مویشیوں کے فوائد - قول باری ہے (والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھا تاکلون۔ اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے ہیں) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ” دف “ سے لباس اور پوشاک مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس لفظ سے جانوروں کے بال اور اون مراد ہیں جن کے ذریعے حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جانوروں کے بالوں اور اون سے تمام احوال یعنی زندہ اور مردہ حالتوں میں فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ قول باری ہے : والخیل والبغال و الحمیر لتر کبوھا و زینۃ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہاری زندگی کی رونق نہیں) ہشام الدستوانی نے یحییٰ بن کثیر سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا گوشت مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ قول باری (والانعام خلقھا لکم) میں جن جانوروں کا ذکر ہے وہ کھانے کے لئے ہیں اور زیر بحث آیت میں جن تین جانوروں کا ذکر ہے وہ سواری کے لئے ہیں۔ امام ابوحنیفہ نے ہیثم سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ گھوڑوں کا گوشت مکروہ سمجھتے تھے اور قول باری (والخیل والبغال والحمیر الترکوھا وزینۃ) کے یہی معنی لیتے تھے۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ گھوڑوں کے گوشت کی ممانعت کی یہ ایک واضح دلیل ہے وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کا ذکر کیا اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بیان کیا کہ ان کا گوشت تم کھاتے ہو۔ چناچہ ارشاد ہوا (والانعام خلقھا لکم فیھا رف و منافع و منھا تاکلون) اس کے بعد گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا ذکر کیا اور ان کے فوائد یہ بیان کئے کہ یہ سواری کے کام آتے ہیں اور یہ تمہاری زندگی کی رونق ہیں۔ اگر ان کا گوشت بھی ان سے حاصل ہونے والے فوائد میں داخل ہوتا تو اللہ تعالیٰ مویشیوں کے فوائد میں گوشت کے ذکر کی طرح یہاں بھی اس کا ضرور ذکر کرتا خاص طور پر گوشت کا استعمال جانور سے حاصل ہونے والے فوائد میں سب سے بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ ان تینوں جانوروں کے گوشت کی اباحت اور ممانعت کے بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متضاد روایتیں منقول ہیں۔ عکرمہ بن عمار نے یحییٰ بن کثیر سے، انہوں نے ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ غزوۂ خیبر کے موقعہ پر لوگوں کو فاقہ اور بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کر لئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پالتو گدھے، خچر، گھوڑے، کچلیوں والے درندے اور پنجوں والے پرندے حرام قرار دیئے۔ اسی طرح آپ نے سکی کی کوئی چیز اچک لینے نیز لوٹ مار کو بھی حرام قرار دیا۔ سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر (رض) بن عبد اللہ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں۔ ہم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھوڑوں کا گوشت کھلایا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں گدھوں کے گوشت کی ممانعت کردی تھی۔- عمر بن دینار نے حضرت جابر (رض) سے اس حدیث کا سماع نہیں کیا تھا اس لئے کہ ابن جریح نے اس حدیث کی عمرو بن دینار سے، انہوں نے ایک شخص سے اور انہوں نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے۔ حضرت جابر (رض) غزوۂ خیبر کے موقع پر موجود نہیں تھے اس لئے محمد بن اسحاق نے سلام بن کر کرہ سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے جبکہ حضرت جابر (رض) خیبر کے موقعہ پر موجود نہیں تھے۔ نیز یہ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گدھوں کے گوشت کی ممانعت کردی تھی اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دے دی تھی۔ اس طرح حضرت جابر (رض) سے اس سلسلے میں مروی روایات کا آپس میں تعارض ہے۔ اس صورت میں ان روایات کے متعلق دو باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب ایک …