وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے
Explained together with ayah 10
سُورَةُ الحِجۡرِ
Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi
Ayahs 11–20 of 99
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے
Explained together with ayah 10
كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُۥ فِى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِينَ
اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں
كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ ۔۔ : ” نَسْلُكُهٗ “ میں ” ہٗ “ ضمیر کے متعلق مفسرین نے دو وجہیں بیان کی ہیں، بعض نے کہا کہ ” ہٗ “ کی ضمیر ” اَالذِّکْرَ “ کی طرف جا رہی ہے، یعنی ہم مجرموں کے دلوں کے اندر ذکر کو داخل کردیتے ہیں اور وہ اسے اچھی طرح سنتے اور سمجھتے ہیں، مگر اس طرح کہ وہ باوجود دل سے سمجھنے کے اس پر ایمان بالکل نہیں لاتے اور پہلے لوگوں میں بھی یہی طریقہ گزر چکا ہے اور وہ اسی کی پاداش میں تباہ کیے جاتے رہے ہیں۔ زمخشری، رازی اور سید طنطاوی کی تفسیر کے مطابق ” نَسْلُكُهٗ “ اور ” لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ “ میں ضمیر غائب کا مرجع ایک رہتا ہے۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ (رض) نے بھی یہی تفسیر ذکر فرمائی ہے۔ - دوسری تفسیر امام المفسرین طبری (رض) کی ہے کہ ” نَسْلُكُهٗ “ میں ضمیر ” ہٗ “ ” استہزا و کفر “ کی طرف جاتی ہے، یعنی ہم مجرموں کے جرائم کی پاداش میں ان کے دلوں میں کفر و استہزا داخل کردیتے ہیں، اس طرح کہ وہ اللہ کے نازل کردہ ذکر پر بالکل ایمان نہیں لاتے، بلکہ اس سے استہزا کرتے ہیں اور پہلے لوگوں کا طریقہ بھی یہی رہا ہے۔ دونوں تفسیروں کا نتیجہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے۔
لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ ٱلْأَوَّلِينَ
سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے
Explained together with ayah 12
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ
اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ ۔۔ : ” ظَلَّ “ اور ” بَاتَ “ میں وقت بھی ملحوظ ہوتا ہے۔ ” ظَلَّ “ دن کو ہونا، ” بَاتَ “ رات کو ہونا۔ اب ایک عجیب انداز میں ان کی ہٹ دھرمی اور ہر دلیل دیکھ کر بھی ایمان نہ لانے کا بیان ہوتا ہے، یعنی ان کا مطالبہ تو صرف فرشتے لانے کا ہے، اگر اس سے بڑھ کر عین دن کے بارہ بجے روشنی میں سب کے سامنے ہم آسمان کے دروازے کھول دیں اور یہ لوگ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھنے لگیں تو پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌۭ مَّسْحُورُونَ
تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے
لَقَالُوْٓا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا ۔۔ : ” سَکَرَ یَسْکُرُ سَکْرًا “ باندھنا، روکنا اور بند کرنا، ” سَکَرْتُ الْبَابَ “ ” میں نے دروازہ بند کیا۔ “ ” سُكِّرَتْ “ باب تفعیل مبالغہ کے لیے ہے، یعنی یہی کہیں گے کہ جادو کے زور سے ہماری آنکھیں بالکل بند کردی گئی ہیں، اس لیے جادو زدہ ہونے کی و جہ سے ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں محض خیال ہے اور فی الواقع انھوں نے یہ کام کر بھی دکھایا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَر) [ القمر : ١، ٢ ] ” قیامت بالکل قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ) ایک جادو ہے جو گزر جانے والا ہے (یا ہمیشہ سے چلا آنے والا ہے) ۔ “
وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِى ٱلسَّمَآءِ بُرُوجًۭا وَزَيَّنَّٰهَا لِلنَّٰظِرِينَ
اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا
وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّزَيَّنّٰهَا للنّٰظِرِيْنَ : ” بُرُوْجًا “ ” بُرْجٌ“ کی جمع ہے، جو اصل میں بڑے بلند و بالا اور مزین قلعہ یا محل کو کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ ) [ النساء : ٧٨ ] ” تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔ “ اس کا اصل معنی نمایاں اور ظاہر ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات (رض) سے فرمایا : (وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى) [ الأحزاب : ٣٣ ] ” اور پہلی جاہلیت کے زینت لگا کر نمایاں ہونے کی طرح زینت لگا کر ظاہر نہ ہو۔ “ مزید دیکھیے سورة بروج کی پہلی آیت۔ پچھلی آیات رسالت کے بعد اب توحید کا بیان شروع ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل کے لیے پہلے عالم بالا کا ذکر فرمایا ہے، پھر زمین کا، پھر ان کے درمیان کی چیزوں کا اور اس کے بعد آدم و ابلیس کا تذکرہ ہے۔ چناچہ فرمایا ہم نے آسمان میں عظیم الشان اور نمایاں برج بنائے ہیں، یعنی ستاروں کے نمایاں جھرمٹ، سورج اور چاند کی منازل جس سے رات کو ٹھنڈک والی روشنی اور دن کو تیز روشنی اور حرارت کے حصول کے علاوہ وقت، دنوں، مہینوں اور سالوں کا تعین ہوتا ہے۔ انسانوں، حیوانوں اور پودوں کی نشوونما، ان کی بقا اور بےانتہا ضرورتوں کا بندوبست ہوتا ہے، سمندر کا مدوجزر اور بیشمار فوائد جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں، انھی سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان سب کو بنانے والا، چلانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے ؟ کسی کا دعویٰ ہے تو اسے سامنے لاؤ۔ بعض اہل علم نے ” بُرُوْجاً “ ان مقامات کو بھی بتایا ہے جہاں آسمان کے محافظ فرشتے رہتے ہیں۔- وَّزَيَّنّٰهَا للنّٰظِرِيْنَ : اللہ تعالیٰ کی قدرت و توحید کے دلائل میں سے ایک بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ اس نے آسمان کو چاند، ستاروں اور سورج سے مزین کردیا ہے۔ رات کو ستاروں اور چاند کے ساتھ آسمان کی زینت کا نظارہ صحیح طرح وہاں ہوتا ہے جہاں مصنوعی روشنیاں نہ ہوں۔ یہ صرف ایک آسمان ہی پر موقوف نہیں، اس لامحدود قدرت والے نے جو چیز بھی پیدا کی خوب صورت پیدا کی اور اس میں زینت کا خاص اہتمام فرمایا، چھوٹے سے چھوٹے کیڑے سے لے کر بڑی سے بڑی مخلوق سب کچھ ہی کمال خوبصورت بنایا، فرمایا : (الَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ ) [ السجدۃ : ٧ ] ” جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔ “ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صاف ستھرا اور بن سنور کر رہنے کو پسند کرتے تھے، فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ ) [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : ٩١ ] ” بیشک اللہ خوبصورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ “ وہ سادھوؤں، جوگیوں یا راہبوں اور بیوقوف صوفیوں کی طرح گندے اور بدزیب ہو کر رہنے کو پسند نہیں کرتا۔ وہ دس چیزیں جنھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فطرت کا حصہ قرار دیا، مثلاً کلی، مسواک، زیر ناف کی صفائی وغیرہ، یہ اسی نظافت اور جمال کو کامل رکھتی ہیں۔
وَحَفِظْنَٰهَا مِن كُلِّ شَيْطَٰنٍۢ رَّجِيمٍ
اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا
وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ : یعنی آسمان کو ہم نے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھنے کا زبردست انتظام کر رکھا ہے۔ - اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيْنٌ۔۔ : سرقہ چوری کو کہتے ہیں، باب افتعال سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی مگر جو نہایت کوشش سے، یا نہایت خفیہ رہ کر چوری کرے۔ ” السَّمْعَ “ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی سنی ہوئی چیز چرا لے۔ ” شِهَابٌ“ ہر روشنی کرنے والی چیز جو آگ سے پیدا ہو، عموماً ستارہ جو شعلے کی طرح پیچھا کرتا نظر آتا ہے۔ ” شِهَابٌ مُّبِيْنٌ“ روشن شعلہ۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ( إِذَا قَضَی اللّٰہُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَاءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِھَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلٰی صَفْوَانٍ ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِھِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ ؟ قَالُوْا لِلَّذِيْ قَالَ الْحَقَّ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ ، فَیَسْمَعُھَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ ھٰکَذَا، وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَوَصَفَ سُفْیَانُ بِیَدِہِ وَفَرَّجَ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدِہِ الْیُمْنَی، نَصَبَھا بَعْضَھَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّھَابُ الْمُسْتَمِعَ قَبْلَ أَنْ یَرْمِیَ بِھَا إِلٰی صَاحِبِہِ فَیُحْرِقَہٗ ، وَرُبَّمَا لَمْ یُدْرِکْہُ حَتّٰی یَرْمِيَ بِھَا إِلَی الَّذِيْ یَلِیْہِ ، إِلَی الَّذِيْ ھُوَ أَسْفَلُ مِنْہُ حَتّٰی یُلْقُوْھَا إِلَی الْأَرْضِ ، فَتُلْقَی عَلٰی فَمِ السَّاحِرِ فَیَکْذِبُ مَعَھَا ماءَۃَ کَذْبَۃٍ ، فَیُصَدَّقُ کَذَا وَ کَذَا ؟ فَوَجَدْنَاہُ حَقًّا لِلْکَلِمَۃِ الَّتِيْ سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ ) [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : ( إلا من استرق السمع ۔۔ ) : ٤٧٠١ ] ” جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی حکم صادر فرماتا ہے تو اس کا کلام سن کر فرشتے اظہار اطاعت و عجز کے لیے اپنے بازو (پر) پھڑ پھڑانے لگتے ہیں، (اس کلام کی آواز ایسی ہوتی ہے) جیسے کسی چٹان پر زنجیر کی آواز۔ پھر جب ان کے دلوں کا خوف جاتا رہتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے جو فرمایا حق فرمایا اور وہ بلند اور بڑا ہے۔ (اس وقت) فرشتوں سے سنائی دینے والی بات کو چوری سننے والے شیطان سننے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ چوری چھپے سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں “ اور راوی حدیث سفیان نے دائیں ہاتھ کی انگلیاں کھول کر ایک دوسرے کے اوپر کر کے دکھائیں ” پھر بعض اوقات وہ شعلہ سننے والے کو اس سے پہلے جا پہنچتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو جلدی سے بتائے اور اسے جلا دیتا ہے اور بعض اوقات اس وقت پہنچتا ہے جب وہ اپنے ساتھ والے کو جلدی سے بتاچکا ہوتا ہے، جو اس سے نیچے ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے زمین تک پہنچا دیتے ہیں، تو وہ بات کاہن (نجومی) یا جادوگر کو پہنچا دی جاتی ہے، وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا لیتا ہے تو اس کی بات کو سچا سمجھا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں، کیا اس نے ہمیں فلاں فلاں دن ایسے ایسے نہیں بتایا تھا اور ہم نے دیکھا کہ وہ بالکل درست تھا، اس بات کے متعلق جو آسمان سے سنی گئی تھی۔ “ مزید دیکھیے سورة صافات ( ٥، ٦) اور سورة طارق (١ تا ٤) ۔- یاد رہے کہ شیطان صرف وہ بات چرا سکتے ہیں جس کا تعلق آئندہ ہونے والے ان کاموں سے ہوتا ہے، جن کے متعلق فرشتے آسمان کے نیچے آپس میں گفتگو کر رہے ہوتے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ فرشتے بادل میں گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ [ بخاری : ٤٧٠١ ] مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کی طرف جو وحی ہوتی ہے، اس کی حفاظت کا اتنا زبردست انتظام ہوتا ہے کہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شیطان اسے سن سکے یا چرا سکے، دیکھیے سورة جن کی ابتدائی اور آخری آیات کی تفسیر۔
إِلَّا مَنِ ٱسْتَرَقَ ٱلسَّمْعَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٌۭ مُّبِينٌۭ
ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے
Explained together with ayah 17
وَٱلْأَرْضَ مَدَدْنَٰهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ وَأَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْزُونٍۢ
اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اُگائی
وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا : اب زمین اور اس پر پیدا کردہ اشیاء کو توحید کی دلیل کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ ” مَدَدْنٰهَا “ ” مَدَّ یَمُدُّ “ (ن) کا معنی ہے کھینچنا، پھیلانا۔ جب ہم زمین کی وسعت اور پھیلاؤ کو دیکھتے ہیں تو وہ اتنی ہے کہ اس پر چلنے پھرنے، رہنے، کاشت کرنے، مکان یا سڑکیں بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی، مگر آنکھوں کو اس کی انتہا نظر نہیں آتی، خواہ کتنا سفر کرلیں۔ یہ پھیلاؤ اور مدّ دلیل ہے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے گول بنایا ہے، ورنہ اگر یہ مربع یا کسی اور شکل کی ہوتی تو یہ پھیلاؤ کسی جگہ جا کر ختم ہوجاتا، اب تو گول زمین کی تصویریں بھی آچکی ہیں اور تجربے سے بھی یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے، اس کے باوجود اس کا جھکاؤ ایسا عجیب ہے کہ نہ نظر آتا ہے اور نہ اس کلیے میں کوئی فرق پڑتا ہے کہ ” پانی اپنی سطح ہموار رکھتا ہے “ مگر سیکڑوں برس پہلے اس حقیقت کو وہی بیان کرسکتا تھا جس نے اسے پیدا کیا اور پھیلایا ہے۔ - وَاَلْقَيْنَا فِيْهَا : ” رَوَاسِيَ “ ” رَاسِیَۃٌ“ کی جمع ہے جو ” رَسَا یَرْسُوْ “ (ن) کا اسم فاعل ہے، جس کا معنی کسی بھاری چیز کا گڑا ہوا ہونا ہے۔ مراد پہاڑ ہیں جن کا اکثر حصہ زمین کے اندر اور باقی باہر ہوتا ہے۔ اس سے ایک دوسری حقیقت بھی ثابت ہوتی ہے کہ زمین کو متحرک بنایا گیا ہے، تبھی اس پر بھاری پہاڑ زمین کی گردش میں توازن رکھنے کے لیے گاڑ دیے گئے، تاکہ تیز رفتاری کے باوجود اس میں لرزش اور تھرتھراہٹ پیدا نہ ہو، جیسا کہ گاڑی کے پہیوں کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ان کی مختلف جگہوں پر ضرورت کے مطابق لوہے وغیرہ کے ٹکڑے لگا دیے جاتے ہیں۔ ایک اور آیت میں بھی یہ اشارہ موجود ہے : (وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ ) [ النمل : ٨٨] ” اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا، انھیں گمان کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں، حالانکہ وہ بادلوں کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے۔ “- وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ :” فِيْهَا “ یعنی زمین میں ہر چیز اتنی اگائی اور پیدا کی جتنی اس کی ضرورت تھی، نہ کسی چیز کو بلاضرورت پیدا کیا اور نہ ایک خاص حد سے بڑھنے دیا۔ ” فِيْهَا “ میں ضمیر جبال (پہاڑوں) کے لیے بھی ہوسکتی ہے، یعنی پہاڑوں کے اندر ہر چیز یعنی معدنیات وغیرہ پورے اندازے سے پیدا کیں۔ (شوکانی)
وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُۥ بِرَٰزِقِينَ
اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے
وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِيْنَ ۔۔ : ” مَعَايِشَ “ ” مَعِیْشَۃٌ“ کی جمع ہے، ” عَاشَ یَعِیْشُ عَیْشًا وَ مَعَاشًا وَمَعِیْشَۃً “ کا معنی زندہ رہنا ہے، جیسے ” مَاتَ یَمُوْتُ مَوْتًا “ کا معنی مرنا ہے۔ پھر یہ لفظ زندگی کی ضرورتوں کے لیے استعمال ہونے لگا، یعنی تمہاری زندگی گزارنے کے لیے کھانے پینے، رہنے، علاج، راحت، سواری، الغرض ہر ضرورت کی چیز تمہارے لیے بھی پیدا کی اور ان کے لیے بھی جنھیں تم روزی دینے والے نہیں۔ اس سے دو قسم کی چیزیں مراد ہیں، ایک تو وہ جن کا تم سے تعلق ہی نہیں، سمندر کی گہرائیوں میں پہاڑوں کی بلندیوں میں، صحراؤں کی وسعتوں میں، زمین کی تہوں میں، آباد اور بےآباد زمین کی سطح پر اور فضاؤں میں بیشمار مخلوق ہے جنھیں تم ہرگز روزی دینے والے نہیں۔ ” لَّسْتُمْ “ نفی کی تاکید ” بِرٰزِقِيْنَ “ کی باء کے ساتھ ہونے کی و جہ سے ترجمہ ” ہرگز “ کیا گیا ہے۔ دوسری وہ تمام چیزیں جو تمہاری خدمت کے لیے ہیں، مثلاً چوپائے، سواریاں، بیوی بچے اور نوکر چاکر وغیرہ، جن کے متعلق تم سمجھتے ہو کہ ہم انھیں کھانے کو دے رہے ہیں، خوب سمجھ لو کہ تم ہرگز انھیں روزی نہیں دے رہے، زمین میں ان کی معیشت بھی ہم ہی نے بنائی ہے اور ہم ہی انھیں رزق دے رہے ہیں، فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ ) [ الذاریات : ٥٨ ] ” بیشک اللہ ہی بیحد رزق دینے والا، قوت والا، نہایت مضبوط ہے۔ “ اور فرمایا : ( وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا ) [ ہود : ٦ ] ” اور زمین میں کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی پر ہے۔ “
Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.