Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 81–90 of 99

81

وَءَاتَيْنَٰهُمْ ءَايَٰتِنَا فَكَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھرتے رہے

وَاٰتَيْنٰهُمْ اٰيٰتِنَا : ” اٰيٰتِنَا “ ہماری نشانیاں، ان نشانیوں میں اونٹنی کا معجزہ ہی کئی معجزوں پر مشتمل تھا۔ پیغمبر پر نازل شدہ آیات بھی اور ان کی وادی میں زراعت کا عمدہ انتظام اور پہاڑ تراش کر مکان بنانے کا سلیقہ جن کا ذکر سورة شعراء میں ہے، سب شامل ہیں۔ وہ عقلی دلائل بھی ان نشانیوں میں شامل ہیں جو توحید کی طرف رہنمائی کا کام دیتے ہیں۔ - فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ : یعنی انھوں نے کوئی عبرت حاصل نہ کی، بلکہ اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور صالح (علیہ السلام) کو چیلنج دیا کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو لے آؤ۔

82

وَكَانُوا۟ يَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًا ءَامِنِينَ

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے

وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ ۔۔ : یعنی اس سے پہلی قوم عاد آندھی سے برباد ہوئی تھی تو انھوں نے اپنے خیال میں پہاڑوں کو تراش کر محفوظ مکان بنا لیے، جن میں کوئی خوف و خطرہ نہ تھا، مگر صبح کے وقت ایسی چیخ آئی کہ سب کے کلیجے پھٹ گئے اور ایک حد سے بڑھی ہوئی خوفناک آواز (اَلطَّاغِیَۃُ ) کے ساتھ پیدا ہونے والے زلزلے نے باقی کسر نکال دی، پھر ان کی تعمیراتی اور زرعی ترقی اور مہارت ان کے کسی کام نہ آئی۔

83

فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ

تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا

Explained together with ayah 82

84

فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے

Explained together with ayah 82

85

وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۗ وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَءَاتِيَةٌۭ ۖ فَٱصْفَحِ ٱلصَّفْحَ ٱلْجَمِيلَ

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آکر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔۔ : ” بِالْحَقِّ “ کا معنی صحیح، با مقصد کام جو ہو کر رہنے والا ہو، جو بےکار، بےمقصد نہ ہو اور جسے کوئی روک نہ سکے۔ اس کے بالمقابل باطل ہے، فرمایا : (بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ ) [ الأنبیاء : ١٨] ” بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں۔ “ چار انبیاء کے واقعات کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوق آسمان و زمین اور ان کے درمیان بیشمار مخلوقات کی طرف توجہ دلائی، جن میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عظمت و قدرت پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا کہ یہ سب ہم نے بےمقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ سب کچھ تمہاری ضروریات کے لیے ہے اور ان میں سے ہر چیز کے لیے اللہ کا حکم ماننا ہر حال میں لازم ہے، کسی کو اختیار ہی نہیں کہ وہ سرتابی کرسکے۔ صرف انسانوں اور جنوں کو آزمائش کے لیے کچھ اختیار دیا ہے، اگر اس کا صحیح استعمال کریں گے تو دنیا و آخرت میں اللہ کے انعامات کے مستحق ہوں گے، جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر ہوا ہے، غلط استعمال کریں گے تو یا تو دنیا ہی میں اللہ کی گرفت میں آجائیں گے، جیسے لوط، شعیب اور صالح کی قومیں اللہ کے عذاب کی گرفت میں آئیں۔ اس کے بعد یقیناً قیامت آنے والی ہے، اس میں نیکوں کو ان کی نیکی کا پورا بدلہ دے گا، اگر دنیا میں بدلہ نہیں ملا تو وہاں کسر نکال دی جائے گی، اسی طرح بروں کو ان کی بدی کا پورا بدلہ ملے گا اور اگر دنیا میں انھیں مہلت ملی رہی تو وہاں کسر پوری کردی جائے گی۔ اس لیے آپ اور آپ کے ساتھی ان کفار کی زیادتی پر صبر کریں اور ان کی زبان درازی سے درگزر فرمائیں (دیکھیے آل عمران : ١٨٦) اور درگزر بھی خوبصورت طریقے سے، تاکہ قطع تعلق سے دعوت کا راستہ بند نہ ہوجائے۔ یہ سارا بیان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لیے ہے۔

86

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْخَلَّٰقُ ٱلْعَلِيمُ

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ : تو پھر اس کے لیے انھیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے ؟ دیکھیے سورة یٰس (٨١) ۔

87

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَٰكَ سَبْعًۭا مِّنَ ٱلْمَثَانِى وَٱلْقُرْءَانَ ٱلْعَظِيمَ

اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورہٴ الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے

وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ :” الْمَثَانِيْ “ ” ثَنٰی یَثْنِیْ “ (ض) کے اسم مفعول ” مَثْنِیَّۃٌ“ (بروزن مَضْرُوْبَۃٌ، مَرْمِیَّۃٌ) کی جمع ہے، معنی دوہرا کرنا، دوہرانا ہے، یعنی بار بار دہرائی جانے والی۔- کافروں کی زیادتی سے درگزر کی تلقین کے ساتھ اپنی ایک عظیم نعمت سبع مثانی اور قرآن عظیم یاد دلائی، تاکہ اتنی بڑی دولت کا مالک ہونے کے احساس سے کفار سے درگزر میں آسانی رہے۔ - سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ : ” لام “ اور ” قَدْ “ کی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ہم نے آپ کو سات بار بار دہرائی جانے والی عطا فرمائیں۔ یہ آیت اس بات کی بھی بڑی واضح دلیل ہے کہ قرآن کے ساتھ حدیث پر بھی ایمان اور عمل واجب ہے، اس کے بغیر قرآن نہ صحیح سمجھا جاسکتا ہے نہ اس پر عمل ہوسکتا ہے۔ دیکھیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہیں نہیں بتایا کہ وہ سبع مثانی سات سورتیں ہیں یا سات آیتیں، نہ یہ بتایا کہ وہ سورتیں ہیں تو کون سی اور آیتیں ہیں تو کون سی ؟ بلکہ ایک جگہ سارے قرآن ہی کو مثانی فرما دیا، فرمایا : (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ) [ الزمر : ٢٣ ] ” اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، وہ کتاب جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی اور بار بار دہرائی جانے والی ہے۔ “ اب لازم ہے کہ پورے قرآن میں سے جو سارا ہی مثانی ہے، یہ متعین کیا جائے کہ ان سبع مثانی سے مراد کیا ہے۔ اپنے پاس سے متعین کریں تو کبھی اتفاق نہیں ہوسکتا، اس لیے کسی مفسر نے سات سورتیں بتائیں، کسی نے سات آیتیں، تو کسی نے کچھ اور بتایا۔ یہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وضاحت کے بغیر قرآن کی اس آیت کا مفہوم متعین کرنا ممکن ہی نہیں، چناچہ ابوسعید بن معلی (رض) فرماتے ہیں : ( کُنْتُ أُصَلِّيْ فَمَرَّبِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِيْ ، فَلَمْ آتِہِ حَتّٰی صَلَّیْتُ ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ ، فَقَالَ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَأْتِيَ ؟ أَلَمْ یَقُلِ اللّٰہُ : (اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ ) [ الأنفال : ٢٤] ؟ ثُمَّ قَالَ لِيْ لَأُعَلِّمَنَّکَ سُوْرَۃً ھِيَ أَعْظَمُ السُّوَرِ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِيْ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَّخْرُجَ قُلْتُ لَہٗ أَلَمْ تَقُلْ لَأُعَلِّمَنَّکَ سُوْرَۃً ھِيَ أَعْظَمُ سُوْرَۃٍ فِي الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) ھِيَ السّبْعُ الْمَثانِيْ وَالقُرْآنُ الْعَظِیْمُ الَّذِيْ أُوْتِیْتُہُ ) [ بخاری، التفسیر، باب ما جاء في فاتحۃ الکتاب : ٤٤٧٤، ٤٦٤٧ ] ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے اور میں نماز پڑھ رہا تھا، تو آپ نے مجھے بلایا، میں آپ کے پاس نہیں آیا، یہاں تک کہ میں نے نماز پڑھ لی، پھر میں آیا تو آپ نے فرمایا : ” تمہیں میرے پاس آنے سے کس چیز نے روکے رکھا ؟ “ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا : (اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ ) [ الأنفال : ٢٤ ] اللہ کی اور رسول کی دعوت قبول کرو جب وہ تمہیں بلائیں۔ “ پھر مجھے فرمایا : ” میں تمہارے مسجد سے نکلنے سے پہلے ضرور تمہیں ایک سورت سکھاؤں گا جو قرآن کی تمام سورتوں سے بڑی (اعظم) ہے۔ “ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، جب آپ نے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ سے کہا : ” کیا آپ نے فرمایا نہیں تھا کہ میں تمہیں ایک سورت سکھاؤں گا جو قرآن کی تمام سورتوں سے بڑی ہے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) یہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ سبع مثانی سے سورة فاتحہ کی سات آیتیں مراد ہیں، کیونکہ وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھی جاتی ہیں۔ دوسری تفسیریں مثلاً یہ کہ سات لمبی سورتیں …

88

لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًۭا مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَٱخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ

اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا

لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ متاع معمولی اور عارضی سازو سامان۔ ” اَزْوَاجًا “ زوج ایک قسم، مثلاً نر اور مادہ میں سے ہر ایک ایک زوج ہے، دونوں ہوں تو ” زَوْجَانِ “ (ایک جوڑا) ہے۔ ان ازواج کی بہت سی قسمیں ہیں، مثلاً سرمایہ دار، حاکم، فوجی، زمیندار، کارخانے دار، مذہبی پیشوا وغیرہم، یعنی سبع مثانی اور قرآن عظیم کی دولت رکھتے ہوئے آپ کفار کے مختلف قسم کی دنیاوی نعمتیں رکھنے والوں کی طرف ہرگز نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیے، خصوصاً جب وہ نعمتیں ان کے لیے فتنہ و عذاب ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (٥٥) اور سورة طٰہٰ ( ١٣٠ تا ١٣٢) کی تفسیر۔- وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ : ان کے بڑے بڑے سردار اور کفر کے ٹھیکیدار اور ان کے پیروکار اگر ایمان نہیں لاتے تو آپ ان کے ایمان نہ لانے اور جہنم میں جانے پر غمگین نہ ہوں، آپ نے بات پہنچا کر حق ادا کردیا تو غم کی کیا ضرورت ہے۔ - وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : ” جَنَاحٌ“ بازو، پر، پہلو۔ یہ دراصل ایک استعارہ ہے کہ پرندہ جس طرح اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے لے کر سمیٹ لیتا ہے اور انھیں سرد و گرم سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح آپ بھی اہل ایمان کے لیے اپنا بازو یا پہلو جھکا دیں، مراد ان کے لیے نرمی، شفقت، محبت اور حفاظت ہے۔ یہی صفت اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تھی، فرمایا : ( اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ ) [ الفتح : ٢٩ ] ” کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔ “

89

وَقُلْ إِنِّىٓ أَنَا ٱلنَّذِيرُ ٱلْمُبِينُ

اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں

وَقُلْ اِنِّىْٓ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ : یہاں صرف ڈرانے کا ذکر ہے، خوش خبری کا نہیں، اس لیے کہ بات منکروں کے متعلق ہو رہی ہے۔ ” النذیر المبین “ (کھلم کھلا ڈرانے والا) کی تفسیر میں وہ حدیث عین حسب حال ہے جو ابو موسیٰ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان فرمائی : ( إِنَّمَا مَثَلِيْ وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِیَ اللّٰہُ بِہِ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَی قَوْمًا فَقَالَ یَا قَوْمِ إِنِّيْ رَأَیْتُ الْجَیْشَ بِعَیْنَيَّ ، وَإِنِّيْ أَنَا النَّذِیْرُ الْعُرْیَانُ ، فَالنَّجَاءَ ، فَأَطَاعَہُ طَاءِفَۃٌ مِنْ قَوْمِہِ فَأَدْلَجُوْا فَانْطَلَقُوْا عَلٰی مَہْلِہِمْ فَنَجَوْا، وَ کَذَّبَتْ طَاءِفَۃٌ مِنْھُمْ فَأَصْبَحُوْا مَکَانَھُمْ ، فَصَبَّحَہُمُ الْجَیْشُ فَأَھْلَکَھُمْ وَاجْتَاحَھُمْ ، فَذٰلِکَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِيْ فَاتَّبَعَ مَا جِءْتُ بِہِ ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِيْ وَکَذَّبَ بِمَا جِءْتُ بِہِ مِنَ الْحَقِّ ) [ بخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ٧٢٨٣ ] ” میری مثال اور اللہ نے جو کچھ دے کر مجھے بھیجا اس کی مثال اس آدمی کی مثال جیسی ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا : ” اے میری قوم میں نے اپنی آنکھوں سے لشکر دیکھا ہے اور میں ننگا ڈرانے والا ہوں (پہلے زمانے میں لوگ دشمن سے ڈرانے کے لیے چیخنے چلانے کے ساتھ کپڑے بھی اتار دیتے تھے، ان سے تشبیہ دی ہے) سو تم بچ جاؤ، بچ جاؤ، اس کی قوم میں سے ایک گروہ نے اس کا کہنا مان لیا، وہ اندھیرے ہی میں چل پڑے اور آرام سے چلتے ہوئے بچ نکلے اور ایک گروہ نے اسے جھٹلا دیا اور صبح تک اسی جگہ رہے۔ صبح کے وقت لشکر نے ان پر حملہ کیا اور انھیں ہلاک اور نیست و نابود کردیا، سو یہ مثال ہے اس شخص کی جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی پیروی کی اور اس کی (مثال) جس نے میری نافرمانی کی اور اس حق کو جھٹلا دیا جو لے کر میں آیا ہوں۔ “

90

كَمَآ أَنزَلْنَا عَلَى ٱلْمُقْتَسِمِينَ

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا

كَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَي الْمُقْتَسِمِيْنَ ۔۔ : ” الْمُقْتَسِمِيْنَ “ یہ ” قَسْمٌ“ سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، ” تقسیم کرنے والے۔ “ قرطبی نے فرمایا : ” عِضِیْنَ “ ” عِضَۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی کسی چیز کا جز یا ٹکڑا ہے۔ ” عَضَا یَعْضُوْ عَضْوًا الشَّیْءَ “ اور ” عَضّٰی یُعَضِّی الشَّیْءَ “ ” کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ “ ہر ٹکڑا ” عِضَۃٌ“ کہلاتا ہے، اس کے آخر سے واؤ حذف کرکے تاء لائی گئی ہے۔ ” اَلْقُرْاٰنَ “ قرآن مجید کا نام ہے، پہلے انبیاء کی کتابوں کو بھی ” قرآن “ کہہ لیتے ہیں، کیونکہ وہ بھی پڑھی جاتی تھیں، گویا کتاب اور قرآن کا لفظ سب کے لیے ہے۔ ہمارے قرآن کے لیے عموماً ” ھٰذَا الْقُرْآنُ “ یا ” ذٰلِکَ الْکِتَابُ “ وغیرہ کا اشارہ ساتھ موجود ہوتا ہے۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( خُفِّفَ عَلٰی دَاوٗدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ الْقُرْآنُ فَکَانَ یَأْمُرُ بِدَوَابِّہِ فَتُسْرَجُ فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَوَابُّہُ )[ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : ( و آتینا داود زبورا ) : ٣٤١٧ ] ” داؤد (علیہ السلام) پر قرآن (پڑھنا) بہت ہلکا کردیا گیا تھا، چناچہ وہ اپنی سواریوں کے متعلق حکم دیتے تو ان پر زین ڈالی جاتی اور آپ سواریوں پر زین ڈالے جانے سے پہلے قرآن پڑھ لیتے تھے۔ “ - ان آیات کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جو امام المفسرین طبری (رض) نے پسند فرمائی ہے۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ” كَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَي الْمُقْتَسِمِيْنَ “ (جیسا ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا) کا تعلق پچھلی کس آیت اور کس لفظ کے ساتھ ہے اور اس مشبہ بہ کا مشبہ کیا ہے اور ” اَنْزَلْنَا “ (ہم نے اتارا) سے کیا چیز اتارنا مراد ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ ” اَنْزَلْنَا “ کا مفعول محذوف ہے ” اَلْعَذَابَ “ یعنی ہم نے عذاب اتارا اور ” كَمَآ اَنْزَلْنَا “ کا تعلق اس سے پہلی آیت : (وَقُلْ اِنِّىْٓ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ ) کے ساتھ ہے اور معنی یہ ہے، اے نبی کہہ دے کہ بیشک میں تو تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں، اس قسم کے عذاب سے جیسا ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا تھا جنھوں نے (اپنی) کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا۔ یعنی اس کے بعض حصوں کو مان لیا اور بعض کو نہ مانا۔ سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرح کے بعض کاموں کا ذکر کرکے فرمایا : ( ۭاَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ) [ البقرۃ : ٨٥ ] ” پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟ “ اور اس کی جزا دنیا کی رسوائی اور آخرت میں سخت ترین عذاب بیان فرمائی۔ اب یہاں آپ کے زمانے کے اسرائیلیوں کو اس قسم کے عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے جو ان سے پہلوں پر آیا تھا، کیونکہ وہ بھی تورات کے بعض حصوں کا صاف انکار کرتے تھے، مثلاً نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی تاکید والی آیات۔ اور قریش کو بھی کہ کتاب اللہ کے بعض حصوں کو جھٹلانے والوں پر جس طرح عذاب آیا میں تمہیں بھی ویسے ہی عذاب سے کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں، کیونکہ تم نے بھی جھٹلانے کی روش اختیار کر رکھی ہے اور تم قرآن کے بعض حصوں کو ماننے کے لیے بالکل تیار نہیں ہو، چناچہ تم بھی بتوں کی مذمت کی آیات نکال دینے پر ایمان لانے کی پیش کش کرتے ہو، فرمایا : (وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ ) [ القلم : ٩ ] ” وہ چاہتے ہیں کاش تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔ “ اسی طرح ان کا یہ مطالبہ بھی ذکر فرمایا کہ اس قرآن کے علاوہ اور قرآن لے آؤ، یا اس میں تبدیلی کر دو ۔ (دیکھیے یونس : ١٥) دوسری تفسیر یہ ہے کہ ” کَمَا اَنْزَلْنَا “ کا تعلق آیت (٨٧) (وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ ) سے ہے اور ” …

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.