Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 91–99 of 99

91

ٱلَّذِينَ جَعَلُوا۟ ٱلْقُرْءَانَ عِضِينَ

یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا

سات مثانی سے مراد سورہ فاتحہ ہے۔ سورہ فاتحہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے اور بقیہ قرآن اس کی تفصیل۔ یہ قرآن بلا شبہ زمین و آسمان کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس کا ہدایت نامہ ہونا اس کے ماننے والوں کے لیے آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اور اس کا آخری کتاب ہونا لازم ٹھہراتا ہے کہ ضرور اس کو اپنے مخالفین کے اوپر غلبہ حاصل ہو۔ کیوں کہ اگر غلبہ نہ ہو تو وہ آخری کتاب کی حیثیت سے باقی نہیں رہ سکتی۔

داعی کوچاہیے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو سوچ کر وہ مایوس نہ ہو۔ بلکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو دیکھ کر مطمئن ہو اور ان کی دل جوئی اور تربیت میں پوری توجہ صرف کرے۔

قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے مراد تورات کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔ یہود نے اپنی آسمانی کتاب کو عملاً دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا اس کی جو تعلیم ان کی خواہشات کے خلاف ہوتی اس کو وہ چھوڑ دیتے اور جو ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتی اس کو لے لیتے۔ پہلی قسم کی آیتیں ان کے یہاں صرف تقدس کے خانہ میں پڑی رہتیں۔ ان پر وہ نہ زیادہ دھیان دیتے اور نہ ان کو زیادہ پھیلاتے۔ البتہ دوسری قسم کی آیتوں کی وہ خوب اشاعت کرتے۔ بالفاظ دیگر انھوںنے کتاب خداوندی کو اپنے مفادات کے تابع بنا لیا تھا، نہ کہ خدائی احکام کے تابع۔

کسی چیز کو پانے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اس کے اجزاء کو پانا۔ دوسرا ہے ا س کو اس کی کلی حیثیت میں پانا۔ درخت کو جب آدمی اس کی کلی حیثیت میں پہچان لے تو وہ کہتا ہے کہ یہ درخت ہے۔ لیکن اگر وہ اس کو اس کی کلی حیثیت میں نہ پہچانے تو وہ تنہ اور شاخ اور پتی اور پھول اور پھل کا ذکر کرے گا۔ وہ اس واحد لفظ کو نہ بول سکے گا جس کے بولنے کے بعد اس کے تمام متفرق اجزاء ایک اصل میں جڑ کر وحدت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

یہی معاملہ خدا کی کتاب کا بھی ہے۔ خدا کی کتاب میں بہت سے متفرق احکام ہیں اسی کے ساتھ اس کا ایک کلی اور مرکزی نکتہ ہے۔ جو لوگ خدا کی کتاب میں گم ہوں وہ خدا کی کتاب کو اس کی کلی حیثیت میں پالیں گے ۔ اس کے برعکس، جو لوگ خود اپنے آپ میں گم ہوں وہ خدا کی کتا ب کو دیکھتے ہیں تو خدا کی کتاب ان کو بس مختلف اور متفرق احکام کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان میں سے اپنے ذوق اورحالات کے مطابق کوئی جزء لے لیتے ہیں اور اس پر اس طرح زور صرف کرنے لگتے ہیں جیسے کہ بس وہی ایک چیز سب کچھ ہو۔

درخت کی جڑ میں پانی دینے سے پورے درخت میں پانی پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جب خدا کی کتاب کے کلی اور مرکزی پہلو کو زندہ کیا جائے تو ا س کے زندہ ہوتے ہی بقیہ تمام اجزاء لازمی طورپر زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر کسی ایک جزء کو لے کر اس پر زور دیا جائے تو اس کی ظاہری دھوم تو مچ سکتی ہے مگر اس سے دین کا حقیقی احیاء نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کو زندگی مرکزی پہلو کے زندہ ہونے سے ملتی ہے اور وہ سرے سے زندہ ہی نہیںہوا۔

92

فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے

سات مثانی سے مراد سورہ فاتحہ ہے۔ سورہ فاتحہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے اور بقیہ قرآن اس کی تفصیل۔ یہ قرآن بلا شبہ زمین و آسمان کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس کا ہدایت نامہ ہونا اس کے ماننے والوں کے لیے آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اور اس کا آخری کتاب ہونا لازم ٹھہراتا ہے کہ ضرور اس کو اپنے مخالفین کے اوپر غلبہ حاصل ہو۔ کیوں کہ اگر غلبہ نہ ہو تو وہ آخری کتاب کی حیثیت سے باقی نہیں رہ سکتی۔

داعی کوچاہیے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو سوچ کر وہ مایوس نہ ہو۔ بلکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو دیکھ کر مطمئن ہو اور ان کی دل جوئی اور تربیت میں پوری توجہ صرف کرے۔

قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے مراد تورات کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔ یہود نے اپنی آسمانی کتاب کو عملاً دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا اس کی جو تعلیم ان کی خواہشات کے خلاف ہوتی اس کو وہ چھوڑ دیتے اور جو ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتی اس کو لے لیتے۔ پہلی قسم کی آیتیں ان کے یہاں صرف تقدس کے خانہ میں پڑی رہتیں۔ ان پر وہ نہ زیادہ دھیان دیتے اور نہ ان کو زیادہ پھیلاتے۔ البتہ دوسری قسم کی آیتوں کی وہ خوب اشاعت کرتے۔ بالفاظ دیگر انھوںنے کتاب خداوندی کو اپنے مفادات کے تابع بنا لیا تھا، نہ کہ خدائی احکام کے تابع۔

کسی چیز کو پانے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اس کے اجزاء کو پانا۔ دوسرا ہے ا س کو اس کی کلی حیثیت میں پانا۔ درخت کو جب آدمی اس کی کلی حیثیت میں پہچان لے تو وہ کہتا ہے کہ یہ درخت ہے۔ لیکن اگر وہ اس کو اس کی کلی حیثیت میں نہ پہچانے تو وہ تنہ اور شاخ اور پتی اور پھول اور پھل کا ذکر کرے گا۔ وہ اس واحد لفظ کو نہ بول سکے گا جس کے بولنے کے بعد اس کے تمام متفرق اجزاء ایک اصل میں جڑ کر وحدت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

یہی معاملہ خدا کی کتاب کا بھی ہے۔ خدا کی کتاب میں بہت سے متفرق احکام ہیں اسی کے ساتھ اس کا ایک کلی اور مرکزی نکتہ ہے۔ جو لوگ خدا کی کتاب میں گم ہوں وہ خدا کی کتاب کو اس کی کلی حیثیت میں پالیں گے ۔ اس کے برعکس، جو لوگ خود اپنے آپ میں گم ہوں وہ خدا کی کتا ب کو دیکھتے ہیں تو خدا کی کتاب ان کو بس مختلف اور متفرق احکام کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان میں سے اپنے ذوق اورحالات کے مطابق کوئی جزء لے لیتے ہیں اور اس پر اس طرح زور صرف کرنے لگتے ہیں جیسے کہ بس وہی ایک چیز سب کچھ ہو۔

درخت کی جڑ میں پانی دینے سے پورے درخت میں پانی پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جب خدا کی کتاب کے کلی اور مرکزی پہلو کو زندہ کیا جائے تو ا س کے زندہ ہوتے ہی بقیہ تمام اجزاء لازمی طورپر زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر کسی ایک جزء کو لے کر اس پر زور دیا جائے تو اس کی ظاہری دھوم تو مچ سکتی ہے مگر اس سے دین کا حقیقی احیاء نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کو زندگی مرکزی پہلو کے زندہ ہونے سے ملتی ہے اور وہ سرے سے زندہ ہی نہیںہوا۔

93

عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے

سات مثانی سے مراد سورہ فاتحہ ہے۔ سورہ فاتحہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے اور بقیہ قرآن اس کی تفصیل۔ یہ قرآن بلا شبہ زمین و آسمان کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس کا ہدایت نامہ ہونا اس کے ماننے والوں کے لیے آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اور اس کا آخری کتاب ہونا لازم ٹھہراتا ہے کہ ضرور اس کو اپنے مخالفین کے اوپر غلبہ حاصل ہو۔ کیوں کہ اگر غلبہ نہ ہو تو وہ آخری کتاب کی حیثیت سے باقی نہیں رہ سکتی۔

داعی کوچاہیے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو سوچ کر وہ مایوس نہ ہو۔ بلکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو دیکھ کر مطمئن ہو اور ان کی دل جوئی اور تربیت میں پوری توجہ صرف کرے۔

قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے مراد تورات کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔ یہود نے اپنی آسمانی کتاب کو عملاً دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا اس کی جو تعلیم ان کی خواہشات کے خلاف ہوتی اس کو وہ چھوڑ دیتے اور جو ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتی اس کو لے لیتے۔ پہلی قسم کی آیتیں ان کے یہاں صرف تقدس کے خانہ میں پڑی رہتیں۔ ان پر وہ نہ زیادہ دھیان دیتے اور نہ ان کو زیادہ پھیلاتے۔ البتہ دوسری قسم کی آیتوں کی وہ خوب اشاعت کرتے۔ بالفاظ دیگر انھوںنے کتاب خداوندی کو اپنے مفادات کے تابع بنا لیا تھا، نہ کہ خدائی احکام کے تابع۔

کسی چیز کو پانے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اس کے اجزاء کو پانا۔ دوسرا ہے ا س کو اس کی کلی حیثیت میں پانا۔ درخت کو جب آدمی اس کی کلی حیثیت میں پہچان لے تو وہ کہتا ہے کہ یہ درخت ہے۔ لیکن اگر وہ اس کو اس کی کلی حیثیت میں نہ پہچانے تو وہ تنہ اور شاخ اور پتی اور پھول اور پھل کا ذکر کرے گا۔ وہ اس واحد لفظ کو نہ بول سکے گا جس کے بولنے کے بعد اس کے تمام متفرق اجزاء ایک اصل میں جڑ کر وحدت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

یہی معاملہ خدا کی کتاب کا بھی ہے۔ خدا کی کتاب میں بہت سے متفرق احکام ہیں اسی کے ساتھ اس کا ایک کلی اور مرکزی نکتہ ہے۔ جو لوگ خدا کی کتاب میں گم ہوں وہ خدا کی کتاب کو اس کی کلی حیثیت میں پالیں گے ۔ اس کے برعکس، جو لوگ خود اپنے آپ میں گم ہوں وہ خدا کی کتا ب کو دیکھتے ہیں تو خدا کی کتاب ان کو بس مختلف اور متفرق احکام کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان میں سے اپنے ذوق اورحالات کے مطابق کوئی جزء لے لیتے ہیں اور اس پر اس طرح زور صرف کرنے لگتے ہیں جیسے کہ بس وہی ایک چیز سب کچھ ہو۔

درخت کی جڑ میں پانی دینے سے پورے درخت میں پانی پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جب خدا کی کتاب کے کلی اور مرکزی پہلو کو زندہ کیا جائے تو ا س کے زندہ ہوتے ہی بقیہ تمام اجزاء لازمی طورپر زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر کسی ایک جزء کو لے کر اس پر زور دیا جائے تو اس کی ظاہری دھوم تو مچ سکتی ہے مگر اس سے دین کا حقیقی احیاء نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کو زندگی مرکزی پہلو کے زندہ ہونے سے ملتی ہے اور وہ سرے سے زندہ ہی نہیںہوا۔

94

فَٱصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْمُشْرِكِينَ

پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو

موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بولنے اور کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اس لیے داعی جب خدا کی طرف بلانے کا کام شروع کرتاہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کی بے معنی باتیں کہی جاتی ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے غیر متعلق مسائل چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ ان تمام باتوں کے مقابلہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اگر وہ ایسے مواقع پر لوگوں سے لڑنے لگے تو وہ دعوتِ حق کے مثبت کام کو انجام نہیں دے سکتا۔

اس دنیا میں حق کے داعی کے لیے ایک ہی مثبت طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ وہ الجھنے والوں سے نہ الجھے۔ اور جو حق اسے ملا ہے اس کا وہ پوری طرح اعلان کردے۔ ہر اس بات کو وہ خدا کے حوالے کردے جس سے نمٹنے کی طاقت وہ اپنے اندر نہ پاتا ہو۔ دنیا کے ناموافق حالات جب اس کو ستائیں تو وہ آخرت کی طرف اپنی توجہ کو پھیر دے۔ انسانوں کی بے اعتنائی جب اس کو تنگ دل کرے تو وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجائے۔

سچے داعی کا حال یہ ہوتاہے کہ جب اس پر غم کی کوئی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ ہمہ تن خداکی طرف متوجہ ہوجاتاہے۔ جو چیز وہ انسانوں سے نہ پاسکا اس کو وہ خدا سے پانے کی کوشش کرتا ہے۔ نماز میں خدا کے سامنے کھڑے ہونے سے اس کو تسکین ملتی ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہا کر اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ خدا کے ساتھ سرگوشیوں میں مشغول ہو کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے وہ سب کچھ پالیا جو اس کو پانا چاہیے تھا۔

95

إِنَّا كَفَيْنَٰكَ ٱلْمُسْتَهْزِءِينَ

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں

موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بولنے اور کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اس لیے داعی جب خدا کی طرف بلانے کا کام شروع کرتاہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کی بے معنی باتیں کہی جاتی ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے غیر متعلق مسائل چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ ان تمام باتوں کے مقابلہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اگر وہ ایسے مواقع پر لوگوں سے لڑنے لگے تو وہ دعوتِ حق کے مثبت کام کو انجام نہیں دے سکتا۔

اس دنیا میں حق کے داعی کے لیے ایک ہی مثبت طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ وہ الجھنے والوں سے نہ الجھے۔ اور جو حق اسے ملا ہے اس کا وہ پوری طرح اعلان کردے۔ ہر اس بات کو وہ خدا کے حوالے کردے جس سے نمٹنے کی طاقت وہ اپنے اندر نہ پاتا ہو۔ دنیا کے ناموافق حالات جب اس کو ستائیں تو وہ آخرت کی طرف اپنی توجہ کو پھیر دے۔ انسانوں کی بے اعتنائی جب اس کو تنگ دل کرے تو وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجائے۔

سچے داعی کا حال یہ ہوتاہے کہ جب اس پر غم کی کوئی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ ہمہ تن خداکی طرف متوجہ ہوجاتاہے۔ جو چیز وہ انسانوں سے نہ پاسکا اس کو وہ خدا سے پانے کی کوشش کرتا ہے۔ نماز میں خدا کے سامنے کھڑے ہونے سے اس کو تسکین ملتی ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہا کر اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ خدا کے ساتھ سرگوشیوں میں مشغول ہو کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے وہ سب کچھ پالیا جو اس کو پانا چاہیے تھا۔

96

ٱلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

جو خدا کے ساتھ معبود قرار دیتے ہیں۔ سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا

موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بولنے اور کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اس لیے داعی جب خدا کی طرف بلانے کا کام شروع کرتاہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کی بے معنی باتیں کہی جاتی ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے غیر متعلق مسائل چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ ان تمام باتوں کے مقابلہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اگر وہ ایسے مواقع پر لوگوں سے لڑنے لگے تو وہ دعوتِ حق کے مثبت کام کو انجام نہیں دے سکتا۔

اس دنیا میں حق کے داعی کے لیے ایک ہی مثبت طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ وہ الجھنے والوں سے نہ الجھے۔ اور جو حق اسے ملا ہے اس کا وہ پوری طرح اعلان کردے۔ ہر اس بات کو وہ خدا کے حوالے کردے جس سے نمٹنے کی طاقت وہ اپنے اندر نہ پاتا ہو۔ دنیا کے ناموافق حالات جب اس کو ستائیں تو وہ آخرت کی طرف اپنی توجہ کو پھیر دے۔ انسانوں کی بے اعتنائی جب اس کو تنگ دل کرے تو وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجائے۔

سچے داعی کا حال یہ ہوتاہے کہ جب اس پر غم کی کوئی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ ہمہ تن خداکی طرف متوجہ ہوجاتاہے۔ جو چیز وہ انسانوں سے نہ پاسکا اس کو وہ خدا سے پانے کی کوشش کرتا ہے۔ نماز میں خدا کے سامنے کھڑے ہونے سے اس کو تسکین ملتی ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہا کر اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ خدا کے ساتھ سرگوشیوں میں مشغول ہو کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے وہ سب کچھ پالیا جو اس کو پانا چاہیے تھا۔

97

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے

موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بولنے اور کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اس لیے داعی جب خدا کی طرف بلانے کا کام شروع کرتاہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کی بے معنی باتیں کہی جاتی ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے غیر متعلق مسائل چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ ان تمام باتوں کے مقابلہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اگر وہ ایسے مواقع پر لوگوں سے لڑنے لگے تو وہ دعوتِ حق کے مثبت کام کو انجام نہیں دے سکتا۔

اس دنیا میں حق کے داعی کے لیے ایک ہی مثبت طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ وہ الجھنے والوں سے نہ الجھے۔ اور جو حق اسے ملا ہے اس کا وہ پوری طرح اعلان کردے۔ ہر اس بات کو وہ خدا کے حوالے کردے جس سے نمٹنے کی طاقت وہ اپنے اندر نہ پاتا ہو۔ دنیا کے ناموافق حالات جب اس کو ستائیں تو وہ آخرت کی طرف اپنی توجہ کو پھیر دے۔ انسانوں کی بے اعتنائی جب اس کو تنگ دل کرے تو وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجائے۔

سچے داعی کا حال یہ ہوتاہے کہ جب اس پر غم کی کوئی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ ہمہ تن خداکی طرف متوجہ ہوجاتاہے۔ جو چیز وہ انسانوں سے نہ پاسکا اس کو وہ خدا سے پانے کی کوشش کرتا ہے۔ نماز میں خدا کے سامنے کھڑے ہونے سے اس کو تسکین ملتی ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہا کر اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ خدا کے ساتھ سرگوشیوں میں مشغول ہو کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے وہ سب کچھ پالیا جو اس کو پانا چاہیے تھا۔

98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ

تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو اور سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو

موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بولنے اور کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اس لیے داعی جب خدا کی طرف بلانے کا کام شروع کرتاہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کی بے معنی باتیں کہی جاتی ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے غیر متعلق مسائل چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ ان تمام باتوں کے مقابلہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اگر وہ ایسے مواقع پر لوگوں سے لڑنے لگے تو وہ دعوتِ حق کے مثبت کام کو انجام نہیں دے سکتا۔

اس دنیا میں حق کے داعی کے لیے ایک ہی مثبت طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ وہ الجھنے والوں سے نہ الجھے۔ اور جو حق اسے ملا ہے اس کا وہ پوری طرح اعلان کردے۔ ہر اس بات کو وہ خدا کے حوالے کردے جس سے نمٹنے کی طاقت وہ اپنے اندر نہ پاتا ہو۔ دنیا کے ناموافق حالات جب اس کو ستائیں تو وہ آخرت کی طرف اپنی توجہ کو پھیر دے۔ انسانوں کی بے اعتنائی جب اس کو تنگ دل کرے تو وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجائے۔

سچے داعی کا حال یہ ہوتاہے کہ جب اس پر غم کی کوئی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ ہمہ تن خداکی طرف متوجہ ہوجاتاہے۔ جو چیز وہ انسانوں سے نہ پاسکا اس کو وہ خدا سے پانے کی کوشش کرتا ہے۔ نماز میں خدا کے سامنے کھڑے ہونے سے اس کو تسکین ملتی ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہا کر اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ خدا کے ساتھ سرگوشیوں میں مشغول ہو کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے وہ سب کچھ پالیا جو اس کو پانا چاہیے تھا۔

99

وَٱعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ ٱلْيَقِينُ

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے

موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بولنے اور کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اس لیے داعی جب خدا کی طرف بلانے کا کام شروع کرتاہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کی بے معنی باتیں کہی جاتی ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے غیر متعلق مسائل چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ ان تمام باتوں کے مقابلہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اگر وہ ایسے مواقع پر لوگوں سے لڑنے لگے تو وہ دعوتِ حق کے مثبت کام کو انجام نہیں دے سکتا۔

اس دنیا میں حق کے داعی کے لیے ایک ہی مثبت طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ وہ الجھنے والوں سے نہ الجھے۔ اور جو حق اسے ملا ہے اس کا وہ پوری طرح اعلان کردے۔ ہر اس بات کو وہ خدا کے حوالے کردے جس سے نمٹنے کی طاقت وہ اپنے اندر نہ پاتا ہو۔ دنیا کے ناموافق حالات جب اس کو ستائیں تو وہ آخرت کی طرف اپنی توجہ کو پھیر دے۔ انسانوں کی بے اعتنائی جب اس کو تنگ دل کرے تو وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجائے۔

سچے داعی کا حال یہ ہوتاہے کہ جب اس پر غم کی کوئی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ ہمہ تن خداکی طرف متوجہ ہوجاتاہے۔ جو چیز وہ انسانوں سے نہ پاسکا اس کو وہ خدا سے پانے کی کوشش کرتا ہے۔ نماز میں خدا کے سامنے کھڑے ہونے سے اس کو تسکین ملتی ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہا کر اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ خدا کے ساتھ سرگوشیوں میں مشغول ہو کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے وہ سب کچھ پالیا جو اس کو پانا چاہیے تھا۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.