Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 91–99 of 99

91

ٱلَّذِينَ جَعَلُوا۟ ٱلْقُرْءَانَ عِضِينَ

یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا

[٤٩] قسمیں کھانے والے اور ان پر عذاب کا نزول :۔ اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ اگر مقتسمین کے معنی تقسیم کرنے والے یا بانٹ لینے والے، قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہود و نصاریٰ دونوں ہیں جنہوں نے قرآن کے بعض حصوں کو تو تسلیم کیا اور بعض حصوں کا انکار کردیا اور بعض کے نزدیک ان سے مراد کفار مکہ ہیں۔ جن کا مطالبہ یہ تھا کہ قرآن کی جن آیات میں ہمارے بتوں کی توہین ہوتی ہے وہ نکال دو پھر باقی باتیں ہم مان لیں گے اور بعض کے نزدیک ان سے مراد صرف تفرقہ باز یہود ہیں اور قرآن سے مراد ان کی کتاب اللہ تورات ہے۔ ان لوگوں نے کتاب اللہ کے بعض حصوں کو مان کر، بعض کا انکار کرکے، بعض آیات کو چھپا کر اور بعض کو تحریف لفظی یا معنوی کرکے بیسیوں فرقے بنا ڈالے تھے اور ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً اپنی تنبیہات یا عذاب نازل فرمایا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مقتسمین کے معنی باہم قسمیں کھانے والے قرار دیا جائے۔ اس صورت میں اس سے مراد وہ لوگ یا وہ قومیں ہیں جنہوں نے انبیاء کی تکذیب یا بعض دوسری جھوٹی باتوں پر قسمیں کھائی تھیں اور انہوں نے کتب سماویہ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے تھے۔ حافظ ابن کثیر اسی معنی کی تائید کرتے ہیں۔ اور اس معنی کی تائید میں کئی آیات پیش کی ہیں۔ مثلاً قوم ثمود نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ ہم رات کو شبخون مار کر سیدنا صالح اور ان کے گھر والوں کو قتل کر ڈالیں گے (٢٧: ٤٩) یا مثلاً کافروں نے پختہ قسمیں کھا کر کہا کہ جو مرچکا ہے اللہ اسے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا۔ (١٦: ٣٨) یا قریش مکہ نے قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ان کی شان و شوکت کو زوال نہیں آئے گا۔ (١٤: ٢٤) یا اعراف والے دوزخیوں کو مخاطب کرکے کہیں گے کہ کیا یہی اہل جنت وہ لوگ نہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان پر کبھی رحمت نہیں کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے سب لوگوں پر عذاب آیا اور قیامت کو ان سے سختی سے بازپرس بھی ہوگی۔

92

فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے

Explained together with ayah 91

93

عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے

Explained together with ayah 91

94

فَٱصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْمُشْرِكِينَ

پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو

[٥٠] علی الاعلان تبلیغ رسالت کا حکم :۔ ابتداًء دعوت اسلام کا آغاز خفیہ طور پر ہوتا رہا اور یہ دور تین سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔ پھر وہ دور آیا جب مسلمان خانہ ارقم سے باہر اپنے اپنے گھروں کی بعض کھلی جگہوں پر نمازیں ادا کرتے اور قرآن پڑھتے تھے۔ اس دور میں قریش نے پابندی لگا رکھی تھی کہ مسلمان بلند آواز سے قرآن نہ پڑھا کریں کیونکہ اس سے ان کے بچے اور عورتیں متاثر ہوتی ہیں نیز ان پر کعبہ میں نماز ادا کرنے یا قرآن پڑھنے پر بھی پابندی تھی اور قریش کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ پھر چند سال بعد یہ دور آیا جب اللہ تعالیٰ نے علی الاعلان تبلیغ کا حکم دے دیا اور فرمایا کہ اس سلسلہ میں شرک کرنے والوں کے استہزاء کی مطلق پروا نہ کریں ہم ایسے لوگوں سے خود نمٹ لیں گے۔

95

إِنَّا كَفَيْنَٰكَ ٱلْمُسْتَهْزِءِينَ

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں

Explained together with ayah 94

96

ٱلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

جو خدا کے ساتھ معبود قرار دیتے ہیں۔ سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا

Explained together with ayah 94

97

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے

Explained together with ayah 94

98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ

تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو اور سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو

[٥١] مشکل اوقات میں نماز کی تلقین :۔ جب ان مشرکوں کے استہزاء سے یا ایمان نہ لانے سے یا ان کی ایذاؤں سے آپ کے دل میں تنگی اور گھٹن پیدا ہو تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ اللہ کی طرف رجوع کیجئے اس کی تسبیح و تقدیس بیان کیجئے، نماز ادا کیجئے۔ ان چیزوں سے ایک تو آپ کے دل میں گھٹن کی بجائے اطمینان پیدا ہوگا تمہارا حوصلہ بڑھائیں گی، استقامت پیدا ہوگی اور دعوت دین کے سلسلہ میں آپ کو جو تکلیفیں اور مصائب پیش آرہے ہیں یہ باتیں آپ میں ان کے مقابلے کی قوت پیدا کردیں گی چناچہ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب بھی آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی یا رزق کی تنگی ہوتی تو آپ خود بھی نماز کی طرف جھپٹتے اور اپنے گھر والوں کو بھی ایسا ہی حکم فرماتے۔

99

وَٱعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ ٱلْيَقِينُ

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے

Explained together with ayah 98

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.