قَالَ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِىٓ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ
(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید …