Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 91–99 of 99

91

ٱلَّذِينَ جَعَلُوا۟ ٱلْقُرْءَانَ عِضِينَ

یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا

Explained together with ayah 90

92

فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے

فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ ۔۔ : ” یَعْمَلُوْنَ “ میں دل، زبان اور جسم کے تمام حصوں کے افعال شامل ہیں۔ اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ ” اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ“ (بےشک قیامت آنے والی ہے) ، اب اسی بات کو آگے بڑھایا کہ تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا کسی سے سوال کرنا ہی نہایت خوفناک بات ہے، خصوصاً جب زبان، دل اور اعضا کے ہر ہر عمل کے متعلق ہو۔ آسان حساب صرف انھی کا ہوگا جن کا دفتر پیش ہونے پر کسی سوال و جواب کے بغیر نجات ہوجائے گی۔ دیکھیے سورة انشقاق ( ٧ تا ٩) کی تفسیر۔ قسم کھا کر تمام کفار سے باز پرس کا یقین دلانے سے مقصود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو تسلی دینا ہے۔ - ان آیات میں ذکر ہے کہ قیامت کے دن تمام کفار سے سوال کیا جائے گا، جب کہ سورة رحمن میں ہے : (فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖٓ اِنْسٌ وَّلَا جَاۗنٌّ) [ الرحمٰن : ٣٩ ] ” پھر اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کے متعلق سوال کیا جائے گا اور نہ کسی جن سے۔ “ ایک آیت میں ہے سوال کیا جائے گا، دوسری میں ہے کہ نہیں کیا جائے گا، تو ابن عباس (رض) نے اس کا جواب یہ دیا کہ کسی سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ تم نے کیا کیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بندوں سے بھی زیادہ یہ بات جانتا ہے۔ سوال یہ ہوگا کہ کیوں کیا ؟ اور ظاہر ہے کہ یہ سزا کی تمہید ہے۔ (ابن کثیر)

93

عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے

Explained together with ayah 92

94

فَٱصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْمُشْرِكِينَ

پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ۔۔ : ” صَدَعَ یَصْدَعُ ، الْأَمْرَ “ کسی معاملے کو خوب کھول کر بیان کرنا اور ” صَدَعَ بالْحَقِّ “ کھلم کھلا بلند آواز سے حق کا اظہار کرنا۔ شروع میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خفیہ اسلام کی دعوت دیتے تھے، اس کے بعد ان آیات میں چھپ کر دعوت دینے کے بجائے صاف اعلانیہ طور پر اللہ تعالیٰ کے احکام سنانے کا اور مشرکین کی پروا نہ کرتے ہوئے ان سے اعراض کرنے کا حکم ہوا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے خود نمٹنے کا ذمہ اٹھایا جو آپ سے استہزا کرتے اور ٹھٹھا اڑاتے تھے۔ یہ حکم مکہ میں نازل ہوا، مدینہ گئے تو وہاں کفار اور اہل کتاب سے جنگ شروع ہوئی اور خطرے کے پیش نظر صحابہ کرام (رض) آپ کا پہرا دیتے تھے، جب سورة مائدہ کی آیت (٦٧) (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ) (اے رسول پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر تو نے نہ کیا تو تو نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا) اتری تو آپ نے خیمہ سے سر نکال کر پہرے داروں سے فرمایا : ( یَا أَیُّھَا النَّاسُ انْصَرِفُوْا، فَقَدْ عَصَمَنِيَ اللّٰہُ ) [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة المائدۃ : ٣٠٤٦۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ٥؍٦٤٤، ح : ٢٤٨٩ ] ” لوگو چلے جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے محفوظ کردیا ہے۔ “

95

إِنَّا كَفَيْنَٰكَ ٱلْمُسْتَهْزِءِينَ

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں

اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ : ہم ان سے نبٹ لیں گے، آپ بےخوف و خطر دعوت و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتے رہیے۔ عبداللہ بن عباس (رض) نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑانے والے (بڑے بڑے یہ پانچ) آدمی تھے، ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث زہری، ابوزمعہ اسود بن مطلب، حارث بن عیطل سہمی اور عاص بن وائل۔ جبریل (علیہ السلام) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ نے ان سے مذاق اڑانے والوں کی شکایت کی۔ حدیث لمبی ہے، خلاصہ یہ کہ جبریل (علیہ السلام) نے ان کے جسم کے کسی نہ کسی حصے کی طرف اشارہ کیا اور وہ پانچوں بری طرح فوت ہوئے۔ [ السنن الکبریٰ للبیہقی : ٩؍٨، ح : ١٨١٨٧ ] جو مذاق اڑانے والے باقی رہے ان کا انجام عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان فرمایا : ( أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّيْ عِنْدَ الْبَیْتِ ، وَ أَبُوْجَھْلٍ وَأَصْحَابٌ لَہُ جُلُوْسٌ، إذْ قَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ أَیُّکُمْ یَجِيْءُ بِسَلَی جَزُوْرِ بَنِيْ فُلاَنٍ فَیَضَعُہُ عَلٰی ظَھْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ ؟ فَانْبَعَثَ أَشْقَی الْقَوْمِ ، فَجَاءَ بِہِ فَنَظَرَ حتّٰی إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَضَعَہُ عَلٰی ظَھْرِہِ بَیْنَ کَتِفَیْہِ وَأَنَا أَنْظُرُ ، لاَ أُغْنِيْ شَیْءًا، لَوْ کَانَتْ لِيْ مَنَعَۃٌ، قَالَ فَجَعَلُوْا یَضْحَکُوْنَ وَیُحِیْلُ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ لاَ یَرْفَعُ رَأْسَہُ حَتّٰی جَاءَ تْہُ فَاطِمَۃُ فَطَرَحَتْہُ عَنْ ظَہْرِہِ ، فَرَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ قَالَ اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَشَقَّ عَلَیْھِمْ إِذْ دَعَا عَلَیْھِمْ ، قَالَ وَکَانُوْا یَرَوْنَ أنَّ الدَّعْوَۃَ فِيْ ذٰلِکَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَۃٌ، ثُمَّ سَمَّی اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ بِأَبِيْ جَھْلٍ ، وَعَلَیْکَ بِعُتْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ ، وَشَیْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ ، وَالْوَلیْدِ بْنِ عُتْبَۃَ ، وَأُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ ، وَعُقَبَۃَ بْنِ أَبِيْ مُعَیْطٍ ، وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ نَحْفَظْہُ ، قَالَ فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ لَقَدْ رَأَیْتُ الَّذِیْنَ عَدَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَرْعَی فِي الْقَلِیْبِ قَلِیْبِ بَدْرٍ ) [ بخاری، الوضوء، باب إذا ألقي علٰی ظہر المصلي قدر۔۔ : ٢٤٠ ] ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے کچھ ساتھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے آپس میں کہا کہ تم میں سے کون ہے جو بنو فلاں کی ذبح کردہ اونٹنی کی اوجھڑی و بچہ دانی وغیرہ اٹھا کر لائے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ کرے تو اس کی پیٹھ پر رکھ دے۔ تو ان میں سے سب سے بدبخت شخص اٹھا اور اس نے وہ اوجھڑی وغیرہ لا کر آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دی۔ میں دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کرسکتا تھا، کاش مجھ میں آپ کے دفاع کی طاقت ہوتی۔ تو وہ سب ہنستے ہنستے ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے ہی میں رہے، سر نہیں اٹھایا، یہاں تک کہ فاطمہ (رض) آئیں اور اسے آپ کی کمر سے اتار پھینکا، تو آپ نے سر اٹھایا اور کہا : ” یا اللہ قریش کو پکڑ۔ “ آپ کی یہ بددعا ان پر بڑی شاق گزری، وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر آپ نے نام لے کر فرمایا : ” اے اللہ ابوجہل کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ۔ “ ایک ساتواں بھی گنا جو ہمیں یاد نہیں رہا۔ “ ابن مسعود (رض) نے فرمایا : ” پھر اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ان تمام آدمیوں کو جو رسول اللہ …

96

ٱلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

جو خدا کے ساتھ معبود قرار دیتے ہیں۔ سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا

الَّذِيْنَ يَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ ۔۔ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استہزا کے ساتھ ساتھ ان کا سب سے بڑا جرم شرک ذکر کر کے فرمایا، یہ لوگ عنقریب انجام دیکھ لیں گے۔ دنیا میں ان کے انجام کا ذکر اوپر گزرا، آخرت کا معاملہ تو بیان ہی میں نہیں آسکتا۔

97

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے کفار کے استہزا اور کفر و شرک پر اصرار سے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہایت تاکید والے الفاظ میں تسلی دی۔ چناچہ لام تاکید اور ” قَدْ “ برائے تحقیق کے ساتھ اس بات کا اظہار فرمایا کہ ہم آپ کے حالات سے بیخبر نہیں، بلکہ ہر وقت ہماری توجہ آپ کی طرف ہے، اب بھی اور آئندہ بھی اور ہم جانتے ہیں کہ یقیناً آپ کا سینہ ان کی باتوں سے تنگ پڑجاتا ہے۔

98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ

تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو اور سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ : کفار کی زیادتیوں اور استہزا کی و جہ سے سینہ کی اس تنگی کا علاج بیان فرمایا کہ اگر آپ کا سینہ اس سے تنگ ہو تو آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد کریں۔ تسبیح کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کو ہر عیب، نقص اور ایسی چیزوں سے پاک قرار دینا جو اس کے لائق نہیں اور حمد کا معنی اللہ کی ان تمام صفات کمال کے ساتھ تعریف کرنا جو اس کی شان کے لائق ہیں۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ تسبیح اور حمد میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کمال آجاتی ہیں، کیونکہ تسبیح میں تمام صفات سلبیہ (یعنی ہر عیب اور کمی سے پاک ہونا) آگئیں اور حمد میں تمام صفات ثبوتیہ (یعنی ہر خوبی کا مالک ہونا) آگئیں، چناچہ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر ہر مصیبت اور تنگی میں صبر اور تسبیح و حمد کا حکم دیا، جیسا کہ دیکھیے سورة طٰہٰ (١٣٠) ، فرقان (٥٨) ، مومن (٥٥) ، طور ( ٤٨) اور سورة نصر (٣) وغیرہ۔- وَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ : یعنی نماز پڑھنے والوں میں سے ہوجا، جس طرح قیام اور ” رَکْعَۃٌ“ (رکوع) سے مراد پوری نماز لی جاتی ہے، حالانکہ قیام اور ” رَکْعَۃٌ“ (رکوع) نماز کا جز ہیں، کل نہیں، مگر جز سے مراد کل ہے، اسی طرح یہاں سجدہ سے مراد نماز ہے، اسی لیے اس آیت پر سجدہ نہیں۔ سجدے کا ذکر خصوصاً اس لیے کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہِ وَھُوَ سَاجِدٌ، فَأَکْثِرُوا الدُّعَاءَ ) [ مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال فی الرکوع و السجود : ٤٨٢، عن أبی ہریرہ (رض) ] ” بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے تو (سجدے میں) دعا کثرت سے کیا کرو۔ “ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر پیش آنے والی مصیبت کا علاج اللہ کا ذکر، خصوصاً تسبیح و تحمید اور نماز ہے، ان کی برکت سے دل کو تسلی بھی ہوگی اور فکر و غم کے بادل بھی چھٹ جائیں گے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ (رض) کے چکی پیسنے اور مشک میں پانی ڈھونے کی مشقت کی و جہ سے خادمہ کے لیے درخواست پر انھیں سوتے وقت تسبیحات فاطمہ کا حکم دیا اور ان تسبیحات کو خادمہ سے بہتر قرار دیا اور خود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل تھا کہ جب آپ کو کوئی معاملہ پیش آتا تو نماز میں مصروف ہوجاتے۔ [ أبوداوٗد، التطوع، باب وقت قیام النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی اللیل : ١٣١٩۔ مسند أحمد : ٥؍٣٨٨، ح : ٢٣٣٦١ ]

99

وَٱعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ ٱلْيَقِينُ

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ : یعنی موت آنے تک اپنے رب کی عبادت پر قائم رہیں۔ موت کو ” یقین “ اس لیے فرمایا کہ ہر جان دار کے لیے اس کا آنا یقینی ہے۔ قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ” یقین “ کا لفظ موت کے معنی میں آیا ہے، جیسے فرمایا : (حَتّىٰٓ اَتٰىنَا الْيَقِيْنُ ) [ المدثر : ٤٧ ] ” یہاں تک کہ ہمیں یقین آپہنچا (یعنی موت آگئی) ۔ “ اس لیے سب قابل ذکر مفسرین نے اس آیت میں یقین کو بمعنی موت مراد لیا ہے۔ تو جب تک ہوش رہے نماز اور دوسری عبادات زندگی کے آخری دم تک حسب طاقت کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر یا پہلو کے بل لیٹ کر ادا کرنا فرض ہے۔ بعض جاہل اور بےعمل پیر اس آیت کی رو سے کہتے ہیں کہ عبادت کرتے کرتے جب یقین حاصل ہوجائے تو پھر عبادت کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے وہ اپنے آپ کو نماز، روزہ اور عبادات سے مستثنیٰ قرار دے لیتے ہیں۔ یہ تفسیر کتاب اللہ کے ساتھ کھیل ہے۔ کیا یہ جس یقین کا نام لیتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو حاصل نہ ہوسکا کہ وہ آخر وقت تک نماز، روزہ اور دوسری عبادات کی پابندی کرتے رہے۔ بہرحال آیت میں یقین سے مراد یقین قلبی لینا اور نماز روزہ چھوڑ دینا صریح بےدینی ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.