Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 71–80 of 99

71

قَالَ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِىٓ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ

(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)

قَالَ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنٰتِيْٓ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة ہود کی آیت (٧٨) کی تفسیر۔

72

لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِى سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ

(اے محمد) تمہاری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش (ہو رہے) تھے

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ ۔۔ : ” عَمْرٌ“ عین کے فتحہ کے ساتھ ” عُمْرٌ“ ہی کی ایک لغت ہے، اس کا معنی دنیا میں زندگی کی مدت ہے۔ قسم کے وقت ” عین “ ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے۔ لام ابتدا کا ہے جو قسم کے معنی میں ہے۔ ” عَمْرٌ“ مبتدا ہے اور اس کی خبر ” قَسْمِیْ “ یا ” یَمِیْنِیْ “ ہے جو لازماً حذف ہوتی ہے، یعنی مجھے تیری عمر کی قسم۔ ” سَکْرَۃٌ“ نشے میں ہونا، مدہوش ہونا۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کی قسم کھائی اور آپ کی اتنی تکریم فرمائی کہ آپ کے علاوہ کسی انسان کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔ لوط (علیہ السلام) کے قصے کے درمیان یہ جملہ معترضہ ہے، جس سے ان کا گمراہی سے کسی صورت باز نہ آنا بیان کرنا مقصود ہے۔ قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ اے نبی آپ کی پوری پاکیزہ زندگی اور عفت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ جو اس کے بالکل برعکس چلنے والے تھے وہ دراصل ہوش میں نہ تھے اور اسی مدہوشی میں ایسے بھٹکے پھرتے تھے کہ ان کے لیے راہ راست پر آنا ممکن ہی نہ تھا۔ - ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہ فرشتوں کا کلام ہے اور انھوں نے لوط (علیہ السلام) کی زندگی کی قسم کھائی ہے۔ ہماری شریعت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھانا منع ہے، صحیح احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے۔ قسم کے متعلق مفصل بات ان شاء اللہ آگے کسی مقام پر ہوگی۔

73

فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ

سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ :” اَشْرَقَتِ الشَّمْسُ “ ” سورج طلوع ہوا “۔ اس سے پہلے آیت (٦٦) میں ” مُصْبِحِیْن “ کا لفظ ہے، یعنی صبح کے وقت۔ سورة قمر (٣٨) میں ” بُکْرَةً “ کا لفظ ہے، جس کا معنی دن کا پہلا حصہ ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ صبح کے وقت عذاب شروع ہوا اور سورج چڑھنے تک جاری رہا۔ ایک تطبیق یہ ہوسکتی ہے کہ صبح نمودار ہونے سے لے کر سورج چڑھنے کے کچھ بعد تک سارے وقت کو عرف میں صبح کہہ لیتے ہیں اور ایک تطبیق یہ بھی ہے کہ ” أَشْرَقَ یُشْرِقُ “ مطلقاً تاریکی میں روشنی ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے، جو ظاہر ہے کہ صبح کے ساتھ ہی شروع ہوجاتی ہے اور سورج نکلنے کے ساتھ مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا) [ الزمر : ٦٩ ] ” اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہوجائے گی۔ “ میں نے ترجمہ میں یہی معنی اختیار کیا ہے، تاکہ ” مُصْبِحِیْن “ کے ساتھ مطابقت رہے۔

74

فَجَعَلْنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةًۭ مِّن سِجِّيلٍ

اور ہم نے اس شہر کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا۔ اور ان پر کھنگر کی پتھریاں برسائیں

اس آیت کی تفسیر سورة ہود (٨٢) میں دیکھیے۔ قرآن مجید نے قوم لوط پر تین طرح کا عذاب ذکر فرمایا ہے، پہلے ان پر ” صَیْحَۃٌ“ (چیخ) کا عذاب آیا، پھر ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا اور آخر میں ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔

75

إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ

بےشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لیے نشانی ہے

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ۔۔ : ” لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ “ یہ ” وَسْمٌ، سِمَۃٌ“ سے باب تفعل کا اسم فاعل ہے۔ ” وَسْمٌ“ کا معنی نشان ہے، خصوصاً جو گرم لوہے کے ساتھ اونٹ یا گھوڑے پر لگایا جاتا ہے۔ ” مِیْسَمٌ“ گرم کرکے نشان لگانے کا آلہ۔ نشانات کو دیکھ کر بات کی تہ تک پہنچنا ” تَوَسَّم “ کہلاتا ہے، یعنی غور و فکر کرنے والوں اور گہری نظر والوں کے لیے ان بستیوں میں عبرت کے بہت سے نشان موجود ہیں ۔

76

وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍۢ مُّقِيمٍ

اور وہ (شہر) اب تک سیدھے رستے پر (موجود) ہے

وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ : ” مُّقِيْمٍ “ ” ہمیشہ رہنے والا، دائمی “ یعنی جو قافلے حجاز سے شام یا عراق سے مصر جاتے ہیں یہ بستی ان کے راستے میں پڑتی ہے، مگر لوگ ہیں کہ اس میں تباہی کے آثار دیکھ کر کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ وَبِالَّيْلِ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) [ الصافات : ١٣٧، ١٣٨ ] ” اور بلاشبہ تم یقیناً صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو اور رات کو بھی، تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟ “ جدید محققین کا خیال ہے کہ یہ بستی بحرمیت (جسے بحر لوط یا اردو میں بحر مردار بھی کہتے ہیں) کے جنوب مشرق میں واقع تھی، بلکہ اس زمانہ میں اردن کی حکومت بحرمیت کے جنوبی حصہ سے اس کے تباہ شدہ آثار برآمد کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

77

إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ

بےشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانی ہے

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ : یعنی ابراہیم اور لوط (علیہ السلام) کے قصے میں ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت اور عذاب الیم کی بہت بڑی نشانی ہے۔ ” لَاٰيَةً “ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یہاں ” لَاٰيَةً “ واحد اس لیے ذکر فرمایا کہ ایمان والوں کے یقین کے لیے یہ ایک نشانی ہی کافی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں مومنوں کی تعریف بھی ہے۔

78

وَإِن كَانَ أَصْحَٰبُ ٱلْأَيْكَةِ لَظَٰلِمِينَ

اور بَن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے

وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ ۔۔ : یہ ” اِنْ “ اصل میں ”إِنَّ “ تھا، اس کا اسم ضمیر شان ” ہٗ “ محذوف ہے، اس کی دلیل اور سبب وہ لام ہے جو ” ظَالِمِیْنَ “ پر آیا ہے، جو ” کَانَ “ کی خبر ہے۔ ” اَلْأَیْکُ “ اسم جنس ہے، درختوں کے جھنڈ، زیادہ ہوں یا ایک، جیسے ” تَمْرٌ“ اسم جنس ہے۔ تاء وحدۃ کے اظہار کے لیے ہے، اس لیے ” الْاَيْكَةِ “ کا معنی ہے ایک جھنڈ، جیسے ” تَمَرْۃٌ“ ایک کھجور۔ - 3 بہت سے علماء کا کہنا ہے کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ ایک ہی قبیلہ تھا اور کئی مفسرین انھیں الگ الگ قوم شمار فرماتے ہیں۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ وہ شرک میں گرفتار تھے، ناپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے، راہ چلتے مسافروں کو لوٹ لیتے تھے۔ ان دونوں کی طرف شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا گیا، تاکہ وہ ظلم کی ان تمام صورتوں سے باز آجائیں۔ مدین والوں کی تفصیل سورة ہود (٨٤ تا ٩٥) میں ہے اور اصحاب الایکہ کی تفصیل سورة شعراء ( ١٧٦ تا ١٩١) میں ہے۔ بعض کے مطابق اصحاب مدین اسی قوم کے شہری لوگ تھے اور اصحاب الایکہ انھی کے باہر جنگل میں رہنے والے لوگ تھے۔

79

فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍۢ مُّبِينٍۢ

تو ہم نے ان سے بھی بدلہ لیا۔ اور یہ دونوں شہر کھلے رستے پر (موجود) ہیں

وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ : ” اِمَامٌ“ کے کئی معنی ہیں، یہاں مراد واضح راستہ ہے، جس طرح امام کے پیچھے چلا جاتا ہے، اسی طرح صاف واضح راستے پر چل کر مسافر منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ (طنطاوی) وہ دونوں سے مراد قوم لوط اور اصحاب الایکہ کی بستیاں ہیں کہ وہ ایک ہی راستے پر قریب قریب واقع ہیں۔ مدین اور ایکہ بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ (قرطبی)

80

وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَٰبُ ٱلْحِجْرِ ٱلْمُرْسَلِينَ

اور (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی

وَلَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ الْمُرْسَلِيْنَ : ” الْحِـجْرِ “ اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جسے پتھروں سے گھیرا گیا ہو، جیسا کہ حطیم کو بھی حجر کہہ لیتے ہیں۔ ” حَجَرَ یَحْجُرُ “ کا معنی روکنا بھی ہے، تو ” الْحِـجْرِ “ وہ جگہ جہاں عام لوگوں کا آنا جانا ممنوع ہو۔ یہ اس سورت میں چوتھا قصہ ہے۔ ” الْحِـجْرِ “ شام اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک مقام ہے، جو صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کے لوگوں کا مرکز تھا، یہ جگہ خیبر سے تبوک جانے والی سڑک پر واقع ہے اور اب ” مدائن صالح “ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ علاقہ ” العُلاء “ سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ حجاز سے شام کو جو قافلے جاتے ہیں وہ لازماً یہاں سے گزر کر جاتے ہیں اور یہ اس ریلوے لائن کا ایک سٹیشن بھی ہے جو ترکوں کے زمانہ میں مدینہ سے دمشق کو جاتی تھی۔ اس قوم کے مفصل حالات سورة ہود (٦٥ تا ٦٨) ، سورة اعراف، سورة قمر اور سورة شعراء میں ملاحظہ فرمائیں۔- الْمُرْسَلِيْنَ : ایک رسول کو جھٹلانا چونکہ سب کو جھٹلانا ہے، اس لیے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ انھوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا۔ (روح المعانی)

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.