Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi

Ayahs 81–90 of 99

81

وَءَاتَيْنَٰهُمْ ءَايَٰتِنَا فَكَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھرتے رہے

Explained together with ayah 80

82

وَكَانُوا۟ يَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًا ءَامِنِينَ

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے

Explained together with ayah 80

83

فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ

تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا

Explained together with ayah 80

84

فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :46

یعنی ان کے سنگین مکانات جو انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر بنائے تھے ان کی کچھ بھی حفاظت نہ کر سکے ۔

85

وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۗ وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَءَاتِيَةٌۭ ۖ فَٱصْفَحِ ٱلصَّفْحَ ٱلْجَمِيلَ

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آکر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :47

یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکین و تسلی کے لیے فرمائی جا رہی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت بظاہر باطل کا جو غلبہ تم دیکھ رہے ہو اور حق کے راستہ میں جن مشکلات اور مصائب سے تمہیں سابقہ پیش آ رہا ہے ، اس سے گھبراؤ نہیں ۔ یہ ایک عارضی کیفیت ہے ، مستقل اور دائمی حالت نہیں ہے ۔ اس لیے زمین و آسمان کا یہ پورا نظام حق پر تعمیر ہوا ہے نہ کہ باطل پر ۔ کائنات کی فطرت حق کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے نہ کہ باطل کے ساتھ ۔ لہٰذا یہاں اگر قیاس و دوام ہے تو حق کے لیے نہ کہ باطل کے لیے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ ابراہیم حواشی ۲۵ – ۲٦ – ۳۵ تا ۳۹ ) ۔

86

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْخَلَّٰقُ ٱلْعَلِيمُ

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :48

یعنی خالق ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی مخلوق پر کامل غلبہ و تسلط رکھتا ہے ، کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں ہے کہ اس کی گرفت سے بچ سکے ۔ اور اس کے ساتھ وہ پوری طرح باخبر بھی ہے ، جو کچھ ان لوگوں کی اصلاح کے لیے تم کر رہے ہو اسے بھی وہ جانتا ہے اور جن ہتھکنڈوں سے یہ تمہاری سعی اصلاح کو ناکام کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ان کا بھی اسے علم ہے ۔ لہٰذا تمہیں گھبرانے اور بے صبر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ مطمئن رہو کہ وقت آنے پر ٹھیک ٹھیک انصاف کے مطابق فیصلہ چکا دیا جائے گا ۔

87

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَٰكَ سَبْعًۭا مِّنَ ٱلْمَثَانِى وَٱلْقُرْءَانَ ٱلْعَظِيمَ

اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورہٴ الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :49

یعنی سورہ فاتحہ کی آیات ۔ اگرچہ بعض لوگوں نے اس سے مراد وہ سات بڑی بڑی سورتیں بھی لی ہیں جن میں دو دو سو آیتیں ہیں ، یعنی البقرہ ، آل عمران ، النساء ، المائدہ ، الانعام ، الاعراف اور یونس ، یا انفاق و توبہ ۔ لیکن سلف کی اکثریت اس پر متفق ہے کہ اس سے سورہ فاتحہ ہی مراد ہے ۔ بلکہ امام بخاری نے دو مرفوع روایتیں بھی اس امر کے ثبوت میں پیش کی ہیں کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سبع من المثانی سے مراد سورہ فاتحہ بتائی ہے ۔

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :50

یہ بات بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی تسکین و تسلی کے لیے فرمائی گئی ہے ۔ وقت وہ تھا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی سب کے سب انتہائی خستہ حالی میں مبتلا تھے ۔ کار نبوت کی عظیم ذمہ داریاں سنبھالتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجارت قریب قریب ختم ہو چکی تھی اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سرمایہ بھی دس بارہ سال کے عرصے میں خرچ ہو چکا تھا ۔ مسلمانوں میں سے بعض کم سن نوجوان تھے جو گھروں سے نکال دیے گئے تھے ، بعض صنعت پیشہ یا تجارت پیشہ تھے جن کے کاروبار معاشی مقاطعہ کی مسلسل ضرب سے بالکل بیٹھ گئے تھے ، اور بعض بیچارے پہلے ہی غلام یا موالی تھے جن کی کوئی معاشی حیثیت نہ تھی ۔ اس پر مزید یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام مسلمان مکے اور اطراف و نواح کی بستیوں میں انتہائی مظلومی کی زندگی بسر کر رہے تھے ۔ ہر طرف سے مطعون تھے ، ہر جگہ تذلیل و تحقیر اور تضحیک کا نشانہ بنے ہوئے تھے ، اور قلبی و روحانی تکلیفوں کے ساتھ جسمانی اذیتوں سے بھی کوئی بچا ہوا نہ تھا ۔ دوسری طرف سردارن قریش دنیا کی نعمتوں سے مالا مال اور ہر طرح کی خوشحالیوں میں مگن تھے ۔ ان حالات میں فرمایا جا رہا ہے کہ تم شکستہ خاطر کیوں ہوتے ہو ، تم کو تو ہم نے وہ دولت عطا کی ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کی ساری نعمتیں ہیچ ہیں ۔ رشک کے لائق تمہاری یہ علمی و اخلاقی دولت ہے نہ کہ ان لوگوں کی مادی دولت جو طرح طرح کے حرام طریقوں سے کما رہے ہیں اور طرح طرح کے حرام راستوں میں اس کمائی کو اڑا رہے ہیں اور آخر کار بالکل مفلس و قلاش ہو کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے والے ہیں ۔

88

لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًۭا مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَٱخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ

اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :51

” یعنی ان کے اس حال پر نہ کڑھو کہ اپنے خیر خواہ کو اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں ، اپنی گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں کو اپنی خوبیاں سمجھے بیٹھے ہیں ، خود اس راستے پر جا رہے ہیں اور اپنی ساری قوم کو اس پر لیے جا رہے ہیں جس کا یقینی انجام ہلاکت ہے ، اور جو شخص انہیں سلامتی کی راہ دکھا رہا ہے اس کی سعی اصلاح کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کیے ڈالتے ہیں ۔

89

وَقُلْ إِنِّىٓ أَنَا ٱلنَّذِيرُ ٱلْمُبِينُ

اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں

Explained together with ayah 88

90

كَمَآ أَنزَلْنَا عَلَى ٱلْمُقْتَسِمِينَ

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا

Explained together with ayah 88

Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.