فَلَمَّا جَآءَ ءَالَ لُوطٍ ٱلْمُرْسَلُونَ
پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے
Explained together with ayah 57
سُورَةُ الحِجۡرِ
Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi
Ayahs 61–70 of 99
فَلَمَّا جَآءَ ءَالَ لُوطٍ ٱلْمُرْسَلُونَ
پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے
Explained together with ayah 57
قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌۭ مُّنكَرُونَ
تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہو
قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ : جن کی جان پہچان نہ ہو، اجنبی، اُوپرے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح لوط (علیہ السلام) بھی انھیں پہچان نہ سکے۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ دوسری ساری مخلوق کی طرح یہ دونوں جلیل القدر انبیاء بھی عالم الغیب نہ تھے، ورنہ وہ ان کے آنے سے پہلے ہی انھیں جانتے ہوتے اور ان کے آنے سے باخبر ہوتے، بلکہ ابراہیم (علیہ السلام) کو پہلے ہی معلوم ہوتا کہ مجھے اتنی عمر میں اسحاق عطا ہوں گے اور لوط (علیہ السلام) کو پہلے ہی اپنی قوم کا انجام معلوم ہوتا، مگر اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کرنے پر صبر، آگ میں ڈالے جانے پر بھی استقامت کا اظہار، جبار مصر کی زیادتی کی آزمائش پر صبر، ہاجرہ اور اسماعیل کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑنے پر صبر، غرض ان کی کوئی آزمائش، آزمائش نہیں رہے گی، کیونکہ اگر پہلے علم ہو کہ ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا تو ہر شخص آگ میں کود سکتا ہے اور بیٹے کی گردن پر چھری چلانے کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔ شیعہ حضرات نے تو انبیاء کے علاوہ اپنے بارہ اماموں کو ہر گزری ہوئی اور آنے والی بات جاننے والا قرار دیا۔ دیکھیے ان کی کتاب ” الکافی “ کی فہرست، جسے وہ اتنا معتبر سمجھتے ہیں جتنا اہل سنت صحیح بخاری کو۔
قَالُوا۟ بَلْ جِئْنَٰكَ بِمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَمْتَرُونَ
وہ بولے کہ نہیں بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے
قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ ۔۔ : ” اِمْتِرَاءٌ“ سے مضارع معلوم ہے، ایسا شک جو انسان کو ایسی بات پر جھگڑنے کے لیے آمادہ کرے جس کی حقیقت کچھ نہ ہو، بلکہ وہ صرف وہم و گمان پر مبنی ہو۔ (طنطاوی) اس لیے اس میں جھگڑے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو تسلی دینے کے لیے یہ بات کہی کہ ہم تمہیں پریشان کرنے کے لیے نہیں آئے، بلکہ وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے اور جھگڑتے رہے ہیں اور واقعی ہم سچ کہہ رہے ہیں۔ ” بِالْحَقِّ “ سے مراد عذاب ہے، جیسا کہ فرمایا : (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ ) [ الحجر : ٨ ] ” ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق (یعنی عذاب) کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیے گئے نہیں ہوتے۔ “
وَأَتَيْنَٰكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں
Explained together with ayah 63
فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍۢ مِّنَ ٱلَّيْلِ وَٱتَّبِعْ أَدْبَٰرَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌۭ وَٱمْضُوا۟ حَيْثُ تُؤْمَرُونَ
تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے۔ اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جایئے
وَاتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ : لوط (علیہ السلام) کو ان کے پیچھے چلنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ ان کی اچھی طرح حفاظت کرسکیں، کوئی پیچھے نہ رہ جائے، سب مسلسل چلتے رہیں اور ٹھہر کر آنے والوں کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ ہماری نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ بھی یہی تھا، چناچہ جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں پیچھے رہتے، کمزوروں کو آگے چلاتے اور سواری پر اپنے پیچھے بٹھاتے اور ان کے لیے دعا فرماتے۔ [ أبوداوٗد، الجہاد، باب لزوم الساقۃ : ٢٦٣٩ ]- وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ : کیونکہ مڑ کر دیکھنے میں وہ تیزی باقی نہیں رہے گی جو اللہ کے عذاب کی جگہ سے بھاگنے میں ہونی چاہیے اور وطن چھوڑتے وقت حسرت سے اسے بار بار دیکھنے کے بجائے بس آگے بڑھتے جاؤ، تاکہ نہ دل کسی اور طرف متوجہ ہو اور نہ اللہ کے ذکر و شکر اور تمہاری رفتار میں کوئی کمی واقع ہو، نہ قوم کی بدترین بربادی دیکھتے ہوئے دل میں کوئی رقت پیدا ہو۔- وَّامْضُوْا حَيْثُ تُؤْمَرُوْنَ : وہ جگہ اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمائی، نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے۔ تعجب ہوتا ہے کہ بعض مفسرین اس کے بغیر ہی ” قِیْلَ “ (کہا جاتا ہے) کہہ کر کبھی شام، کبھی اردن اور کبھی مصر کا نام لیتے ہیں، یہ اندھیرے میں تیر پھینکنے والی بات ہے۔
وَقَضَيْنَآ إِلَيْهِ ذَٰلِكَ ٱلْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَٰٓؤُلَآءِ مَقْطُوعٌۭ مُّصْبِحِينَ
اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی
وَقَضَيْنَآ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ ۔۔ : ” قَضَيْنَآ “ کی و جہ سے ” دَابِرَ “ کا معنی ” ہم نے وحی کی “ کیا جاتا ہے۔ ” دَابِرَ “ سب سے پیچھے رہ جانے والا، کسی چیز کا وہ حصہ جو سب کے بعد بچ گیا ہو۔ کسی درخت کو اکھاڑتے وقت آخری چیز جڑ ہوتی ہے، اسے بھی ” دَابِر “ کہہ لیتے ہیں۔ یعنی یہ سب لوگ ہلاک کردیے جائیں گے، ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچے گا۔ - مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ : ” أَصْبَحَ “ کا معنی ہے ” دَخَلَ فِي الصُّبْحِ “ کہ وہ صبح کے وقت آیا۔ قوم لوط کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا تھا، جیسا کہ سورة ہود میں ہے : ( اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ ) [ ہود : ٨١ ] ” بیشک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں ہے۔ “
وَجَآءَ أَهْلُ ٱلْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ
اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے
وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ : ” الْمَدِيْنَةِ “ کا ترجمہ ” اس شہر “ الف لام برائے عہد کی و جہ سے کیا ہے۔ مفسرین نے اس کا نام ” سدوم “ بتایا ہے۔ قوم لوط کا عمل کرنے والوں کو بہت سی زبانوں میں ” سدومی “ کہا جاتا ہے، اس لیے عربی یا اردو میں اس کے لیے ” لوطی “ کا جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ مناسب نہیں۔ اس میں لوط (علیہ السلام) کی ایک طرح سے توہین ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ بروں کے ساتھ رہنے میں بھی بدنامی ہے، خواہ کتنا نیک ہو، اب لوط (علیہ السلام) کے اس بدبخت قوم کے پیغمبر ہونے کے باعث کتنے برے فعل کی نسبت ان کے مبارک نام کی طرف کی جاتی ہے۔ - يَسْـتَبْشِرُوْنَ : ” بَشَرَ “ (ض، س) ، ” أَبْشَرَ “ اور ” اِسْتَبْشَرَ “ تینوں کا معنی خوش ہونا ہے، صرف حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوتا جائے گا، اس لیے معنی کیا گیا ہے ” بہت خوش ہو رہے تھے “ یعنی لوط (علیہ السلام) کے گھر نہایت خوبصورت لڑکوں کے آنے کی خبر سن کر نہایت خوش خوش بےاختیار دوڑتے ہوئے آئے۔ (دیکھیے ہود : ٧٨) اس سے ظاہر ہے کہ وہ لوگ شرم و حیا سے خالی ہو کر کتنی پستی میں گر چکے تھے۔ واضح رہے کہ ” وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ “ میں ” واؤ “ ترتیب کے لیے نہیں، بلکہ صرف واقعہ کے مختلف حصوں کو ملانے کے لیے ہے، کیونکہ اگر پہلے وحی آچکی ہوتی اور لوط (علیہ السلام) مہمانوں کو جان چکے ہوتے کہ یہ فرشتے ہیں تو انھیں پریشان ہونے کی، قوم کی منتیں کرنے کی اور اپنی یعنی قوم کی بیٹیاں پیش کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ انبیاء ( علیہ السلام) غیب دان نہیں ہوتے، انھیں صرف وہی معلوم ہوتا ہے جو انھیں وحی کے ذریعے سے بتادیا جائے۔ سورة ہود ( ٧٧ تا ٨١) میں لوط (علیہ السلام) کی پریشانی کا نقشہ اور فرشتوں کا انھیں تسلی دینا ملاحظہ فرمائیں۔
قَالَ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ ضَيْفِى فَلَا تَفْضَحُونِ
(لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں (کہیں ان کے بارے میں) مجھے رسوا نہ کرنا
قَالَ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ ضَيْفِيْ فَلَا تَفْضَحُوْنِ ۔۔ : ” ضَیْفٌ“ کی تشریح کے لیے دیکھیے اس سورت کی آیت (٥١) ” فَلَا تَفْضَحُوْنِ “ اور ” لَاتُخْزُوْنِ “ دونوں ” فَلاَ تَفْضَحُوْنِیْ “ اور ” لاَ تُخْزُوْنِیْ “ تھے، آیات کے آخر کی مناسبت کے لیے یاء حذف کرکے نون وقایہ مکسور رکھا گیا، یعنی مہمان پر زیادتی اور اس کی بےعزتی درحقیقت میزبان کی ذلت و رسوائی ہوتی ہے، تو لوط (علیہ السلام) نے دو طریقوں سے انھیں اس فعل بد سے ہٹانے کی کوشش کی، پہلی کوشش ان کی مہمانی کا حق ذکر کرکے اور آخری کوشش ” وَاتَّقُوْاللّٰه “ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرانے کے ذریعے سے، مگر بےسود۔
وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ
اور خدا سے ڈرو۔ اور میری بےآبروئی نہ کیجو
Explained together with ayah 68
قَالُوٓا۟ أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ ٱلْعَٰلَمِينَ
وہ بولے کیا ہم نے تم کو سارے جہان (کی حمایت وطرفداری) سے منع نہیں کیا
قَالُوْٓا اَوَلَمْ نَــنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ : ” اَوَلَمْ نَــنْهَكَ “ ” نَہَی یَنْہٰی “ سے جمع متکلم جحد معلوم ہے، ” نَنْہٰی “ کا الف ” لَمْ “ کی و جہ سے حذف ہوگیا، کاف ضمیر مفعول بہ ہے۔ یعنی تم سارے جہان کو مہمان بنا لیا کرو گے تو کیا ہم سب ہی کو چھوڑ دیں گے، کیا ہم نے تمہیں منع نہیں کیا کہ ہمارے ہوتے اجنبی مسافروں کو مہمان نہ بنایا کرو اور ہمارے مقابلے میں کسی کی حمایت نہ کرو۔ کیسے خبیث اور مسخ شدہ فطرت والے لوگ تھے، جو اپنے شہر میں آنے والے مہمان یا گزرنے والے کو بھی نہیں چھوڑتے تھے، نہ اس میں کوئی شرم محسوس کرتے تھے۔
Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.