Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 1–10 of 99

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ وَقُرْءَانٍۢ مُّبِينٍۢ

آلرا۔ یہ خدا کی کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں

دنیا میں انسان کو جو آزادی ملی ہوئی ہے وہ صرف امتحان کی مدّت تک کے لیے ہے۔ یہ ایک بہت نازک صورت حال ہے۔ اگر آدمی واقعی طورپر اس کو سوچے تو وہ ایسا محسوس کرے گا کہ جو مدت کل ختم ہونے والی ہے وہ گویا آج ختم ہوچکی ہے۔ یہ خیال اس کو ہلا کر رکھ دے گا۔ مگر آدمی صرف ’’آج‘‘ میں جیتا ہے، وہ ’’کل‘‘ پر دھیان نہیں دیتا۔ اس کے سامنے حقیقت کھولی جاتی ہے مگر وہ خوش فہمیوں میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ خود ساختہ طورپر کچھ فرضی سہارے تلاش کرلیتاہے اور سمجھتا ہے کہ یہ سہارے فیصلہ کے وقت اس کے کام آئیں گے۔

مگر غفلت اور خوش گمانی کا طلسم اس وقت ٹوٹ جاتا ہے جب مدت ختم ہوتی ہے اور خدا کے فرشتے اس کے پاس آجاتے ہیں تاکہ اس کو امتحان کی دنیا سے نکال کر انجام کی دنیا میں پہنچا دیں۔

اس وقت اس کو وہ مواقع یادآنے لگتے ہیں جب کہ اس نے ایک سچی دلیل کو جھوٹے الفاظ کے ذریعہ رد کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب اس نے ضمیر کی آواز کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کی تھی۔ جب اس نے خدا کے داعی میں خدا کی جھلکیاں پانے کے باوجود ذاتی پندار کی خاطر اس کو نظرانداز کردیا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ میری کوئی تدبیر میرے کام نہیں آئی تو وہ کہے گا کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا جومیں نے کیا۔ کاش میں ’’منکر‘‘ کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ’’مسلم‘‘ کا طریقہ اختیار کرتا۔

2

رُّبَمَا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ كَانُوا۟ مُسْلِمِينَ

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے

دنیا میں انسان کو جو آزادی ملی ہوئی ہے وہ صرف امتحان کی مدّت تک کے لیے ہے۔ یہ ایک بہت نازک صورت حال ہے۔ اگر آدمی واقعی طورپر اس کو سوچے تو وہ ایسا محسوس کرے گا کہ جو مدت کل ختم ہونے والی ہے وہ گویا آج ختم ہوچکی ہے۔ یہ خیال اس کو ہلا کر رکھ دے گا۔ مگر آدمی صرف ’’آج‘‘ میں جیتا ہے، وہ ’’کل‘‘ پر دھیان نہیں دیتا۔ اس کے سامنے حقیقت کھولی جاتی ہے مگر وہ خوش فہمیوں میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ خود ساختہ طورپر کچھ فرضی سہارے تلاش کرلیتاہے اور سمجھتا ہے کہ یہ سہارے فیصلہ کے وقت اس کے کام آئیں گے۔

مگر غفلت اور خوش گمانی کا طلسم اس وقت ٹوٹ جاتا ہے جب مدت ختم ہوتی ہے اور خدا کے فرشتے اس کے پاس آجاتے ہیں تاکہ اس کو امتحان کی دنیا سے نکال کر انجام کی دنیا میں پہنچا دیں۔

اس وقت اس کو وہ مواقع یادآنے لگتے ہیں جب کہ اس نے ایک سچی دلیل کو جھوٹے الفاظ کے ذریعہ رد کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب اس نے ضمیر کی آواز کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کی تھی۔ جب اس نے خدا کے داعی میں خدا کی جھلکیاں پانے کے باوجود ذاتی پندار کی خاطر اس کو نظرانداز کردیا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ میری کوئی تدبیر میرے کام نہیں آئی تو وہ کہے گا کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا جومیں نے کیا۔ کاش میں ’’منکر‘‘ کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ’’مسلم‘‘ کا طریقہ اختیار کرتا۔

3

ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا۟ وَيَتَمَتَّعُوا۟ وَيُلْهِهِمُ ٱلْأَمَلُ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

(اے محمد) ان کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ کھالیں اور فائدے اُٹھالیں اور (طول) امل ان کو دنیا میں مشغول کئے رہے عنقریب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا

دنیا میں انسان کو جو آزادی ملی ہوئی ہے وہ صرف امتحان کی مدّت تک کے لیے ہے۔ یہ ایک بہت نازک صورت حال ہے۔ اگر آدمی واقعی طورپر اس کو سوچے تو وہ ایسا محسوس کرے گا کہ جو مدت کل ختم ہونے والی ہے وہ گویا آج ختم ہوچکی ہے۔ یہ خیال اس کو ہلا کر رکھ دے گا۔ مگر آدمی صرف ’’آج‘‘ میں جیتا ہے، وہ ’’کل‘‘ پر دھیان نہیں دیتا۔ اس کے سامنے حقیقت کھولی جاتی ہے مگر وہ خوش فہمیوں میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ خود ساختہ طورپر کچھ فرضی سہارے تلاش کرلیتاہے اور سمجھتا ہے کہ یہ سہارے فیصلہ کے وقت اس کے کام آئیں گے۔

مگر غفلت اور خوش گمانی کا طلسم اس وقت ٹوٹ جاتا ہے جب مدت ختم ہوتی ہے اور خدا کے فرشتے اس کے پاس آجاتے ہیں تاکہ اس کو امتحان کی دنیا سے نکال کر انجام کی دنیا میں پہنچا دیں۔

اس وقت اس کو وہ مواقع یادآنے لگتے ہیں جب کہ اس نے ایک سچی دلیل کو جھوٹے الفاظ کے ذریعہ رد کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب اس نے ضمیر کی آواز کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کی تھی۔ جب اس نے خدا کے داعی میں خدا کی جھلکیاں پانے کے باوجود ذاتی پندار کی خاطر اس کو نظرانداز کردیا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ میری کوئی تدبیر میرے کام نہیں آئی تو وہ کہے گا کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا جومیں نے کیا۔ کاش میں ’’منکر‘‘ کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ’’مسلم‘‘ کا طریقہ اختیار کرتا۔

4

وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٌۭ مَّعْلُومٌۭ

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی۔ مگر اس کا وقت مرقوم ومعین تھا

دنیا میں انسان کو جو آزادی ملی ہوئی ہے وہ صرف امتحان کی مدّت تک کے لیے ہے۔ یہ ایک بہت نازک صورت حال ہے۔ اگر آدمی واقعی طورپر اس کو سوچے تو وہ ایسا محسوس کرے گا کہ جو مدت کل ختم ہونے والی ہے وہ گویا آج ختم ہوچکی ہے۔ یہ خیال اس کو ہلا کر رکھ دے گا۔ مگر آدمی صرف ’’آج‘‘ میں جیتا ہے، وہ ’’کل‘‘ پر دھیان نہیں دیتا۔ اس کے سامنے حقیقت کھولی جاتی ہے مگر وہ خوش فہمیوں میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ خود ساختہ طورپر کچھ فرضی سہارے تلاش کرلیتاہے اور سمجھتا ہے کہ یہ سہارے فیصلہ کے وقت اس کے کام آئیں گے۔

مگر غفلت اور خوش گمانی کا طلسم اس وقت ٹوٹ جاتا ہے جب مدت ختم ہوتی ہے اور خدا کے فرشتے اس کے پاس آجاتے ہیں تاکہ اس کو امتحان کی دنیا سے نکال کر انجام کی دنیا میں پہنچا دیں۔

اس وقت اس کو وہ مواقع یادآنے لگتے ہیں جب کہ اس نے ایک سچی دلیل کو جھوٹے الفاظ کے ذریعہ رد کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب اس نے ضمیر کی آواز کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کی تھی۔ جب اس نے خدا کے داعی میں خدا کی جھلکیاں پانے کے باوجود ذاتی پندار کی خاطر اس کو نظرانداز کردیا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ میری کوئی تدبیر میرے کام نہیں آئی تو وہ کہے گا کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا جومیں نے کیا۔ کاش میں ’’منکر‘‘ کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ’’مسلم‘‘ کا طریقہ اختیار کرتا۔

5

مَّا تَسْبِقُ مِنْ أُمَّةٍ أَجَلَهَا وَمَا يَسْتَـْٔخِرُونَ

کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے

دنیا میں انسان کو جو آزادی ملی ہوئی ہے وہ صرف امتحان کی مدّت تک کے لیے ہے۔ یہ ایک بہت نازک صورت حال ہے۔ اگر آدمی واقعی طورپر اس کو سوچے تو وہ ایسا محسوس کرے گا کہ جو مدت کل ختم ہونے والی ہے وہ گویا آج ختم ہوچکی ہے۔ یہ خیال اس کو ہلا کر رکھ دے گا۔ مگر آدمی صرف ’’آج‘‘ میں جیتا ہے، وہ ’’کل‘‘ پر دھیان نہیں دیتا۔ اس کے سامنے حقیقت کھولی جاتی ہے مگر وہ خوش فہمیوں میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ خود ساختہ طورپر کچھ فرضی سہارے تلاش کرلیتاہے اور سمجھتا ہے کہ یہ سہارے فیصلہ کے وقت اس کے کام آئیں گے۔

مگر غفلت اور خوش گمانی کا طلسم اس وقت ٹوٹ جاتا ہے جب مدت ختم ہوتی ہے اور خدا کے فرشتے اس کے پاس آجاتے ہیں تاکہ اس کو امتحان کی دنیا سے نکال کر انجام کی دنیا میں پہنچا دیں۔

اس وقت اس کو وہ مواقع یادآنے لگتے ہیں جب کہ اس نے ایک سچی دلیل کو جھوٹے الفاظ کے ذریعہ رد کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب اس نے ضمیر کی آواز کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کی تھی۔ جب اس نے خدا کے داعی میں خدا کی جھلکیاں پانے کے باوجود ذاتی پندار کی خاطر اس کو نظرانداز کردیا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ میری کوئی تدبیر میرے کام نہیں آئی تو وہ کہے گا کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا جومیں نے کیا۔ کاش میں ’’منکر‘‘ کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ’’مسلم‘‘ کا طریقہ اختیار کرتا۔

6

وَقَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِى نُزِّلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌۭ

اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تُو تو دیوانہ ہے

پیغمبر کے مخاطبین نے پیغمبر کے اوپر دیوانگی کا شبہ کیا۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ پیغمبر کی دعوت تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ’’میںخدا کا نمائندہ ہوں۔ جو شخص میری بات مانے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص نہیں مانے گا وہ ناکام ہو کر رہ جائے گا‘‘۔مگر یہ مخاطبین عملاً جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ اس کے برعکس تھا۔ ان کا اپنا یہ حا ل تھا کہ ان کو رائج الوقت نظام میں سرداری اور پیشوائی کا مقام حاصل تھا۔ دوسری طرف پیغمبر ایک غیر رواجی دین کا داعی ہونے کی وجہ سے مروجہ نظام میں بے حیثیت اور اجنبی بنا ہوا تھا۔ اس فرق کی بنا پر مخاطبین کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ تم ہم کو دیوانہ معلوم ہوتے ہو۔ ہر قسم کی دنیوی خوبیاںتو خدا نے ہم کو دے رکھی ہیں اور تم کہتے ہو کہ کامیابی تمھارے لیے ہے اور تمھارا ساتھ دینے والوں کے لیے۔مگر یہ ان کے زاویۂ نظر کا فرق تھا ۔ وہ اپنی چیزوں کو ’’انعام‘‘ کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ حالاں کہ یہ تمام چیزیں صرف ’’آزمائش‘‘ کا سامان ہیں جو موجودہ دنیا میں کسی کو وقتی طورپر دی جاتی ہیں۔

وہ یہ بھی کہتے تھے کہ تمھارے دعوے کے مطابق تمھارے پاس خدا کے فرشتے آتے ہیں تو یہ فرشتے ہمیں کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ یہ بھی زاویۂ نظر کے فرق کی بنا پر تھا۔ پیغمبر کے پاس جو فرشتہ آتا ہے وہ وحی کا فرشتہ ہوتا ہے جو خدا کا کلام پیغمبر تک پہنچاتاہے۔ اس کے علاوہ خداکے وہ فرشتے بھی ہیں جو اس لیے آتے ہیں کہ وہ حقیقت کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کردیں ۔ مگر وہ دعوت کی تکمیل کے بعد آتے ہیں اورجب وہ آتے ہیں تو یہ فیصلہ کرنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ایمان کی طرف بلانے کا۔

7

لَّوْ مَا تَأْتِينَا بِٱلْمَلَٰٓئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا

پیغمبر کے مخاطبین نے پیغمبر کے اوپر دیوانگی کا شبہ کیا۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ پیغمبر کی دعوت تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ’’میںخدا کا نمائندہ ہوں۔ جو شخص میری بات مانے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص نہیں مانے گا وہ ناکام ہو کر رہ جائے گا‘‘۔مگر یہ مخاطبین عملاً جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ اس کے برعکس تھا۔ ان کا اپنا یہ حا ل تھا کہ ان کو رائج الوقت نظام میں سرداری اور پیشوائی کا مقام حاصل تھا۔ دوسری طرف پیغمبر ایک غیر رواجی دین کا داعی ہونے کی وجہ سے مروجہ نظام میں بے حیثیت اور اجنبی بنا ہوا تھا۔ اس فرق کی بنا پر مخاطبین کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ تم ہم کو دیوانہ معلوم ہوتے ہو۔ ہر قسم کی دنیوی خوبیاںتو خدا نے ہم کو دے رکھی ہیں اور تم کہتے ہو کہ کامیابی تمھارے لیے ہے اور تمھارا ساتھ دینے والوں کے لیے۔مگر یہ ان کے زاویۂ نظر کا فرق تھا ۔ وہ اپنی چیزوں کو ’’انعام‘‘ کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ حالاں کہ یہ تمام چیزیں صرف ’’آزمائش‘‘ کا سامان ہیں جو موجودہ دنیا میں کسی کو وقتی طورپر دی جاتی ہیں۔

وہ یہ بھی کہتے تھے کہ تمھارے دعوے کے مطابق تمھارے پاس خدا کے فرشتے آتے ہیں تو یہ فرشتے ہمیں کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ یہ بھی زاویۂ نظر کے فرق کی بنا پر تھا۔ پیغمبر کے پاس جو فرشتہ آتا ہے وہ وحی کا فرشتہ ہوتا ہے جو خدا کا کلام پیغمبر تک پہنچاتاہے۔ اس کے علاوہ خداکے وہ فرشتے بھی ہیں جو اس لیے آتے ہیں کہ وہ حقیقت کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کردیں ۔ مگر وہ دعوت کی تکمیل کے بعد آتے ہیں اورجب وہ آتے ہیں تو یہ فیصلہ کرنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ایمان کی طرف بلانے کا۔

8

مَا نُنَزِّلُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَمَا كَانُوٓا۟ إِذًۭا مُّنظَرِينَ

(کہہ دو) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی

پیغمبر کے مخاطبین نے پیغمبر کے اوپر دیوانگی کا شبہ کیا۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ پیغمبر کی دعوت تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ’’میںخدا کا نمائندہ ہوں۔ جو شخص میری بات مانے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص نہیں مانے گا وہ ناکام ہو کر رہ جائے گا‘‘۔مگر یہ مخاطبین عملاً جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ اس کے برعکس تھا۔ ان کا اپنا یہ حا ل تھا کہ ان کو رائج الوقت نظام میں سرداری اور پیشوائی کا مقام حاصل تھا۔ دوسری طرف پیغمبر ایک غیر رواجی دین کا داعی ہونے کی وجہ سے مروجہ نظام میں بے حیثیت اور اجنبی بنا ہوا تھا۔ اس فرق کی بنا پر مخاطبین کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ تم ہم کو دیوانہ معلوم ہوتے ہو۔ ہر قسم کی دنیوی خوبیاںتو خدا نے ہم کو دے رکھی ہیں اور تم کہتے ہو کہ کامیابی تمھارے لیے ہے اور تمھارا ساتھ دینے والوں کے لیے۔مگر یہ ان کے زاویۂ نظر کا فرق تھا ۔ وہ اپنی چیزوں کو ’’انعام‘‘ کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ حالاں کہ یہ تمام چیزیں صرف ’’آزمائش‘‘ کا سامان ہیں جو موجودہ دنیا میں کسی کو وقتی طورپر دی جاتی ہیں۔

وہ یہ بھی کہتے تھے کہ تمھارے دعوے کے مطابق تمھارے پاس خدا کے فرشتے آتے ہیں تو یہ فرشتے ہمیں کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ یہ بھی زاویۂ نظر کے فرق کی بنا پر تھا۔ پیغمبر کے پاس جو فرشتہ آتا ہے وہ وحی کا فرشتہ ہوتا ہے جو خدا کا کلام پیغمبر تک پہنچاتاہے۔ اس کے علاوہ خداکے وہ فرشتے بھی ہیں جو اس لیے آتے ہیں کہ وہ حقیقت کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کردیں ۔ مگر وہ دعوت کی تکمیل کے بعد آتے ہیں اورجب وہ آتے ہیں تو یہ فیصلہ کرنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ایمان کی طرف بلانے کا۔

9

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں

قرآن کو خدا نے اتارا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے— نزولِ قرآن کے وقت اس ارشاد کا براہِ راست خطاب قریش سے تھا۔ مگر وسیع تر معنوں میں یہ پوری انسانیت کے لیے ایک چیلنج تھا۔ اس طرح ساتویں صدی عیسوی سے لے کر قیامت تک کے انسانوں کے سامنے ایک ایسا قطعی معیار رکھ دیاگیا جس کے اوپر جانچ کر وہ دیکھ سکیں کہ قرآن واقعی خدا کی کتاب ہے یا نہیں۔

جس وقت یہ چیلنج دیاگیا اس وقت تمام ظاہری امکانات اس کے سراسر خلاف تھے۔ کسی نزاعی کتاب کو مستقل طورپر محفوظ رکھنے کے لیے طاقت ور جماعت درکار ہے۔ اور نزولِ قرآن کے وقت اس کے حاملین اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں بالکل کمزور حیثیت رکھتے تھے۔ کاغذ اور پریس کا دور ابھی دنیا میں نہیں آیا تھا جس نے موجودہ زمانہ میں کسی کتاب کی حفاظت کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ کتاب جیسی ایک چیز کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کی زبان کو محفوظ رکھنا بھی لازمی طورپر ضروری تھا، جب کہ تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی زبان کبھی مستقل طورپر باقی نہیں رہتی۔ قرآن موجودہ سائنسی دور سے بہت پہلے روایتی دور میں آیا۔ ایسی حالت میں اس کے زندہ اور محفوظ رہنے کے لیے ضروری تھا کہ اس کے مضامین ابدی جانچ میں پورے اتریں۔

ان تمام چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے قرآن پوری طرح محفوظ رہا۔ اور آج بھی وہ پوری طرح محفوظ ہے۔ یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ یہ خدا کی کتاب ہے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے دور میں تیار کی جانے والی کوئی بھی کتاب اس طرح زندہ اور محفوظ نہیں جس طرح قرآن آج زندہ اور محفوظ ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب عظمتِ قرآن)

10

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِى شِيَعِ ٱلْأَوَّلِينَ

اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے

ہر دور میں خداکے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے بطور خود جو فرضی معیار کسی کو نمائندۂ خدا قرار دینے کے لیے بنا رکھے تھے، اس پر ان کے پیغمبر پورے نہیں اترتے تھے، اس معیار کے اعتبار سے پیغمبر انھیں کم تر نظر آتا تھا۔ اس لیے لوگوں نے پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا۔

کسی نئی حقیقت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے اور خالص واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے لیے تیار ہو۔ جو لوگ سچائی کا انکار کرتے ہیں وہ اکثر اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ سچائی ان کو اپنے مانوس معیار کے اعتبار سے اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ مانوس معیار لمبے عرصے کے بعد ان کے دل میں ایسا رچ بس جاتا ہے کہ اس سے باہر نکل کر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہوجاتاہے۔ وہ آخر وقت تک بھی اپنے مانوس دائرے سے باہر کی سچائی کو پہچان نہیں پاتے۔

قوموں کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ معجزے کو دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہیں لائے۔ جس شخصیت کے بارے میں ان کے مادی حالات کی بنا پر ان کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ یہ ایک معمولی آدمی ہے وہ پھر بھی ان کی نظر میں معمولی ہی رہا۔ بعد کو اگر اس نے کوئی خارقِ عادت چیز دکھائی تو چونكه دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بظاہر اب بھی ان کے لیے غیر اہم تھي۔ انھوںنے سمجھ لیا کہ یہ کوئی جادو یا نظر بندی ہے، نہ کہ حقیقۃً ان کے نمائندۂ خدا ہونے کا ثبوت۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.