Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir

Ayahs 91–99 of 99

91

ٱلَّذِينَ جَعَلُوا۟ ٱلْقُرْءَانَ عِضِينَ

یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا

انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الٰہی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے “۔

«الْمُقْتَسِمِينَ» سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء علیہ السلام کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کر لیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ «قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّـهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ» [27-النمل:49] ‏ ” ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صالح علیہ السلام اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے “۔

اسی طرح قرآن میں ہے کہ «وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ» [16-النحل:38] ‏ ” وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں“ الخ۔

اور جگہ ان کا اس بات پر قسمیں کھانے کا ذکر ہے کہ «أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ» [7-الأعراف:49] ‏ ” مسلمانوں کو کبھی کوئی رحمت نہیں مل سکتی “۔ الغرض جس چیز کو نہ ما نتے اس پر قسمیں کھانے کی انہیں عادت تھی اس لیے انہیں کہا گیا ہے۔

صفحہ نمبر4380

بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری اور ان ہدایات کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے کہ لوگو میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دیکھو ہوشیار ہو جاؤ بچنے اور ہلاک نہ ہونے کے سامان کر لو۔ اب کچھ لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں اور اسی عرصہ میں چل پڑتے ہیں اور دشمن کے پنجے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور وہیں بے فکری سے پڑے رہتے ہیں کہ ناگاہ دشمن کا لشکر آ پہنچتا ہے اور گھیر گھار کر انہیں قتل کر دیتا ہے پس یہ ہے مثال میرے ماننے والوں کی اور نا ماننے والوں کی ۔ [صحیح بخاری:7283] ‏

ان لوگوں نے اللہ کی ان کتابوں کو جو ان پر اتری تھیں پارہ پارہ کر دیا جس مسئلے کو جی چاہا مانا جس سے دل گھبرایا چھوڑ دیا۔ بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ کتاب کے بعض حصے کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے ۔ [صحیح بخاری:4705] ‏

یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے کفار کا کتاب اللہ کی نسبت یہ کہنا ہے کہ یہ جادو ہے، یہ کہانت ہے، یہ اگلوں کی کہانی ہے، اس کا کہنے والا جادوگر ہے، مجنوں ہے، کاہن ہے وغیرہ۔

صفحہ نمبر4381

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ولید بن مغیرہ کے پاس سرداران قریش جمع ہوئے حج کا موسم قریب تھا اور یہ شخص ان میں بڑا شریف اور ذی رائے سمجھا جاتا تھا اس نے ان سب سے کہا کہ دیکھو حج کے موقع پر دور دراز سے تمام عرب یہاں جمع ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اس ساتھی نے ایک اودھم مچا رکھا ہے لہٰذا اس کی نسبت ان بیرونی لوگوں سے کیا کہا جائے یہ بتاؤ اور کسی ایک بات پر اجماع کرلو کہ سب وہی کہیں۔ ایسا نہ ہو کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے اس سے تو تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور وہ پردیسی تمہیں جھوٹا خیال کریں گے۔

انہوں نے کہا ابو عبد شمس آپ ہی کوئی ایسی بات تجویز کر دیجئیے اس نے کہا پہلے تم اپنی تو کہو تاکہ مجھے بھی غور و خوض کا موقعہ ملے انہوں نے کہا پھر ہماری رائے میں تو ہر شخص اسے کاہن بتلائے۔ اس نے کہا یہ تو واقعہ کے خلاف ہے لوگوں نے کہا پھر مجنوں بالکل درست ہے۔ اس نے کہا یہ بھی غلط ہے کہا اچھا تو شاعر کہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شعر جانتا ہی نہیں کہا اچھا پھر جادوگر کہیں؟ کہا اسے جادو سے مس بھی نہیں اس نے کہا سنو واللہ اس کے قول میں عجب مٹھاس ہے ان باتوں میں سے تم جو کہو گے دنیا سمجھ لے گی کہ محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ گو کوئی بات نہیں …

92

فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے

انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الٰہی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے “۔

«الْمُقْتَسِمِينَ» سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء علیہ السلام کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کر لیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ «قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّـهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ» [27-النمل:49] ‏ ” ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صالح علیہ السلام اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے “۔

اسی طرح قرآن میں ہے کہ «وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ» [16-النحل:38] ‏ ” وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں“ الخ۔

اور جگہ ان کا اس بات پر قسمیں کھانے کا ذکر ہے کہ «أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ» [7-الأعراف:49] ‏ ” مسلمانوں کو کبھی کوئی رحمت نہیں مل سکتی “۔ الغرض جس چیز کو نہ ما نتے اس پر قسمیں کھانے کی انہیں عادت تھی اس لیے انہیں کہا گیا ہے۔

صفحہ نمبر4380

بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری اور ان ہدایات کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے کہ لوگو میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دیکھو ہوشیار ہو جاؤ بچنے اور ہلاک نہ ہونے کے سامان کر لو۔ اب کچھ لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں اور اسی عرصہ میں چل پڑتے ہیں اور دشمن کے پنجے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور وہیں بے فکری سے پڑے رہتے ہیں کہ ناگاہ دشمن کا لشکر آ پہنچتا ہے اور گھیر گھار کر انہیں قتل کر دیتا ہے پس یہ ہے مثال میرے ماننے والوں کی اور نا ماننے والوں کی ۔ [صحیح بخاری:7283] ‏

ان لوگوں نے اللہ کی ان کتابوں کو جو ان پر اتری تھیں پارہ پارہ کر دیا جس مسئلے کو جی چاہا مانا جس سے دل گھبرایا چھوڑ دیا۔ بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ کتاب کے بعض حصے کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے ۔ [صحیح بخاری:4705] ‏

یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے کفار کا کتاب اللہ کی نسبت یہ کہنا ہے کہ یہ جادو ہے، یہ کہانت ہے، یہ اگلوں کی کہانی ہے، اس کا کہنے والا جادوگر ہے، مجنوں ہے، کاہن ہے وغیرہ۔

صفحہ نمبر4381

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ولید بن مغیرہ کے پاس سرداران قریش جمع ہوئے حج کا موسم قریب تھا اور یہ شخص ان میں بڑا شریف اور ذی رائے سمجھا جاتا تھا اس نے ان سب سے کہا کہ دیکھو حج کے موقع پر دور دراز سے تمام عرب یہاں جمع ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اس ساتھی نے ایک اودھم مچا رکھا ہے لہٰذا اس کی نسبت ان بیرونی لوگوں سے کیا کہا جائے یہ بتاؤ اور کسی ایک بات پر اجماع کرلو کہ سب وہی کہیں۔ ایسا نہ ہو کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے اس سے تو تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور وہ پردیسی تمہیں جھوٹا خیال کریں گے۔

انہوں نے کہا ابو عبد شمس آپ ہی کوئی ایسی بات تجویز کر دیجئیے اس نے کہا پہلے تم اپنی تو کہو تاکہ مجھے بھی غور و خوض کا موقعہ ملے انہوں نے کہا پھر ہماری رائے میں تو ہر شخص اسے کاہن بتلائے۔ اس نے کہا یہ تو واقعہ کے خلاف ہے لوگوں نے کہا پھر مجنوں بالکل درست ہے۔ اس نے کہا یہ بھی غلط ہے کہا اچھا تو شاعر کہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شعر جانتا ہی نہیں کہا اچھا پھر جادوگر کہیں؟ کہا اسے جادو سے مس بھی نہیں اس نے کہا سنو واللہ اس کے قول میں عجب مٹھاس ہے ان باتوں میں سے تم جو کہو گے دنیا سمجھ لے گی کہ محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ گو کوئی بات نہیں …

93

عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے

انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الٰہی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے “۔

«الْمُقْتَسِمِينَ» سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء علیہ السلام کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کر لیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ «قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّـهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ» [27-النمل:49] ‏ ” ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صالح علیہ السلام اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے “۔

اسی طرح قرآن میں ہے کہ «وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ» [16-النحل:38] ‏ ” وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں“ الخ۔

اور جگہ ان کا اس بات پر قسمیں کھانے کا ذکر ہے کہ «أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ» [7-الأعراف:49] ‏ ” مسلمانوں کو کبھی کوئی رحمت نہیں مل سکتی “۔ الغرض جس چیز کو نہ ما نتے اس پر قسمیں کھانے کی انہیں عادت تھی اس لیے انہیں کہا گیا ہے۔

صفحہ نمبر4380

بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری اور ان ہدایات کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے کہ لوگو میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دیکھو ہوشیار ہو جاؤ بچنے اور ہلاک نہ ہونے کے سامان کر لو۔ اب کچھ لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں اور اسی عرصہ میں چل پڑتے ہیں اور دشمن کے پنجے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور وہیں بے فکری سے پڑے رہتے ہیں کہ ناگاہ دشمن کا لشکر آ پہنچتا ہے اور گھیر گھار کر انہیں قتل کر دیتا ہے پس یہ ہے مثال میرے ماننے والوں کی اور نا ماننے والوں کی ۔ [صحیح بخاری:7283] ‏

ان لوگوں نے اللہ کی ان کتابوں کو جو ان پر اتری تھیں پارہ پارہ کر دیا جس مسئلے کو جی چاہا مانا جس سے دل گھبرایا چھوڑ دیا۔ بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ کتاب کے بعض حصے کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے ۔ [صحیح بخاری:4705] ‏

یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے کفار کا کتاب اللہ کی نسبت یہ کہنا ہے کہ یہ جادو ہے، یہ کہانت ہے، یہ اگلوں کی کہانی ہے، اس کا کہنے والا جادوگر ہے، مجنوں ہے، کاہن ہے وغیرہ۔

صفحہ نمبر4381

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ولید بن مغیرہ کے پاس سرداران قریش جمع ہوئے حج کا موسم قریب تھا اور یہ شخص ان میں بڑا شریف اور ذی رائے سمجھا جاتا تھا اس نے ان سب سے کہا کہ دیکھو حج کے موقع پر دور دراز سے تمام عرب یہاں جمع ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اس ساتھی نے ایک اودھم مچا رکھا ہے لہٰذا اس کی نسبت ان بیرونی لوگوں سے کیا کہا جائے یہ بتاؤ اور کسی ایک بات پر اجماع کرلو کہ سب وہی کہیں۔ ایسا نہ ہو کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے اس سے تو تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور وہ پردیسی تمہیں جھوٹا خیال کریں گے۔

انہوں نے کہا ابو عبد شمس آپ ہی کوئی ایسی بات تجویز کر دیجئیے اس نے کہا پہلے تم اپنی تو کہو تاکہ مجھے بھی غور و خوض کا موقعہ ملے انہوں نے کہا پھر ہماری رائے میں تو ہر شخص اسے کاہن بتلائے۔ اس نے کہا یہ تو واقعہ کے خلاف ہے لوگوں نے کہا پھر مجنوں بالکل درست ہے۔ اس نے کہا یہ بھی غلط ہے کہا اچھا تو شاعر کہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شعر جانتا ہی نہیں کہا اچھا پھر جادوگر کہیں؟ کہا اسے جادو سے مس بھی نہیں اس نے کہا سنو واللہ اس کے قول میں عجب مٹھاس ہے ان باتوں میں سے تم جو کہو گے دنیا سمجھ لے گی کہ محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ گو کوئی بات نہیں …

94

فَٱصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْمُشْرِكِينَ

پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو

رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭

حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔

اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔

«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ‏ ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔

اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ‏ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔

صفحہ نمبر4388

چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف] ‏

اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔

بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] ‏ تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔

کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی …

95

إِنَّا كَفَيْنَٰكَ ٱلْمُسْتَهْزِءِينَ

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں

رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭

حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔

اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔

«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ‏ ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔

اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ‏ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔

صفحہ نمبر4388

چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف] ‏

اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔

بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] ‏ تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔

کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی …

96

ٱلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

جو خدا کے ساتھ معبود قرار دیتے ہیں۔ سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا

رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭

حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔

اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔

«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ‏ ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔

اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ‏ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔

صفحہ نمبر4388

چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف] ‏

اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔

بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] ‏ تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔

کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی …

97

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے

رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭

حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔

اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔

«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ‏ ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔

اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ‏ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔

صفحہ نمبر4388

چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف] ‏

اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔

بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] ‏ تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔

کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی …

98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ

تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو اور سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو

رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭

حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔

اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔

«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ‏ ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔

اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ‏ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔

صفحہ نمبر4388

چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف] ‏

اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔

بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] ‏ تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔

کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی …

99

وَٱعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ ٱلْيَقِينُ

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے

رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭

حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔

اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔

«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ‏ ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔

اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ‏ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔

صفحہ نمبر4388

چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف] ‏

اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔

بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] ‏ تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔

کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی …

Commentary: Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.