Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi

Ayahs 71–80 of 99

71

قَالَ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِىٓ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ

(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :40

اس کی تشریح سورہ ہود کے حاشیہ نمبر ۸۷ میں بیان کی جا چکی ہے ۔ یہاں صرف اتنا اشارہ کافی ہے کہ یہ کلمات ایک شریف آدمی کی زبان پر ایسے وقت میں آئے ہیں جب کہ وہ بالکل تنگ آچکا تھا اور بدمعاش لوگ اس کی ساری فریاد فغاں سے بے پروا ہو کر اس کے مہمانوں پر ٹوٹے پڑ رہے تھے ۔

اس موقع پر ایک بات کو صاف کر دینا ضروری ہے ۔ سورہ ہود میں واقعہ جس ترتیب سے بیان کیا گیا ہے اس میں یہ تصریح ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کو بدمعاشوں کے اس حملہ کے وقت تک یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے مہمان درحقیقت فرشتے ہیں ۔ وہ اس وقت تک یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ چند مسافر لڑکے ہیں جو ان کے ہاں آکر ٹھیرے ہیں ۔ انہوں نے اپنے فرشتہ ہونے کی حقیقت اس وقت کھولی جب بدمعاشوں کا ہجوم مہمانوں کی قیامگاہ پر پل پڑا اور حضرت لوط علیہ السلام نے تڑپ کر فرمایا لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلیٰ رُکْنٍ شَدِیْدٍ ( کاش مجھے تمہارے مقابلے کی طاقت حاصل ہوتی یا میرا کوئی سہارا ہوتا جس سے میں حمایت حاصل کرتا ) ۔ اس کے بعد فرشتوں نے ان سے کہا کہ اب تم اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ اور ہمیں ان سے نمٹنے کے لیے چھوڑ دو ۔ واقعات کی اس ترتیب کو نگاہ میں رکھنے سے پورا اندازہ ہو سکتا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نے یہ الفاظ کس تنگ موقع پر عاجز آکر فرمائے تھے ۔ اس سورے میں چونکہ واقعات کو ان کی ترتیب وقوع کے لحاظ سے نہیں بیان کیا جا رہا ہے ، بلکہ اس خاص پہلو کو خاص طور پر نمایاں کرنا مقصود ہے جسے ذہن نشین کرنے کی خاطر ہی یہ قصہ یہاں نقل کیا گیا ہے ، اس لیے ایک عام ناظر کو یہاں یہ غلط فہمی پیش آتی ہے کہ فرشتے ابتدا ہی میں اپنا تعارف حضرت لوط علیہ السلام سے کرا چکے تھے اور اب اپنے مہمانوں کی آبرو بچانے کے لیے ان کی یہ ساری فریاد و فغاں محض ایک ڈرامائی انداز کی تھی ۔

72

لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِى سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ

(اے محمد) تمہاری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش (ہو رہے) تھے

Explained together with ayah 71

73

فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ

سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا

Explained together with ayah 71

74

فَجَعَلْنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةًۭ مِّن سِجِّيلٍ

اور ہم نے اس شہر کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا۔ اور ان پر کھنگر کی پتھریاں برسائیں

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :41

یہ پکی ہوئی مٹی کے پتھر ممکن ہے کہ شہاب ثاقب کی نوعیت کے ہوں ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آتش فشانی انفجار کی بدولت زمین سے نکل کر اڑے ہوں اور پھر ان پر بارش کی طرح برس گئے ہوں ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک سخت آندھی نے یہ پتھراؤ کیا ہو ۔

75

إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ

بےشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لیے نشانی ہے

Explained together with ayah 74

76

وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍۢ مُّقِيمٍ

اور وہ (شہر) اب تک سیدھے رستے پر (موجود) ہے

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :42

یعنی حجاز سے شام اور عراق سے مصر جاتے ہوئے یہ تباہ شدہ علاقہ راستہ میں پڑتا ہے اور عموما قافلوں کے لوگ تباہی کے ان آثار کو دیکھتے ہیں جو اس پورے علاقے میں آج تک نمایاں ہیں ۔ یہ علاقہ بحر لوط ( بحیرہ مردار ) کے مشرق اور جنوب میں واقع ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس کے جنوبی حصے کے متعلق جغرافیہ دانوں کا بیان ہے کہ یہاں اس درجہ ویرانی پائی جاتی ہے جس کی نظیر روئے زمین پر کہیں اور نہیں دیکھی گئی ۔

77

إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ

بےشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانی ہے

Explained together with ayah 76

78

وَإِن كَانَ أَصْحَٰبُ ٱلْأَيْكَةِ لَظَٰلِمِينَ

اور بَن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے

Explained together with ayah 76

79

فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍۢ مُّبِينٍۢ

تو ہم نے ان سے بھی بدلہ لیا۔ اور یہ دونوں شہر کھلے رستے پر (موجود) ہیں

Explained together with ayah 76

80

وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَٰبُ ٱلْحِجْرِ ٱلْمُرْسَلِينَ

اور (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :45

یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا ۔ اس کے کھنڈر مدینہ کے شمال مغرب میں موجودہ شہر العلاء سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہیں ۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہراہ عام پر ملتا ہے اور قافلے اس وادی میں سے ہو کر گزرتے ہیں ، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا ۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج کو جاتے ہوئے یہاں پہنچا تھا ۔ وہ لکھتا ہے کہ ”یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں جو انہوں نے چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر بنائی تھیں ۔ ان کے نقش و نگار اس وقت تک ایسے تازہ ہیں جیسے آج بنائے گئے ہوں ۔ ان مکانات میں اب بھی سڑی گلی انسانی ہڈیاں پڑی ہوئی ملتی ہیں ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف حاشیہ نمبر ۵۷ )

Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.