فَلَمَّا جَآءَ ءَالَ لُوطٍ ٱلْمُرْسَلُونَ
پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے
Explained together with ayah 57
سُورَةُ الحِجۡرِ
Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani
Ayahs 61–70 of 99
فَلَمَّا جَآءَ ءَالَ لُوطٍ ٱلْمُرْسَلُونَ
پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے
Explained together with ayah 57
قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌۭ مُّنكَرُونَ
تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہو
[٣٢] سیدنا لوط اور آل لوط کو نکل جانے کا حکم اور ہدایات :۔ یہ فرشتے جب لوط (علیہ السلام) کے ہاں آئے تو خوبصورت اور بےریش نوجوانوں کی صورت میں آئے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کے یہ مہمان بالکل اجنبی مہمان تھے۔ آپ کو بھی ان کی آمد سے خطرہ محسوس ہوا لیکن آپ کے خطرہ کی نوعیت بالکل الگ تھی۔ آپ اپنی قوم کا حال بھی جانتے تھے اور یہ نوجوان لڑکے بہت خوبصورت تھے لہذا دل ہی دل میں آپ پیش آنے والے حالات سے سخت خوفزدہ تھے۔ فرشتوں نے آپ کو اصل صورت حال بتلا کر آپ کے اس خوف کو دور کردیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اس مجرم قوم کے گناہوں کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا ہے۔ لہذا ہم ان کے مکمل استیصال کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ اب آپ ایسا کریں کہ جب گہری رات چھا جائے تو آپ اپنے گھر والوں اور ایمان دار لوگوں کو ساتھ لے کر یہاں سے نکل جائیں۔ البتہ تمہاری بیوی تمہارے ساتھ نہیں جائے گی۔ کیونکہ وہ ان لوگوں کے گناہوں میں برابر کی شریک ہے۔ صبح دم ان پر عذاب آنے والا ہے اور جب تم نکلو تو خود سب سے پیچھے رہو اور تم لوگوں میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے کیونکہ یہ نہ تو تماشا دیکھنے کا وقت ہے اور نہ مجرم قوم کی ہلاکت پر آنسو بہانے کا بلکہ اگر کوئی آدمی پیچھے کھڑا رہ گیا تو ممکن ہے اسے بھی کچھ گزند پہنچ جائے۔
قَالُوا۟ بَلْ جِئْنَٰكَ بِمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَمْتَرُونَ
وہ بولے کہ نہیں بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے
Explained together with ayah 62
وَأَتَيْنَٰكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں
Explained together with ayah 62
فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍۢ مِّنَ ٱلَّيْلِ وَٱتَّبِعْ أَدْبَٰرَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌۭ وَٱمْضُوا۟ حَيْثُ تُؤْمَرُونَ
تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے۔ اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جایئے
[٣٣] آپ کی تبلیغ کا مرکز سدوم کا شہر تھا۔ اور یہ عذاب اسی شہر اور اس کے مضافات پر آیا تھا۔ ان کا علاقہ عراق اور فلسطین کے درمیان واقع تھا جہاں آج کل شرق اردن ہے۔ یہاں سے آپ کو شام کی طرف ہجرت کرجانے کا حکم دیا گیا تھا۔- یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ سورة ہود میں واقعہ کی ترتیب یہ ہے کہ جب فرشتے سیدنا لوط (علیہ السلام) کے ہاں آئے تو قوم کے بدمعاش اور غنڈے فوراً سیدنا لوط کے گھر پہنچ گئے۔ اور آپ کو اپنے ان مہمانوں کو ان غنڈوں سے بچانے کی فکر لاحق ہوگئی۔ تاآنکہ آپ نے یہ فرمایا کہ کاش مجھ میں ان کی مدافعت کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا تو اس وقت فرشتوں نے اپنا تعارف کرایا اور تسلی دی کہ آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اور یہاں ترتیب یہ ہے کہ عذاب کا ذکر پہلے آیا ہے اور باقی تفصیلات بعد میں۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مضمون کے تسلسل اور مناسبت کی بنا پر عذاب کا ذکر پہلے کردیا گیا ہے ورنہ واقعہ کی اصل ترتیب وہی ہے جو پہلے سورة ہود میں مذکور ہوئی۔
وَقَضَيْنَآ إِلَيْهِ ذَٰلِكَ ٱلْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَٰٓؤُلَآءِ مَقْطُوعٌۭ مُّصْبِحِينَ
اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی
Explained together with ayah 65
وَجَآءَ أَهْلُ ٱلْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ
اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے
[٣٤] غنڈوں کا سیدنا لوط کے گھر میں گھس آنا :۔ اہل سدوم لواطت کے معاملہ میں اس قدر بےحیا اور بیباک ہوچکے تھے کہ سیدنا لوط کا بھی کچھ لحاظ نہ کرتے تھے بلکہ الٹا انھیں یہ کہتے تھے کہ اگر تم اتنے پاکباز بنتے ہو تو ہمارے شہر سے نکل جاؤ۔ چناچہ یہ خوبصورت لڑکے لوط کے گھر پہنچے ہی تھے کہ آپ کی بیوی نے مخبری کردی اور وہ دیوار پھاند کر آپ کے گھر میں گھس آئے۔ سیدنا لوط نے ان کی منت کرتے ہوئے کہ دیکھو یہ میرے مہمان ہیں ان پر دست درازی کرکے مجھے رسوا نہ کرو۔
قَالَ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ ضَيْفِى فَلَا تَفْضَحُونِ
(لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں (کہیں ان کے بارے میں) مجھے رسوا نہ کرنا
Explained together with ayah 67
وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ
اور خدا سے ڈرو۔ اور میری بےآبروئی نہ کیجو
Explained together with ayah 67
قَالُوٓا۟ أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ ٱلْعَٰلَمِينَ
وہ بولے کیا ہم نے تم کو سارے جہان (کی حمایت وطرفداری) سے منع نہیں کیا
[٣٥] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے سیدنا لوط سے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ تم مسافروں اور اجنبیوں کو اپنے ہاں پناہ نہ دیا کرو۔ گویا ان کے شہر میں کسی مسافر کی بھی عزت محفوظ نہ تھی۔ پھر لواطت کے علاوہ ان میں مزید قباحتیں بھی موجود تھیں وہ مسافروں سے بدفعلی کرنے کے بعد ان کا مال اسباب ان سے چھین کر اپنی بستی سے باہر نکال دیا کرتے تھے۔ اب ان خوش شکل نوجوان کو دیکھ کر بھلا وہ اپنی حرکتوں سے کیسے باز رہ سکتے تھے ؟ فوراً کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ سارے جہاں کے ٹھیکیدار مت بنو اور کسی مسافر کو اپنے ہاں پناہ نہ دیا کرو۔ اپنی ہی خیر مناؤ تو یہ بھی بڑی بات ہے۔
Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.