Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 1–10 of 99

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ وَقُرْءَانٍۢ مُّبِينٍۢ

آلرا۔ یہ خدا کی کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں

الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب اور قرآن واضح کی (1) بسا اوقات چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ وہ ہوتے مسلمان (2) آپ چھوڑیے انھیں ، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور غفلت میں ڈالے رکھے انھیں (لمبی) امید، پس عنقریب وہ جان لیں گے (3) اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس حال میں کہ اس کے لیے میعاد مقرر تھی (4) نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے (مقررہ) وقت سےاور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (5)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کی تعظیم اور مدح بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’یہ کتاب کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ آیات بہترین معانی اور افضل ترین مطالب پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور قرآن روشن کی۔‘‘ جو بہترین الفاظ اور اپنے مقصد پر قوی ترین دلائل کے ذریعے سے حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور فرحت و سرور کے ساتھ اس کو قبول کرے۔

[2] جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔

[3] پس ﴿ ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا ﴾ ’’چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں ‘‘ اپنی لذتوں سے ﴿ وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ ﴾ ’’اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے‘‘ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں ۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں ۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔

[4]﴿ وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’اور کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا‘‘ جو کہ عذاب کی مستحق تھی ﴿ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴾ ’’مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا‘‘ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔

[5]﴿ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔‘‘ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔

2

رُّبَمَا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ كَانُوا۟ مُسْلِمِينَ

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے

الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب اور قرآن واضح کی (1) بسا اوقات چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ وہ ہوتے مسلمان (2) آپ چھوڑیے انھیں ، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور غفلت میں ڈالے رکھے انھیں (لمبی) امید، پس عنقریب وہ جان لیں گے (3) اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس حال میں کہ اس کے لیے میعاد مقرر تھی (4) نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے (مقررہ) وقت سےاور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (5)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کی تعظیم اور مدح بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’یہ کتاب کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ آیات بہترین معانی اور افضل ترین مطالب پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور قرآن روشن کی۔‘‘ جو بہترین الفاظ اور اپنے مقصد پر قوی ترین دلائل کے ذریعے سے حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور فرحت و سرور کے ساتھ اس کو قبول کرے۔

[2] جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔

[3] پس ﴿ ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا ﴾ ’’چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں ‘‘ اپنی لذتوں سے ﴿ وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ ﴾ ’’اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے‘‘ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں ۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں ۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔

[4]﴿ وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’اور کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا‘‘ جو کہ عذاب کی مستحق تھی ﴿ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴾ ’’مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا‘‘ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔

[5]﴿ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔‘‘ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔

3

ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا۟ وَيَتَمَتَّعُوا۟ وَيُلْهِهِمُ ٱلْأَمَلُ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

(اے محمد) ان کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ کھالیں اور فائدے اُٹھالیں اور (طول) امل ان کو دنیا میں مشغول کئے رہے عنقریب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا

الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب اور قرآن واضح کی (1) بسا اوقات چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ وہ ہوتے مسلمان (2) آپ چھوڑیے انھیں ، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور غفلت میں ڈالے رکھے انھیں (لمبی) امید، پس عنقریب وہ جان لیں گے (3) اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس حال میں کہ اس کے لیے میعاد مقرر تھی (4) نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے (مقررہ) وقت سےاور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (5)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کی تعظیم اور مدح بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’یہ کتاب کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ آیات بہترین معانی اور افضل ترین مطالب پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور قرآن روشن کی۔‘‘ جو بہترین الفاظ اور اپنے مقصد پر قوی ترین دلائل کے ذریعے سے حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور فرحت و سرور کے ساتھ اس کو قبول کرے۔

[2] جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔

[3] پس ﴿ ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا ﴾ ’’چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں ‘‘ اپنی لذتوں سے ﴿ وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ ﴾ ’’اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے‘‘ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں ۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں ۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔

[4]﴿ وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’اور کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا‘‘ جو کہ عذاب کی مستحق تھی ﴿ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴾ ’’مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا‘‘ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔

[5]﴿ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔‘‘ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔

4

وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٌۭ مَّعْلُومٌۭ

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی۔ مگر اس کا وقت مرقوم ومعین تھا

الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب اور قرآن واضح کی (1) بسا اوقات چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ وہ ہوتے مسلمان (2) آپ چھوڑیے انھیں ، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور غفلت میں ڈالے رکھے انھیں (لمبی) امید، پس عنقریب وہ جان لیں گے (3) اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس حال میں کہ اس کے لیے میعاد مقرر تھی (4) نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے (مقررہ) وقت سےاور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (5)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کی تعظیم اور مدح بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’یہ کتاب کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ آیات بہترین معانی اور افضل ترین مطالب پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور قرآن روشن کی۔‘‘ جو بہترین الفاظ اور اپنے مقصد پر قوی ترین دلائل کے ذریعے سے حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور فرحت و سرور کے ساتھ اس کو قبول کرے۔

[2] جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔

[3] پس ﴿ ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا ﴾ ’’چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں ‘‘ اپنی لذتوں سے ﴿ وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ ﴾ ’’اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے‘‘ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں ۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں ۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔

[4]﴿ وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’اور کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا‘‘ جو کہ عذاب کی مستحق تھی ﴿ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴾ ’’مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا‘‘ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔

[5]﴿ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔‘‘ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔

5

مَّا تَسْبِقُ مِنْ أُمَّةٍ أَجَلَهَا وَمَا يَسْتَـْٔخِرُونَ

کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے

الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب اور قرآن واضح کی (1) بسا اوقات چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ وہ ہوتے مسلمان (2) آپ چھوڑیے انھیں ، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور غفلت میں ڈالے رکھے انھیں (لمبی) امید، پس عنقریب وہ جان لیں گے (3) اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس حال میں کہ اس کے لیے میعاد مقرر تھی (4) نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے (مقررہ) وقت سےاور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (5)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کی تعظیم اور مدح بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’یہ کتاب کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ آیات بہترین معانی اور افضل ترین مطالب پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور قرآن روشن کی۔‘‘ جو بہترین الفاظ اور اپنے مقصد پر قوی ترین دلائل کے ذریعے سے حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور فرحت و سرور کے ساتھ اس کو قبول کرے۔

[2] جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔

[3] پس ﴿ ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا ﴾ ’’چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں ‘‘ اپنی لذتوں سے ﴿ وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ ﴾ ’’اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے‘‘ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں ۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں ۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔

[4]﴿ وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’اور کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا‘‘ جو کہ عذاب کی مستحق تھی ﴿ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴾ ’’مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا‘‘ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔

[5]﴿ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔‘‘ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔

6

وَقَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِى نُزِّلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌۭ

اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تُو تو دیوانہ ہے

اور انھوں نے کہا، اے وہ شخص! کہ نازل کیا گیا ہے اوپر اس کے یہ قرآن، یقینا تو تو دیوانہ ہے (6) کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتے، اگر ہے تو سچوں میں سے؟(7) نہیں نازل کرتے ہم فرشتے مگر ساتھ حق (عذاب) کےاور نہ ہوں گے وہ (کافر) اس وقت مہلت دیے گئے(8) بے شک ہم ہی نے نازل کیا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم ہی اس کے محافظ ہیں (9)

[6] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ ﴾ ’’اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن‘‘ یعنی تیرے زعم کے مطابق ﴿ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؔ ﴾ ’’بے شک تو دیوانہ ہے‘‘ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذہب کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔

[8,7]﴿ لَوۡ مَا تَاۡتِيۡنَا بِالۡمَلٰٓىِٕكَةِ ﴾ ’’کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو‘‘ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو سچا ہے‘‘ اور چونکہ تیری تائید کے لیے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لیے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے بڑا ظلم اورسب سے بڑی جہالت ہے۔ رہا اس کا ظلم ہونا تو یہ صاف ظاہر ہے کیونکہ معین معجزات کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت اور محض تعنت (بے جا سختی)ہے حالانکہ ان معین معجزات کے بغیر بھی بہت سی نشانیوں کے ذریعے سے دلیل اور برہان کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے جو اس چیز کی صحت اور اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں … اور رہی جہالت تو وہ اپنے مصالح اور نقصان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، پس فرشتوں کو نازل کرنے میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب فرشتے نازل کرتا ہے تو حق کے ساتھ نازل کرتا ہے اور اس کے بعد ان لوگوں کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی جو حق کی پیروی نہیں کرتے۔﴿ وَمَا كَانُوۡۤا اِذًا ﴾ ’’اور اس وقت نہ ملے گی‘‘ یعنی فرشتے کے نازل ہونے کے بعد اگر وہ ایمان نہ لائیں … اور وہ ایمان نہیں لائیں گے ﴿ مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’ان کو مہلت‘‘ یعنی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ فرشتوں کے نازل ہونے کا مطالبہ، ان کی فوری ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جائے گا۔ کیونکہ ایمان ان کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَؔكَلَّمَهُمُ الۡمَوۡتٰى وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍ 111) ’’اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی نازل کر دیتے۔ مردے ان سے ہم کلام ہوتے اور ہر چیز ان کے سامنے اکٹھی کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اللہ چاہتا، مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔‘‘

[9] اگر یہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو قرآن عظیم کی یہ آیات ہی ان کے لیے کافی ہوتیں ۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ ﴾ ’’بے شک ہم نے اتاری ہے یہ نصیحت‘‘ یعنی قرآن جس میں ہر چیز کا تذکرہ ہے ، مثلاً: مسائل اور واضح دلائل وغیرہ اور جو کوئی نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس سے نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی اس کو نازل کرنے کی حالت میں ہر شیطان مردود کی چوری سے ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اس کو نازل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے قلب میں اور آپ کی امت کے قلوب میں ودیعت کر دیا۔ نیز اس کے الفاظ کو تغیر و تبدل، کمی بیشی اور اس کے معانی کو ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ کر دیا۔ تحریف کرنے والا جب کبھی اس کے معنی میں تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو مقرر فرما دیتا ہے جو حق …

7

لَّوْ مَا تَأْتِينَا بِٱلْمَلَٰٓئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا

اور انھوں نے کہا، اے وہ شخص! کہ نازل کیا گیا ہے اوپر اس کے یہ قرآن، یقینا تو تو دیوانہ ہے (6) کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتے، اگر ہے تو سچوں میں سے؟(7) نہیں نازل کرتے ہم فرشتے مگر ساتھ حق (عذاب) کےاور نہ ہوں گے وہ (کافر) اس وقت مہلت دیے گئے(8) بے شک ہم ہی نے نازل کیا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم ہی اس کے محافظ ہیں (9)

[6] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ ﴾ ’’اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن‘‘ یعنی تیرے زعم کے مطابق ﴿ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؔ ﴾ ’’بے شک تو دیوانہ ہے‘‘ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذہب کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔

[8,7]﴿ لَوۡ مَا تَاۡتِيۡنَا بِالۡمَلٰٓىِٕكَةِ ﴾ ’’کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو‘‘ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو سچا ہے‘‘ اور چونکہ تیری تائید کے لیے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لیے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے بڑا ظلم اورسب سے بڑی جہالت ہے۔ رہا اس کا ظلم ہونا تو یہ صاف ظاہر ہے کیونکہ معین معجزات کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت اور محض تعنت (بے جا سختی)ہے حالانکہ ان معین معجزات کے بغیر بھی بہت سی نشانیوں کے ذریعے سے دلیل اور برہان کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے جو اس چیز کی صحت اور اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں … اور رہی جہالت تو وہ اپنے مصالح اور نقصان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، پس فرشتوں کو نازل کرنے میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب فرشتے نازل کرتا ہے تو حق کے ساتھ نازل کرتا ہے اور اس کے بعد ان لوگوں کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی جو حق کی پیروی نہیں کرتے۔﴿ وَمَا كَانُوۡۤا اِذًا ﴾ ’’اور اس وقت نہ ملے گی‘‘ یعنی فرشتے کے نازل ہونے کے بعد اگر وہ ایمان نہ لائیں … اور وہ ایمان نہیں لائیں گے ﴿ مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’ان کو مہلت‘‘ یعنی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ فرشتوں کے نازل ہونے کا مطالبہ، ان کی فوری ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جائے گا۔ کیونکہ ایمان ان کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَؔكَلَّمَهُمُ الۡمَوۡتٰى وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍ 111) ’’اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی نازل کر دیتے۔ مردے ان سے ہم کلام ہوتے اور ہر چیز ان کے سامنے اکٹھی کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اللہ چاہتا، مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔‘‘

[9] اگر یہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو قرآن عظیم کی یہ آیات ہی ان کے لیے کافی ہوتیں ۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ ﴾ ’’بے شک ہم نے اتاری ہے یہ نصیحت‘‘ یعنی قرآن جس میں ہر چیز کا تذکرہ ہے ، مثلاً: مسائل اور واضح دلائل وغیرہ اور جو کوئی نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس سے نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی اس کو نازل کرنے کی حالت میں ہر شیطان مردود کی چوری سے ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اس کو نازل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے قلب میں اور آپ کی امت کے قلوب میں ودیعت کر دیا۔ نیز اس کے الفاظ کو تغیر و تبدل، کمی بیشی اور اس کے معانی کو ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ کر دیا۔ تحریف کرنے والا جب کبھی اس کے معنی میں تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو مقرر فرما دیتا ہے جو حق …

8

مَا نُنَزِّلُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَمَا كَانُوٓا۟ إِذًۭا مُّنظَرِينَ

(کہہ دو) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی

اور انھوں نے کہا، اے وہ شخص! کہ نازل کیا گیا ہے اوپر اس کے یہ قرآن، یقینا تو تو دیوانہ ہے (6) کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتے، اگر ہے تو سچوں میں سے؟(7) نہیں نازل کرتے ہم فرشتے مگر ساتھ حق (عذاب) کےاور نہ ہوں گے وہ (کافر) اس وقت مہلت دیے گئے(8) بے شک ہم ہی نے نازل کیا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم ہی اس کے محافظ ہیں (9)

[6] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ ﴾ ’’اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن‘‘ یعنی تیرے زعم کے مطابق ﴿ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؔ ﴾ ’’بے شک تو دیوانہ ہے‘‘ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذہب کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔

[8,7]﴿ لَوۡ مَا تَاۡتِيۡنَا بِالۡمَلٰٓىِٕكَةِ ﴾ ’’کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو‘‘ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو سچا ہے‘‘ اور چونکہ تیری تائید کے لیے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لیے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے بڑا ظلم اورسب سے بڑی جہالت ہے۔ رہا اس کا ظلم ہونا تو یہ صاف ظاہر ہے کیونکہ معین معجزات کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت اور محض تعنت (بے جا سختی)ہے حالانکہ ان معین معجزات کے بغیر بھی بہت سی نشانیوں کے ذریعے سے دلیل اور برہان کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے جو اس چیز کی صحت اور اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں … اور رہی جہالت تو وہ اپنے مصالح اور نقصان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، پس فرشتوں کو نازل کرنے میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب فرشتے نازل کرتا ہے تو حق کے ساتھ نازل کرتا ہے اور اس کے بعد ان لوگوں کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی جو حق کی پیروی نہیں کرتے۔﴿ وَمَا كَانُوۡۤا اِذًا ﴾ ’’اور اس وقت نہ ملے گی‘‘ یعنی فرشتے کے نازل ہونے کے بعد اگر وہ ایمان نہ لائیں … اور وہ ایمان نہیں لائیں گے ﴿ مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’ان کو مہلت‘‘ یعنی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ فرشتوں کے نازل ہونے کا مطالبہ، ان کی فوری ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جائے گا۔ کیونکہ ایمان ان کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَؔكَلَّمَهُمُ الۡمَوۡتٰى وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍ 111) ’’اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی نازل کر دیتے۔ مردے ان سے ہم کلام ہوتے اور ہر چیز ان کے سامنے اکٹھی کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اللہ چاہتا، مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔‘‘

[9] اگر یہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو قرآن عظیم کی یہ آیات ہی ان کے لیے کافی ہوتیں ۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ ﴾ ’’بے شک ہم نے اتاری ہے یہ نصیحت‘‘ یعنی قرآن جس میں ہر چیز کا تذکرہ ہے ، مثلاً: مسائل اور واضح دلائل وغیرہ اور جو کوئی نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس سے نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی اس کو نازل کرنے کی حالت میں ہر شیطان مردود کی چوری سے ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اس کو نازل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے قلب میں اور آپ کی امت کے قلوب میں ودیعت کر دیا۔ نیز اس کے الفاظ کو تغیر و تبدل، کمی بیشی اور اس کے معانی کو ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ کر دیا۔ تحریف کرنے والا جب کبھی اس کے معنی میں تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو مقرر فرما دیتا ہے جو حق …

9

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں

اور انھوں نے کہا، اے وہ شخص! کہ نازل کیا گیا ہے اوپر اس کے یہ قرآن، یقینا تو تو دیوانہ ہے (6) کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتے، اگر ہے تو سچوں میں سے؟(7) نہیں نازل کرتے ہم فرشتے مگر ساتھ حق (عذاب) کےاور نہ ہوں گے وہ (کافر) اس وقت مہلت دیے گئے(8) بے شک ہم ہی نے نازل کیا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم ہی اس کے محافظ ہیں (9)

[6] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ ﴾ ’’اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن‘‘ یعنی تیرے زعم کے مطابق ﴿ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؔ ﴾ ’’بے شک تو دیوانہ ہے‘‘ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذہب کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔

[8,7]﴿ لَوۡ مَا تَاۡتِيۡنَا بِالۡمَلٰٓىِٕكَةِ ﴾ ’’کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو‘‘ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو سچا ہے‘‘ اور چونکہ تیری تائید کے لیے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لیے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے بڑا ظلم اورسب سے بڑی جہالت ہے۔ رہا اس کا ظلم ہونا تو یہ صاف ظاہر ہے کیونکہ معین معجزات کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت اور محض تعنت (بے جا سختی)ہے حالانکہ ان معین معجزات کے بغیر بھی بہت سی نشانیوں کے ذریعے سے دلیل اور برہان کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے جو اس چیز کی صحت اور اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں … اور رہی جہالت تو وہ اپنے مصالح اور نقصان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، پس فرشتوں کو نازل کرنے میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب فرشتے نازل کرتا ہے تو حق کے ساتھ نازل کرتا ہے اور اس کے بعد ان لوگوں کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی جو حق کی پیروی نہیں کرتے۔﴿ وَمَا كَانُوۡۤا اِذًا ﴾ ’’اور اس وقت نہ ملے گی‘‘ یعنی فرشتے کے نازل ہونے کے بعد اگر وہ ایمان نہ لائیں … اور وہ ایمان نہیں لائیں گے ﴿ مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’ان کو مہلت‘‘ یعنی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ فرشتوں کے نازل ہونے کا مطالبہ، ان کی فوری ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جائے گا۔ کیونکہ ایمان ان کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَؔكَلَّمَهُمُ الۡمَوۡتٰى وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍ 111) ’’اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی نازل کر دیتے۔ مردے ان سے ہم کلام ہوتے اور ہر چیز ان کے سامنے اکٹھی کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اللہ چاہتا، مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔‘‘

[9] اگر یہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو قرآن عظیم کی یہ آیات ہی ان کے لیے کافی ہوتیں ۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ ﴾ ’’بے شک ہم نے اتاری ہے یہ نصیحت‘‘ یعنی قرآن جس میں ہر چیز کا تذکرہ ہے ، مثلاً: مسائل اور واضح دلائل وغیرہ اور جو کوئی نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس سے نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی اس کو نازل کرنے کی حالت میں ہر شیطان مردود کی چوری سے ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اس کو نازل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے قلب میں اور آپ کی امت کے قلوب میں ودیعت کر دیا۔ نیز اس کے الفاظ کو تغیر و تبدل، کمی بیشی اور اس کے معانی کو ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ کر دیا۔ تحریف کرنے والا جب کبھی اس کے معنی میں تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو مقرر فرما دیتا ہے جو حق …

10

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِى شِيَعِ ٱلْأَوَّلِينَ

اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے

اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے بھی (کئی رسول) پہلے گروہوں میں (10) اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول مگر تھے وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے(11) اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں اس (استہزاء) کو دلوں میں مجرموں کے (12)(چنانچہ ) نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اس (قرآن) کےاور تحقیق گزر چکا ہے (یہ) طریقہ پہلے لوگوں کا (13)

[10] جب مشرکین نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔‘‘ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کر چکے ہیں ۔

[11]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾ ’’اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا‘‘ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔‘‘

[13,12]﴿۠ كَذٰلِكَ نَسۡلُكُهٗ ﴾ ’’اسی طرح داخل کر دیتے ہیں ہم اس کو‘‘ یعنی جھٹلانے کو ﴿ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کے دلوں میں ‘‘ ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفروتکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہو گئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہو گیا، یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہو گئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی‘‘ یعنی ان کے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.