنے کی پیدا کردیں کہ حجت و استدلال اور بحث کے قابل ہوگیا۔ (روح المعانی)

5

وَٱلْأَنْعَٰمَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌۭ وَمَنَٰفِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ

اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو

وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ ۔۔ : ” الْاَنْعَامَ “ ” نَعَمٌ“ (ن اور ع کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکریاں۔ ” دِفْءٌ“ گرمی، یہ سردی سے ٹھٹھرنے کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے، ” مَا یُدْفَأُ بِہٖ “ جس کے ساتھ گرمی حاصل کی جائے، جیسا کہ ” مِلْأٌ“ جس کے ساتھ کسی چیز کو بھرا جائے۔ چوپاؤں کا ایک خاص فائدہ ان کی اون اور بالوں سے گرمی مہیا کرنے والا لباس اس کی اہمیت کے پیش نظر پہلے ذکر فرما کر عام فوائد کا ذکر بعد میں فرمایا۔ ” مَنَافِع “ اور بہت سے فائدے ہیں، مثلاً سواری کرتے ہو، ہل چلاتے ہو، پانی کھینچتے ہو، ان کا گوبر جلاتے ہو، کھیتوں میں بطور کھاد ڈالتے ہو، انھیں بیچ کر ضرورت کا ہر سامان خریدتے ہو۔ ان منافع میں ” دِفْئٌ“ بھی شامل ہے اور یہ بھی کہ ان کی نسل بڑھنے سے تمہاری دولت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور آخر میں ان منافع میں سے پھر خاص طور پر ایک نفع ذکر فرمایا کہ انھی سے تم کھاتے ہو، یعنی دودھ، دہی، ان سے بننے والی بیشمار چیزیں اور گوشت، الغرض، ان میں تمہارے کھانے کا سامان بھی ہے۔ یہ آیت اسی سورت کی آیت (٦٦) اور (٨٠) کے مشابہ ہے۔

6

وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ

اور جب شام کو انہیں (جنگل سے) لاتے ہو اور جب صبح کو (جنگل) چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے

وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ ۔۔ : ” جَمَالٌ“ خوبصورتی، یہ ” کَرُمَ “ سے مصدر ہے۔ ” رَجُلٌ جَمِیْلٌ“ ” خوبصورت آدمی “۔ ” تُرِيْحُوْنَ “ یہ ” اِرَاحَۃٌ“ (افعال) سے مضارع ہے، شام کو لانا۔ ” تَسْرَحُوْنَ “ (ف) صبح چرانے کے لیے لے جاتے ہو۔ - تُرِيْحُوْنَ : شام کو گھر لانے کا منظر زیادہ خوبصورت ہوتا ہے، کیونکہ جانوروں کے پیٹ بھرے ہوتے ہیں اور وہ تروتازہ اپنے مالک کی خوشی کا باعث ہوتے ہیں، اس لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔ ایک جمال یہ بھی ہے کہ ان کی کثرت سے ان کے مالک کی دولت مندی کا اظہار ہوتا ہے اور دنیا میں دولت خود ایک جمال ہے۔

7

وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَىٰ بَلَدٍۢ لَّمْ تَكُونُوا۟ بَٰلِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ ٱلْأَنفُسِ ۚ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمتِ شاقّہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور مہربان ہے

وَتَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِيْهِ ۔۔ : یہ بات قرآن میں کئی جگہ آئی ہے، مثلاً سورة مومنون (٢١، ٢٢) ، سورة مومن (٧٩ تا ٨١) ، سورة یس (٧١ تا ٧٣) اور سورة زخرف (١٢ تا ١٤) ۔

8

وَٱلْخَيْلَ وَٱلْبِغَالَ وَٱلْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةًۭ ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لیے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جن کی تم کو خبر نہیں

وَّالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا ۔۔ :” وَزِيْنَةً “ مفعول لہ ہے۔ ” وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ “ یعنی ان جانوروں کے علاوہ جن کا ابھی ذکر ہوا، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے وہ چیزیں پیدا کرتا رہے گا جو تم نہیں جانتے۔ اس میں وہ بیشمار حیوانات بھی شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ نئے سے نئے پیدا کرتا رہتا ہے، کبھی مختلف نسلوں کے ملاپ سے، کبھی از سر نو صحراؤں، جنگلوں، سمندروں میں اور انسانوں کی تجربہ گاہوں میں اور قیامت تک ایجاد ہونے والی سواریاں اور مشینیں بھی جو آیت کے نزول کے وقت موجود نہ تھیں، جن میں گاڑیاں، ہوائی جہاز اور انجنوں سے چلنے والے بحری جہاز وغیرہ سب شامل ہیں اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ مزید کیا کیا ایجادات ہوں گی ؟ قرآن نے ان چیزوں کا ذکر کیا مگر انھیں مبہم رکھا، کیونکہ اگر نام لیتے تو بہت سے لوگ شاید انکار ہی کردیتے۔ کہا جاتا ہے : ” اَلنَّاسُ اَعْدَاءٌ لِمَا جَھِلُوْا “ ” کہ لوگ جس بات کا علم نہ رکھتے ہوں اس کے مخالف ہوا کرتے ہیں “ اور ذکر نہ کرتے تو جانوروں سے بھی تیز رفتار، آرام دہ اور مزین سواریوں کا توحید و احسانِ الٰہی کی دلیل کے طور پر ذکر رہ جاتا جو ” سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا “ کی جانوروں سے بھی بڑھ کر مصداق ہیں اور صاحب ظلال القرآن نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ اس لیے بھی کردیا کہ لوگ نئی ایجادات پر سواری میں حرج نہ سمجھیں کہ ہمارے بزرگ تو اونٹوں گھوڑوں ہی پر سواری کرتے رہے ہیں اور قرآن میں انھی کا ذکر ہے۔ - 3 خچر اور گدھے کے گوشت کی حرمت پر تو سب کا اتفاق ہے، البتہ گھوڑے کے گوشت میں اختلاف ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحیح احادیث میں اس کا حلال ہونا ثابت ہے۔ بعض لوگ جو اسے حرام سمجھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان تینوں جانوروں کو سواری کے لیے دوسرے جانوروں سے الگ ذکر فرمایا ہے، اگر ان کا کھانا حلال ہوتا ہے تو سواری کے ساتھ انھیں کھانے کی نعمت کا ذکر ضرور ہوتا۔ یہ دلیل اگر درست مانی جائے تو پہلے جانوروں کے فوائد میں سواری کا ذکر نہیں تو ان پر سواری جائز نہیں ہونی چاہیے۔ (طبری) بغوی نے فرمایا کہ یہ آیات حلال و حرام کے بیان سے تعلق ہی نہیں رکھتیں۔ علامۂ شام جمال الدین قاسمی (رض) فرماتے ہیں کہ سب کو معلوم ہے کہ یہ سورت مکی ہے، اگر اس سے گھوڑے کی حرمت ثابت ہوتی تو گدھے کی بھی ضرور ثابت ہوتی، جب کہ گدھے کا گوشت ان آیات کے بعد بھی حلال رہا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے موقع پر اسے حرام فرمایا اور اسی موقع پر گھوڑے کے حلال ہونے کو برقرار رکھا۔ چناچہ صحیح بخاری میں جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا اور گھوڑوں کی اجازت دی۔ [ بخاري، المغازی، باب غزوۃ خیبر : ٤٢١٩ ] اسماء (رض) فرماتی ہیں، ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔ [ بخاری، الذبائح والصید، باب النحر و الذبح : ٥٥١٠۔ مسلم، الصید والذبائح، باب إباحۃ أکل لحم الخیل : ١٩٤٢ ] اسی طرح جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دی اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ [ ترمذي، الأطعمۃ، باب ما جاء في أکل لحوم الخیل : ١٧٩٣۔ نسائی : ٤٣٣٣ ]- علامہ قاسمی فرماتے ہیں کہ ابوداؤد اور نسائی وغیرہ میں خالد بن ولید (رض) سے جو حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درندوں میں سے ہر کچلی والے جانور اور گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا، اس کی سند میں صالح بن یحییٰ ہے جس میں مقال ہے، امام بخاری نے فرمایا : ” فِیْہِ نَظْرٌ“ اور ایسے راوی کی حدیث لینا درست نہیں ہوتا، پھر اگر صحیح بھی فرض کریں تو یہ اوپر ذکر کردہ …

9

وَعَلَى ٱللَّهِ قَصْدُ ٱلسَّبِيلِ وَمِنْهَا جَآئِرٌۭ ۚ وَلَوْ شَآءَ لَهَدَىٰكُمْ أَجْمَعِينَ

اور سیدھا رستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے۔ اور بعض رستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے رستے پر چلا دیتا

وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ ۔۔ : چند انسانی ضروریات کا ذکر فرما کر سب سے ضروری چیز یعنی صحیح راستہ بتانے کے اہتمام کا خاص طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ اسی لیے ہم ہر نماز میں یہی دعا کرتے ہیں : (ۭاِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ) [ الفاتحۃ : ٥ ] ” ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ “ ” قَصْدُ “ کا معنی سیدھا ہونا۔ ” اَلسَّبِیْل “ کا معنی راستہ، تو ” قَصْدُ السَّبِيْلِ “ سیدھا راستہ جس میں کوئی کجی نہ ہو۔ اسے ” سبیل قصد “ بھی کہتے ہیں اور ” سبیل قاصد “ بھی۔ گویا ” قَصْدُ “ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے جو موصوف کی طرف مضاف ہے۔ یہ بات طے ہے کہ دو نقطوں کے درمیان سب سے مختصر خط مستقیم ہی ہوتا ہے، یعنی اپنے بندوں کی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرنا اللہ ہی کے ذمے ہے اور یہ ذمہ خود اس نے اپنے فضل سے اٹھایا ہے، کسی کا اس پر جبر نہیں۔ یا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے والا ہے، یعنی انسان فطرت پر قائم رہے تو خود بخود توحید الٰہی کا قائل ہوجاتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جسمانی ضروریات پوری کرنے کا سامان بہم پہنچایا ہے، اسی طرح اس کی ہدایت کا راستہ بھی متعین کردیا ہے۔ - 3 جب زندگی عطا کرنے والے نے خود راستہ متعین کردیا تو مفکروں، فلسفیوں اور قانون سازوں کو دستور سازی یا قانون سازی کی تکلیف سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ان کا علم ہر چیز کا احاطہ نہیں کرتا، اس لیے ان کے بنائے ہوئے دستور و قانون بدلتے رہتے ہیں اور ہمیشہ انسان کی بربادی ہی کا باعث بنتے ہیں۔ حکام کا کام دستور سازی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے دستور و قانون کو عملاً نافذ کرنا ہے۔ افسوس کہ کفار کی کئی سو سالہ محنت کے نتیجے میں مسلمانوں نے آخر اللہ تعالیٰ کا منصب خود سنبھال لیا اور خلافت ختم کرکے جمہوریت کے نام پر خود دستور ساز اور قانون ساز بن بیٹھے۔ اب نام ان کا مسلم ہے، مگر نظام ان کا اللہ تعالیٰ سے بغاوت اور کفار کے حکم یا اپنی خواہش پر عمل ہے۔ - وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ : ” جَارَ عَنِ الطَّرِیْقِ “ راستے سے ہٹ گیا۔ ” جَاۗىِٕرٌ“ اسم فاعل ہے، وہ تمام راستے جو اللہ کی طرف سے نہیں ہیں، یعنی نہ قرآن سے ثابت ہیں نہ حدیث سے، وہ سب صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے ہیں اور انھیں اختیار کرنے والے گمراہ ہیں۔- وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ : مگر اس سے انسان کو پیدا کرنے کا اصل مقصد جو آزمائش ہے، وہ فوت ہوجاتا، اس لیے کہ جس حد تک راہ دکھانے کا تعلق تھا وہ تو پیغمبر بھیج کر اور کتابیں اتار کر پورا کردیا، مگر اس راہ پر چلنا انسان کے اختیار پر چھوڑ دیا، تاکہ اس کے اعمال کے مطابق اسے جزا یا سزا دی جاسکے۔

10

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ ۖ لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌۭ وَمِنْهُ شَجَرٌۭ فِيهِ تُسِيمُونَ

وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو

هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً : ” السَّمَاۗءِ “ کا لفظی معنی بلند چیز ہے، کیونکہ یہ ” سَمُوٌّ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی بلندی ہے، اس لیے یہ لفظ بادل، بارش، چھت (دیکھیے انبیاء : ٣٢) اور آسمان سب کے لیے بولا جاتا ہے اور ہر جگہ قرینے سے اس کا معنی متعین ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدت و قدرت کے دلائل میں حیوانات کے بعد اب پانی اور نباتات کا ذکر فرمایا، کیونکہ انسان کی غذا لحمیات، نشاستے، شکر وغیرہ زمین سے پیدا ہونے والی بیشمار چیزوں اور پانی سے مکمل ہوتی ہے۔ زمین کا ستر (٧٠) فیصد حصہ نہایت تلخ سمندر ہے، جس کا پانی انسان کے پینے کے لائق نہیں، مگر زمین اور سمندر کو تعفن سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کا نمکین ہونا نہایت ضروری ہے، ورنہ بدبو اور تعفن سے نہ سمندر میں کوئی چیز زندہ رہتی، نہ زمین پر۔ انھیں بخارات کی صورت میں اڑا کر بادلوں سے میٹھا پانی برسانے والی ایک ہی ذات پاک ہے، اگر وہ پانی نہ برساتا تو انسان، حیوان، نباتات سب کا نام و نشان مٹ جاتا اور اگر وہ سمندر کی طرح شدید کڑوا ہی برسا دیتا تو پھر بھی خشکی کی ہر زندہ چیز انسان، حیوان اور نباتات معدوم ہوجاتے، فرمایا : (لَوْ نَشَاۗءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُوْنَ ) [ الواقعۃ : ٧٠ ] ” اگر ہم چاہیں تو اسے سخت نمکین بنادیں، پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے ؟ “- لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ ۔۔ : اسی پانی میں سے کچھ حصہ تمہارے پینے کے کام آتا ہے اور کچھ پودے اگانے کے، جن میں تم اپنے جانور چراتے ہو۔ یہ نہ ہو تو نہ تم رہو، نہ تمہارے پودے اور نہ ان میں چرنے والے جانور۔ ” شَجَـرٌ“ اگرچہ تنے والے درخت کو کہتے ہیں مگر یہاں زمین سے اگنے والی ہر چیز مراد ہے، دلیل اس کی ” فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ “ (اس میں تم چراتے ہو) ہے۔ “

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.