Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 91–99 of 99

91

ٱلَّذِينَ جَعَلُوا۟ ٱلْقُرْءَانَ عِضِينَ

یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا

اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)

[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔

[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔ …

92

فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے

اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)

[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔

[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔ …

93

عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے

اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)

[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔

[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔ …

94

فَٱصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْمُشْرِكِينَ

پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو

اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)

[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔

[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔ …

95

إِنَّا كَفَيْنَٰكَ ٱلْمُسْتَهْزِءِينَ

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں

اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)

[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔

[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔ …

96

ٱلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

جو خدا کے ساتھ معبود قرار دیتے ہیں۔ سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا

اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)

[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔

[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔ …

97

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے

اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)

[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔

[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔ …

98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ

تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو اور سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو

اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)

[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔

[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔ …

99

وَٱعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ ٱلْيَقِينُ

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے

اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)

[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔

[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔ …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.