Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 81–90 of 99

81

وَءَاتَيْنَٰهُمْ ءَايَٰتِنَا فَكَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھرتے رہے

اصحاب ایکہ سے مراد حضرت شعیب کی قوم ہے۔ اس قوم کا اصل نام بنی مدیان تھا۔ یہ لوگ موجودہ تبوک کے علاقہ میں آباد تھے۔ اصحاب حجر سے مراد قوم ثمود ہے جس کی طرف حضرت صالح مبعوث ہوئے۔ یہ علاقہ موجودہ مدینہ کے شمال میں واقع تھا۔

اصحاب ایکہ کی سرکشی نے ان کو نہ صرف شرک میں مبتلا کیا بلکہ ان کو بدترین اخلاقی جرائم تک پہنچا دیا۔ حضرت شعیب کی یاد دہانی کے باوجود انھوں نے سبق نہیں لیاتو خدا نے زمین کو حکم دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جو زمین ان کے لیے گہوارہ عیش بنی ہوئی تھی، وہی ان کے لیے گہوارۂ عذاب بن گئی۔

قوم ثمود سنگ تراشی کے فن میں ماہر تھے۔ انھوںنے پہاڑوں کو کاٹ کر ان کو شاندار گھروں میں تبدیل کردیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوں نے اپنی حفاظت کا آخری انتظام کرلیا ہے۔ جب انھوں نے خدا کی پکار کو نظر انداز کردیا تو خدا نے حکم دیا اور ان کے عظیم مکانات ان کے لیے عظیم قبروں میں تبدیل ہوگئے۔

82

وَكَانُوا۟ يَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًا ءَامِنِينَ

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے

اصحاب ایکہ سے مراد حضرت شعیب کی قوم ہے۔ اس قوم کا اصل نام بنی مدیان تھا۔ یہ لوگ موجودہ تبوک کے علاقہ میں آباد تھے۔ اصحاب حجر سے مراد قوم ثمود ہے جس کی طرف حضرت صالح مبعوث ہوئے۔ یہ علاقہ موجودہ مدینہ کے شمال میں واقع تھا۔

اصحاب ایکہ کی سرکشی نے ان کو نہ صرف شرک میں مبتلا کیا بلکہ ان کو بدترین اخلاقی جرائم تک پہنچا دیا۔ حضرت شعیب کی یاد دہانی کے باوجود انھوں نے سبق نہیں لیاتو خدا نے زمین کو حکم دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جو زمین ان کے لیے گہوارہ عیش بنی ہوئی تھی، وہی ان کے لیے گہوارۂ عذاب بن گئی۔

قوم ثمود سنگ تراشی کے فن میں ماہر تھے۔ انھوںنے پہاڑوں کو کاٹ کر ان کو شاندار گھروں میں تبدیل کردیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوں نے اپنی حفاظت کا آخری انتظام کرلیا ہے۔ جب انھوں نے خدا کی پکار کو نظر انداز کردیا تو خدا نے حکم دیا اور ان کے عظیم مکانات ان کے لیے عظیم قبروں میں تبدیل ہوگئے۔

83

فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ

تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا

اصحاب ایکہ سے مراد حضرت شعیب کی قوم ہے۔ اس قوم کا اصل نام بنی مدیان تھا۔ یہ لوگ موجودہ تبوک کے علاقہ میں آباد تھے۔ اصحاب حجر سے مراد قوم ثمود ہے جس کی طرف حضرت صالح مبعوث ہوئے۔ یہ علاقہ موجودہ مدینہ کے شمال میں واقع تھا۔

اصحاب ایکہ کی سرکشی نے ان کو نہ صرف شرک میں مبتلا کیا بلکہ ان کو بدترین اخلاقی جرائم تک پہنچا دیا۔ حضرت شعیب کی یاد دہانی کے باوجود انھوں نے سبق نہیں لیاتو خدا نے زمین کو حکم دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جو زمین ان کے لیے گہوارہ عیش بنی ہوئی تھی، وہی ان کے لیے گہوارۂ عذاب بن گئی۔

قوم ثمود سنگ تراشی کے فن میں ماہر تھے۔ انھوںنے پہاڑوں کو کاٹ کر ان کو شاندار گھروں میں تبدیل کردیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوں نے اپنی حفاظت کا آخری انتظام کرلیا ہے۔ جب انھوں نے خدا کی پکار کو نظر انداز کردیا تو خدا نے حکم دیا اور ان کے عظیم مکانات ان کے لیے عظیم قبروں میں تبدیل ہوگئے۔

84

فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے

اصحاب ایکہ سے مراد حضرت شعیب کی قوم ہے۔ اس قوم کا اصل نام بنی مدیان تھا۔ یہ لوگ موجودہ تبوک کے علاقہ میں آباد تھے۔ اصحاب حجر سے مراد قوم ثمود ہے جس کی طرف حضرت صالح مبعوث ہوئے۔ یہ علاقہ موجودہ مدینہ کے شمال میں واقع تھا۔

اصحاب ایکہ کی سرکشی نے ان کو نہ صرف شرک میں مبتلا کیا بلکہ ان کو بدترین اخلاقی جرائم تک پہنچا دیا۔ حضرت شعیب کی یاد دہانی کے باوجود انھوں نے سبق نہیں لیاتو خدا نے زمین کو حکم دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جو زمین ان کے لیے گہوارہ عیش بنی ہوئی تھی، وہی ان کے لیے گہوارۂ عذاب بن گئی۔

قوم ثمود سنگ تراشی کے فن میں ماہر تھے۔ انھوںنے پہاڑوں کو کاٹ کر ان کو شاندار گھروں میں تبدیل کردیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوں نے اپنی حفاظت کا آخری انتظام کرلیا ہے۔ جب انھوں نے خدا کی پکار کو نظر انداز کردیا تو خدا نے حکم دیا اور ان کے عظیم مکانات ان کے لیے عظیم قبروں میں تبدیل ہوگئے۔

85

وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۗ وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَءَاتِيَةٌۭ ۖ فَٱصْفَحِ ٱلصَّفْحَ ٱلْجَمِيلَ

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آکر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو

زمین وآسمان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ پورا نظام حد درجہ حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ یہاں ہر چیز ٹھیک ویسی ہی ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہیے۔ اس پورے نظام میں صرف انسان ہے جو خلافِ حقیقت رویہ اختیار کرتاہے۔ انسان اور کائنات میں یہ تضاد تقاضا کرتاہے کہ وہ ختم ہو۔ قیامت کا عقیدہ اس اعتبار سے عین عقلی اور منطقی عقیدہ ہے۔ کیوں کہ قیامت کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے جو اس تضاد کو ختم کرنے والی ہو۔

دعوت الی اللہ کے عمل کا ایک اہم جزء ’’اعراض‘‘ ہے۔ یعنی مخاطب جب غیر متعلق بحث اور جھگڑا چھیڑے تو اس کے ساتھ مشغول ہونے کے بجائے اس سے الگ ہوجانا۔ اعراض کا اصول اختیار کيے بغیر دعوت کا کام موثر طورپر نہیں کیا جاسکتا۔

اعراض کی مصلحت یہ ہے کہ مدعو ہمیشہ داعی سے غیر متعلق جھگڑے چھیڑتا ہے۔ اب اگر داعی یہ کرے کہ ہر ایسے موقع پر مدعو سے لڑ جائے تو غیر متعلق امور پر ٹکراؤ تو خوب ہوگا مگر اصل دعوتی کام بغیر ہوئے پڑا رہ جائے گا۔

86

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْخَلَّٰقُ ٱلْعَلِيمُ

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے

زمین وآسمان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ پورا نظام حد درجہ حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ یہاں ہر چیز ٹھیک ویسی ہی ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہیے۔ اس پورے نظام میں صرف انسان ہے جو خلافِ حقیقت رویہ اختیار کرتاہے۔ انسان اور کائنات میں یہ تضاد تقاضا کرتاہے کہ وہ ختم ہو۔ قیامت کا عقیدہ اس اعتبار سے عین عقلی اور منطقی عقیدہ ہے۔ کیوں کہ قیامت کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے جو اس تضاد کو ختم کرنے والی ہو۔

دعوت الی اللہ کے عمل کا ایک اہم جزء ’’اعراض‘‘ ہے۔ یعنی مخاطب جب غیر متعلق بحث اور جھگڑا چھیڑے تو اس کے ساتھ مشغول ہونے کے بجائے اس سے الگ ہوجانا۔ اعراض کا اصول اختیار کيے بغیر دعوت کا کام موثر طورپر نہیں کیا جاسکتا۔

اعراض کی مصلحت یہ ہے کہ مدعو ہمیشہ داعی سے غیر متعلق جھگڑے چھیڑتا ہے۔ اب اگر داعی یہ کرے کہ ہر ایسے موقع پر مدعو سے لڑ جائے تو غیر متعلق امور پر ٹکراؤ تو خوب ہوگا مگر اصل دعوتی کام بغیر ہوئے پڑا رہ جائے گا۔

87

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَٰكَ سَبْعًۭا مِّنَ ٱلْمَثَانِى وَٱلْقُرْءَانَ ٱلْعَظِيمَ

اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورہٴ الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے

سات مثانی سے مراد سورہ فاتحہ ہے۔ سورہ فاتحہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے اور بقیہ قرآن اس کی تفصیل۔ یہ قرآن بلا شبہ زمین و آسمان کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس کا ہدایت نامہ ہونا اس کے ماننے والوں کے لیے آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اور اس کا آخری کتاب ہونا لازم ٹھہراتا ہے کہ ضرور اس کو اپنے مخالفین کے اوپر غلبہ حاصل ہو۔ کیوں کہ اگر غلبہ نہ ہو تو وہ آخری کتاب کی حیثیت سے باقی نہیں رہ سکتی۔

داعی کوچاہیے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو سوچ کر وہ مایوس نہ ہو۔ بلکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو دیکھ کر مطمئن ہو اور ان کی دل جوئی اور تربیت میں پوری توجہ صرف کرے۔

قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے مراد تورات کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔ یہود نے اپنی آسمانی کتاب کو عملاً دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا اس کی جو تعلیم ان کی خواہشات کے خلاف ہوتی اس کو وہ چھوڑ دیتے اور جو ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتی اس کو لے لیتے۔ پہلی قسم کی آیتیں ان کے یہاں صرف تقدس کے خانہ میں پڑی رہتیں۔ ان پر وہ نہ زیادہ دھیان دیتے اور نہ ان کو زیادہ پھیلاتے۔ البتہ دوسری قسم کی آیتوں کی وہ خوب اشاعت کرتے۔ بالفاظ دیگر انھوںنے کتاب خداوندی کو اپنے مفادات کے تابع بنا لیا تھا، نہ کہ خدائی احکام کے تابع۔

کسی چیز کو پانے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اس کے اجزاء کو پانا۔ دوسرا ہے ا س کو اس کی کلی حیثیت میں پانا۔ درخت کو جب آدمی اس کی کلی حیثیت میں پہچان لے تو وہ کہتا ہے کہ یہ درخت ہے۔ لیکن اگر وہ اس کو اس کی کلی حیثیت میں نہ پہچانے تو وہ تنہ اور شاخ اور پتی اور پھول اور پھل کا ذکر کرے گا۔ وہ اس واحد لفظ کو نہ بول سکے گا جس کے بولنے کے بعد اس کے تمام متفرق اجزاء ایک اصل میں جڑ کر وحدت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

یہی معاملہ خدا کی کتاب کا بھی ہے۔ خدا کی کتاب میں بہت سے متفرق احکام ہیں اسی کے ساتھ اس کا ایک کلی اور مرکزی نکتہ ہے۔ جو لوگ خدا کی کتاب میں گم ہوں وہ خدا کی کتاب کو اس کی کلی حیثیت میں پالیں گے ۔ اس کے برعکس، جو لوگ خود اپنے آپ میں گم ہوں وہ خدا کی کتا ب کو دیکھتے ہیں تو خدا کی کتاب ان کو بس مختلف اور متفرق احکام کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان میں سے اپنے ذوق اورحالات کے مطابق کوئی جزء لے لیتے ہیں اور اس پر اس طرح زور صرف کرنے لگتے ہیں جیسے کہ بس وہی ایک چیز سب کچھ ہو۔

درخت کی جڑ میں پانی دینے سے پورے درخت میں پانی پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جب خدا کی کتاب کے کلی اور مرکزی پہلو کو زندہ کیا جائے تو ا س کے زندہ ہوتے ہی بقیہ تمام اجزاء لازمی طورپر زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر کسی ایک جزء کو لے کر اس پر زور دیا جائے تو اس کی ظاہری دھوم تو مچ سکتی ہے مگر اس سے دین کا حقیقی احیاء نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کو زندگی مرکزی پہلو کے زندہ ہونے سے ملتی ہے اور وہ سرے سے زندہ ہی نہیںہوا۔

88

لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًۭا مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَٱخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ

اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا

سات مثانی سے مراد سورہ فاتحہ ہے۔ سورہ فاتحہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے اور بقیہ قرآن اس کی تفصیل۔ یہ قرآن بلا شبہ زمین و آسمان کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس کا ہدایت نامہ ہونا اس کے ماننے والوں کے لیے آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اور اس کا آخری کتاب ہونا لازم ٹھہراتا ہے کہ ضرور اس کو اپنے مخالفین کے اوپر غلبہ حاصل ہو۔ کیوں کہ اگر غلبہ نہ ہو تو وہ آخری کتاب کی حیثیت سے باقی نہیں رہ سکتی۔

داعی کوچاہیے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو سوچ کر وہ مایوس نہ ہو۔ بلکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو دیکھ کر مطمئن ہو اور ان کی دل جوئی اور تربیت میں پوری توجہ صرف کرے۔

قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے مراد تورات کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔ یہود نے اپنی آسمانی کتاب کو عملاً دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا اس کی جو تعلیم ان کی خواہشات کے خلاف ہوتی اس کو وہ چھوڑ دیتے اور جو ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتی اس کو لے لیتے۔ پہلی قسم کی آیتیں ان کے یہاں صرف تقدس کے خانہ میں پڑی رہتیں۔ ان پر وہ نہ زیادہ دھیان دیتے اور نہ ان کو زیادہ پھیلاتے۔ البتہ دوسری قسم کی آیتوں کی وہ خوب اشاعت کرتے۔ بالفاظ دیگر انھوںنے کتاب خداوندی کو اپنے مفادات کے تابع بنا لیا تھا، نہ کہ خدائی احکام کے تابع۔

کسی چیز کو پانے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اس کے اجزاء کو پانا۔ دوسرا ہے ا س کو اس کی کلی حیثیت میں پانا۔ درخت کو جب آدمی اس کی کلی حیثیت میں پہچان لے تو وہ کہتا ہے کہ یہ درخت ہے۔ لیکن اگر وہ اس کو اس کی کلی حیثیت میں نہ پہچانے تو وہ تنہ اور شاخ اور پتی اور پھول اور پھل کا ذکر کرے گا۔ وہ اس واحد لفظ کو نہ بول سکے گا جس کے بولنے کے بعد اس کے تمام متفرق اجزاء ایک اصل میں جڑ کر وحدت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

یہی معاملہ خدا کی کتاب کا بھی ہے۔ خدا کی کتاب میں بہت سے متفرق احکام ہیں اسی کے ساتھ اس کا ایک کلی اور مرکزی نکتہ ہے۔ جو لوگ خدا کی کتاب میں گم ہوں وہ خدا کی کتاب کو اس کی کلی حیثیت میں پالیں گے ۔ اس کے برعکس، جو لوگ خود اپنے آپ میں گم ہوں وہ خدا کی کتا ب کو دیکھتے ہیں تو خدا کی کتاب ان کو بس مختلف اور متفرق احکام کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان میں سے اپنے ذوق اورحالات کے مطابق کوئی جزء لے لیتے ہیں اور اس پر اس طرح زور صرف کرنے لگتے ہیں جیسے کہ بس وہی ایک چیز سب کچھ ہو۔

درخت کی جڑ میں پانی دینے سے پورے درخت میں پانی پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جب خدا کی کتاب کے کلی اور مرکزی پہلو کو زندہ کیا جائے تو ا س کے زندہ ہوتے ہی بقیہ تمام اجزاء لازمی طورپر زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر کسی ایک جزء کو لے کر اس پر زور دیا جائے تو اس کی ظاہری دھوم تو مچ سکتی ہے مگر اس سے دین کا حقیقی احیاء نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کو زندگی مرکزی پہلو کے زندہ ہونے سے ملتی ہے اور وہ سرے سے زندہ ہی نہیںہوا۔

89

وَقُلْ إِنِّىٓ أَنَا ٱلنَّذِيرُ ٱلْمُبِينُ

اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں

سات مثانی سے مراد سورہ فاتحہ ہے۔ سورہ فاتحہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے اور بقیہ قرآن اس کی تفصیل۔ یہ قرآن بلا شبہ زمین و آسمان کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس کا ہدایت نامہ ہونا اس کے ماننے والوں کے لیے آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اور اس کا آخری کتاب ہونا لازم ٹھہراتا ہے کہ ضرور اس کو اپنے مخالفین کے اوپر غلبہ حاصل ہو۔ کیوں کہ اگر غلبہ نہ ہو تو وہ آخری کتاب کی حیثیت سے باقی نہیں رہ سکتی۔

داعی کوچاہیے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو سوچ کر وہ مایوس نہ ہو۔ بلکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو دیکھ کر مطمئن ہو اور ان کی دل جوئی اور تربیت میں پوری توجہ صرف کرے۔

قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے مراد تورات کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔ یہود نے اپنی آسمانی کتاب کو عملاً دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا اس کی جو تعلیم ان کی خواہشات کے خلاف ہوتی اس کو وہ چھوڑ دیتے اور جو ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتی اس کو لے لیتے۔ پہلی قسم کی آیتیں ان کے یہاں صرف تقدس کے خانہ میں پڑی رہتیں۔ ان پر وہ نہ زیادہ دھیان دیتے اور نہ ان کو زیادہ پھیلاتے۔ البتہ دوسری قسم کی آیتوں کی وہ خوب اشاعت کرتے۔ بالفاظ دیگر انھوںنے کتاب خداوندی کو اپنے مفادات کے تابع بنا لیا تھا، نہ کہ خدائی احکام کے تابع۔

کسی چیز کو پانے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اس کے اجزاء کو پانا۔ دوسرا ہے ا س کو اس کی کلی حیثیت میں پانا۔ درخت کو جب آدمی اس کی کلی حیثیت میں پہچان لے تو وہ کہتا ہے کہ یہ درخت ہے۔ لیکن اگر وہ اس کو اس کی کلی حیثیت میں نہ پہچانے تو وہ تنہ اور شاخ اور پتی اور پھول اور پھل کا ذکر کرے گا۔ وہ اس واحد لفظ کو نہ بول سکے گا جس کے بولنے کے بعد اس کے تمام متفرق اجزاء ایک اصل میں جڑ کر وحدت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

یہی معاملہ خدا کی کتاب کا بھی ہے۔ خدا کی کتاب میں بہت سے متفرق احکام ہیں اسی کے ساتھ اس کا ایک کلی اور مرکزی نکتہ ہے۔ جو لوگ خدا کی کتاب میں گم ہوں وہ خدا کی کتاب کو اس کی کلی حیثیت میں پالیں گے ۔ اس کے برعکس، جو لوگ خود اپنے آپ میں گم ہوں وہ خدا کی کتا ب کو دیکھتے ہیں تو خدا کی کتاب ان کو بس مختلف اور متفرق احکام کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان میں سے اپنے ذوق اورحالات کے مطابق کوئی جزء لے لیتے ہیں اور اس پر اس طرح زور صرف کرنے لگتے ہیں جیسے کہ بس وہی ایک چیز سب کچھ ہو۔

درخت کی جڑ میں پانی دینے سے پورے درخت میں پانی پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جب خدا کی کتاب کے کلی اور مرکزی پہلو کو زندہ کیا جائے تو ا س کے زندہ ہوتے ہی بقیہ تمام اجزاء لازمی طورپر زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر کسی ایک جزء کو لے کر اس پر زور دیا جائے تو اس کی ظاہری دھوم تو مچ سکتی ہے مگر اس سے دین کا حقیقی احیاء نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کو زندگی مرکزی پہلو کے زندہ ہونے سے ملتی ہے اور وہ سرے سے زندہ ہی نہیںہوا۔

90

كَمَآ أَنزَلْنَا عَلَى ٱلْمُقْتَسِمِينَ

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا

سات مثانی سے مراد سورہ فاتحہ ہے۔ سورہ فاتحہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے اور بقیہ قرآن اس کی تفصیل۔ یہ قرآن بلا شبہ زمین و آسمان کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس کا ہدایت نامہ ہونا اس کے ماننے والوں کے لیے آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اور اس کا آخری کتاب ہونا لازم ٹھہراتا ہے کہ ضرور اس کو اپنے مخالفین کے اوپر غلبہ حاصل ہو۔ کیوں کہ اگر غلبہ نہ ہو تو وہ آخری کتاب کی حیثیت سے باقی نہیں رہ سکتی۔

داعی کوچاہیے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو سوچ کر وہ مایوس نہ ہو۔ بلکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو دیکھ کر مطمئن ہو اور ان کی دل جوئی اور تربیت میں پوری توجہ صرف کرے۔

قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے مراد تورات کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔ یہود نے اپنی آسمانی کتاب کو عملاً دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا اس کی جو تعلیم ان کی خواہشات کے خلاف ہوتی اس کو وہ چھوڑ دیتے اور جو ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتی اس کو لے لیتے۔ پہلی قسم کی آیتیں ان کے یہاں صرف تقدس کے خانہ میں پڑی رہتیں۔ ان پر وہ نہ زیادہ دھیان دیتے اور نہ ان کو زیادہ پھیلاتے۔ البتہ دوسری قسم کی آیتوں کی وہ خوب اشاعت کرتے۔ بالفاظ دیگر انھوںنے کتاب خداوندی کو اپنے مفادات کے تابع بنا لیا تھا، نہ کہ خدائی احکام کے تابع۔

کسی چیز کو پانے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اس کے اجزاء کو پانا۔ دوسرا ہے ا س کو اس کی کلی حیثیت میں پانا۔ درخت کو جب آدمی اس کی کلی حیثیت میں پہچان لے تو وہ کہتا ہے کہ یہ درخت ہے۔ لیکن اگر وہ اس کو اس کی کلی حیثیت میں نہ پہچانے تو وہ تنہ اور شاخ اور پتی اور پھول اور پھل کا ذکر کرے گا۔ وہ اس واحد لفظ کو نہ بول سکے گا جس کے بولنے کے بعد اس کے تمام متفرق اجزاء ایک اصل میں جڑ کر وحدت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

یہی معاملہ خدا کی کتاب کا بھی ہے۔ خدا کی کتاب میں بہت سے متفرق احکام ہیں اسی کے ساتھ اس کا ایک کلی اور مرکزی نکتہ ہے۔ جو لوگ خدا کی کتاب میں گم ہوں وہ خدا کی کتاب کو اس کی کلی حیثیت میں پالیں گے ۔ اس کے برعکس، جو لوگ خود اپنے آپ میں گم ہوں وہ خدا کی کتا ب کو دیکھتے ہیں تو خدا کی کتاب ان کو بس مختلف اور متفرق احکام کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان میں سے اپنے ذوق اورحالات کے مطابق کوئی جزء لے لیتے ہیں اور اس پر اس طرح زور صرف کرنے لگتے ہیں جیسے کہ بس وہی ایک چیز سب کچھ ہو۔

درخت کی جڑ میں پانی دینے سے پورے درخت میں پانی پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جب خدا کی کتاب کے کلی اور مرکزی پہلو کو زندہ کیا جائے تو ا س کے زندہ ہوتے ہی بقیہ تمام اجزاء لازمی طورپر زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر کسی ایک جزء کو لے کر اس پر زور دیا جائے تو اس کی ظاہری دھوم تو مچ سکتی ہے مگر اس سے دین کا حقیقی احیاء نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کو زندگی مرکزی پہلو کے زندہ ہونے سے ملتی ہے اور وہ سرے سے زندہ ہی نہیںہوا۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.