Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 11–20 of 99

11

وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے

ہر دور میں خداکے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے بطور خود جو فرضی معیار کسی کو نمائندۂ خدا قرار دینے کے لیے بنا رکھے تھے، اس پر ان کے پیغمبر پورے نہیں اترتے تھے، اس معیار کے اعتبار سے پیغمبر انھیں کم تر نظر آتا تھا۔ اس لیے لوگوں نے پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا۔

کسی نئی حقیقت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے اور خالص واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے لیے تیار ہو۔ جو لوگ سچائی کا انکار کرتے ہیں وہ اکثر اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ سچائی ان کو اپنے مانوس معیار کے اعتبار سے اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ مانوس معیار لمبے عرصے کے بعد ان کے دل میں ایسا رچ بس جاتا ہے کہ اس سے باہر نکل کر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہوجاتاہے۔ وہ آخر وقت تک بھی اپنے مانوس دائرے سے باہر کی سچائی کو پہچان نہیں پاتے۔

قوموں کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ معجزے کو دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہیں لائے۔ جس شخصیت کے بارے میں ان کے مادی حالات کی بنا پر ان کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ یہ ایک معمولی آدمی ہے وہ پھر بھی ان کی نظر میں معمولی ہی رہا۔ بعد کو اگر اس نے کوئی خارقِ عادت چیز دکھائی تو چونكه دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بظاہر اب بھی ان کے لیے غیر اہم تھي۔ انھوںنے سمجھ لیا کہ یہ کوئی جادو یا نظر بندی ہے، نہ کہ حقیقۃً ان کے نمائندۂ خدا ہونے کا ثبوت۔

12

كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُۥ فِى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِينَ

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں

ہر دور میں خداکے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے بطور خود جو فرضی معیار کسی کو نمائندۂ خدا قرار دینے کے لیے بنا رکھے تھے، اس پر ان کے پیغمبر پورے نہیں اترتے تھے، اس معیار کے اعتبار سے پیغمبر انھیں کم تر نظر آتا تھا۔ اس لیے لوگوں نے پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا۔

کسی نئی حقیقت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے اور خالص واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے لیے تیار ہو۔ جو لوگ سچائی کا انکار کرتے ہیں وہ اکثر اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ سچائی ان کو اپنے مانوس معیار کے اعتبار سے اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ مانوس معیار لمبے عرصے کے بعد ان کے دل میں ایسا رچ بس جاتا ہے کہ اس سے باہر نکل کر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہوجاتاہے۔ وہ آخر وقت تک بھی اپنے مانوس دائرے سے باہر کی سچائی کو پہچان نہیں پاتے۔

قوموں کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ معجزے کو دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہیں لائے۔ جس شخصیت کے بارے میں ان کے مادی حالات کی بنا پر ان کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ یہ ایک معمولی آدمی ہے وہ پھر بھی ان کی نظر میں معمولی ہی رہا۔ بعد کو اگر اس نے کوئی خارقِ عادت چیز دکھائی تو چونكه دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بظاہر اب بھی ان کے لیے غیر اہم تھي۔ انھوںنے سمجھ لیا کہ یہ کوئی جادو یا نظر بندی ہے، نہ کہ حقیقۃً ان کے نمائندۂ خدا ہونے کا ثبوت۔

13

لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ ٱلْأَوَّلِينَ

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے

ہر دور میں خداکے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے بطور خود جو فرضی معیار کسی کو نمائندۂ خدا قرار دینے کے لیے بنا رکھے تھے، اس پر ان کے پیغمبر پورے نہیں اترتے تھے، اس معیار کے اعتبار سے پیغمبر انھیں کم تر نظر آتا تھا۔ اس لیے لوگوں نے پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا۔

کسی نئی حقیقت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے اور خالص واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے لیے تیار ہو۔ جو لوگ سچائی کا انکار کرتے ہیں وہ اکثر اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ سچائی ان کو اپنے مانوس معیار کے اعتبار سے اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ مانوس معیار لمبے عرصے کے بعد ان کے دل میں ایسا رچ بس جاتا ہے کہ اس سے باہر نکل کر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہوجاتاہے۔ وہ آخر وقت تک بھی اپنے مانوس دائرے سے باہر کی سچائی کو پہچان نہیں پاتے۔

قوموں کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ معجزے کو دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہیں لائے۔ جس شخصیت کے بارے میں ان کے مادی حالات کی بنا پر ان کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ یہ ایک معمولی آدمی ہے وہ پھر بھی ان کی نظر میں معمولی ہی رہا۔ بعد کو اگر اس نے کوئی خارقِ عادت چیز دکھائی تو چونكه دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بظاہر اب بھی ان کے لیے غیر اہم تھي۔ انھوںنے سمجھ لیا کہ یہ کوئی جادو یا نظر بندی ہے، نہ کہ حقیقۃً ان کے نمائندۂ خدا ہونے کا ثبوت۔

14

وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ

اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں

ہر دور میں خداکے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے بطور خود جو فرضی معیار کسی کو نمائندۂ خدا قرار دینے کے لیے بنا رکھے تھے، اس پر ان کے پیغمبر پورے نہیں اترتے تھے، اس معیار کے اعتبار سے پیغمبر انھیں کم تر نظر آتا تھا۔ اس لیے لوگوں نے پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا۔

کسی نئی حقیقت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے اور خالص واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے لیے تیار ہو۔ جو لوگ سچائی کا انکار کرتے ہیں وہ اکثر اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ سچائی ان کو اپنے مانوس معیار کے اعتبار سے اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ مانوس معیار لمبے عرصے کے بعد ان کے دل میں ایسا رچ بس جاتا ہے کہ اس سے باہر نکل کر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہوجاتاہے۔ وہ آخر وقت تک بھی اپنے مانوس دائرے سے باہر کی سچائی کو پہچان نہیں پاتے۔

قوموں کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ معجزے کو دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہیں لائے۔ جس شخصیت کے بارے میں ان کے مادی حالات کی بنا پر ان کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ یہ ایک معمولی آدمی ہے وہ پھر بھی ان کی نظر میں معمولی ہی رہا۔ بعد کو اگر اس نے کوئی خارقِ عادت چیز دکھائی تو چونكه دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بظاہر اب بھی ان کے لیے غیر اہم تھي۔ انھوںنے سمجھ لیا کہ یہ کوئی جادو یا نظر بندی ہے، نہ کہ حقیقۃً ان کے نمائندۂ خدا ہونے کا ثبوت۔

15

لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌۭ مَّسْحُورُونَ

تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے

ہر دور میں خداکے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے بطور خود جو فرضی معیار کسی کو نمائندۂ خدا قرار دینے کے لیے بنا رکھے تھے، اس پر ان کے پیغمبر پورے نہیں اترتے تھے، اس معیار کے اعتبار سے پیغمبر انھیں کم تر نظر آتا تھا۔ اس لیے لوگوں نے پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا۔

کسی نئی حقیقت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے اور خالص واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے لیے تیار ہو۔ جو لوگ سچائی کا انکار کرتے ہیں وہ اکثر اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ سچائی ان کو اپنے مانوس معیار کے اعتبار سے اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ مانوس معیار لمبے عرصے کے بعد ان کے دل میں ایسا رچ بس جاتا ہے کہ اس سے باہر نکل کر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہوجاتاہے۔ وہ آخر وقت تک بھی اپنے مانوس دائرے سے باہر کی سچائی کو پہچان نہیں پاتے۔

قوموں کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ معجزے کو دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہیں لائے۔ جس شخصیت کے بارے میں ان کے مادی حالات کی بنا پر ان کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ یہ ایک معمولی آدمی ہے وہ پھر بھی ان کی نظر میں معمولی ہی رہا۔ بعد کو اگر اس نے کوئی خارقِ عادت چیز دکھائی تو چونكه دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بظاہر اب بھی ان کے لیے غیر اہم تھي۔ انھوںنے سمجھ لیا کہ یہ کوئی جادو یا نظر بندی ہے، نہ کہ حقیقۃً ان کے نمائندۂ خدا ہونے کا ثبوت۔

16

وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِى ٱلسَّمَآءِ بُرُوجًۭا وَزَيَّنَّٰهَا لِلنَّٰظِرِينَ

اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا

کائنات میں بے شمار ستارے پھیلے ہوئے ہیں۔ مگر یہ ستارے مجموعوں کی صورت میں ہیں۔ ہر ایک مجموعہ کو ایک کہکشاں کہاجاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بروج سے مراد یہ کہکشائیں ہوں۔

وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ میں سادہ طور پر صرف ’’زینت‘‘ مراد نہیں ہے بلکہ آسمان کا وہ حیران کن منظر مراد ہے جو رات کے وقت اس کا ہوتاہے۔ رات کو جب بادل اور گردوغبار نہ ہوں، کھلے میدان میں کھڑے ہو کر آسمان کی طرف نظر ڈالیں تو وسیع آسمان میں جگمگاتے ہوئے ستاروں کا منظر اتنا حیران کن حد تک شاندار ہوتاہے کہ آدمی اس کو دیکھ کر خدا كي عظمت وجلال کے احساس میں ڈوب جائے۔

پچھلے تقریباً چار سو سال کے درمیان فلکیات کے میدان میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، اس سے بھی ’’زینت‘‘ کی توجیہہ ہوتی ہے۔ جدید فلکیاتی مطالعے کے بعد انسان اس حقیقت کو ماننے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے کہ کائنات میں کمال درجے کی معنویت پائی جاتی ہے۔کائنات ویل پلانڈ (well planned) کائنات ہے، کائنات ایک ویل مینجڈ (well managed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈیزائنڈ (well designed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈسپلنڈ (well disciplined) کائنات ہے۔اس دریافت سے انسان کے اندر ایک تحیر کا احساس (sense of awe) پیدا ہوجاتا ہے۔ اب سائنسداں عام طورپر یہ مانتے ہیں کہ کائنات ایک انٹلجنٹ کائنات (intelligent universe) ہے۔

جو لوگ پیغمبر سے کہتے تھے کہ آسمان سے فرشتہ اترتا ہوا ہمیں دکھاؤ ان سے کہاگیا کہ تاروں بھرے آسمان کا وہ منظر جو ہر روز تمھارے سامنے کھولا جاتا ہے کیا وہ تمھارے شعور کو جگانے اور تمھارے دلوںکو پگھلانے کے لیے کم ہے کہ تم دوسرے معجزات کا تقاضا کرتے ہو۔

زمین پر انسان کے ساتھ شیطان بھی بسائے گئے ہیں۔ یہاں شیاطین کو پوری آزادی ہے کہ وہ جدھر چاہیں جائیں اور جس طرح چاہیں لوگوں کو بہکائیں، مگر زمین سے ماوراء جو خدا کی دنیا ہے اس میں شیاطین کی پرواز کے لیے ناقابل عبور رکاوٹیں قائم کردی گئی ہیں۔ وہ ایک خاص حد سے آگے اس کے اندر داخل نہیں ہوپاتے۔

17

وَحَفِظْنَٰهَا مِن كُلِّ شَيْطَٰنٍۢ رَّجِيمٍ

اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا

کائنات میں بے شمار ستارے پھیلے ہوئے ہیں۔ مگر یہ ستارے مجموعوں کی صورت میں ہیں۔ ہر ایک مجموعہ کو ایک کہکشاں کہاجاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بروج سے مراد یہ کہکشائیں ہوں۔

وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ میں سادہ طور پر صرف ’’زینت‘‘ مراد نہیں ہے بلکہ آسمان کا وہ حیران کن منظر مراد ہے جو رات کے وقت اس کا ہوتاہے۔ رات کو جب بادل اور گردوغبار نہ ہوں، کھلے میدان میں کھڑے ہو کر آسمان کی طرف نظر ڈالیں تو وسیع آسمان میں جگمگاتے ہوئے ستاروں کا منظر اتنا حیران کن حد تک شاندار ہوتاہے کہ آدمی اس کو دیکھ کر خدا كي عظمت وجلال کے احساس میں ڈوب جائے۔

پچھلے تقریباً چار سو سال کے درمیان فلکیات کے میدان میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، اس سے بھی ’’زینت‘‘ کی توجیہہ ہوتی ہے۔ جدید فلکیاتی مطالعے کے بعد انسان اس حقیقت کو ماننے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے کہ کائنات میں کمال درجے کی معنویت پائی جاتی ہے۔کائنات ویل پلانڈ (well planned) کائنات ہے، کائنات ایک ویل مینجڈ (well managed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈیزائنڈ (well designed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈسپلنڈ (well disciplined) کائنات ہے۔اس دریافت سے انسان کے اندر ایک تحیر کا احساس (sense of awe) پیدا ہوجاتا ہے۔ اب سائنسداں عام طورپر یہ مانتے ہیں کہ کائنات ایک انٹلجنٹ کائنات (intelligent universe) ہے۔

جو لوگ پیغمبر سے کہتے تھے کہ آسمان سے فرشتہ اترتا ہوا ہمیں دکھاؤ ان سے کہاگیا کہ تاروں بھرے آسمان کا وہ منظر جو ہر روز تمھارے سامنے کھولا جاتا ہے کیا وہ تمھارے شعور کو جگانے اور تمھارے دلوںکو پگھلانے کے لیے کم ہے کہ تم دوسرے معجزات کا تقاضا کرتے ہو۔

زمین پر انسان کے ساتھ شیطان بھی بسائے گئے ہیں۔ یہاں شیاطین کو پوری آزادی ہے کہ وہ جدھر چاہیں جائیں اور جس طرح چاہیں لوگوں کو بہکائیں، مگر زمین سے ماوراء جو خدا کی دنیا ہے اس میں شیاطین کی پرواز کے لیے ناقابل عبور رکاوٹیں قائم کردی گئی ہیں۔ وہ ایک خاص حد سے آگے اس کے اندر داخل نہیں ہوپاتے۔

18

إِلَّا مَنِ ٱسْتَرَقَ ٱلسَّمْعَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٌۭ مُّبِينٌۭ

ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے

کائنات میں بے شمار ستارے پھیلے ہوئے ہیں۔ مگر یہ ستارے مجموعوں کی صورت میں ہیں۔ ہر ایک مجموعہ کو ایک کہکشاں کہاجاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بروج سے مراد یہ کہکشائیں ہوں۔

وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ میں سادہ طور پر صرف ’’زینت‘‘ مراد نہیں ہے بلکہ آسمان کا وہ حیران کن منظر مراد ہے جو رات کے وقت اس کا ہوتاہے۔ رات کو جب بادل اور گردوغبار نہ ہوں، کھلے میدان میں کھڑے ہو کر آسمان کی طرف نظر ڈالیں تو وسیع آسمان میں جگمگاتے ہوئے ستاروں کا منظر اتنا حیران کن حد تک شاندار ہوتاہے کہ آدمی اس کو دیکھ کر خدا كي عظمت وجلال کے احساس میں ڈوب جائے۔

پچھلے تقریباً چار سو سال کے درمیان فلکیات کے میدان میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، اس سے بھی ’’زینت‘‘ کی توجیہہ ہوتی ہے۔ جدید فلکیاتی مطالعے کے بعد انسان اس حقیقت کو ماننے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے کہ کائنات میں کمال درجے کی معنویت پائی جاتی ہے۔کائنات ویل پلانڈ (well planned) کائنات ہے، کائنات ایک ویل مینجڈ (well managed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈیزائنڈ (well designed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈسپلنڈ (well disciplined) کائنات ہے۔اس دریافت سے انسان کے اندر ایک تحیر کا احساس (sense of awe) پیدا ہوجاتا ہے۔ اب سائنسداں عام طورپر یہ مانتے ہیں کہ کائنات ایک انٹلجنٹ کائنات (intelligent universe) ہے۔

جو لوگ پیغمبر سے کہتے تھے کہ آسمان سے فرشتہ اترتا ہوا ہمیں دکھاؤ ان سے کہاگیا کہ تاروں بھرے آسمان کا وہ منظر جو ہر روز تمھارے سامنے کھولا جاتا ہے کیا وہ تمھارے شعور کو جگانے اور تمھارے دلوںکو پگھلانے کے لیے کم ہے کہ تم دوسرے معجزات کا تقاضا کرتے ہو۔

زمین پر انسان کے ساتھ شیطان بھی بسائے گئے ہیں۔ یہاں شیاطین کو پوری آزادی ہے کہ وہ جدھر چاہیں جائیں اور جس طرح چاہیں لوگوں کو بہکائیں، مگر زمین سے ماوراء جو خدا کی دنیا ہے اس میں شیاطین کی پرواز کے لیے ناقابل عبور رکاوٹیں قائم کردی گئی ہیں۔ وہ ایک خاص حد سے آگے اس کے اندر داخل نہیں ہوپاتے۔

19

وَٱلْأَرْضَ مَدَدْنَٰهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ وَأَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْزُونٍۢ

اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اُگائی

جغرافی مطالعہ بتاتا ہے کہ زمین ابتداء ً خشک گولے کی صورت میں تھی پھر وہ پھٹی جس کی وجہ سے سمندر کی گہرائیاں پیدا ہوئیں اور ان میں پانی جمع ہوگیا۔ ان گہرائیوں کو متوازن رکھنے کے لیے زمین پر جگہ جگہ اونچے پہاڑ ابھر آئے۔اس کے بعد زمین پر نباتات اور حیوانات وجو د میں آئے اور خوب پھیلے۔ ان میں سے ہر ایک کے اندر بڑھنے کی لامحدود صلاحیت ہے، مگر ان کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتاہے کہ ہر ایک کا ایک اندازہ مقرر ہے۔ ہر چیز بڑھتے بڑھتے ایک خاص حد پر رک جاتی ہے، وہ اس سے آگے نہیں جانے پاتی۔

مثلاً پودوں اور درختوں میں اپنی نسل بڑھانے کی اتنی زیادہ استعداد ہے کہ اگر کسی ایک پودے کو اس کی اندرونی استعداد کے اعتبار سے بلا روک ٹوک بڑھنے دیا جائے تو چند سال کے اندر ساری سطح زمین پر ہر طرف بس وہی پودا نظر آئے گا۔ کسی دوسری چیز کے لیے یہاں کوئی جگہ باقی نہ رہے گی۔ مگر ایسا معلوم ہوتاہے کہ کوئی زبردست ناظم ہے جو ہر ایک پر کنٹرول قائم کيے ہوئے ہے۔ یہی معاملہ حیوانات کا ہے۔ ان کے اندر بھی افزائش نسل کی لامحدود صلاحیت ہے۔ مگر ہر ایک کی تعداد ایک حد پر پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اسی طرح حیوانات میں اپنی جسامت بڑھانے کی استعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک پتنگے کو بڑھنے دیا جائے تو وہ ہاتھی کے برابر ہوجائے۔ مگر قدرتی کنٹرول ایک خاص حد پر اس کی جسامت کو روک دیتاہے۔ اگر چیزیں اپنی حد پر نہ رکیں تو زمین پر انسان کی رہائش ناممکن ہوجائے گی۔

انسان کو اپنی معیشت اور تمدن کے لیے بے شمار چیزیں درکار ہیں۔ یہ ساری چیزیں عین ہماری ضرورت کے مطابق زمین پر مہیا کردی گئی ہیں۔ ان تمام چیزوں کی فراہمی اور ہر ایک کی بقا کا انتظام خدا کی طرف سے ہے۔ اگر ہم کو ان كے ليے رزق كا انتظام كرنا ہو تو ہمارے لیے ان کا حصول نا ممکن ہوجائے۔

20

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُۥ بِرَٰزِقِينَ

اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے

جغرافی مطالعہ بتاتا ہے کہ زمین ابتداء ً خشک گولے کی صورت میں تھی پھر وہ پھٹی جس کی وجہ سے سمندر کی گہرائیاں پیدا ہوئیں اور ان میں پانی جمع ہوگیا۔ ان گہرائیوں کو متوازن رکھنے کے لیے زمین پر جگہ جگہ اونچے پہاڑ ابھر آئے۔اس کے بعد زمین پر نباتات اور حیوانات وجو د میں آئے اور خوب پھیلے۔ ان میں سے ہر ایک کے اندر بڑھنے کی لامحدود صلاحیت ہے، مگر ان کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتاہے کہ ہر ایک کا ایک اندازہ مقرر ہے۔ ہر چیز بڑھتے بڑھتے ایک خاص حد پر رک جاتی ہے، وہ اس سے آگے نہیں جانے پاتی۔

مثلاً پودوں اور درختوں میں اپنی نسل بڑھانے کی اتنی زیادہ استعداد ہے کہ اگر کسی ایک پودے کو اس کی اندرونی استعداد کے اعتبار سے بلا روک ٹوک بڑھنے دیا جائے تو چند سال کے اندر ساری سطح زمین پر ہر طرف بس وہی پودا نظر آئے گا۔ کسی دوسری چیز کے لیے یہاں کوئی جگہ باقی نہ رہے گی۔ مگر ایسا معلوم ہوتاہے کہ کوئی زبردست ناظم ہے جو ہر ایک پر کنٹرول قائم کيے ہوئے ہے۔ یہی معاملہ حیوانات کا ہے۔ ان کے اندر بھی افزائش نسل کی لامحدود صلاحیت ہے۔ مگر ہر ایک کی تعداد ایک حد پر پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اسی طرح حیوانات میں اپنی جسامت بڑھانے کی استعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک پتنگے کو بڑھنے دیا جائے تو وہ ہاتھی کے برابر ہوجائے۔ مگر قدرتی کنٹرول ایک خاص حد پر اس کی جسامت کو روک دیتاہے۔ اگر چیزیں اپنی حد پر نہ رکیں تو زمین پر انسان کی رہائش ناممکن ہوجائے گی۔

انسان کو اپنی معیشت اور تمدن کے لیے بے شمار چیزیں درکار ہیں۔ یہ ساری چیزیں عین ہماری ضرورت کے مطابق زمین پر مہیا کردی گئی ہیں۔ ان تمام چیزوں کی فراہمی اور ہر ایک کی بقا کا انتظام خدا کی طرف سے ہے۔ اگر ہم کو ان كے ليے رزق كا انتظام كرنا ہو تو ہمارے لیے ان کا حصول نا ممکن ہوجائے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.